دہلی کا بلدیاتی انتخاب قومی راجدھانی کی آئندہ سیاسی سمت طے کرے گا

damiہندوستان جیسے جمہوری ملک میں پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات بڑے اہم ہوجاتے ہیں۔ قومی راجدھانی میں عنقریب ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی اہمیت تو اور بھی بڑھ جاتی ہے۔یہاں گزشتہ مدت میں 272 میونسپل کونسلروں میں بی جے پی 144 کونسلروں کے ساتھ اکثریت میں تھی۔ اس کے شمالی میونسپل کا رپوریشن میں 67، جنوبی کارپوریشن میں 42 اور مشرقی کارپوریشن میں 35 کونسلرس تھے جبکہ کانگریس مجموعی طور پر 68کونسلرس کے ساتھ اپوزیشن تھی۔ دوسری طرف دہلی میں برسراقتدار عاپ کے پاس محض 5کونسلرس ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات اس صورت حال میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔ عیاں رہے کہ دہلی اسمبلی میں کل 70ارکان میں 67 عاپ اور 3بی جے پی کے ہیں جبکہ دہلی کی 7پارلیمانی سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں۔ اس لحاظ سے سبھوں کو انتظار ہے بلدیاتی انتخابات کا۔ یہی طے کریں گے قومی راجدھانی کی آئندہ سیاسی سمت۔ ویسے یہ بات چونکانے والی ہے کہ 12.86 فیصد مسلم آبادی والی دہلی میں گزشتہ میقات میں محض 18کونسلرس تھے۔
ملک کی مختلف ریاستوں میںبلدیاتی انتخابات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ چونکہ متعدد سیاسی پارٹیوں کے بھی امیدوار ان انتخابات میں کھڑے ہوتے ہیں ، لہٰذا یہ بلدیاتی انتخابات بھی اس متعلقہ علاقے میں عام آدمی کے رجحان کی علامت بن جاتے ہیں اور پھر ان کے نتائج میں اس ریاست ہی کے نہیں بلکہ ملک کے عوام اور میڈیا بھی دلچسپی لیتے ہیں۔
دہلی میں بھی بلدیاتی انتخابات عنقریب اپریل کے مہینے میں ہونے والے ہیں۔لہٰذا یہاں سیاسی پارٹیاں فعال اور متحرک نظر آنے لگی ہیں۔ تینوں میونسپل کارپوریشنوں شمال، جنوب اور مشرق میں کل 272 میونسپل وارڈ س ہیں۔ 2007 سے بی جے پی کے کنٹرول میں دہلی کی میونسپل حکومت ہے۔عیاں رہے کہ بی جے پی نے پہلے دہلی کی متحدہ میونسپل کارپوریشن پر راج کیا اور پھر 2012 میںتقسیم کے بعد تینوںکارپوریشنوں کی علاحدہ علاحدہ حکومت کو سنبھالا اور ان سبھی میں کانگریس اس کی اصل اپوزیشن رہی۔ اس طرح ریاستی طور پر کانگریس اور بلدیاتی طور پر بی جے پی کی یہاں حکمرانی رہی۔ مگر اس بار جب بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں تب صورت حال قطعی بدلی ہوئی ہے کیونکہ ریاستی طور پر 14 فروری 2015 سے 70سیٹوں میں سے 67 پر جیت کر اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی حکمران بنی ہوئی ہے۔ لہٰذا دہلی کی تینوں میونسپل کارپوریشنوں کی 272 سیٹوں میں سے بیشتر پر اب تک برسراقتدار بی جے پی کا مقابلہ سیدھے ریاست پر قابض ’عاپ ‘ سے ہوگا اور میدان میں کانگریس و دیگر بڑی و چھوٹی پارٹیاں ہوںگی۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حیدرآباد کی مشہور سیاسی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم )نے بھی مہاراشٹر، بہار اور اترپردیش کے بعد دہلی پر نظر گڑاتے ہوئے یہاں کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ کیا ہے اور اس ضمن میں دو برس قبل سے رکنیت سازی کی مہم خصوصاً مسلم و دیگر کمزور طبقات میں چلا رکھی ہے۔ بہر حال دہلی میں اس کی پیش رفت کا دارومدار بڑی حد تک پڑوسی ریاست یو پی کے چند گھنی مسلم آبادی والے حلقوں میں کھڑے ہوئے امیدواروں کے انتخابی نتائج پر ہوگا۔ اگر یو پی میں اس کی انٹری ہوجاتی ہے تب دہلی کے بلدیاتی انتخابا ت میں اس کا جوش و خروش سے شرکت کرنا یقینی بن جائے گا۔اس کے دہلی کے سربراہ عرفان اللہ خاں اس کی انتخابی مہم میں بہت سرگرام دکھائی دیتے ہیں۔ بہر حال یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ آئندہ کیا ہوتا ہے؟عیاں رہے کہ ایم آئی ایم نے ابھی حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مہاراشٹر کے ممبئی میں تین اور شولہ پور میں پانچ سیٹیں جیت کر زبردست ریکارڈ بنایا ہے اور سب کو چونکا دیا ہے ۔ویسے ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کی سرپرستی میں چند برس پرانی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا (ڈبلو پی آئی ) بھی ان انتخابات میں شامل ہونے کے لئے پرتول رہی ہے۔ ڈبلیو پی آئی سربراہ ڈاکٹر الیاس نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ ’ ہم نے اب تک 15وارڈس کی نشاندہی کرلی ہے جن میں 5 میں ویلفیئر پارٹی کی پوزیشن کافی اچھی ہے۔مثلاً سیما پوری، نند نگری ، چوہان بانگر، بلیماران اور ابوالفضل انکلیو۔
یہ سچ ہے کہ تینوں میونسپل کارپوریشنوں کی گدیوں پر قابض بی جے پی کو اس بار اینٹی انکمبنسی فیکٹر کا سامنا ہے اور اس کا سیدھا مقابلہ عاپ سے ہے۔ البتہ گزشتہ برس مئی میں ہوئے ضمنی بدلیاتی انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت بی جے پی کو 7، عاپ کو 5 اور کانگریس کو 4سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس وقت ان نتائج کو ’مینی کارپوریشن الیکشن ‘ کہا گیا تھا۔ اب آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ مختلف وارڈوں میں تینوں بڑی پارٹیاں کہاں کھڑی ہیں؟
جہاں تک بی جے پی کا معاملہ ہے، یہ اپنی سپریمیسی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس بار اس کا زور جھگی جھونپڑیوں کی آبادی پر زیادہ ہے۔ ریاستی صدر منوج تیواری کی کوشش ہے کہ 2015 میں عاپ میں گئے اس کے ووٹ بینک واپس لوٹ آئیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں منوج تیواری نے جے جے کلسٹرس کا دورہ کیا ہے اور وہاں لوگوں کے ساتھ کئی راتیں گزاری ہیں۔ انہوں نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ وہ مزید ایک درجن بار دورہ کریں گے۔ یہ گزشتہ دو برسوں میں عاپ کی عدم کارکردگی کو ابھار رہی ہے۔
کانگریس کازور اس بات پر ہے کہ میونسپل کارپوریشنوں میں بی جے پی کے دس برسوں کے اور دہلی سرکار میں عاپ کے دو برسوں کے ’مس رول ‘ نے دہلی کو بحیثیت مجموعی برباد کردیاہے۔ اس کا ٹارگٹ سرکاری اسٹاف، سلم کلسٹرس کی آبادی اور چھوٹے وینڈرس پر ہے جن کی کل آبادی 35 لاکھ ہے۔یہ اس بات کو اٹھا رہی ہے کہ دہلی کی کارپوریشنوں کے پاس اسٹاف کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ دوسری طرف یہ عاپ کی تنقید کررہی ہے کہ یہ ایم ایل ایز کی تنخواہیں نہیں بڑھا رہی ہے جبکہ اس کے پاس فنڈ ہے۔ این ڈی ایم سی میں اپوزیشن لیڈر مکیش گوئل (کانگریس ) نے ’’چوتھی دنیا ‘‘کو بتایا کہ ’صرف بھوجپوری گانوں کو گانے سے بد تر صورت حال میں تبدیلی نہیں آنے والی ہے ‘‘۔
