مسلم ہینڈز پاکستان کا روشن چہرہ

مسلم ہینڈز پاکستان کا روشن چہرہ
شمائلہ جاوید بھٹی
shumaila-javed-bhattiمسلم ہینڈز پاکستان کی واحد بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا کردار اور کارکردگی قابل فخر اور قابل تقلید ہے۔ بلاشک و شبہ مسلم ہینڈز پاکستان کا روشن چہرہ ہے۔ جس کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ مسلم ہینڈز برطانیہ میں 1993میں قائم ہونے والی ایک فلاحی ( امدادی اور ترقی)تنظیم ہے ۔ جس کا ہیڈکوارٹر نوٹنگھم، برطانیہ میں ہے۔ جبکہ اس کے فنڈ ریزنگ دفاتربرطانیہ، فرانس، جنوبی افریقہ اور کینیڈا میںموجود ہیں۔یہ تنظیم اس وقت 50 سے زائد ممالک میںاپنے 26 چیپٹرز کے ساتھ مصروف عمل ہے اوراسے برطانیہ کی بڑی مسلم فلاحی تنظیموں میں شمارکیاجاتا ہے۔ برطانیہ میں اسکا رجسٹریشن نمبر (1105056)ہے جبکہ پاکستان میں یہ تنظیم وفاقی وزارت داخلہ کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اس کے علاوہ مسلم ہینڈز سوشل ویلفیئر آرڈیننس 1961کے تحت(VSWA/ICT/427) بھی رجسٹرڈ ہے۔ملک بھر میں 60 سے زائد اضلاع میں موجودگی رکھتے ہوئے یہ تنظیم2 علاقائی او11 ایریا دفاتر کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میںایک مثبت سماجی تبدیلی لانے کے لئے تعلیم، ذریعہ معاش، صحت، کمیونٹی کے بنیادی ڈھانچے، پانی اور حفظان صحت سمیت ناگہانی آفات سے بچائو اور ا ن کے تدارک جیسے اہم شعبہ جات میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ پاکستان چیپٹر کی ٹیم51فیصد خواتین عملے کے ساتھ 1400ملازمین پر مشتمل ہے۔یہ تنظیم براہ راست ڈونرز(عطیہ دہندگان)، شراکت داروں، گورنمنٹ ، اقوام متحدہ کے اداروں، مقامی سول سوسائٹی اور 15 سے زائد کثیر القومی یا دو طرفہ اداروں کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے پسماندہ اورخاص طور پر معاشرے کے محروم اور متاثرہ طبقات کے لئے کام کر رہی ہے۔
تنظیم کی درج ذیل شعبوں میں کام کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ ایمرجنسی رسپانس:مسلم ہینڈز نے1993سے آج تک نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پرپیش آنے والی قدرتی آفات (یعنی سیلاب / زلزلے) ، ہنگامی حالات ، جنگ اور تنازعات (TDPs بحران) کے لئے تندہی کے ساتھ کام کیا ہے ۔ 1996میں افغان مہاجرین کی مدد ہو یا 2005 میںکشمیر اور 2008میں زیارت میں آنے والے تباہ کن زلزلے، 2008میںسوات کے بے گھرہونے والے افراد کا بحران ہو یا 2009میں ہنزہ کے بے گھر افراد کے امداد ہو ، ان سب میں مسلم ہینڈز امدادی کاموں میں پیش پیش رہی ہے۔ اس کے علاوہ 2010اور 2015کے سیلاب ، آواران اور ماشخیل کے زلزلے، تھرپارکرکی خشک سالی، شمالی وزیرستان سے آنے والے بے گھر افراد اور 2015 کے زلزلے ،ہر موقع پر مسلم ہینڈز حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ رہی ہے۔یہ تنظیم ان چند تنظیموں میں شامل رہی ہے جنھوں نے 2014میں آواران اور ماشخیل کے زلزلہ میں آگے بڑھ کر متاثرین کی مدد کی جبکہ حالیہ سالوں میںشمالی وزیرستان ایجنسی اورفاٹا کے متاثر ہ علاقوں، TDPs اور خیبر پختونخوا کے زلزلہ زدگان کی ا مداد کے کاموں کے لئے وفاقی و صوبائی حکام سے این او سی حاصل کرنے والی اولین تنظیموں میں شامل ہے۔ مسلم ہینڈز کی جانب سے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں ہنگامی حالات کا شکار ہونے والے افراد کے لئے فوری طور پر بچائو اورمحفوظ مقامات پر نقل و حمل کے ساتھ ساتھ غذائی اور غیر غذائی اشیاء کے پیکٹ، حفظان صحت کی کٹس،خیمے، اورصحت کی بنیادی دیکھ بھال کی خدمات بھی فراہم کی گئیں۔مجموعی طور پر اب تک 8.1 ملین سے زائد افراد کو ہنگامی حالات میں مدد فراہم کی جا چکی ہے۔
