مولانا ارتقاء الدین سہسرامی زندگی سے جوڑتی اعتقاد و ادب پر نئی کتاب

نام کتاب: اعتقاد و ادب
مصنف: مولانا ارتضاء الدین حاذق ضیائی سہسرامی
مرتب: محمدارتقاء الدین سہسرامی
صفحات: 208
قیمت: 250 روپے
مبصر: شفیق الرحمٰن
ناشر: ضیاء پبلی کیشنز، نورن گنج، سہسرام (بہار)
p-11زیر تبصرہ کتاب ’اعتقاد و ادب‘ بہار کے ایک معروف عالم دین مرحوم مولانا ارتضاء الدین حاذق ضیائی سہسرامی کے مضامین کا مجموعہ ہے جو ان کے فرزند محمد ارتقاء الدین سہسرامی نے مرتب کیا ہے۔ بکھرے ہوئے علمی سرمایے کی جمع و تدوین ایک بڑی ادبی خدمت ہے۔ مرتب اس میں منمہک نظر آتے ہیں اور یہ ان کی علم وادب کے تئیںگہری دلچسپی بلکہ وفاداری کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس مجموعہ میں کل چودہ مضامین شامل ہیں۔ ان میںزیادہ تر تو مطبوعہ مضامین ہیں لیکن چند ایک غیر مطبوعہ بھی ہیں۔ حالانکہ اس مجموعے میں اس کی صراحت نہیں ہے۔ لیکن استفسار پر مرتب نے اس کی وضاحت کی ہے۔ امید ہے آئندہ ایڈیشن میں وہ اس کا خیال رکھیںگے۔ ہر مضمون کے اختتام پر اس کی صراحت ہونی چاہیے کہ وہ مطبوعہ ہے یا غیر مطبوعہ، اس طرح یہ بھی کہ وہ کہاں چھپا ہے اور کب؟
اگر ان چودہ مضامین کی نوعیت اورصنف کے اعتبار سے تقسیم کی جائے تو بآسانی کہا جاسکتا ہے اس میں کم از کم چار قسم کے مضامین شامل ہیں۔ ایک نوعیت تو وہ ہے جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ خالص دینی مضامین ہیں، اس لیے کہ ان کا موضوع تفسیر اور فقہ ہے۔ ایک دوسری قسم کا تعلق تصوف اور کلام سے ہے۔ مضامین کی ایک تیسری قسم وہ ہے جو خالص ادب و شاعری پر مبنی ہے۔ چوتھی قسم کا تعلق تذکرہ سے ہے۔
مضامین کے اس تنوع سے صاحب مضمون کی علمی سطح کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس کا ہر مضمون اپنی جگہ اہم ہے لیکن بعض مضامین تو نادرہیں۔ ان ہی میں’مولانا آزاد کی تربیت میںایک سہسرامی کا ہاتھ‘ بھی ہے۔ مرتب کا کہنا ہے کہ یہ مضمون دراصل دواجزا پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک جز مطبوعہ ہے جبکہ دوسرا غیر مطبوعہ۔ یہاں ان دونوں اجزا کو جوڑ کر ایک جز بنا دیا گیا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میںیہ بات معلوم و مشہور ہے کہ انھوں نے ایام اسیری کا ایک زمانہ غیر منقسم بہار (یعنی موجودہ صوبہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی) میں گزارا تھا۔لیکن بہار سے ان کے تعلق کا یہ گوشہ شاید اندھیرے میںہی رہتا، اگر مولانا آزاد نے خود اس کا اعتراف نہیںکیاہوتا۔ مولانا ارتضاء الدین نے اس گوشہ کو اپنے اس مضمون ’مولانا آزاد کی تربیت میں ایک سہسرامی کا ہاتھ‘ کے ذریعہ اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
دراصل سہسرام ایک ایسا شہر ہے جسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ غیر ملکی حکمرانوں سے مقابلہ کرکے ہندوستان کی حکمرانی کرنے والے اسی سہسرام کے شیر شاہ سوری واحد بادشاہ ہیں جو کہ ہندوستانی شہری تھے اور اسی دھرتی کے لعل و گوہر تھے۔ ان کا اصل نام فرید خاں تھا۔ انھوںنے مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دی تھی۔ اپنے دور حکومت میں انھوںنے جو اصلاحات کی ہیں وہ آج بھی قابل ذکر ہیں۔ چاہے وہ جی ٹی روڈ ہو یا اس کے کنارے لگائے گئے درخت اور پینے کے پانی کا معقول انتظام۔ سہسرام اور گیا کے علاقوں میںمحلوں کے اندر بھی جو سڑکیں ہیں،ان کے نیچے نالیوں کا پتھروںسے جال بچھا ہوا ہے جو کہ آج بھی ان کے حسن انتظام کی یاد دلاتا ہے۔ سہسرام ہی میں ان کا مقبرہ بھی تعمیری آرٹ میںاپنی مثال آپ ہے جو کہ مغلوںکے نمونوں سے بالکل الگ ہے۔
