محمد اظہار الحق

سنگ اور سر

’’پاپا نے اجازت نہیں دی۔ کل تم ہسپتال نہیں جائو گی‘‘ یہ کہہ کر شوہر باہر نکل گیا۔ 
ڈاکٹر بننا اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا۔ محلے کے غریب لوگوں کو عطائیوں‘ ٹھگوں‘ پیروں فقیروں کے پاس جاتا دیکھتی تو کُڑھتی۔ اس نے ان پڑھ عورتوں کو مزاروں کی مٹی پھانکتے دیکھا۔ میٹرک میں پہنچتے ہی فیصلہ کر لیا کہ ڈاکٹر بنے گی۔ ایف ایس سی میں سخت محنت کی۔ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ پانچ سال خونِ دل کو جیسے آنکھوں کی بینائی میں منتقل کرتی رہی۔ میڈیکل کی پڑھائی میں وقت کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ بقول عدمؔ ع 
جاگ اٹھے تو چل دیے‘ تھک گئے تو سو لیے 
کھانا پینا‘ اٹھنا بیٹھنا سب پڑھائی کے اردگرد گھومتا ہے۔ پھر وہ دن بھی آیا کہ وہ ڈاکٹر بن گئی۔ ہسپتال میں ملازمت بھی شروع کردی۔ غریب مریضوں کا خاص خیال رکھتی۔ اس کا کمرہ سب کے لیے کھلا تھا۔ بیماروں سے بھرا رہتا۔ ان پڑھ مریضوں کو ایک ایک بات آرام سے سمجھاتی۔ اسے یوں لگ رہا تھا۔ جیسے زندگی کسی کام آ رہی ہے۔ جیسے وہ کچھ حاصل کر رہی ہے۔ پھر رشتے آنے شروع ہو گئے۔ ماں باپ نے دیکھ بھال کر‘ سوچ سمجھ کر‘ ایک تعلیم یافتہ خاندان کے سمجھدار پڑھے لکھے اعلیٰ عہدے پر فائز لڑکے سے شادی کی۔ اس نے ایک ماہ کی ہسپتال سے چھٹی لی تھی۔ چھٹی ختم ہوئی‘ دوسرے دن اس نے ڈیوٹی پر حاضر ہونا تھا۔ شام کو اس کے شوہر نے اطلاع دی کہ اس کے والدین ملازمت کی اجازت نہیں دے رہے۔ اس نے بات چیت کرنے کی کوشش کی مگر سسر کی دلیل یہ تھی کہ ان کے خاندان میں عورتوں کے ملازمت کرنے کی روایت نہیں اور وہ یہ روایت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ساس کی ترجیح یہ تھی کہ وہ گھر کا کام کاج سنبھالے۔ شوہر ماں باپ کو ناراض نہیں کر سکتا تھا۔ آخری چارۂ کار کے طور پر اپنے باپ سے مدد مانگی لیکن باپ کا جواب فائنل اور ’’منطقی‘‘ تھا۔ ’’اب وہی تمہارا گھر ہے۔ شوہر جو چاہتا ہے وہی کرو‘‘۔ 
یہ حقیقی واقعہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں ہے۔ اس دوغلے اور منافقانہ معاشرے میں یہ بہت سے گھروں کا قصہ ہے۔ یقینا ایسی لڑکیاں بھی ہوں گی جو شادی کے بعد خود ہی ڈاکٹری کی ملازمت یا پریکٹس چھوڑ دیتی ہیں لیکن یہ تعداد اُن خواتین ڈاکٹروں کے مقابلے میں بہت کم ہے جنہیں اُن کے شوہر یا سسرال والے پریکٹس کی اجازت نہیں دیتے۔ معاشرہ دوغلا اس لیے ہے کہ لیڈی ڈاکٹر سے شادی کرنا بہت سے مردوں کا خواب ہے۔ اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے پورا گھرانہ رشتے کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ جب لیڈی ڈاکٹر گھر میں آ جاتی ہے تو شوہر خواب کے اثر سے نکل آتا ہے۔ اگر وہ خود چاہتا بھی ہے تو خاندان کا سماجی دبائو برداشت نہیں کر پاتا۔ سسر کی ترجیح یہ ہے کہ اُسے صبح صبح گرم پراٹھا اور آملیٹ ملے۔ ساس تسبیح پکڑ کر تخت پوش پر بیٹھ جاتی ہے کہ کام کاج کرنے والی بے دام ملازمہ مل گئی ہے۔ یہ کالم نگار نصف درجن سے زیادہ ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبان کو جانتا ہے جو لیڈی ڈاکٹر سے شادی کرنے کے لیے مرے جاتے تھے اور جنہوں نے ان لیڈی ڈاکٹروں کو شادی کے بعد ساری زندگی سٹیتھوسکوپ‘ تھرما میٹر اور سفید کوٹ سے مکمل پرہیز کرایا۔ یہ نہ سوچا کہ اس ان پڑھ‘ بیمار‘ بھوکی‘ ننگی قوم کے لیے ایک ایک ڈاکٹر‘ ایک ایک لیڈی ڈاکٹر کتنی قیمتی ہے۔ ظلم یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ میں ستر فیصد تعداد میڈیکل کالجوں میں طالبات کی ہے۔ ان میں سے ایک کثیر تعداد 
اُن خواتین کی ہے جنہیں شادی کے بعد بزور گھر بٹھا لیا جاتا ہے۔ 
اصل مسئلہ خواتین ڈاکٹروں کا نہیں‘ اس سلوک کا ہے جو معاشرے میں عورت سے شادی کے بعد روا رکھا جاتا ہے اٹھارہ جولائی کو جو ہماری تحریر والدین سے حسن سلوک کے بارے میں شائع ہوئی ہے اس کی تائید میں جہاں کئی قارئین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے وہاں ردعمل میں بھی ای میلز کی کثیر تعداد موصول ہوئی ہے۔ جن بدقسمت اصحاب نے ماں باپ کی زندگی میں ان کی قدر نہ کی اور ان کی خدمت اور فرماں برداری سے محروم رہے‘ ان کا کہنا ہے کہ وہ شدتِ ندامت سے کفِ افسوس مل رہے ہیں اور ایک سلگتی ہوئی زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف بہت سی خواتین کا نکتۂ نظر یہ ہے کہ والدین کو یہ بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ جس آدم زادی کو وہ بہو بنا کر گھر میں لائے ہیں‘ کچھ حقوق اس کے بھی ہیں۔ میاں اس کا ہاتھ بٹائے تو بیوی کا غلام ہونے کے طعنے ملتے ہیں۔ ملازمت کرے تو ساس اور نندیں طنز سے میم صاحب کہتی ہیں۔ ساتھ ہی اس سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ گھر کا بھی سارا کام کرے خواہ ملازمت سے شام کے وقت واپس آئے اور تھکی ہاری ہی کیوں نہ ہو۔ اس عجیب و غریب معاشرے میں ایسی مثالوں کی بھی کمی نہیں کہ لڑکا سی ایس پی لڑکی سے شادی کرتا ہے اور پھر اسے ملازمت سے استعفیٰ دینے کا حکم دیتا ہے! 
اس امر کی وضاحت لازم ہے کہ ماں باپ کی فرماں برداری اور خدمت سے مراد اپنی رفیقۂ خیات کے حقوق کی پامالی نہیں۔ وہ انسان ہی کیا ہوا جو توازن نہ برقرار رکھ سکے اور عقل سے کام نہ لے۔ ماں باپ کی فرماں برداری کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی پر ظلم کیا جائے۔ ہاں یہ ہے کہ اُن سے اختلاف کرتے وقت ادب و ا حترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے‘ دلیل عجز سے پیش کی جائے اور نرم گفتاری کا دامن مضبوطی سے پکڑا جائے۔ 
تعلیم عام ہونے اور اسلام پسندی کے سارے دعووں کے باوجود عورت کے معاملے میں یہ معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے۔ کوئی تو بیوی کو خوش کرنے کے لیے ماں باپ سے تعلق ختم کردیتا ہے اور کوئی ماں باپ کی تنگ نظری اور ’’روایت‘‘ پسندی کا پاس کرتے ہوئے بے قصور بیوی کی زندگی جہنم بنا دیتا ہے‘ بچے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں‘ زدوکوب تک سے گریز نہیں کیا جاتا۔ معاشرے کا خوف رہتا ہے نہ خدا کا! 
