جگر جسم کا ایک اہم عضو ہے جو پسلیوں کے نیچے دائیں جانب پیٹ ک بالائی حصے میںہوتا ہے ہمارا ، جگر روزانہ پانچ سو سے زائد مختلف اہم عمل کرتا ہے یہ بہت نازک عضو ہے اور اس میں خون کی بہت سی مقدار موجود رہتی ہے اس کا وزن 1400سے 1600گرام ہے یہ مندرجہ ذیل کام بھی کرتا ہے ۔1وٹامنز ، منرلز ، فولاد اور شکر کو ذخیرہ کرنا ،2خون کی صفائی کیلئے چھنی کا کام کرنا اور خون کو زہریلے اور فاسد مادوں سے پاک کرنا3کولیسٹرول کو کنٹرول رکھنا اور خون کی روانی میں کسی دوائی یا کیمیکل کے شامل ہونے کو کنٹرول کرنا 4غذا کو کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنا جو توانائی کیلئے ضروری ہیں ۔5ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھنا۔6مختلف قسم کی پروٹین اور خون کو منجمند کرانیوالے مادے بنانا 7بائل کے ذریعے ہاضمے میں مدد دینا اور 8آنتوں کے ذریعے فاسد مادوں کا اخراج ،۔ جگری کی سوزش کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں وائرس ایک چھوٹا سا جرثومہ ہے جو جسم میں داخل ہو کر مختلف اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے جگر کی خرابی کی سب سے اہم وجہ کئی اقسام کے وائرس ہوتے ہیں ان وائرس کی اقسام کے نام A، B،C، Dاور Eیعنی ( اے بی ، سی ڈی اور ای )وغیرہ ہیں وائر س اے اور Eقلیل المیعاد (عام یرقان) ہیپاٹائٹس کا باعث بنتے ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں یہ قلیل المیعاد بھی ہوتے ہیں مگر چند لوگوں میں طویل المیعاد ہیپاٹائٹس کا باعث بن سکتے ہیں یعنی Hepatitis Cronic) جو رفتہ رفتہ جکڑ سکڑنے کا باعث بنتا ہے جو کہ سروسس (Cirrhoss) کہلتا ہے سروسس کا یہ عمل15سے30سال پر محیط ہوتاھ ہے ہیپاٹائٹس سی کو خاموش وائر س بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی علامات ظاہر ہونے سے دس سے20 سال تک مریض صحت مند نظر آسکتا ہے ابھی تک ہیپاٹائٹس سی سے بچاﺅ کی حفاظی ٹیکے نہیں ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے ہیں اور ہم سب کو لگوانے چاہیں ہم سب کو چاہیے کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیسٹ کروائیں آج کل کے اعدادو شمار کے مطابق پوری دنیا میں پایا جانیوالا ہیپاٹائٹس سی کا یہ وائرس تقریبا170کروڑ افراد کے جسم میں موجودہ ہے اور 60 لاکھ سے ایک کروڑ تک پاکستانی لوگ اس میں مبتلا پائے جاسکتے ہیں جن لوگوں کو ہیپاٹائٹس سی ہو تو ان میں انتہائی تھکن اور نقاہت پائی جاتی ہے شراب سے بھی ایسے مریضوں کو پرہیز کرنا چاہیے ہیپاٹائٹس سی میں سب سے زیادہ اہم دو پیچیدگیاں ہوتی ہیں ایک تو صلابت جگر (یعنی جگر کا سکڑنا) یا سروسس اور دوسرا جگر کا سرطان یعنی کینسر یہ دو ایسی پیچیدگیاں ہیں جن کا آخر کار علاج صرف جگر کی تبدیلی ہی سے ممکن ہے مندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں وزن کم ہونا ، چہرے کارنگ زرد ہونا ، پیٹ میں پانی بھر جانا ، خون کے قے آنا بے ہوشی ہونا ، سانس سے بوآنا ، نیند میں خلل ، ہاتھوں پر کپکپی ہونا ، پاﺅں اور تمام جسم میں سوجن ہتھیلی کا کرم ہونا ، سرخ ہونا اور پسینے میں شرابورہونا وغیرہ ۔ ہیپاٹائٹس کی وائرس کا شکار ہونے کی مختلف ذرائع ہیں اکثر لوگوں کو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کیسے مرض میں مبتلا ہوئے زیادہ سوچنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ مرض آپ کو کیسے لاحق ہوا ضروری یہ ہے کہ آپ اس موذی مرض کا مقابلہ کریں چھینکنے ، کھانسنے ، بوسہ لینے ، کچن کے برتن استعمال کرنے ، باتھ روم یا ٹائلٹ استعمال کرنے یا روز مرہ زندگی کے کام سے یہ وائرس دوسرے کو منتقل نہیں ہو سکتا عام طور پر یہ متاثرہ خون کیساتھ ملاپ سے لاحق ہو تا ہے اس مرض کے لاحق ہونے کے عام ذرائع یہ ہیں 1آلودہ خون لگوانے سے 2جراثیم سے آلودہ سرنج یا سوئی سے ۔3جراثیم سے آلودہ دانتوں کے علاج کے اوزار سے 4جلد پر آلودہ آلات سے نشانات یا تصویر بنوانے یا آلودہ سوئی سے کان چھدوانے سے 5 جنسی تعلقات (جو خون کے جاری ہونے کا سبب بنے) ۔ 6ایام ماہواری ، میں جنسی ملاپ ، 7متاثرہ شخص کا استرا ، ریزر ، یا ٹوتھ برش ،وغیرہ استعمال کرنے سے اور8بہت کم لوگوں میں ماں سے بچے میں منتقلی بھی ممکن ہے اگر صحیح اور بروقت علاج کیا جائے تو ہیپاٹائٹس سی سے یقینی صحت یابی حاصل ہو سکتی ہے لہذا ضروری ہے کہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگہ یہ بیماری ہو جائے تو اس بیماری کے خلاف فوری طور پر علاج شروع کریں تاکہ کینسر اور سروسس سے بچا جاسکے ورنہ جگر کی منتقلی کروانی پڑتی ہے ہیپاٹائٹس سی سے صحت یابی پانے کی بہت ساری موثر دوائیں مثلاInterferon، (Pegasys)، Ribaverineوغیرہ دستیاب ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب مریض اس مرض سے چھٹکاراپا کر مکمل طور پر صحت مند ہو سکتے ہیں بلکہ اس بیماری کے ماہر ڈاکٹر علاج کروائیں خوراک میں کسی خاص پرہیز کی ضرورت نہیں کچھ لوگوں میں جسم کی قوت مدافعت ہی خود بخود اس بیماری کو ختم کر دیتی ہے Interferon، پروٹین ہے جو جسم میں پیدا ہوتی ہے اور وائرس سے لاحق ہونیوالی بیماریوں سے مقابلہ کرنے میں ممدو معاون ہوتی ہے چونکہ انسانی جسم اتنی مقدار میں اسے پیدا نہیں کر سکتا اس لئے دوا کی صورت میں Interferonلینا بہت ضروری ہے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیکس کروالیں اور ہیپاٹائٹس کے حفاظتی ٹیکے خود کو اور اپنی فیملی کو ضرور لگوائیں زندگی میں محتاط رویے اپنائیں پورے پورے دین پر چلیں اور اپنی شریک حیات تک محدود رہیں یہ مضمون آگہی اور مفاد عامہ کیلئے لکھا گیا ہے کیونکہ آگہی اورپرہیز زندگی ہے ۔

