صرف مدارس ہی میں حب الوطنی کیوں پڑھائی جائے؟

au-asif-for-webان دنوں ریاست مدھیہ پردیش جہاں شیوراج سنگھ چوہان کی سربراہی میںبی جے پی حکومت قائم ہے، کے مدارس کے نصاب میں ’حب الوطنی‘ کے خصوصی باب کی شمولیت کے لیے ریاستی مدرسہ بورڈ کی جانب سے راجیہ شکشا کیندر کو پیش کی جارہی تجویز کو لے کر ریاست ہی نہیں، ملک بھر میںبحث چل رہی ہے کہ صرف مدارس ہی کے نصاب میںحب الوطنی کا باب کیوںداخل کیا جارہا ہے؟ کیامدارس میںحب الوطنی نہیں پائی جاتی ہے؟ کیا ریاست کے اسکولوںکے بچوںکو حب الوطنی کا سبق پڑھانے کی ضرورت نہیںہے؟
عیاںرہے کہ مدھیہ پردیش میںکل 7 ہزار 401 مدارس ہیں جن میں دو ہزار 535 حکومت سے تسلیم شدہ ہیں او روہاںجدید و ہم عصر مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ ان میںایک ہزار 254 پرائمری تعلیم دیتے ہیں اور باقی ایک ہزار 281 مڈل کی سطح تک تسلیم شدہ ہیں۔ ان تسلیم شدہ مدارس میں دو لاکھ 30 ہزار طلباء و طالبات پڑھتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ مذکورہ تجویز کو ریاست کی بی جے پی حکومت کی سرپرستی حاصل ہوگی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نئے باب کے نصاب میںشامل ہونے سے مدارس کے طلباء کو یہ سمجھانے اور محسوس کرانے میں مدد ملے گی کہ اسلام ملک کے تئیں وفاداری کو بلند مقام اور محبت دیتا ہے۔
صرف مدارس کے نصاب میں حب الوطنی کا سبق شامل کرنے پر مدھیہ پردیش کے مسلمانوںمیںسخت بے چینی پائی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسہ بورڈ کے چیئر مین پروفیسر سید عمادالدین کے اعلان کے ایک روز بعد کو آرڈی نیشن کمیٹی فار انڈین مسلمز (سی سی آئی ایم ) مدھیہ پردیش یونٹ نے اس کا سخت نوٹس لیا اور اس پر اعتراض کیا کہ آخر صرف مدارس کے طلباء کو ہی حب الوطنی کا سبق پڑھانے کی ضرورت کیوں آپڑی؟ اس تعلق سے سکریٹری مسعود احمد خاں کی سربراہی میںسی سی آئی ایم کا ایک وفد مدرسہ بورڈ کے پروفیسر عمادالدین سے ملا اور اس سلسلے میں حکومت کو بھیجی گئی تجویز پر سخت اعتراض کیا۔ وفد نے مدرسہ بورڈ کے اس قدم کو امتیاز برتنے والا بتایا اور کہا کہ اسے ریاست میں کبھی بھی نافذ نہیں ہونا چاہیے۔ سی سی آئی ایم نے جو سوالات اس تعلق سے اٹھائے، وہ بہت ہی اہم ہیں۔سی سی آئی ایم کی یہ بات بالکل صحیح اور معقول ہے کہ اگر طلباء کو حب الوطنی کا سبق پڑھانا ہے تو یہ تمام طلباء اور مین اسٹریم اسکولوں کے لیے ہونا چاہیے۔ اس کا اطلاق صرف مدارس کے طلباء پر ہی کیوں ہو؟ ان کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ملک کے تئیںوفاداری کا بھی فہم پیدا کرنا ہے تو یہ بھی پورے ملک کے تمام طلباء کے لیے ہونا چاہیے۔ سی سی آئی ایم کے اس احتجاج میں جماعت اسلامی ہند، جمعیت علمائے ہند، آل انڈیا ملی کونسل، آل انڈیا مجلس تعمیر ملت،مرکزی جمیعت اہل حدیث ہند، ایس ڈی پی آئی،انڈین یونین مسلم لیگ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ شریک ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست کی تمام مسلم تنظیمیں مدرسہ بورڈ کے اس اقدام سے رنجیدہ ہیں۔
مدھیہ ہپردیش کے مسلمانوں کی ان نمائندہ تنظیموں کا اعتراض بالکل مناسب ہے۔ عجب بات تویہ ہے کہ اگر حکومت ہند نئے نصاب کو مدارس کے لیے منظور کرلیتی ہے تب مدارس کے طلباء کو وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان، پنڈت دین دیال اپادھیائے، مولانا ابواکلام آزاد، اے پی جے عبد الکلام و دیگر راشٹر بھکتوں کی سوانح حیات پڑھنی ہوں گی تاکہ یہ جان سکیںکہ ان شخصیات کے افکار و نظریا ت کیا تھے اور انھوںنے کس طرح وفاداری اور حب الوطنی کی ہے؟