اس طرح کی تفصیلات ہمیںپٹنہ کے مشہور کتب خانہ خدابخش لائبریری سے چھپی ہوئی مرحوم مولانا ارتضاء الدین کی کتاب ’رجال سہسرام‘ سے ملتی ہیں۔ اس میں شیر شاہ کے علاوہ متعدد علماء و دانشوروں اور ادیبوں و شعراء کی حیات و خدمات کا بھی تذکرہ ہے۔ اسی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ حیدرآباد میںماہر اور عاشق قرآن مولانا ابو مصلح الدین کا تعلق بھی سہسرام سے ہی تھا۔ مولانا ارتضاء کے مولانا ابو مصلح سے ذاتی مراسم تھے۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں مولانا ابو مصلح کے ذریعہ نکالے گئے ’ترجمان القرآن‘ کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے مستعار لے لیا تھا۔ یہ جریدہ آج بھی لاہور سے نکلتا ہے۔ مشہور فقیہ اور ماہنامہ زندگی کے لمبے عرصے تک مدیر رہے مولانا سید احمد عروج قادری کا بھی اس رجال میں بھرپور تعارف ہے۔
علاوہ ازیںیہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ مولانا ارتضاء اپنی قرآن فہمی کے لیے برصغیر میں مشہور تھے۔ خاس بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں وہ مولانا مودودی اور علامہ حمید الدین فراہی کے انداز فہم سے بھی بعض مقامات پر الگ رائے رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا درس و مطالعہ قرآن مختلف حلقوں میں بہت پسند کیا جاتا تھا۔ ان کی علمی و فکری سطح کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوںنے عظیم دانشور ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی کی ترجیحاتی فکر کو بھی چیلنج کرڈالا تھا اور کہا تھا کہ تحریک اسلامی کی ترجیحات بنیادی ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیںکی جاسکتی ہے۔ اس کا حوالہ سہ روزہ ’دعوت ‘ کے 2008 میںشائع ہوئے خصوصی شمارہ بعنوان ’جماعت اسلامی ہند کے 60برس‘ میںان سے لیے گئے خصوصی انٹرویو کو پڑھتے وقت ملتاہے۔
مولاناارتضاء الدین بیک وقت عالم دین، مدرس، فقیہ، مفکر، ادیب، شاعر اور صحافی بھی تھے۔ کتابوں کے تبصرے پر انھیںمہارت حاصل تھی۔ محمد عارف اقبال کی ادارت میں شائع ہورہے سہ ماہی’اردو بک ریویو‘ میںان کے تبصرے مختلف کتابوں پر چھپتے تھے اور پسند کیے جاتے تھے۔ ان کے متعدد مضامین اور تبصرے نیز ادبی و شعری کلام غیر مطبوعہ ہیں۔ توقع ہے کہ اس سلسلے میں ان کے صاحبزادے کی کوششیںجاری رہیں گی اور ان سے نئی نسل فائدہ اٹھائے گی۔
مولانا ارتضاء کی حیات و خدمات پر رانچی یونیورسٹی میںمعروف دانشور و ناقد ڈاکٹر احمد سجاد کی سرپرستی میںسہسرام ہی کے ایک پروفیسر نے پی ایچ ڈی کی ہے جو کہ خود قابل اشاعت ہے۔اعتقاد و ادب کی طباعت خوبصورت ہے اور گیٹ اپ بھی خوشنما ہے لیکن ا س میںپروف کی بہت زیادہ غلطیاںہیں۔ امید ہے کہ اگلے ایڈیشن میں اس کاخیال رکھا جائے گا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میںیہ بات معلوم و مشہور ہے کہ انھوں نے ایام اسیری کا ایک زمانہ غیر منقسم بہار (یعنی موجودہ صوبہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی) میں گزارا تھا۔لیکن بہار سے ان کے تعلق کا یہ گوشہ شاید اندھیرے میںہی رہتا، اگر مولانا آزاد نے خود اس کا اعتراف نہیںکیاہوتا۔ مولانا ارتضاء الدین نے اس گوشہ کو اپنے اس مضمون ’مولانا آزاد کی تربیت میں ایک سہسرامی کا ہاتھ‘ کے ذریعہ اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

تعارف

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>