RAJA JAVED ALI BHATTI

ریڈو کا نورِ بصارت راجہ جاوید علی بھٹی

RAJA JAVED ALI BHATTI
راجہ جاوید علی بھٹی
آنکھوں کی اہمیت اور استعمال موقع کی مناسبت سے بڑھ جاتا ہے۔ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی جاتی ہیں جبکہ محبوب کی آنکھوں سے آنکھیں ملائی جاتی ہیں مگر آنکھیں متاثر ہو جائیں تو پھر اچھی طرح سمجھ آتا ہے آنکھوں والو آنکھیں بڑی نعمت ہیں۔ پاکستان میں تقریباً ہر شخص عمر کے کسی نہ کسی حصے میں آنکھوں کی کمزوری یا بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ بقول شاعر
ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اُتر آیا
آنکھوں میں موتیا سفید ہو یا کالا اُتر ہی آتا ہے دونوں کا علاج بہرحال آپریشن سے ہی ہوتا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے آبادی کی بہت بڑی تعداد آنکھوں کا آپریشن کرانے کی سکت نہیں رکھتی مگر بے حسی کے اس دور میں ایک ادارہ ایسا بھی ہے جو اندھیروں میں روشنی بانٹنے والا مینارہ نور ہے۔ خاموشی سے 43سال سے نور بصارت کام کرنے والے اس ادارے کو ”ریڈو” کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ ریڈو راولپنڈی آئی ڈونر آرگنائزیشن کا مخفف ہے۔ روشنیاں بانٹنے کے اس سفر میں جو لوگ اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں وہ صرف چھ ہزار روپے کے عطیے سے ایک آپریشن کو یقینی بنا کر ایک شخص کی زندگی پھر سے روشن کرسکتے ہیں۔ ریڈو کی شہرت اس کا بولتا ہوا کام زمینی حقیقت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی ریڈو کا ریگولر ڈونر بن جائے ۔ کسی آنکھ کے آپریشن کی سرپرستی کرے یا عینکیں اور دیگر آلات عطیہ کردے۔ زندگی اور موت کا پتہ نہیں اس لئے اپنی زندگی میں ہی اور نہیں تو اپنی آنکھیں ہی عطیہ کریں اور پھر گھر والوں کو بتا بھی دیں تاکہ آپ کے دنیا سے پردہ کرنے کے بعد وہ آپ کی عطیہ کی آنکھوں کے بارے میں ریڈو سے رابطہ کرسکیں۔ اب تو ریڈو نے ایک بڑی چھلانک لگا کر گردوں کی صفائی کا مرکز بھی قائم کردیا ہے۔ گردوں کی بیماری اتنی خطرناک اور علاج اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ اکثر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اب مریض کے مہنگے علاج کی صورت میں مریض نے زندہ رہنا ہے یا گھر والوں نے۔ بہرحال چوبیس ہزار روپے کے عطیہ سے ایک مریض کے گردے کی صفائی ماہانہ بنیادوں پر کرا کر اس کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔ ریڈو جیسے ادارے بلاشک و شبہ پاکستان کا روشن چہرہ ہیں اور غریبوں کا ہی نہیں سفید پوشوں کے لئے بھی مرکز نور بصارت ہیں۔ ایسے اداروں کے بارے میں ضرور لکھنا چاہئے۔ آنکھوں کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ آنکھیں بڑی نعمت ہیں، آنکھیں ہیں تو دنیا جہاں کی سب نعمتیں ہیں ، یہ خوبصوتی، یہ رنگ و نور، رنگینیاں آنکھوں کی ہی وجہ سے ہے ورنہ دنیا صرف تاریک سیاہ رات ہوتی ،آنکھیں دل و روح کا دروازہ ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی بھی خوبصورت چیزنظر آنے پر پسندکی جاتی ہے جس کی خوشی و مسرت کی جھلک نہ صرف چہرے پر بلکہ آنکھوں سے بھی عیاں ہوتی ہے۔ آنکھیںاحساس کی آئینہ ہوتی ہیں بلکہ شخصیت کا مکمل احاطہ کرتی ہیں جب دو محبت کرنے والے ایک دوسرے کی آنکھوں
Redo
