ڈاکٹر حمید اللہ کی علمی وراثت اور عصری معنویت

au-asif-for-webدنیامیں ایسی چند شخصیات ہوتی ہیں جن کے علمی و تحقیقی کارنامے تاریخ کار رخ موڑ دیتے ہیں۔یہ کسی زمانہ اور خطہ کے قیود و بند سے آزاد ہوتے ہیں اور بعد میں ان کارناموں پر تحقیق کے بعد ان شخصیات کی گوناگوں صلاحیتوں کا اعتراف ہوتا ہے اور ان کا تحقیقی کام اہل علم و دانش کے نزدیک موضوع بحث بنتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ایسی ہی شخصیات تاریخ ساز ہوتی ہیں۔انہی شخصیات میں سے ایک ڈاکٹر محمد حمید اللہ تھے جنہوں نے 95 برس کی عمر پائی اور نصف صدی پیرس میں قیام کے بعد 17دسمبر 2002 کو امریکہ کے پنسلوانیہ میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کے انتقال کے 14برس بعد معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز ( آئی او ایس ) نے ’’ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی علمی وراثت اور اس کی عصری معنویت ‘‘ کے موضوع پر دو روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ان کے علمی کارناموں کے تعلق سے کل 82 مقالے پیش کئے گئے۔ یہ مقالے 15یونیورسٹی کے شعبوں کے صدور، 20اسسٹنٹ پروفیسروں، 37 ریسرچ اسکالروں اور دس دیگر طلباء و نوجوانوں کے لکھے ہوئے تھے۔ اسی موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ آئی او ایس میں ڈاکٹر حمید اللہ کے علمی کارناموں پر مزید تحقیق کے لئے ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے گا جو بالخصوص ان کے فرانسیسی زبان میں کارناموں کے ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ترجمے کو یقینی بنائے گی۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی علمی خدمات کے تعلق سے 82 مقالوں کے عنوانات کو دیکھ ہی یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے علمی کاموں کادائرہ کار کتنا وسیع اور پُرمغز تھا۔ ان کے علمی کاموں میں ایک خاص بات اور تھی کہ وہ مستقبل کے تقاضوں کی احاطہ بندی کرتی ہے اور عصری معنویت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ سے لے کر اسلام کے مختلف گوشوں بشمول خلافت اور میثاق مدینہ پر بڑے دقیق اور فکر انگیز کام کئے۔ دوروزہ عالمی کانفرنس میں 82 مقالوں کا پڑھا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈاکٹر حمید اللہ میں اہل علم و دانش کی ان کے انتقال کے 14برسوں بعد بھی پوری دلچسپی پائی جاتی ہے اور انہوں نے متعدد ایشوز میں جو زاویئے پیش کئے ہیں ،وہ ہنوز موضوع بحث نبے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے میثاق مدینہ پر کئے گئے علمی و تحقیقی کاموں کو دیکھئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پہلی بار انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ دنیا میں سب سے پہلے مخلوط و جمہوری حکومت محمدؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ میں قائم کی تھی جس میں عیسائی، یہودی و دیگر مکاتب فکر کے نمائندہ افراد بھی شامل تھے اور اس کی سربراہی خود وہی کررہے تھے۔ وہ انکشاف تھا جسے جب مولانا وحید الدین خاں نے برسوں قبل بی جے پی کے بزرگ رہنما ایل کے اڈوانی کی انگریزی آپ بیتی کے اردو ترجمہ کے اجراء کی محفل میں خود مصنف کے سامنے پیش کیا تو وہ چونک گئے اور کہا کہ یہ پہلو پہلی مرتبہ ان کے سامنے آرہا ہے۔ اس وقت معروف صحافی اور فی الوقت مرکزی حکومت میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر نے تو آگے بڑھ کر یہ بھی کہہ دیا تھا کہ محمدؐ ؐ کی مدینہ کی حکومت پہلی سیکولر حکومت بھی تھی۔ اس سے ممکن ہے کہ لفظ سیکولر کے یہاں استعمال پر کسی کو اتفاق نہ ہو مگر ہندوستانی آئین میں سیکولرزم کی تشریح کی روشنی میں یہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ رسول اکرم ؐ کے مدینہ کے اس تجربہ سے کثرت میں وحدت کے تصور کی بھی وضاحت کھلے طور پر ہوتی ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر حمید اللہ نے نظام خلافت پربنیادی کام کرکے یہ تجویز پیش کی کہ موجودہ دور میں خلافت کی طرح تمام مسلم ممالک ایک ایسا نظام مرتب کریں جیسا کہ سوئزر لینڈ میں ہے اور جس کے تحت ہر ملک کے سربراہ کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اس کی سربراہی کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر خلافت کی ہی طرح کا کوئی نظام موجودہ دور میں قائم ہو جائے تو اس سے مسلم ممالک میں اتحاد پیدا ہوگا۔