تعلیم: مسلم ہینڈز کاپاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے42 اضلاع میں 300 سے زائد رسمی اور غیر رسمی سکولوں پر مشتمل وسیع تعلیمی نیٹ ورک ہے۔ کل غیر رسمی سکولوں میں سے 192سکول بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن (6 برس کے عرصے میں )  اور عالمی بینک کے تعاون سے صوبہ بلوچستان کے 12 اضلاع میںقائم کئے گئے ہیں۔پاکستان میں مسلم ہینڈز کا سکول نیٹ ورک40,000 سے زائد بچوں کو تعلیم فراہم کر رہا ہے جن میں 5,000سے زائد یتیم بچے ہیں جبکہ ان سکولوں میں کل اندارج شدہ بچوں میںمجموعی طور پر70فیصد یتیم اور ضرورت مند بچے شامل ہیں۔یتیم بچوں کی مکمل کفالت کے تحت ان کو تعلیمی اخراجات، روزانہ کا کھانا، کتابیں، اسٹیشنری، پک اینڈ ڈراپ، صحت کے چیک اپ اور ضرورت پڑنے پر بورڈنگ کی سہولیات بھی بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں۔پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر سے تقریبا7,000اساتذہ کو 38 ماسٹر ٹرینرز کے ذریعے مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی ہے۔ برٹش کونسل اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن مسلم ہینڈز کے اہم شراکت داروں میں شامل ہیں جو پاکستان میں تعلیمی منصوبوں کے فروغ کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کو مسلم ہینڈز کے ساتھ مل کرسرانجام د ے رہے ہیں۔  پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے مختلف اضلاع میں 113سرکاری پرائمری سکول مسلم ہینڈز کے حوالے کیے ہیںجن کا مقصد سکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ، بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور معیاری تعلیم کا فروغ شامل ہے۔
muslim hands monogram-1 copy
پانی، صفائی اور حفظان صحت (WASH):  اس تنظیم نے ملک بھر میں22,875 ہینڈ پمپ (گھریلو اورآبادی کے لئے مشترکہ)، جبکہ 1,707کنویں جبکہ میرپور( آزاد جموں و کشمیر) ریجن میں14 واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی نصب کئے ہیں (خاص طور پر عوامی مقامات ، سرکاری اسپتالوںاور اسکولوںمیں)۔ اس کے علاوہ آفت زدہ علاقوں میں 500  ٹوائلٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ 10,614 صحت اور حفظان صحت کی کٹس فراہم کی گئی ہیں اور صحت اور صفائی کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے تقریبا 2,050 تربیتی سیشنز کا بھی اہتمام کیاگیا۔ مسلم ہینڈز نے ملک کے دور دراز علاقوں میں اب تک 4.5 ملین سے زائد افرادتک صاف پانی کے ذرائع پہنچائے ہیں۔ حالیہ سالوں میںمسلم ہینڈز نے یواین-ہیبی ٹاٹ کے ساتھ کامیاب شراکت داری کرتے ہوئے خیبر پختونخوا /فاٹا میں واپس لوٹنے والے خاندانوں اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پانی، صفائی اور حفظان صحت سے متعلق بنیادی خدمات فراہم کرنے کے چار جامع منصوبے مکمل کئے ہیں جن سے تقریبا 9,870خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
صحت: مسلم ہینڈز مستقل طور پر 5 بنیادی صحت کے مراکز ، جسمانی طور پر معذورافراد کے لئے 3بحالی مراکز (RCPDs) اور ایک کلینکل لیب چلا رہی ہے۔ جن کے ذریعے  پسماندہ کمیونٹیزکو مفت معیاری طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وقتا فوقتا ضرورت پڑنے پر میڈیکل کیمپس کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ مسلم ہینڈز کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی خدمات میں شامل ہیں ؛ ماں اور بچے کی دیکھ بھال، ہنگامی ابتدائی طبی امداد، جنرل میڈیکل چیک اپ، مریضوں کی منتقلی، صحت سے متعلق مسائل مثلا خاندانی منصوبہ بندی، ہائی بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس اور خون میں ذیابیطس وغیرہ۔ سال 2013 میں مسلم ہینڈز نے اپنے صحت کے پروگرام کو ایک نئی جہت دی جب جڑواں شہروں یعنی اسلام آباد اور راولپنڈی میں “ایمبولینس خدمات پروجیکٹ”  کے تحت مریضوں کی جلد منتقلی، ابتدائی طبی امداد اور اعلی معیار کی ایمبولینس خدمات فراہم کرنے کے لئے 25 ایمبولینسوںکا ایک بیڑاشامل کیا گیاجس نے اب تک 10,000 کیسز ہینڈل کئے ہیں۔