میںجھانکتے ہوئے اظہار محبت کرتے ہیںاور ان ہی آنکھوں پر اعتبار کرتے ہیں کیونکہ آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں، آنکھیں ہی شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔آنکھوں کے بغیر یہ دنیا کیسی ہو گی ؟۔ آنکھیں بڑی نعمت ہیں ،جس کی صحت مند آدمی کو قدر نہیں لیکن جب بینائی کمزور ہوتی تو پھر اس کی قدرو قیمت کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔ انسانی حواس میں یوں تو ہر حواس کی اپنی اہمیت ہے، لیکن ان میں بصارت سب سے اہم ہے،دیگر تمام حواس کی کارکردگی بھی بصارت کی وجہ سے ہی قائم ہے ۔ضعفِ بصارت کی ایک شکل Amblyopia یا بعید نظری ہے، یعنی دور کی نظر کمزور ہوتی ہے ،جب کہ دوسری Myopia یا قریب نظری ہے ۔ بینائی کی کمزوری کا مسئلہ عمر کے مختلف ادوار میں سامنے آسکتا ہے ۔اس کا حل عام طور پر عینک سے کیا جاتا ہے، بعض لوگ لینز بھی لگا لیتے ہیں ماہرین امراض چشم کے مطابق اپنی بصارت کی حفاظت کے لیے ہم کو چند باتوں پر توجہ دینا ہوگی ۔سب سے پہلی بات غذا ہے، ایسی غذا جو متوازن ہواس سے نظر کو کمزور ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔مچھلی ،گاجر،انڈہ، سوئف بادام گری استعمال کرنی چاہئے ۔سونف کے ساتھ ،مصری بھی ملا سکتے ہیں۔بادام وغیرہ آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لئے بے پناہ مقوی ہے ۔ مرچیں اور کھٹائی کا زیادہ استعمال آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ان ہدایات پر عمل کرنے سے ہم اپنی بصارت کی حفاظت کرسکتے ہیں ۔پڑھائی کے دوران روشنی کا مناسب اہتمام ،سرپر دن میں دو چار بارکنگھی ضرورکریں ، ہمیشہ نیم گرم یا ٹھنڈے پانی سے بال دھوئیںیا نہائیں،سورج کی طرف براہ راست نہ دیکھیں، ہرے بھرے درخت رات کو آسمان ،چاند لازمی دیکھیں،پشت کے بل لیٹ کر یا تکیہ لگا کر بالکل نہ پڑھیں ، صبح کے وقت عرق گلاب کے چھینٹے آنکھوں پرماریں ،کمپیوٹر وغیرہ پر کام کرنے،ٹی وی دیکھنے کے دوران وقفہ لازمی کریں، تھکن محسوس کریں توکچھ دیر کے لئے دونوں ہتھیلیوں سے آنکھوں کو اس قدر ڈھانپ لیں کہ گھپ اندھیرا ہوجائے ۔چند لمحوں کے لئے اس گھپ اندھیرے میں غور سے دیکھیں، اس سے آنکھوں کے پٹھوں اور اعصاب کو بھی راحت ملے گی ۔ ورزش کی عادت بنائیں،آنکھوں کی صفائی کا خیال رکھیں ۔تنگ جوتے نہ پہننا چاہئے ۔ ہمارے معاشرے میں نابینا افراد کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اس کی ایک جھلک ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے ، جب نابیناں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے مسائل اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کے لئے اکٹھے ہوکر احتجاج کرتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں، اسی وقت پولیس روڈ کو خالی کرانے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے ،راستے کو صاف کرنے کیلئے نابینا افرادپر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے ۔اور تشدد کے سارے مناظر پورے ملک میں دیکھے جاتے ہیں ۔پوری دنیا میں شائد اس طرح کے واقعات نئے ہوںجب بصارت سے محروم افراد کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کیا گیا ہو،اکثر ممالک میں سفید چھڑی میں اگر کوئی نابینا مرد یا عورت کوئی روڈ پار کرتا نظر آ جائے تو اس روڈ پر دونوں طرف کی ٹریفک کو اس وقت تک روک دیا جاتا ہے ،جب تک وہ روڈ کو پار کر کے دوسری طرف کے فٹ پاتھ پر نہیں پہنچ جاتا۔

 

تعارف سہیل احمد صدیقی

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>