منافقت کا یہ عالم ہے کہ اپنی بیٹی کے لیے الگ معیار ہے اور دوسروں کی بیٹی کے لیے الگ۔ ایک عورت سے اس لیے شادی رچائی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ ملازمت کرتی ہے‘ خوش لباس ہے‘ فیشن ایبل ہے‘ خود گاڑی چلاتی ہے‘ آزادانہ گھومتی پھرتی ہے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شادی کے بعد یہی خصوصیات‘ جو شادی کا محرکات بنیں‘ نقائص میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اب اُس کی اعلیٰ تعلیم کھلنے لگتی ہے۔ دماغ پر احساسِ کمتری کا زہر چڑھنے لگتا ہے۔ اس کی خوش لباسی زہر لگنے لگتی ہے۔ گاڑی چلا کر کہیں جائے تو شک کا زہر پھیلنے لگتا ہے۔ فیصلے کرے تو خودسر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ حالت تو تعلیم یافتہ طبقے میں ہے۔ رہا زیریں‘ ناخواندہ طبقہ تو وہاں عورت کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ اس کے ماں باپ اور بھائیوں کو تھانوں کچہریوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ طلاقیں ہوتی ہیں۔ پھر کبھی عدالتوں کے اور کبھی مولوی صاحبان کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانوں پر بھی گہری منافقت کی میلی مکروہ چادر تنی ہوئی ہے۔ حقوقِ نسواں پر لیکچر دینے والے روشن خیال حضرات بیٹیوں کی زبردستی شادی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ دوسروں کو قال اللہ اور قال الرسول سمجھانے والے حضرات بیٹیوں کو جائداد سے محروم کرتے وقت شریعت کے سارے سبق بھول جاتے ہیں۔ بہنوں کو ان کے جائز حقوق دینے ہوں تو مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ بیٹیوں کے بارے میں جو کچھ اسلام نے بتایا ہے‘ اس پر عمل کرنے کا وقت آئے تو رہ رہ کر قولنج کا درد اُٹھنے لگتا ہے! امہات المومنین کی موجودگی میں آقائے دو جہاںؐ اپنے کپڑے خود دھو لیتے تھے‘ جوتے خود مرمت کر لیتے تھے۔ گھر کے دوسرے کام بھی اپنے دستِ مبارک سے کرتے تھے۔ اگر ایسا کرنے سے آپؐ کی شانِ اقدس میں کمی آتی تھی نہ رسالت کا مقامِ بلند متاثر ہوتا تھا تو اور ایسا کون سا منصب دار یا عالی مرتبت ہے جس کی عزت و شان‘ نعوذ باللہ‘ آپؐ کے مرتبے سے بلند ہو؟ 
بہو سے بدسلوکی کرتے وقت اپنی بیٹی کا سوچنا چاہیے اور بیوی سے بزدلوں کی طرح دھونس دھاندلی کرنے والے کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی بہن نے بھی کسی کی بیوی بننا ہے   ؎ 
ہم نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ 
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

مزید پڑھئے »

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں ہے

بیماری تھی اور ایسی کہ ناقابلِ بیان! شاہی ڈاکٹر عاجز آ گیا۔ بالآخر ڈاکٹروں کا بورڈ بٹھایا گیا، تشخیص پر بحث ہوئی اور پھر اس بات پر کہ دوا کون سی تجویز کی جائے! متفقہ فیصلہ اس پر ہوا کہ انسان کا پِتّہ ہی شفا دے سکے گا بشرطیکہ عام آدمی کا نہ ہو بلکہ صرف اُس شخص کا جس ...