ڈاکٹر حمید اللہ کے علمی کاموں میں ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ عہد نبوی میں نظام تعلیم کیا تھا؟اپنی تحقیق کے ذریعہ انہوں نے اس پہلو کو پورے طور پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ محمدؐ نے اپنے دور میں مکاتب و مدارس کے انتظام ، امتحانات ، اقامت خانے، ابتدائی تعلیم اور لکھنے پڑھنے کو سکھانے کے بندوبست، اجنبی زبانوں کی تعلیم ،نصاب تعلیم ،بچیوں اور عورتوں کی تعلیم کا پورا نظام قائم کررکھا تھا۔ وہ اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے ناخواندگی کو دور کرنے کے لئے نظم کیا تھا۔ مثال کے طورپر ہجرت کے ڈیڑھ ہی برس بعد جب 70-60 مکہ والے جنگ بدر میں گرفتار ہوکر مدینہ لائے گئے تو رسول کریمؐ نے ان لوگوںکی جو مالدار نہیں تھے، رہائی کے لئے یہ فدیہ مقرر کیا کہ وہ دس دس بچوں کو لکھنا سکھائیں۔ایک صحابی عبادہ ابن الصامت کہتے ہیںکہ رسول کریمؐ نے مجھے صفہ میں اس غرض سے مامور کیا تھا کہ لوگوں کو لکھنے اور قرآن کی تعلیم دوں۔ صفے سے مراد مکان کا ملحق حصہ ہوتا ہے۔یہ مسجد نبوی میں ایک احاطہ تھا جو اس غرض کے لئے مختص کردیا گیا تھا کہ باہر سے تعلیم کے لئے آنے والوں بلکہ خود مقامی بے گھر طالب علموں کیلئے دارالاقامہ کا بھی کام دے اور مدرسہ کا بھی ۔یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قبائلی نمائندے تعلیم کی غرض سے مدینہ آتے تھے اور ان کے قیام وطعام اور تعلیم و تربیت کی نگرانی خود محمدؐ فرماتے تھے۔ عہد نبوی میں ایک فنی ذوق یا تخصص بھی ترقی کرگیا تھا اور خود رسول اکرمؐ اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ نصاب کے تعلق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کے ہمہ گیر نصاب کے علاوہ نشانہ بازی ،پیراکی، تقسیم ترکہ کی ریاضی ،مبادی طب ،علم ہیئت، علم انساب اور علم تجوید القرآن کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ایک حدیث کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ استاد کی عزت کی جائے یا علم بغیر عمل کے بے سود ہے۔علم میں تجارت کے اصول و ضوابط بھی شامل تھے۔
آئی او ایس چیئر مین ڈاکٹر محمد منظور عالم قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر حمیداللہ کے علمی و تحقیقی کارناموں کے تجزیہ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سے یقینا ان کے کام کی موجودہ تناظر میں معنویت مزید اجاگر ہوگی اور دین اسلام، سیرت رسول اور تاریخ اسلام کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی۔

تعارف وسیم راشد

اردو دنیا اور اردو صحافت میں وسیم راشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی وسیم راشد کو نہ صرف 20سالہ درس وتدریس کا تجربہ ہے بلکہ تقریباً اتنے ہی سال سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں ۔اپنے اس طویل صحافتی سفر میں انہوں نے بے شمار پروگرام ریڈیو اور ٹی وی کے لئے کئے اور لاتعداد سیاسی ، سماجی ، ادبی شخصیات کے انٹر ویوز کئے ہیں۔اس دوران ملک کے اہم اردو اخبارات ، رسائل اور مختلف جرائد کے لئے آپ کے آرٹکلس بھی برابر شائع ہوتے رہے ہیں ۔ادب اور سیاست پر آپ کی گہری نظر ہے۔ اپنے تدریسی سفر میں جب کہ آپ ایک سینئر سیکنڈری انگلش میڈیم اسکول کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ہی صحافت کو بھی اپنے کیریئر کاحصہ بنایا ۔ اب تک بے شمار قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کرچکی ہیں ۔ کئی سال تک راشٹریہ سہارا اردو اخبارکی ایڈیٹوریل ٹیم سے بھی منسلک رہی ہیں۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>