کیسے مندمل ہوں گے گجرات سانحہ کے متاثرین کے زخم؟

au-asif-for-web’’میرے ابّا میرے لیے سب کچھ تھے۔ وہ ایک ایسے شریف آدمی تھے جنھوںنے چڑیوں تک کو بھی کبھی نقصان نہیںپہنچایا۔ وہ لوگ جو ان کے ساتھ اٹھتے، بیٹھتے اور کھاتے پیتے تھے، جب وہ ان کو مدد کرنے کے لیے پکار رہے تھے تو اس وقت کوئی بھی پڑوسی ان کے پاس کیوں نہیںآیا؟‘‘

یہ وہ سوال ہے جو کہ گزشتہ 28 فروری کو گجرات سانحہ کے 15 برس پورا ہونے پر نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے ڈپٹی اسپیکر ہال میںمنعقد ایک پروگرام میںسابق رکن پارلیمنٹ اور گلبرگ سوسائٹی کی معروف مہلوک شخصیت احسان جعفری کی صاحبزادی نسرین حسین نے اپنی درد بھری کہانی سناتے ہوئے کیا۔ جب وہ اپنی کہانی سنا رہی تھیں تو اسٹیج پر ان کے ساتھ بیٹھی ان کی بوڑھی ماں ذکیہ جعفری اپنے بہتے ہوئے آنسو پونچھ رہی تھیں۔ اسٹیج پر تشریف فرما دیگر شخصیات ہرش مندر، تیستا سیتلواد، منوج جھا اور اپوروا نند کے ساتھ سامعین میں سے بھی بیشتر کا کم و بیش یہی حال تھا۔
کہانی کا یہ حصہ تو کسی بھی شخص کو آبدیدہ کرنے کے لیے کافی تھا مگر اس کا ایک اور حصہ سبھی کو چونکانے والا بھی تھا۔ نسرین حسین نے کہا کہ چند برس قبل انھوںنے ریلائنس اور نرودا کے درمیان واقع زمین میں ایک پلاٹ خریدنے کی کوشش کی تھی۔ نہ صرف پلاٹ پسند کرلیا تھابلکہ اس کی ڈیل بھی ہوگئی تھی۔ لیکن جب ریئل اسٹیٹ کے ایجنٹوںکو ان کے مسلم نام کا علم ہوا تو پھر خاموشی اختیار کرلی گئی۔ بعد ازاںایک درجن سے زیادہ ای میلز کا کوئی جواب نہیں آیا۔اس طرح ان کی پلاٹ خریدنے کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔
گجرات سانحہ سے متعلق یہ حصے یقیناً بڑے دردناک ہیں، جنھیںیاد کرکے بلا تفریق مذہب و ملت کوئی بھی شخص پریشان ہو اٹھتا ہے۔نسرین حسین کی کہانی میں 1969 کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران وہ واقعہ بھی بڑا ہی دل سوز تھا، جب ان کے والد اپنی چھوٹی سی بچی نسرین کو گود میں لیے اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔ ان کے والد 1969 کے فسادات میں اپنی بیٹی و دیگر گھر والوںکو خود کے ساتھ بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر 2002 میں وہ محلے کے دیگر لوگوں کو بچانے میں خود اپنی جان گنوا بیٹھے۔
1969 کے فسادات کا ذکر ہوتے ہی سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خاں یاد آجاتے ہیں جو کہ ان دنوں سرکاری مہمان کے طور پر پاکستان سے ہندوستان آئے ہوئے تھے۔ جب انھیںگجرات فسادات پر قابو نہ پانے کی خبر ملی تو ’خدائی خدمت گار‘ کے یہ سپہ سالار سرکار و دیگر لوگوںکے منع کرنے کے باوجود احمدآباد پہنچ گئے او راس مقام پر جہاںانسانی خون بہہ رہا تھا، وہاںجاکر گاندھیائی انداز میں تحریک شروع کردی اور کہا کہ ’’جسے مارنا ہے، مجھے مارو‘‘۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کانگریسی وزیر اعلیٰ ہیتندر دیسائی بھاگے بھاگے وہاںپہنچے اور وہ بھی ان کے ساتھ اس انشن میںشامل ہوگئے۔ پھر تو جو فساد کرفیو کے دوران بندوق کی گولی سے نہیںرک رہا تھا، وہ عدم تشدد کے ہتھیار سے رک گیا۔
1969 کا خان عبدالغفار خاں کا یہ واقعہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اگر کسی اصول میں خلوص نیت ہو تو وہ اپنا جادو دکھاتا ہے۔ ویسے 2002 میں بھی اواخر فروری سے 5-6 مئی تک فسادات رکنے کا کچھ ایسا ہی واقعہ اس وقت ہوا تھا،جب اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے نظم و نسق کی صورت حال کی نگرانی کے لیے کے پی ایس گل کو بھیجا تھا۔ مگر دونوںمثالوںمیںبڑا فرق ہے۔ ایک سرحدی گاندھی کے عدم تشدد کے ہتھیار سے قابو میںآیا تو دوسرا کے پی ایس گل کے ہتھیار کی بدولت کنٹرول ہوا۔ یہاں ایک سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ آج کے دور میں عدم تشدد کے نام لینے والے لیڈروں کے قول و عمل میں وہ قوت کہاں کھو گئی ہے جو کہ ایسے مواقع پر جادوئی کام کرسکے ۔