اس سال مسلم ہینڈز نے اپنے سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کے لئے “صحت اسکریننگ” کے نام سے ایک پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جس میں ان کے میڈیکل چیک اپس کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے بارے میں آگاہی اور ان سے بچائو کے لئے ہدایات بھی دی گئیں۔پاکستان میںمسلم ہینڈز نے معیاری ادویات ، علاج اور دیگرطبی خدمات کے ذریعے اپنی خدمات کا دائرہ کار 1.8 ملین سے زائد افراد تک بڑھایا ہے۔
muslim hands pic
کمیونٹی کا بنیادی طبعی ڈھانچہ:مسلم ہینڈز کے اس پراجیکٹ کے تحت پاکستان بھر میں سکولوں کی تعمیر، صحت کی سہولیات، واش رومز کی تعمیر، آفت زدہ علاقوں میں مستقل اور عارضی گھروں کا قیا م شامل ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ افراد کو کٹس بھی فراہم کی گئیں۔ 2005کے زلزلے کے دوران کمیونٹی کی شراکت داری کے ساتھ 6,000 سے زائد عارضی پناہ گاہیں تعمیر کی گئیں جس سے تقریبا 72,000 افرادمستفید ہوئے۔جبکہ 2010کے سیلاب کے بعد خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور آزاد جموں و کشمیرمیں 3,000 سے زائد سیلاب مزاحم مستقل گھروںکو تعمیر کیا گیا ۔یہ گھر 2 بیڈروم ، باورچی خانے اورمتصل ٹوائلٹ پر مشتمل ہیں۔اس پراجیکٹ میںمقامی آبادی کو منصوبہ بندی ، عمل درآمد اور انتظام کے تمام مراحل میں شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے اور اب تک اندازا 1.3 ملین سے زائد افراداس پروجیکٹ سے فائدہ حاصل کر چکے ہیں۔
 ذریعہ معاش:(معاشی خودمختاری اوراثاثوں کی تخلیق)۔ لوگوں کو ہنر سکھانے اور ان کی مہارتوں کو بڑھانے کے لئے مسلم ہینڈز نے پاکستان کے 4 مختلف علاقوں میں4مستقل پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز (ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز) قائم کئے ہیں۔ اس کے ساتھ سا تھ محروم طبقات کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ملک بھر میں 2 تکنیکی تربیتی مراکز (ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز) اور 4 انفارمیٹکس انسٹیٹیوٹ بھی قائم ہیں جن سے اب تک 40,000افرادہنر سیکھ چکے ہیںیا پھر ہنرمندی میں اضافہ کر چکے ہیں۔لوگوں میں مویشیوں کی تقسیم،  نقد گرانٹ،  چھوٹے قرضوں اور اثاثوں کی تخلیق کی سکیمیںبھی کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں جن سے اب تک 14,963 سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں۔اس پروگرام نے لوگوںکا دوسروں پر انحصار کم کیا ہے، انھیں خود اعتمادبنایا ہے اور خودانحصاری کے ساتھ اپنی اور اپنے معاشرے کی بہتری کے لئے کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔ مسلم ہینڈز نے اس پروگرام کو خیبر پختونخوا میں جیمز کین فاؤنڈیشن (JCF) کے ساتھ مل کر مکمل کیا ہے جبکہ اس وقت شنائڈرز الیکٹرک سروسز کے اشتراک سے پاکستان میں پیشہ ورانہ / تکنیکی تعلیم کی ترویج کے لئے 5 سالہ منصوبے پر عمل درآمدکیا جا رہا ہے۔ (خوراک کی حفاظت اور غذائیت)۔مسلم ہینڈز کے مستقل پروجیکٹس جن میں قربانی سکیم، رمضان فوڈ پیکیج / پارسل کی تقسیم وغیرہ شامل ہیں ، پسماندہ طبقات میں غذائی کمی کو پورا کرنے اورخوراک کی حفاظت اور اس میں بہتری لانے کے لئے ایک اہم پروگرام ہے جس سے تقریبا 20لاکھ افراد نے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پر فائدہ اٹھایا ہے۔
ان سب پروگرامز کے ساتھ ساتھ مسلم ہینڈز دوسرے اہم مسائل جیسا کہ بچوں کے تحفظ، ماحولیات، آفات کے خطرات میں کمی(ڈیزاسٹر رسک رڈکشن) اورصنفی مسائل پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہے اور ان کو حل کر نے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے ۔

تعارف سہیل احمد صدیقی

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>