مزید پڑھئے »

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں ہے


بیماری تھی اور ایسی کہ ناقابلِ بیان! شاہی ڈاکٹر عاجز آ گیا۔ بالآخر ڈاکٹروں کا بورڈ بٹھایا گیا، تشخیص پر بحث ہوئی اور پھر اس بات پر کہ دوا کون سی تجویز کی جائے! متفقہ فیصلہ اس پر ہوا کہ انسان کا پِتّہ ہی شفا دے سکے گا بشرطیکہ عام آدمی کا نہ ہو بلکہ صرف اُس شخص کا جس میں فلاں فلاں صفات ہوں۔ اب ڈھنڈیا پڑ گئی۔ سوال بادشاہ کا نہیں! سلطنت کی بقا کا تھا۔ بادشاہوں کے بغیر کیا سلطنت اور کون سے عوام، بادشاہ محفوظ ہے اور برسرِ اقتدار ہے تو سب کچھ ہے! ایک دہقان کا لڑکا ان مخصوص صفات کا حامل ملا۔ لڑکے کے ماں باپ کو سلطنت کی اہمیت سمجھائی گئی۔ وہ بادشاہ کی جان بچانے کے لئے بیٹے کی زندگی قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ ہاں! کچھ قیمت اِس آمادگی کی انہوں نے ضرور وصول کی! لیکن اصل مسئلہ ماں باپ کی رضامندی کا نہ تھا، عدلیہ کا تھا! مسلمانوں کی تاریخ میں عدلیہ نے ہمیشہ حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ سعدی کی یہ حکایت جو ہم بیان کر رہے ہیں، ایک مثال ہے اُس تابناک کردار کی جو ہماری عدلیہ ہمیشہ سے ادا کرتی رہی ہے، ملک و قوم کے لئے، سلطنت کے لئے، بادشاہ کی سلامتی کے لئے، بادشاہ کے اقتدار کی بقا کی خاطر! اُس بادشاہ کی عدلیہ نے بھی فیصلہ دیا کہ بادشاہ اور اس کے اقتدار کی سلامتی کے لئے رعیت میں سے کسی کا خون بہا دینا جائز ہے! 
حکایت کا بقیہ حصہ عدلیہ کے تابناک کردار کے متعلق نہیں، مگر سنا دینے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں! جلاد لڑکے کا سر قلم کرنے لگا تو لڑکے نے منہ آسمان کی طرف کیا، جون ایلیا نے پوچھا تھا   ؎ 
یہ جو تکتا ہے آسمان کو تو 
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟ 
آسمان کی طرف منہ کر کے وہ ہنسا، بادشاہ نے حیرت سے پوچھا کہ ہنسی کا کون سا موقع ہے! لڑکے نے جواب دیا کہ جہاں پناہ! بچوں کے ناز ماں باپ اٹھاتے ہیں، یہاں تو انہوں نے بچے کی زندگی کا معاوضہ ہی وصول کر لیا۔ پھر عدلیہ پر تکیہ ہوتا ہے، اس نے بھی بادشاہ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، رعیت کا مائی باپ بادشاہ ہوتا ہے، وہ تو خود میرے پِتے کا طلب گار ہے! اب خدا ہی ہے جس کو مخاطف کر کے میں ہنس رہا تھا۔ بادشاہ کا دل پسیج گیا۔ اس نے کہا کہ ایک بے گناہ کا خون بہانے سے میرا ہلاک ہو جانا بہتر ہے! لڑکے کی جان بخشی ہوئی۔ کہتے ہیں اُسی ہفتے بادشاہ روبصحت ہو گیا۔ 
لیکن یہ اُس زمانے کی باتیں ہیں جو ہمارا نہیں! ہمارا زمانہ اور ہے! بادشاہ کا رعیت کو اپنے اوپر ترجیچ دینا؟ آج کے عہد میں تو ایسا سوچنا بھی حماقت ہے! 
بات عدلیہ کے قابلِ رشک کردار کی ہو رہی تھی۔ ہماری تاریخ سنہری مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کی عدلیہ نے رُولنگ دی تھی کہ جو بھی تخت نشین ہو، اس کا اپنے بھائیوں کو قتل کرنا جائز ہے، تاکہ جمہوریت، نہیں! معاف کیجئے گا، سلطنت کو استحکام نصیب ہو! 
شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر بھی عدلیہ سے پوچھے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا تھا۔ باپ کو ’’عوام‘‘ کی بہتری کے لئے سالہاسال نظربند رکھا۔ معلوم نہیں عدلیہ سے پوچھا تھا یا نہیں، مگر اتنا سب جانتے ہیں کہ اس معاملے میں عدلیہ نے کوئی ازخود نوٹس نہ لیا۔ پھر جب دارا شکوہ قید ہوا اور اس نے بادشاہ کو رحم کی اپیل کی تو بادشاہ نے عدلیہ کی طرف دیکھا۔ عدلیہ نے سلطنت کے استحکام اور عوام کے بھلے کی خاطر قتل کا فیصلہ دیا۔ اورنگ زیب کا دوسرا بھائی مراد گوالیار کے قلعے میں قید تھا۔ تین سال ہو گئے تھے۔ بھائی صاحب داعیِٔ اجل کو لبیک ہی نہیں کہہ رہے تھے۔ سوچ بچار ہوئی۔ معلوم ہوا کہ مراد نے اپنے ایک قریبی امیر علی ناطق کو گجرات میں سزائے موت دی تھی۔ علی ناطق کے بیٹے کو کہا گیا کہ عدالت میں مقدمہ دائر کرو کہ ’’خون کے بدلے خون‘‘ کے اصول کی رو سے قاتل کو قتل کیا جائے۔ مورخ لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے گوالیار میں متعین جج صاحب کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور شہزادے سے خون کا بدلہ لیا جائے! 
جون ایلیا پھر یاد آ گیا   ؎ 
نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز 
اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا 
خیر… اس شعر کا ہمارے نفسِ مضمون سے کوئی تعلق نہیں! ہم تو عدلیہ کی روشن روایات کا ذکر کر رہے تھے! اسمبلی تحلیل کی گئی تو مولوی تمیزالدین خان نے عدلیہ کے چوبی منقش دروازے پر جا دستک دی! کھٹ کھٹ کھٹ… بقول منیر نیازی ع 
کھولو یہ بھاری دروازہ! 
مجھ کو اندر آنے دو 
اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور! 
عدلیہ کا بھاری دروازہ مولوی تمیزالدین خان پر کُھلا اور عدلیہ نے سلطنت عثمانیہ اور مغل سلطنت کی عظیم روایات برقرار رکھتے ہوئے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا۔ ہاں! سُنا ہے کہ ایک غیر مسلم جج کارنیلیئس نامی تھا جس نے اختلافی نوٹ لکھا تھا اور اسمبلی کو تحلیل کرنے کی مخالفت کی تھی! اب ایک غیر مسلم کو اسلامی ملک کی فلاح و بہبود سے کیا غرض! مولوی تمیزالدین خان نے مُنہ کی کھائی… اور بقول منیر نیازی ع 
اس کے بعد اک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور! 
لمبی چُپ میں ارتعاش ایک بار پھر اُس وقت پیدا ہوا، جب مارشل لاء کے خلاف بیگم نصرت بھٹو نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدلیہ نے پھر انصاف کیا اور مارشل لاء کو عوامی بہبود کی خاطر ناگزیر قرار دیا! 
2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے عدلیہ نے جو حالیہ رولنگ دی ہے اُس پر کچھ کوتاہ نظر، کچھ عاقبت نااندیش، اعتراض کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ کہیں ماڈل ٹاؤن کے چودہ افراد کے قتل کی بات کی جا رہی ہے تو کہیں کچھ اور کہا جا رہا ہے! اللہ کے بندو! سلطنت کے استحکام کی فکر کرو! جمہوریت کے تسلسل کو غنیمت جانو! اگر اڑھائی کروڑ بیلٹ پیپر گم ہو گئے تو کیا ہوا! اڑھائی کروڑ بیلٹ پیپر… کاغذ کے اڑھائی کروڑ بے جان ٹکڑے… کوڑے کرکٹ کے ڈھیر… زیادہ قیمتی ہیں یا بیس کروڑ عوام کی فلاح؟ ہم بھلا کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کی خاطر اپنے بادشاہوں کو کیوں ناخوش کرتے رہیں! اس سے پہلے ہمارے ایک بادشاہ جنرل ضیاء الحق نے آئین کو کاغذ کا بے جان ٹکڑا کہا تھا جسے وہ آسانی سے پارہ پارہ کر سکتا تھا! 