سب سے حیران کن بات تو یہ ہے کہ مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ کی یہ اپنی تجویز ہے اور یہ اس کا اپنافیصلہ ہے کہ مدارس میںاب حب الوطنی کے سبق پڑھائے جائیں۔ اس سبق کا نام ہوگا’اسلام میں وطن کے لیے محبت‘ ۔ ویسے اس تعلق سے پروفیسر عمادالدین نے اپنے فیصلے کو درست ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ’’ وطن سے محبت ایمان کی نشانی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ بچوںکو حب الوطنی کا سبق پڑھایا جائے‘‘۔ ان کی اس بات کو ماننا مشکل لگتا ہے او رپھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی مدارس میںمحبت کیسے کی جائے،اس کیبارے میںوہاںکے طلباء کو پڑھانے کی ضرورت ہے؟ کیا مدارس میںحب الوطنی نہیں پائی جاتی ہے؟ یہاںیہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا تحریک آزادی میںمدارس کے کردار کو بھی اس طرح کی تجویز دیتے وقت فراموش کردیا گیا؟ کیا کئی لاکھ مدارس کے علماء اور طلباء کی جانوںکی قربانیوںکو بھی خاطر میںنہیںلایا گیا؟
اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ تحریک آزادی کے دوران یہی مدارس آزادی کے متوالوں کی سرگرمیوںکے مراکز بنے ہوئے تھے۔ دارالعلوم دیو بند ہو یا علماء صادق پور(پٹنہ) ، یہ سب کے سب مراکز آزادی کے مجاہدین کے کیمپ بنے ہوئے تھے۔ مدارس میںحب الوطنی کی بات کرنا دراصل یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ماضی کی وہاںکی حب الوطنی اب ختم ہوگئی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ مدارس کل بھی حب الوطنی کے قلعہ تھے اور آج بھی ہیں۔ لہٰذا صرف انھیں حب الوطنی کے سبق پڑھانے کی بات کی جائے تو یہ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ اگر حکومت عمومی طور پر حب الوطنی نئی نسل میںپیدا کرنے میںواقعی سنجیدہ ہے تو وہ صرف مدارس کے نصاب میںحب الوطنی کا باب ڈالنے کے بجائے پوری ریاست کے تمام اسکولوں کے نصاب میںحب الوطنی کا سبق شامل کرے۔ مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ کے ذریعہ مدارس میںحب الوطنی کے سبق کر پڑھانے کی تجویز یقیناً لمحہ فکریہ ہے ملک کے تمام محب الوطن شہریوںکے لیے۔ توقع ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت اس جانب توجہ دے گی۔

تعارف وسیم راشد

اردو دنیا اور اردو صحافت میں وسیم راشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی وسیم راشد کو نہ صرف 20سالہ درس وتدریس کا تجربہ ہے بلکہ تقریباً اتنے ہی سال سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں ۔اپنے اس طویل صحافتی سفر میں انہوں نے بے شمار پروگرام ریڈیو اور ٹی وی کے لئے کئے اور لاتعداد سیاسی ، سماجی ، ادبی شخصیات کے انٹر ویوز کئے ہیں۔اس دوران ملک کے اہم اردو اخبارات ، رسائل اور مختلف جرائد کے لئے آپ کے آرٹکلس بھی برابر شائع ہوتے رہے ہیں ۔ادب اور سیاست پر آپ کی گہری نظر ہے۔ اپنے تدریسی سفر میں جب کہ آپ ایک سینئر سیکنڈری انگلش میڈیم اسکول کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ہی صحافت کو بھی اپنے کیریئر کاحصہ بنایا ۔ اب تک بے شمار قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کرچکی ہیں ۔ کئی سال تک راشٹریہ سہارا اردو اخبارکی ایڈیٹوریل ٹیم سے بھی منسلک رہی ہیں۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>