ہیپاٹائٹس بی اور سی یعنی کالا یرقان ( ڈاکٹر زاہد ملک)

  جگر جسم کا ایک اہم عضو ہے جو پسلیوں کے نیچے دائیں جانب پیٹ ک بالائی حصے میںہوتا ہے ہمارا ، جگر روزانہ پانچ سو سے زائد مختلف اہم عمل کرتا ہے یہ بہت نازک عضو ہے اور اس میں خون کی بہت سی مقدار موجود رہتی ہے اس کا وزن 1400سے 1600گرام ہے یہ مندرجہ ذیل کام بھی کرتا ہے ۔1وٹامنز ، منرلز ، فولاد اور شکر کو ذخیرہ کرنا ،2خون کی صفائی کیلئے چھنی کا کام کرنا اور خون کو زہریلے اور فاسد مادوں سے پاک کرنا3کولیسٹرول کو کنٹرول رکھنا اور خون کی روانی میں کسی دوائی یا کیمیکل کے شامل ہونے کو کنٹرول کرنا 4غذا کو کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنا جو توانائی کیلئے ضروری ہیں ۔5ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھنا۔6مختلف قسم کی پروٹین اور خون کو منجمند کرانیوالے مادے بنانا 7بائل کے ذریعے ہاضمے میں مدد دینا اور 8آنتوں کے ذریعے فاسد مادوں کا اخراج ،۔ جگری کی سوزش کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں وائرس ایک چھوٹا سا جرثومہ ہے جو جسم میں داخل ہو کر مختلف اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے جگر کی خرابی کی سب سے اہم وجہ کئی اقسام کے وائرس ہوتے ہیں ان وائرس کی اقسام کے نام A، B،C، Dاور Eیعنی ( اے بی ، سی ڈی اور ای )وغیرہ ہیں وائر س اے اور Eقلیل المیعاد (عام یرقان) ہیپاٹائٹس کا باعث بنتے ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں یہ قلیل المیعاد بھی ہوتے ہیں مگر چند لوگوں میں طویل المیعاد ہیپاٹائٹس کا باعث بن سکتے ہیں یعنی Hepatitis Cronic) جو رفتہ رفتہ جکڑ سکڑنے کا باعث بنتا ہے جو کہ سروسس (Cirrhoss) کہلتا ہے سروسس کا یہ عمل15سے30سال پر محیط ہوتاھ ہے ہیپاٹائٹس سی کو خاموش وائر س بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی علامات ظاہر ہونے سے دس سے20 سال تک مریض صحت مند نظر آسکتا ہے ابھی تک ہیپاٹائٹس سی سے بچاﺅ کی حفاظی ٹیکے نہیں ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے ہیں اور ہم سب کو لگوانے چاہیں ہم سب کو چاہیے کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیسٹ کروائیں آج کل کے اعدادو شمار کے مطابق پوری دنیا میں پایا جانیوالا ہیپاٹائٹس سی کا یہ وائرس تقریبا170کروڑ افراد کے جسم میں موجودہ ہے اور 60 لاکھ سے ایک کروڑ تک پاکستانی لوگ اس میں مبتلا پائے جاسکتے ہیں جن لوگوں کو ہیپاٹائٹس سی ہو تو ان میں انتہائی تھکن اور نقاہت پائی جاتی ہے شراب سے بھی ایسے مریضوں کو پرہیز کرنا چاہیے ہیپاٹائٹس سی میں سب سے زیادہ اہم دو پیچیدگیاں ہوتی ہیں ایک تو صلابت جگر (یعنی جگر کا سکڑنا) یا سروسس اور دوسرا جگر کا سرطان یعنی کینسر یہ دو ایسی پیچیدگیاں ہیں جن کا آخر کار علاج صرف جگر کی تبدیلی ہی سے ممکن ہے مندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں وزن کم ہونا ، چہرے کارنگ زرد ہونا ، پیٹ میں پانی بھر جانا ، خون کے قے آنا بے ہوشی ہونا ، سانس سے بوآنا ، نیند میں خلل ، ہاتھوں پر کپکپی ہونا ، پاﺅں اور تمام جسم میں سوجن ہتھیلی کا کرم ہونا ، سرخ ہونا اور پسینے میں شرابورہونا وغیرہ ۔ ہیپاٹائٹس کی وائرس کا شکار ہونے کی مختلف ذرائع ہیں اکثر لوگوں کو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کیسے مرض میں مبتلا ہوئے زیادہ سوچنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ مرض آپ کو کیسے لاحق ہوا ضروری یہ ہے کہ آپ اس موذی مرض کا مقابلہ کریں چھینکنے ، کھانسنے ، بوسہ لینے ، کچن کے برتن استعمال کرنے ، باتھ روم یا ٹائلٹ استعمال کرنے یا روز مرہ زندگی کے کام سے یہ وائرس دوسرے کو منتقل نہیں ہو سکتا عام طور پر یہ متاثرہ خون کیساتھ ملاپ سے لاحق ہو تا ہے اس مرض کے لاحق ہونے کے عام ذرائع یہ ہیں 1آلودہ خون لگوانے سے 2جراثیم سے آلودہ سرنج یا سوئی سے ۔3جراثیم سے آلودہ دانتوں کے علاج کے اوزار سے 4جلد پر آلودہ آلات سے نشانات یا تصویر بنوانے یا آلودہ سوئی سے کان چھدوانے سے 5 جنسی تعلقات (جو خون کے جاری ہونے کا سبب بنے) ۔ 6ایام ماہواری ، میں جنسی ملاپ ، 7متاثرہ شخص کا استرا ، ریزر ، یا ٹوتھ برش ،وغیرہ استعمال کرنے سے اور8بہت کم لوگوں میں ماں سے بچے میں منتقلی بھی ممکن ہے اگر صحیح اور بروقت علاج کیا جائے تو ہیپاٹائٹس سی سے یقینی صحت یابی حاصل ہو سکتی ہے لہذا ضروری ہے کہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگہ یہ بیماری ہو جائے تو اس بیماری کے خلاف فوری طور پر علاج شروع کریں تاکہ کینسر اور سروسس سے بچا جاسکے ورنہ جگر کی منتقلی کروانی پڑتی ہے ہیپاٹائٹس سی سے صحت یابی پانے کی بہت ساری موثر دوائیں مثلاInterferon، (Pegasys)، Ribaverineوغیرہ دستیاب ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب مریض اس مرض سے چھٹکاراپا کر مکمل طور پر صحت مند ہو سکتے ہیں بلکہ اس بیماری کے ماہر ڈاکٹر علاج کروائیں خوراک میں کسی خاص پرہیز کی ضرورت نہیں کچھ لوگوں میں جسم کی قوت مدافعت ہی خود بخود اس بیماری کو ختم کر دیتی ہے Interferon، پروٹین ہے جو جسم میں پیدا ہوتی ہے اور وائرس سے لاحق ہونیوالی بیماریوں سے مقابلہ کرنے میں ممدو معاون ہوتی ہے چونکہ انسانی جسم اتنی مقدار میں اسے پیدا نہیں کر سکتا اس لئے دوا کی صورت میں Interferonلینا بہت ضروری ہے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیکس کروالیں اور ہیپاٹائٹس کے حفاظتی ٹیکے خود کو اور اپنی فیملی کو ضرور لگوائیں زندگی میں محتاط رویے اپنائیں پورے پورے دین پر چلیں اور اپنی شریک حیات تک محدود رہیں یہ مضمون آگہی اور مفاد عامہ کیلئے لکھا گیا ہے کیونکہ آگہی اورپرہیز زندگی ہے ۔

تعارف روف عامر پپا بریار

روف عامر پپا بریار

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>