یہ کیا ہوا؟ باہر ہوا کا شور ہے! تیز ہوا کا شور! میں کھڑکی کے شیشوں سے باہر دیکھتا ہوں، پتے اُڑ رہے ہیں۔ ہر طرف ویرانی ہے! اندھیرا بڑھ رہا ہے۔ ایک افق سے دوسرے افق تک تاریکی کا بدصورت ہاتھ بڑھے جا رہا ہے۔ دشت کی مرگ آسا وسعت ہر طرف چھا رہی ہے۔ خیمے اکھڑ رہے ہیں۔ طنابیں ٹوٹ رہی ہیں۔ ریت کے ٹیلاب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں ہے
بیماری تھی اور ایسی کہ ناقابلِ بیان! شاہی ڈاکٹر عاجز آ گیا۔ بالآخر ڈاکٹروں کا بورڈ بٹھایا گیا، تشخیص پر بحث ہوئی اور پھر اس بات پر کہ دوا کون سی تجویز کی جائے! متفقہ فیصلہ اس پر ہوا کہ انسان کا پِتّہ ہی شفا دے سکے گا بشرطیکہ عام آدمی کا نہ ہو بلکہ صرف اُس شخص کا جس میں فلاں فلاں صفات ہوں۔ اب ڈھنڈیا پڑ گئی۔ سوال بادشاہ کا نہیں! سلطنت کی بقا کا تھا۔ بادشاہوں کے بغیر کیا سلطنت اور کون سے عوام، بادشاہ محفوظ ہے اور برسرِ اقتدار ہے تو سب کچھ ہے! ایک دہقان کا لڑکا ان مخصوص صفات کا حامل ملا۔ لڑکے کے ماں باپ کو سلطنت کی اہمیت سمجھائی گئی۔ وہ بادشاہ کی جان بچانے کے لئے بیٹے کی زندگی قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ ہاں! کچھ قیمت اِس آمادگی کی انہوں نے ضرور وصول کی! لیکن اصل مسئلہ ماں باپ کی رضامندی کا نہ تھا، عدلیہ کا تھا! مسلمانوں کی تاریخ میں عدلیہ نے ہمیشہ حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ سعدی کی یہ حکایت جو ہم بیان کر رہے ہیں، ایک مثال ہے اُس تابناک کردار کی جو ہماری عدلیہ ہمیشہ سے ادا کرتی رہی ہے، ملک و قوم کے لئے، سلطنت کے لئے، بادشاہ کی سلامتی کے لئے، بادشاہ کے اقتدار کی بقا کی خاطر! اُس بادشاہ کی عدلیہ نے بھی فیصلہ دیا کہ بادشاہ اور اس کے اقتدار کی سلامتی کے لئے رعیت میں سے کسی کا خون بہا دینا جائز ہے! 
حکایت کا بقیہ حصہ عدلیہ کے تابناک کردار کے متعلق نہیں، مگر سنا دینے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں! جلاد لڑکے کا سر قلم کرنے لگا تو لڑکے نے منہ آسمان کی طرف کیا، جون ایلیا نے پوچھا تھا   ؎ 
یہ جو تکتا ہے آسمان کو تو 
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟ 
آسمان کی طرف منہ کر کے وہ ہنسا، بادشاہ نے حیرت سے پوچھا کہ ہنسی کا کون سا موقع ہے! لڑکے نے جواب دیا کہ جہاں پناہ! بچوں کے ناز ماں باپ اٹھاتے ہیں، یہاں تو انہوں نے بچے کی زندگی کا معاوضہ ہی وصول کر لیا۔ پھر عدلیہ پر تکیہ ہوتا ہے، اس نے بھی بادشاہ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، رعیت کا مائی باپ بادشاہ ہوتا ہے، وہ تو خود میرے پِتے کا طلب گار ہے! اب خدا ہی ہے جس کو مخاطف کر کے میں ہنس رہا تھا۔ بادشاہ کا دل پسیج گیا۔ اس نے کہا کہ ایک بے گناہ کا خون بہانے سے میرا ہلاک ہو جانا بہتر ہے! لڑکے کی جان بخشی ہوئی۔ کہتے ہیں اُسی ہفتے بادشاہ روبصحت ہو گیا۔ 
لیکن یہ اُس زمانے کی باتیں ہیں جو ہمارا نہیں! ہمارا زمانہ اور ہے! بادشاہ کا رعیت کو اپنے اوپر ترجیچ دینا؟ آج کے عہد میں تو ایسا سوچنا بھی حماقت ہے! 
