Alqamar

سید ذیشان علی نقوی المعروف شانی شاہ (شاہ اﷲ دتہ، اسلام آباد) کا ”القمر آن لائن“کو دیا گیا خصوصی انٹرویو

یو سی 77یونین کونسل شاہ اللہ دتہ کے چیئرمین شپ کے اُمیدوار
سید ذیشان علی نقوی المعروف شانی شاہ (شاہ اﷲ دتہ، اسلام آباد)
کا ”القمر آن لائن“کو دیا گیا خصوصی انٹرویو
انٹرویو نگار :سید محمد عباس کاظمی

دنیا کی تاریخ و قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے کردار ہوتے ہیں کہ جن کے بارے لب کشائی کرتے یا لکھتے وقت ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے ، انھیں یہ عزت و عظمت انکی مخلصی،وطن دوستی،جدوجہد،قربانی،نیک نیتی و فیصلہ کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔اور وہ معاشرے و قوم میں سرخرو ہو کر ہر دور میں روشن ستارے کی طرح چمکتے نظر آتے ہیں۔آج ہم ایک ایسے ہی کردار کے بارے میں انٹرویو لیں گے۔سید ذیشان علی نقوی عرف شانی شاہ جو کہ اپنی عرفیت کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوئے۔شانی شاہ مزاج کے لطیف ، بے حد ذہین ،معاملہ فہم ،صاحب بصیرت اورہمہ جہت شخصیت کے مالک ، باخبر انسان ہیں ۔
سید ذیشان علی نقوی المعروف شانی شاہ فضل وکمال لطف وشفقت ،نظم وضبط ہر کام کے حوالہ سے سلیقہ مندی ،ہمہ گیر ہنرمندی اور بے مثال فیض رسانی وافادیت کی بے نظیر قدرت کے ساتھ ساتھ پروقار وبااعتبار وپرکشش کے حامل اپنی نظیر آپ ہیں۔ان سے ملنے اور برتنے والے کو محبت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے وہ زندگی کے مثبت فیضان میں ہر ایک کو شریک رکھتے ہیں اور زیست کے کسی بھی منفی اثرات سے ہر ایک کو بچائے رکھتے ہیں۔شانی شاہ رئیل اسٹیٹ کا ایک بااعتماد نام ہے اور گرین ہلز کے مالک ہیں، گرین ہلز نے نیک نیتی کے ساتھ بہت کم عرصے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اپنی بہترین ساکھ کی وجہ سے ہر دلعزیز ہے۔شانی شاہ جذبہ خدمت کے تحت ہمیشہ سب کے کام آتے رہے اوراسی جذبہ¿ خدمت کی وجہ سے عملی سیاست میں آ کر مسلم لیگ (ن) کے سر گرم رکن بن گے۔ یہ بات ان کے مخالفین کو اچھی نہ لگی جس کی وجہ سے انہوں نے روایتی منفی پروپیگنڈے کی سیاست شروع کردی اور ان پر الزامات لگانا شروع کر دئیے۔ ”القمر آن لائن“ نے اس سلسلے میں ان سے ایک انٹرویو لیا جو قارئین کے خصوصی طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔
سوال:    آپ کے عملی سیاست میں آنے کی کیا وجہ ہے؟
جواب:    میری عملی سیاست میں آنے کا مقصد اس خطے میں امن وا مان کی صورت حال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور فلاحی کاموں سے اس خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ اپنے علاقے میں بھائی چارے اور امن کی فضاءقائم کرنا، نفرتوں کو دُور کرنا ہے اور امن و محبت کا بول بالا کرکے علاقے کی پسماندگی کو دُور کرنا ہے اور یونین کونسل شاہ اﷲ دتہ کو مثالی خطہ بنانا ہے۔ یونین کونسل کے باشعور عوام اپنے حقوق پر کوئی سودا بازی نہیں کریں گے ، ہم اپنے عوام کے ہر قسم کے فلاحی کا م کریں گے جس سے اس خطے کو ترقی کی راہوں پر گامزن کریں گے۔ ہم اللہ پر بھروسہ رکھ کر پورے جذبہ ایمانی سے عوام کے حقوق کے لیے میدان میں اترے ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گئے۔برسر اقتدار آ کر پسماندگئی کا خاتمہ کریں گے، حلقہ کی محرمیوں کو عوام کی مشاورت سے انقلابی حکمت عملی کے ذریعے فوراً دُور کرنے کے عمل کو نافذ العمل کر یں گے۔ اس نیک مقصد میں عوام ان کا ساتھ دیں اور سیسہ پلائی دیوار بن کراپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔میرا تعلق جس خانوادے سے ہے اس کا کام ہی سماج کی فلاح و بہبو د ا ور تعلیم کو عام کرنا ہے، الیکشن جیتنے کے بعد ایک منظم پروگرام کے تحت اس مشن کو آگئے بڑھائیں گے۔
سوال: اسلام آباد بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ(ن)کی کیا پوزیشن ہے اور اپنے خلاف الزامات کا کیا جواب دیں گے؟
جواب:    اسلام آباد کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر ثابت کرےگی کہ اس کی جڑیں مضبوط ہیں ہماری کامیابی کے امکانات کو دیکھ کر مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے ہیں، کردار کشی اور الزام تراشی کی سیاست مخالفین کا پرانا وتیرہ ہے، ہم ایسے گھٹیا حربوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں ثابت کر دیں گے کہ اسلام آباد مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے اور مسلم لیگ (ن) اسلام آباد کے شہریوں کے دل میںہے۔ انہوں نے کہاہم بلند بانگ دعوﺅں پر یقین نہیں رکھتے لیکن ہمارا وعدہ ہے کہ اسلام آبادکو قابل فخر، آئیڈیل اور ایسا تاریخی شہر بنا دیں گے کہ دُنیا بھر میں اس کی مثالیں دی جائیں گی۔ سید ذیشان علی نقوی المعروف شانی شاہ نے کہا شاہ اﷲ دتہ اور قرب و جوار کے علاقوں میں لوگ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت اور ملک و قوم کےلئے ان کی خدمات کے دل و جان سے معترف ہیں۔ میاں برادران پاکستان کی تعمیر و ترقی اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کےلئے جس طرح شبانہ روز کام کر رہے ہیں اس کا احساس نہ صرف ملک بھر کے لوگوں کو ہے بلکہ بیرون ملک مقیم لوگ بھی اس بات کے عینی گواہ ہیں اور دل و جان سے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم گھبرانے والے نہیں، کامیابی اور ہمار ی منزل بہت قریب ہے، میرا کردار ایک کھلی کتاب کی طرح ہے ، میں منفی پروپیگنڈوں اور بے بنیاد الزامات سے گھبرانے والا نہیں ہوں، الزام تراشیاں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
سوال:     گرین ہلز ادارہ کے بارے میں بتائیے اور اس پلیٹ فارم سے آپ نے کیا اقدامات کئے ہیں ؟
جواب:    گرین ہلز (Green Hills)رئیل اسٹیٹ کا ادارہ ہے جس کو قائم کرنے کا مقصد بہترین رہائش، فارم ہاﺅس، کمرشل پراپرٹی ، بلڈرز اینڈ ڈویلپمنٹ کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ چونکہ ہماری رہائش شاہ اﷲ دتہ کے سرسبز پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے اس لئے ہم نے ادارہ کا نام گرین ہلز (Green Hills)تجویز کیا۔ گرین ہلز کے پروجیکٹس میں گرین ہلز ریسٹورنٹ، کھیلوں کےلئے ٹینس کورٹ، سکواش اور باسکٹ بال، منی گالف کورس اور بچوں کےلئے تفریحی پارک اور بڑوں کےلئے تفریحی مقام کا قیام ہے۔