عاپ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اس کا بلدیاتی انتخابات میں فوکس نوٹ بندی کے منفی اثرات پر ہوگا۔ اس کے بلدیاتی انتخابات کے کنوینر دلیپ پانڈے کہتے ہیں کہ اس نوٹ بندی نے 100 لوگوں کی جانیں لے لیں اور اس سے لوگ ابھی تک متاثر ہیں۔ اس کا بھی فوکس جے جے کلسٹرس پر ہے۔ عیاں رہے کہ دہلی میں پروانچل کے 30لاکھ لوگ ہیں۔ ان پر بی جے پی اور عاپ دونوں کی نگاہیں ہیں۔یہ دونوں پارٹیاں ان لوگوں کے لئے جمنا ندی کی گھاٹوں پر چھٹ پوجا کے دوران بہتر انتظامات کے لئے کوشاں ہیں اور اس بنیاد پر خود کو ووٹ کا دعویدار مانتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اس میں کتنا کامیاب ہوتا ہے؟ویسے بی جے پی کو بھوجپوری شخصیت منوج تیواری کی ریاستی سربراہ کے عہدہ پر تقرری سے بڑی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔
دریں اثناء یہ خبر بھی اہم ہے کہ عاپ سے نکلے یوگیندر یادو کی پارٹی سوراج پارٹی تمام 272 وارڈوں میں اپنے امیدوار کھڑی کررہی ہے۔ اسے امیدواروی کے لئے اب تک 1500درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اسی میں سے اپنی فہرست فائنل کرے گی۔ اس نے اپنے حلیف سے حریف بنے اروند کجریوال کی حکومت کے خلاف ’جواب دو، حساب دو ‘ مہم چلا رکھی ہے۔ یوگیندر یادو کا کہنا ہے کہ یہ اپنے تمام وعدوں میں ناکام ہوئی ہے۔ ان کی پارٹی کا وعدہ ہے کہ اقتدار میں آنے پر یہ فنانس کمیشن کی اس سفارش کو نافذ کرے گی کہ ریاست کے 12فیصد ریونیو کو بلدیاتی اداروں کو دیا جائے۔
آئیے اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں پارٹی پوزیشن کیا ہے۔ 272 وارڈوں میں سے شمال کے کارپوریشن میں 123 سیٹوں میں 67 بی جے پی، 28کانگریس، ایک عاپ و دیگر 27 کے قبضے میں ہیں۔ جبکہ جنوب کے کارپوریشن میں 99سیٹوں میں 42 بی جے پی، 30کانگریس، 4عاپ و دیگر 23 اور مشرق کے کارپوریشن میں 40 سیٹوں میں 35 بی جے پی، 10کانگریس اور 5دیگر کے پاس ہیں۔
اب سب کو انتظار ہے 2017 کو بلدیاتی انتخابات کا جو یہ رجحان بتائے گا کہ دہلی میں اصل سیاسی صورت حال کیا ہے؟کیا بی جے پی اپنی اب تک کی بڑھت کو برقرار رکھ پائے گی؟کیا عاپ دو برس قبل اپنے ریاستی انتخابات کے جادو کا اثر بلدیاتی انتخابات میں بھی دکھا پائے گی؟ کیا کانگریس اپنی پوزیشن مزید بہتر کرپائے گی؟کیا چھوٹی اور نئی پارٹیاں بلدیاتی اداروں میں اپنی موجودگی درج کراپائیںگی؟اور کیا یہ بلدیاتی انتخابات دہلی کی آئندہ سیاسی سمت طے کریںگی؟
مسلم فیکٹر کتنا اہم ؟
دہلی کی کل 18.6 ملین آبادی میں 12.86 فیصد (20لاکھ سے زائد) مسلمان ہیں۔ مسلم ووٹرس کا یہاں کے پارلیمانی ، اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات میں اہم کردار رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 77 فیصد مسلمانوں اور 57فیصد سکھوں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا جبکہ مسلمانوں کا اس بار صرف 12 فیصد ووٹ کانگریس کو گیا۔لہٰذا یہ سوال اہم ہے کہ اس بار مسلم ووٹ کدھر جائے گا؟اور کیا مسلم ووٹ کثرت سے بلدیاتی انتخابات میں بھی عاپ کو ہی جائے گا؟ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار کانگریس اپنی پوزیشن کو مزید بہتر کرے گی۔ علاوہ ازیں یوگیندر یادو کی سوراج پارٹی بھی قابل ذکر مسلم ووٹ کو اپنی جانب کھینچے گی۔ کیونکہ یوگیندر یاد وکا انفرادی طور پر مسلمانوں میں خاصہ اثر پایا جاتا ہے۔ نیز ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے بھی میدان میں اترنے سے مسلم ووٹ بینک مزید منقسم ہوگا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح مسلم ووٹ کی تقسیم عاپ، کانگریس، سوراج پارٹی، ویلفیئر پارٹی اور مجلس اتحاد المسلین و چند دیگر میں ہوگی اور پھر اس سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ دہلی کی بلدیاتی صورت حال پر نظر رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکن انجینئر امداد اللہ جوہر کہتے ہیں کہ قومی راجدھانی میں 20لاکھ سے زائد مسلمان ہیں جن میں ایک چھوٹی سی تعداد تو ان افراد کی ہے جو کہ ’دہلی والا ‘کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طورپ پر پرانی دہلی کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ جیسے جیسے آبادی بڑھی، ان میں سے بعض خاندان اوکھلا، اندر لوک، سیماپوری، نند نگری، چوہان بانگر اور جمنا پار علاقوں میں منتقل ہوتے چلے گئے مگر پرانی دہلی اپنی جگہ آباد رہا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ تجارت پیشہ ہیں۔ علاوہ ازیں نئی مسلم بستیوں یا کالونیوں میں خصوصاً اتر پردیش اور بہار کے مسلمان بڑی تعداد میں آکر بسے۔باہر سے آکر بسنے والے لوگوں میں نوکری پیشہ لوگ زیادہ ہیں۔ انجینئر جوہر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دہلی کے کل 272 وارڈوں میں تقریباً 25 گھنی مسلم آبادی ہونے کے باوجود مسلم وارڈ کونسلروں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
میونسپل کارپوریشن کے سابق ایلڈرمین ، دیال سنگھ کالج کے اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور جمناپار کی مشہور سیاسی وسماجی شخصیت ڈاکٹر پرویز میاں نے ’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دہلی میں گھنی مسلم آبادی والے علاقے سیلم پور (3سیٹ) ، مصطفی باد(3سیٹ)، مٹیا محل (3سیٹ)، چاندنی چوک (3سیٹ)، اوکھلا (3سیٹ) ، کراول نگر(ایک سیٹ) جنتا کالونی (ایک سیٹ) اور کونڈلی (ایک سیٹ ) میں گزشتہ مدت میں کل 18مسلم وارڈ کونسلر س تھے جبکہ گاندھی نگر سے 3، سنگم وہار سے ایک، کراری سے ایک، کردن پوری سے ایک اور گونڈا سے بھی ایک مسلمان کے گھنی مسلم آبادی ہونے کے سبب منتخب ہونے کی پوری گنجائش ہے۔ ان کا کہناہے کہ اس طرح مسلم کونسلروں کی تعداد 25ہوسکتی ہے۔ ویسے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض سیٹوں میں مسلم آبادی گھنی ہونے کے باوجود انہیں ریزرو کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعداد 30تک پہنچ سکتی ہے۔دہلی حج کمیٹی کے چیئر مین رہے آل انڈیا ملی کونسل دہلی کے صدر ڈاکٹر پرویز میاں کا کہنا ہے کہ کانگریس کا جو مسلم روایتی ووٹ ہے، وہ تو اسے اس بار بھی ملے گا ہی، ویسے یہ بھی اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ متعدد بڑی اور چھوٹی پارٹیوں میں تقسیم کے سبب بی جے پی کے امیدواروں کے دہلی کے بلدیاتی انتخابات میں بھی جیت جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتاہے۔