بات عدلیہ کے قابلِ رشک کردار کی ہو رہی تھی۔ ہماری تاریخ سنہری مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کی عدلیہ نے رُولنگ دی تھی کہ جو بھی تخت نشین ہو، اس کا اپنے بھائیوں کو قتل کرنا جائز ہے، تاکہ جمہوریت، نہیں! معاف کیجئے گا، سلطنت کو استحکام نصیب ہو! 
شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر بھی عدلیہ سے پوچھے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا تھا۔ باپ کو ’’عوام‘‘ کی بہتری کے لئے سالہاسال نظربند رکھا۔ معلوم نہیں عدلیہ سے پوچھا تھا یا نہیں، مگر اتنا سب جانتے ہیں کہ اس معاملے میں عدلیہ نے کوئی ازخود نوٹس نہ لیا۔ پھر جب دارا شکوہ قید ہوا اور اس نے بادشاہ کو رحم کی اپیل کی تو بادشاہ نے عدلیہ کی طرف دیکھا۔ عدلیہ نے سلطنت کے استحکام اور عوام کے بھلے کی خاطر قتل کا فیصلہ دیا۔ اورنگ زیب کا دوسرا بھائی مراد گوالیار کے قلعے میں قید تھا۔ تین سال ہو گئے تھے۔ بھائی صاحب داعیِٔ اجل کو لبیک ہی نہیں کہہ رہے تھے۔ سوچ بچار ہوئی۔ معلوم ہوا کہ مراد نے اپنے ایک قریبی امیر علی ناطق کو گجرات میں سزائے موت دی تھی۔ علی ناطق کے بیٹے کو کہا گیا کہ عدالت میں مقدمہ دائر کرو کہ ’’خون کے بدلے خون‘‘ کے اصول کی رو سے قاتل کو قتل کیا جائے۔ مورخ لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے گوالیار میں متعین جج صاحب کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور شہزادے سے خون کا بدلہ لیا جائے! 
جون ایلیا پھر یاد آ گیا   ؎ 
نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز 
اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا 
خیر… اس شعر کا ہمارے نفسِ مضمون سے کوئی تعلق نہیں! ہم تو عدلیہ کی روشن روایات کا ذکر کر رہے تھے! اسمبلی تحلیل کی گئی تو مولوی تمیزالدین خان نے عدلیہ کے چوبی منقش دروازے پر جا دستک دی! کھٹ کھٹ کھٹ… بقول منیر نیازی ع 
کھولو یہ بھاری دروازہ! 
مجھ کو اندر آنے دو 
اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور! 
عدلیہ کا بھاری دروازہ مولوی تمیزالدین خان پر کُھلا اور عدلیہ نے سلطنت عثمانیہ اور مغل سلطنت کی عظیم روایات برقرار رکھتے ہوئے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا۔ ہاں! سُنا ہے کہ ایک غیر مسلم جج کارنیلیئس نامی تھا جس نے اختلافی نوٹ لکھا تھا اور اسمبلی کو تحلیل کرنے کی مخالفت کی تھی! اب ایک غیر مسلم کو اسلامی ملک کی فلاح و بہبود سے کیا غرض! مولوی تمیزالدین خان نے مُنہ کی کھائی… اور بقول منیر نیازی ع 
اس کے بعد اک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور! 
لمبی چُپ میں ارتعاش ایک بار پھر اُس وقت پیدا ہوا، جب مارشل لاء کے خلاف بیگم نصرت بھٹو نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدلیہ نے پھر انصاف کیا اور مارشل لاء کو عوامی بہبود کی خاطر ناگزیر قرار دیا! 
2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے عدلیہ نے جو حالیہ رولنگ دی ہے اُس پر کچھ کوتاہ نظر، کچھ عاقبت نااندیش، اعتراض کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ کہیں ماڈل ٹاؤن کے چودہ افراد کے قتل کی بات کی جا رہی ہے تو کہیں کچھ اور کہا جا رہا ہے! اللہ کے بندو! سلطنت کے استحکام کی فکر کرو! جمہوریت کے تسلسل کو غنیمت جانو! اگر اڑھائی کروڑ بیلٹ پیپر گم ہو گئے تو کیا ہوا! اڑھائی کروڑ بیلٹ پیپر… کاغذ کے اڑھائی کروڑ بے جان ٹکڑے… کوڑے کرکٹ کے ڈھیر… زیادہ قیمتی ہیں یا بیس کروڑ عوام کی فلاح؟ ہم بھلا کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کی خاطر اپنے بادشاہوں کو کیوں ناخوش کرتے رہیں! اس سے پہلے ہمارے ایک بادشاہ جنرل ضیاء الحق نے آئین کو کاغذ کا بے جان ٹکڑا کہا تھا جسے وہ آسانی سے پارہ پارہ کر سکتا تھا! 
