توانائی سیکٹر کیلئے امریکی امداد

توانائی بحران سے زراعت کی تباہی اور ماحولیات کی بربادی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ گیس کی قلت بھی درختوں کی کٹائی کی شکل میں اثرانداز ہو رہی ہے صرف یہی نہیں بلکہ طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ملک شدید ہنگاموں کی لپیٹ میں آچکا ہے جن میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔ امریکہ اور بعض دوسرے ممالک توانائی کے شعبے میں پاکستان کی تکنیکی معاونت کر رہے ہیں تاکہ اس بحران پر قابو پاکر بجلی کی مناسب قیمتیں طے کی جاسکیں۔ امریکہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ چاہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے یو ایس ایڈ کے پاس 9پروگرام ہیں اور یہ ادارہ تین تھرمل پاور اسٹیشنوں کی بحالی میں بھی معاونت کر رہا ہے اس صورتحال کے ازالے کے لئے امریکی کانگریس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ترقی کے لئے 28کروڑ ڈالر کی امداد بھی جاری کر دی ہے یہ رقم منگلا ڈیم، بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے اور کرم تنگی ڈیم پر کام کروانے پر خرچ کی جائے گی۔ امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان کے مطابق پاکستان میں توانائی کے بحران میں کمی امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی سویلین امداد کی اولین ترجیح ہے۔وہ پاکستان میں توانائی کے ذرائع میں اضافہ چاہتا ہے اور توانائی کی ضروریات کو موثر طریقے سے پورا کرنے کے لئے بجلی کے شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کی مدد کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ 2013ء تک قومی گرڈ میں 900میگا واٹ بجلی شامل ہوگی اور یہ بیس لاکھ گھرانوں اور کاروبار سے تعلق رکھنے والوں کے لئے کافی ہوگی۔ اس سے سیلابوں کی کمی، آبپاشی کے لئے پانی کی فراہمی اور پینے کے پانی کی ضروریات بھی پوری ہوسکیں گی۔ مظفر گڑھ پاور اسٹیشن سے 680000گھرانوں کو بجلی فراہم کی جاسکے گی۔ رپورٹ میں توانائی کے بحران کے بنیادی اسباب اور ان پر قابو پانے کے لئے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے اہمیت رکھتی ہیں۔ توانائی کے اس سنگین بحران کے بنیادی اسباب میں سرکاری شعبوں میں سیاسی مداخلت اور سیاست دانوں کی طرف سے نسلی، لسانی گروہی اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کلیدی عہدوں پر افراد کی تعیناتی سرفہرست ہے۔ ہمارے یہاں بدقسمتی سے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا یہ طرز عمل عشروں پر محیط ہے اور سیاسی مداخلت ہی توانائی کے بحران کا ایک اہم سبب ہے پھر یہی مداخلت مسائل کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے اور کوئی مسئلہ نہ صرف حل نہیں ہونے پاتا بلکہ اس میں مزید شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ باصلاحیت اور فرض شناس افسران کو فارغ کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان کا طرز عمل مفاد پرست سیاستدانوں کے طرز عمل سے متصادم ہوتا ہے جسے سیاستدان برداشت نہیں کر پاتے۔ اس وقت پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کئی کمپنیوں کا تعلق نجی شعبہ سے ہے اور اکثر کا تعلق سرکاری شعبہ سے ہے۔ سرکاری شعبے میں قائم کرنے والی بجلی ساز کمپنیاں مکمل طور پر سیاستدانوں کے زیر اثر ہیں جبکہ بعض نجی کمپنیوں میں بھی مداخلت کا عمل جاری ہے اس لئے کہ اگر وہ سیاستدانوں کے مفادات کو یکسرنظر انداز کر دیں تو انہیں فارغ کر دیاجاتا ہے۔ اس طرح سرکاری حکمرانوں، سیاستدانوں اور بیورو کریٹس ذاتی مفادات علاقائی، نسلی اور گروہی مفادات کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے منفی نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ سیاستدانوں کا یہ طرز عمل ہی ان سب برائیوں کی جڑ ہے جن کا ذکر انسپکٹر جنرل آف دی یو ایس ایڈ نے بھی اپنی رپورٹ میں کیا ہے اور ان حقائق کو پوری طرح بے نقاب کیا ہے جو پاکستانی عوام کی اکثریت کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ اگر پاکستان کے غیر جانبدار اور محب وطن ماہرین سے اس بحران کی تفصیلی رپورٹ تیار کروائی جائے اور وہ اس بحران کے پس پردہ عوامل کو بلا خوف منظر عام پر لائیں تو واضح ہو جائے گا کہ اس بحران کا بنیادی سبب رپورٹ سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں ریلوے پاکستان، سٹیل ملز، پی آئی اے اور متعد اہم سرکاری اداروں کو جس تباہی، معاشی بدحالی، بھاری بھرکم غیر ملکی قرضوں اربوں روپے کے خسارے اور انتظامی سطح پر بدنظمی کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ بھی ان اداروں میں سیاسی مداخلت اور من پسند افراد کی تعیناتیاں ہیں۔ ان اداروں میں بڑی تعداد میں ایسے افراد کولگا دیاگیا ہے جو دفاتر میں آنے کی بھی زحمت نہیں کرتے بھاری بھرکم مشاہرے اور مراعات گھر بیٹھے وصول کرتے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل دوسرے افراد کو بھی بدنظمی فرض ناشناسی اور وسائل کی لوٹ مار کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے اس طرح ان افراد کے ہاتھوں ہی ان کی تباہی ان کا مقدر بن کر رہ جاتی ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ متعدد سرکاری اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں من پسند افراد کو ملازمتیں دی گئیں۔ جو قومی معیشت پر بوجھ ہیں۔ جب تک سرکاری سطح پر ان اداروں میں بے جامداخلت بند نہیں ہوتی اور من پسند افراد کی تعیناتیوں کا عمل ترک نہیں کیا جاتا باصلاحیت ذمہ دار اور فرض شناس افراد کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ کسی سیاسی، نسلی، لسانی اور گروہی وابستگی کی بجائے صرف پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنیاد پر ان اداروں میں تقرریاں نہیں کی جاتیں، اس وقت تک اصلاح احوال کی کوئی صورت پیداہوسکتی ہے نہ  ان اداروں کوتباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔سیاستدان اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہیں تو اس کے تباہ کن نتائج پوری قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں یہ پراسرار، غیر ذمہ دارانہ اور منفی طرز عمل سنگین مسائل کو جنم دیتا رہے گا اور قومی اداروں سے وابستہ عوام کی توقعات پوری نہیں ہوسکیں گی۔ مسائل میں اضافہ عوام کی توقعات اور امیدوں پر پانی پھیر دے گا۔ سیاستدان اگر واقعی قوم کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو پھر انہیںاپنا طرز عمل بدلنا ہوگا اور ذاتی مفادات کی بجائے عوامی مسائل کے حل کے لئے اپنی صلاحیتوںکو بروئے کار لانا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان اور حکمران پاکستان میں توانائی کے بحران کے متعلق انسپکٹر جنرل آف دی یو ایس کی رپورٹ میں پیش کئے جانے والے حقائق کی بنیاد پر قومی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہ صرف توانائی کے بحران بلکہ دوسرے مسائل کے حل کے لئے بھی پوری سنجیدگی سے غور و فکر کے بعد مذکورہ رپورٹ میں دی جانے والی تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

تعارف شمائلہ جاوید

شمائلہ جاوید

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>