انجینئر امداد اللہ جوہر مسلم آبادی والے علاقوں میں ترقی کے کاموں میں ٹال مٹول اور عدم دلچسپی کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان 25گھنی مسلم آبادی والے وارڈوں میںز یادہ تر سڑکیں اور گلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور یہاں بری طرح گندگی ہے۔ انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ جیسے ہی انتخابات خواہ وہ پارلیمانی ، اسمبلی یا بلدیاتی ہوں، کا وقت آتا ہے یا سال 31مارچ کو ختم ہونے لگتا ہے تب اس سے قبل متعلقہ ایم پی، ایم ایل اے، یا کونسلر اچانک فعال ہوجاتا ہے۔وہ سوال کرتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ پورے سال ترقی کا سب کام ٹھپ رہتا ہے مگر سال کے آخری حصہ فروری مارچ میں سبھی متحرک ہوجاتے ہیں۔ خواہ وہ کارپوریشن ، دہلی جل بورڈ، پی ڈبلیو ڈی یا بجلی محکمہ میں سے کوئی بھی ہو۔ ان کے مطابق اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ انہیں عوام کی سہولیات اور راحت سے کوئی مطلب نہیں ہے،یہ تو صرف بجٹ کو ختم کرنے یا واپس کرنے کے لئے سال کے آخر میںفعال ہوجاتے ہیں۔
انجینئر امداد اللہ کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر جلد بازی میں جو کام ہوتا ہے وہ معیاری اوراچھا نہیں ہوتاہے کیونکہ سرکاری ایجنسیوں کو اس وقت کام کرانے اور ٹھیکہ د ار کو جلد کام کراکے بل نکلوانے کی جلد بازی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس کام کے لئے تین ماہ کی مدت درکار ہوتی ہے ،اسے محض ایک ماہ میں نمٹادیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان مختلف اقسام کے کاموں کو کرنے والی ایجنسیوں میں کوئی ربط نہیں ہوتا ہے جس کے سبب سڑک، پانی، بجلی اور دیگر زمین دوز کام بہت بے ترتیبی سے چلتے رہتے ہیں اور اس سے علاقے کے باشندگان کو زبردست پریشانی کا سامناکرنا پڑتا ہے۔
انجینئر امداداللہ جوہر کے خیال میں اس پورے عمل میںنچلی سطح پر بہتری تبھی ممکن ہے جب بلدیاتی علاقوں میں عوام کے صحیح نمائندے منتخب ہوکر جائیں اور عوام کے مفادات کاپورا خیال رکھیں۔

About وسیم راشد

اردو دنیا اور اردو صحافت میں وسیم راشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی وسیم راشد کو نہ صرف 20سالہ درس وتدریس کا تجربہ ہے بلکہ تقریباً اتنے ہی سال سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں ۔اپنے اس طویل صحافتی سفر میں انہوں نے بے شمار پروگرام ریڈیو اور ٹی وی کے لئے کئے اور لاتعداد سیاسی ، سماجی ، ادبی شخصیات کے انٹر ویوز کئے ہیں۔اس دوران ملک کے اہم اردو اخبارات ، رسائل اور مختلف جرائد کے لئے آپ کے آرٹکلس بھی برابر شائع ہوتے رہے ہیں ۔ادب اور سیاست پر آپ کی گہری نظر ہے۔ اپنے تدریسی سفر میں جب کہ آپ ایک سینئر سیکنڈری انگلش میڈیم اسکول کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ہی صحافت کو بھی اپنے کیریئر کاحصہ بنایا ۔ اب تک بے شمار قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کرچکی ہیں ۔ کئی سال تک راشٹریہ سہارا اردو اخبارکی ایڈیٹوریل ٹیم سے بھی منسلک رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>