جہاںتک 2002 کے اثرات کا معاملہ ہے، نسرین حسین کا بتایا ہوا یہ واقعہ کافی ہے کہ نسرین اپنی ہی ریاست میں کوئی پلاٹ خرید نہیںپارہی ہیں۔ یہاں بھی سوال یہ ہے کہ کب یہ صورت حال ریاست گجرات میں ختم ہوگی؟اور ایک کمیونٹی کے افراد اندرون ریاست کسی بھی جگہ اپنی مرضی سے کوئی پلاٹ زمین خرید سکیں گے۔
آئیے، اب ذرا جائزہ لیںکہ ان15 برسوں میںمتعلقہ مقدمات کا کیا ہوا؟ سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس (سی جے پی) نے پہلے ہی مرحلہ میں تقریباً 157 سازش کرنے والوں، جن میں 142 کو عمر قید ہوئی،کو سزا یاب کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں سے دو درجن سے زیادہ بڑے معاملے 2002میں گجرات میں ہوئی نسل کشی او رقتل عام سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے 19 افراد کو ہائی کورٹ میںدائر کی گئی اپیل کی بنیاد پر بری کردیا گیا۔ اب سی جے پی کا ارادہ ہے کہ اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے۔ 2002 کے زیادہ تر مجرمانہ مقدمات سیشن عدالتوں کی سطح پر ہی پایہ تکمیل تک پہنچ گئے تھے۔ مقدموںکی اس لسٹ کے علاوہ بلقیس بانو، ایرال، گھوڈاسر اور سیسن کے معاملات میںجن سے سی جے پی سیدھے وابستہ تھی، وہ انصاف پر مبنی فیصلہ تک پہنچ گئی تھی ۔جہاںتک پندھارواڑہ گام قتل عام کے مقدمات اور کدیاد، جہاں 91 افراد کو ایک ٹیمپو میں زندہ جلادیا گیا تھا، معاملہ کو گجرات پولیس کے ذریعہ ختم کردیا گیا تھا اور ان سے پوچھ تاچھ بھی نہیں کی گئی تھی۔ حالانکہ شاردا پورہ کی سماعت ہوچکی ہے او رنرودا پاٹیہ معاملہ کی سماعت شروع ہوگئی ہے تاہم ایس آئی ٹی نے پسماندگان کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا ہے۔ یہ بات بھی کم تکلیف دہ نہیںہے کہ پولیس کے ذریعہ مشکل ترین رکاوٹیں پیدا کیے جانے کے سبب گجرات میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کے لیے پہلی بار نظام عدل میں انتظامیہ کی مجرمانہ جانبداری کے سبب ذکیہ جعفری کے مقدمہ کو مجسٹریٹ کی عدالت سے ہائی کورٹ تک جانا پڑا جس کی ہائی کورٹ میںسماعت ہورہی ہے۔
بہرحال جو کچھ 1969 اور 2002 میںہوا، وہ تو ہوچکا۔اب توقع ہے کہ ماحول بدلے گا اور منافرت کی جگہ محبت پھر سے واپس لوٹے گی۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔

About وسیم راشد

اردو دنیا اور اردو صحافت میں وسیم راشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی وسیم راشد کو نہ صرف 20سالہ درس وتدریس کا تجربہ ہے بلکہ تقریباً اتنے ہی سال سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں ۔اپنے اس طویل صحافتی سفر میں انہوں نے بے شمار پروگرام ریڈیو اور ٹی وی کے لئے کئے اور لاتعداد سیاسی ، سماجی ، ادبی شخصیات کے انٹر ویوز کئے ہیں۔اس دوران ملک کے اہم اردو اخبارات ، رسائل اور مختلف جرائد کے لئے آپ کے آرٹکلس بھی برابر شائع ہوتے رہے ہیں ۔ادب اور سیاست پر آپ کی گہری نظر ہے۔ اپنے تدریسی سفر میں جب کہ آپ ایک سینئر سیکنڈری انگلش میڈیم اسکول کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ہی صحافت کو بھی اپنے کیریئر کاحصہ بنایا ۔ اب تک بے شمار قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کرچکی ہیں ۔ کئی سال تک راشٹریہ سہارا اردو اخبارکی ایڈیٹوریل ٹیم سے بھی منسلک رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>