غدار پاکستانی سیاستدانوں کی بھارت میں سرمایہ کاری، بڑے بھارتی گروپوں کیساتھ پارٹنر شپ

اکستان کے اہم سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کے بیرون ملک اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں، ان تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں جن کے مطابق کچھ سیاستدان ایسے بھی ہیں جنہوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور بڑے بڑے بھارتی گروپوں کے ساتھ ’’پارنٹرشپ‘‘ میں کاروبار ہو رہا ہے ۔ کچھ سیاستدانوں نے چین میں ریسٹورنٹ کھول لیے ہیں، بیرون ملک اثاثوں اور جائیدادوں کی تحقیقات شروع کردی گئی اور تحقیقاتی اداروںکی خفیہ ٹیمیں پاکستانیوں کے کاروبار کی چھان بین کے لیے پہنچ گئی ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے کئی ارب ڈالر کے اثاثے ہیں، حال ہی میں پاکستانیوں نے متحدہ عرب امارات میں 438ارب روپے مالیت کی جائیداد خریدی ہے، گزشتہ دنوں دبئی میں ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کے کریش ہونے سے پاکستانیوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا تھا لیکن اس کے باوجود پاکستانیوں نے مزید سرمایہ کاری کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے پوری دنیا میں بڑے بڑے کاروبار،ہوٹل، سپر اسٹورز،کار شوروم، محلات اور فلیٹ ہیں۔ ادھر کرپشن کی تحقیقات اور گرفتاریوں سے خوفزدہ 15محکموں کے افسران نے بیرون ملک جانے کیلیے وزیراعلیٰ سندھ سے اجازت مانگ لی۔ افسران coverکی اکثریت نے بچوں کی چھٹیوں کے دوران بیرون ملک جانے کیلئے چھٹی کی درخواست دی ہے کچھ افسران نے عمرے کی ادائیگی کے لیے اجازت مانگی ہے، بعض افسران نے غیرملکی فنڈنگ سے جاری منصوبوں کے حوالے سے بیرون ملک میٹنگ میں شرکت کیلئے سمندر پار چھٹی کی درخواست دی ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں 15 سے زائد محکموں سے تعلق رکھنے والے افسران کی بیرون ملک چھٹی کے حوالے سے درخواستیں فیصلے کی منتظر ہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے سندھ میں اربوں کے ترقیاتی فنڈز کی خوردبرد کے کیس قومی احتساب بیورو(نیب) کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز، ڈائریکٹر جنرلز،انجینئرز اور بعض کنسلٹنٹ کمپنیوں اور ریذیڈنٹ انجینئرز کے خلاف کیس داخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے بیان کے مطابق حکومت نے نیب کو ہدایت کی ہے کہ کیس تیار کیے جائیں، حکومت جن منصوبوں کے کیس بھجوانے کا ارادہ رکھتی ہے ان میں لاڑکانہ ڈویلپمنٹ پیکیجز کے 9ارب روپے مالیت کے 5منصوبوں کے 6کیس، شہید بے نظیر آباد ڈویلپمنٹ پیکیج کے 7ارب روپے مالیت کے 9منصوبوں کے 3کیس، تعمیر کراچی پروگرام کے تحت 13 ارب کے 17میگاڈویلپمنٹ پروجیکٹس کے 3کیس، حیدر آباد ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے 39ارب کے 7 منصوبوں کے 7کیس، خیرپور ڈویلپمنٹ پروگرام کے 250 ملین روپے کے 2منصوبوں کے 2کیس، گریٹر حیدرآباد، سیوریج پراجیکٹ کے 500ملین روپے کے 2کیس، سہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 3ارب روپے کے 3کیس، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 15ارب روپے کے 3کیس، لیاری ایکسپریس وے ری اسٹیبلشمنٹ کا 2ارب روپے کا ایک کیس اور حیدر آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 5ارب روپے کے 2کیس شامل ہیں۔ ادھر سندھ میں نیب کی جانب سے کرپشن میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف کار روائی کے بعد کئی اہم اعلیٰ سرکاری افسر بیرون ملک جا چکے ہیں جبکہ کئی  افسر غائب ہو گئے ۔ ذرائع کے مطابق ملک سے باہر جانے والے سرکاری افسران میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے منظور کاکا، سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی ثاقب سومرو، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین نثار مورانی شامل ہیں جبکہ محکمہ فشریز کے سابق سیکرٹری لئیق میمن ڈیڑھ سال سے بھنبھور ڈیری فارم پراجیکٹ میں 3 ابر روپے کی خوردبرد کر کے فرار ہیں۔

تعارف .

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>