سوال:    آپ مذہبی نقطہ نظر سے سیاست کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

AlqamarAlqamar
جواب:    یہ حقیقت اظہر من الشّمس ہے کہ انسان دوستی کے جذبوں کو زندہ رکھنا ہر دور کی ضرورت رہی ہے تاکہ ایک خوبصورت انسانی معاشرہ قائم و دائم رہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب انسان، انسان کے کام آئے اور ہر فرد دوسروں کے دُکھ درد کو اپنا دُکھ درد سمجھے۔ یہی وہ سوچ ہے کہ جو دین اسلام کی رُوح ہے کیونکہ اسلام دین انسانیت اور ایک مکمل ضابطہ¿ حیات ہے اور اس کے اندر ہر فرد کےلئے جگہ اور گنجائش موجود ہے اور یہ وہ واحد دین فطرت ہے جو ہر طرح کی تنگ نظریوں، تعصبات اور فرقہ وارانہ انداز فکر سے بالاتر ہے۔ یہ انسانی فلاح و بہبود اور لوگوں کی دُنیا و آخرت کی بہتری کےلئے ایک جامع پروگرام ہے جو انسانیت کے خالق نے اپنی مخلوق کےلئے پسند فرمایا لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عاقبت نااندیش نام نہاد دین کے حبدداروں نے اس کی افاقیت کو نقصان پہنچایا اور ملت کو گروہوں، فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم کر دیا اور اسلام کا وہ پہلو جو خدمت خلق سے عبارت ہے اسے ظاہر نہ ہونے دیا اور عبادت کو ایک مخصوص شکل دے کر اسے مسجدوں اور عبادت خانوں تک محدود کر دیا اور ان عبادات کے اجتماعی پہلو سے معاشرے کو مستفید نہ ہونا دیا، جبکہ خالق کی بندگی کا تصور اس کی مخلوق کے ساتھ محبت کرنے سے مرقوم ہے۔ چنانچہ جو انسان دُکھی انسانیت کی مدد نہیں کرتا، مجبوروں اور بے سہارا لوگوں کے کام نہیں آتا اﷲ تعالیٰ ایسے شخص کو قطعاً پسند نہیں کرتا، چنانچہ انہی فلاحی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سیاست آنے بنیاد رکھی گئی ہے تاکہ بکھری ہوئی انسانیت کو یکجاکیا جا سکے اور انسانوں کے دلوں میں دوسرے انسانوں کےلئے جگہ بنائی جا سکے تاکہ یہ دُنیا جو اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے اسے امن و آشتی کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
سوال:    عملی سیاست میں آنے کے اغراض و مقاصد بیان کیجئے؟
جواب:    میرے سیاست میں آنے کے اغراض و مقاصد میں تعلیم و تربیت، صحت، خواتین کے حقوق شامل ہیں، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
تعلیم و تربیت:
(۱)    تعلیم عام کرنا اور مستحق طلباءو طالبات کی تعلیمی وظائف کے ذریعے مدد کرنا
(۲)    تعلیمی ادارے، سکولز اور لائبریریاں قائم کرنا
(۳)    طلباءو طالبات کو دینی سوج بوجھ دینے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کےلئے شارٹ کورسز اور تعلیمی ورکشاپس اور علمی مقابلہ جات کا اہتمام کرنا
(۴)    تعلیم عام کرو پروگرام کے تحت تحریروں، مباحثوں، کانفرسز اور سیمینارز کے ذریعے علم کی عظمت اور افادیت کو اُجاگر کرنا
(۵)    پسماندہ اور ناخواندہ علاقوں کے عوام کی ان مشکلات کا ازالہ کرنا جو ان کے بچوں کی تعلیم میں حائل ہو چکی ہیں۔
صحت
(۱)    پسماندہ اور دیہی علاقوں میں ہیلتھ سنٹر، ڈسپنسریاں اور میڈیکل یونٹ قائم کرنا۔
(۲)    دُورافتادہ علاقوں میں مختلف امراض کے لئے میڈیکل کیمپس لگانا۔
(۳)    ضرورت مند مریضوں کو ادویات مفت فراہم کرنا اور پک اینڈ ڈراپ کےلئے ایمبولینس کی سروس مہیا کرنا۔
(۴)    بلڈ بنک کے ذریعے مستحق مریضوں کو مفت خون فراہم کرنا۔
(۵)    مخصوص امراض کے علاج و معالجہ اور وبائی امراض سے بچاﺅ کے حوالہ سے عوامی شعور اُجاگر کرنا۔
خواتین کے حقوق
عورت شروع سے ہی حق تلفی، تشدد اور استحصال کا نشانہ بنتی چلی آرہی ہے، مختلف ادوار میں خواتین کے حقوق کے پرچم بلند کیے گئے مگر ان کے درپردہ بھی عورت کا معنوی استحصال تھا۔ اسلام وہ واحد دین فطرت ہے جو عورت کی معنوی اور رُوحانی آزادی اور اس کے بنیادی حقوق کا ایک وسیع چارٹر رکھتا ہے لیکن بعض تنگ نظر اور ناخواندہ دین کے دعویداروں نے عورت کو اسلام ہی کے نام سے بند گلی میں دھکیل دیا ہے اور اس کے عظیم اور آفاقی وجود سے مستفید ہونے کے راستے روک دیئے حالانکہ اگر ہم تاریخ اسلام میں دیکھیں تو عورت کبھی حواؑ، کبھی مریمؑ، کبھی زہراؑ اور کبھی سیدہ زینب سلام اﷲ علیہا کے رُوپ میں دکھائی دیتی ہیں۔ جو تاریخ میں عورت کی کھوئی ہوئی قدروں کو زندہ کرنے کی علامت ہیں۔ آج اگر ایک طرف مطلق آزادی اور بے رنگ روشن خیالی کے نعروں نے عورت کو ایک نمائشی گڑیا اور سرمایہ داروں کی کٹھ پتلی بنا کر رکھ دیا ہے تو دوسری طرف اسلام کے روکھے اور پھیکے نعرے لگانے والوں نے عورت کو چاردیواری کے اندر محصور کر دیا ہے جبکہ تیسرا طبقہ وہ ہے جو دیہاتوں کے مکین ہیں جن کی عورتیں سارا سارا دن مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں پھر گھر کا کام کاج بھی سنبھالتی ہیں مگر اس کے باوجود اپنے مردوں کے ظلم و تشدد کا نشانہ ہیں اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم دکھائی دیتی ہیں، چنانچہ ہماری کوشش ہے کہ خواتین کو اسلام کی روشن اور ترقی یافتہ راہ پر گامزن کیا جائے جس پر چل کر عورت کی معنوی اقدار کا تحفظ اور اسکے بنیادی حقوق کی حفاظت ہو سکے اور معاشرے میں اسے ایک بلند ترین مقام حاصل ہو ۔ مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کےلئے چند اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خواتین کی فلاح و بہبود
(۱)    خواتین کےلئے ایسے تعلیمی مراکز قائم کرنا جہاں انہیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جا سکے۔
(۲)    خواتین کو ہنرمند بنانے کےلئے ووکیشنل سنٹرز اور دستکاری سکولز قائم کرنا۔
(۳)    خواتین کو روزگار کے مثبت مواقع اور تفریح کےلئے صحت مند ماحول فراہم کرنا۔
(۴)    خواتین کےلئے ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کےلئے اچھے رشتوں کے مواقع فراہم کرنا
(۵)    مستحق خواتین کےلئے شادیوں کے اخراجات برداشت کرنا
(۶)    بیوہ اور بے سہارا خواتین کو رہائش کےلئے گھر کی سہولت فراہم کرنا
٭٭٭٭٭٭

تعارف سید مشبر علی کاظمی

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>