یہ کیا ہوا؟ باہر ہوا کا شور ہے! تیز ہوا کا شور! میں کھڑکی کے شیشوں سے باہر دیکھتا ہوں، پتے اُڑ رہے ہیں۔ ہر طرف ویرانی ہے! اندھیرا بڑھ رہا ہے۔ ایک افق سے دوسرے افق تک تاریکی کا بدصورت ہاتھ بڑھے جا رہا ہے۔ دشت کی مرگ آسا وسعت ہر طرف چھا رہی ہے۔ خیمے اکھڑ رہے ہیں۔ طنابیں ٹوٹ رہی ہیں۔ ریت کے ٹیلوں میں کہیں کہیں ہڈیاں اور انسانی جسموں کے ٹکڑے نظر آتے ہیں! دُور… پانی کی لہریں چمکتی دکھائی دیتی ہیں مگر آہ! وہ پانی نہیں! سراب ہے! محض سراب! 
کس سے پوچھیں؟ تاریخ سے؟ یا اپنے بخت سے؟ لیکن کون سی تاریخ؟ کون سا بخت؟ ایک آواز آہستہ آہستہ کہیں دُور سے آ رہی ہے! میں کان لگاتا ہوں! یہ شاہین عباس کی غزل ہے۔ میرا بخت گا رہا ہے! سیاہ رنگ کا بخت! لیکن آواز کتنی دردناک ہے!!   ؎ 
اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں ہے 
کبھی ہوتی ہے مٹی اور کبھی ہوتی نہیں ہے 
ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان ہے کیا 
محبت ایک ہے اور ایک بھی ہوتی نہیں ہے 
دیا پہنچا نہیں ہے، آگ پہنچی ہے گھروں تک 
پھر ایسی آگ جس سے روشنی ہوتی نہیں ہے 
نکل جاتے ہیں سر پر بے سر و سامانی لادے 
بھری لگتی ہے گٹھڑی اور بھری ہوتی نہیں ہے
وں میں کہیں کہیں ہڈیاں اور انسانی جسموں کے ٹکڑے نظر آتے ہیں! دُور… پانی کی لہریں چمکتی دکھائی دیتی ہیں مگر آہ! وہ پانی نہیں! سراب ہے! محض سراب! 
کس سے پوچھیں؟ تاریخ سے؟ یا اپنے بخت سے؟ لیکن کون سی تاریخ؟ کون سا بخت؟ ایک آواز آہستہ آہستہ کہیں دُور سے آ رہی ہے! میں کان لگاتا ہوں! یہ شاہین عباس کی غزل ہے۔ میرا بخت گا رہا ہے! سیاہ رنگ کا بخت! لیکن آواز کتنی دردناک ہے!!   ؎ 
اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں ہے 
کبھی ہوتی ہے مٹی اور کبھی ہوتی نہیں ہے 
ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان ہے کیا 
محبت ایک ہے اور ایک بھی ہوتی نہیں ہے 
دیا پہنچا نہیں ہے، آگ پہنچی ہے گھروں تک 
پھر ایسی آگ جس سے روشنی ہوتی نہیں ہے 
نکل جاتے ہیں سر پر بے سر و سامانی لادے 
بھری لگتی ہے گٹھڑی اور بھری ہوتی نہیں ہے

مزید پڑھئے »

دو تصویریں

یہ دو تصویریں کافی ہیں۔ 
قوموں کے حا ل کو سمجھنے اور مستقبل کو جاننے کے لیے ہزاروں صفحات کی کتابیں پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ سالہاسال مشاہدہ کرنے کی۔ گہری تحقیق کے بعد حُمَقَاء اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں جس پر مجذوب ایک نظر ڈال کر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ لطیفہ نما واقعہ خاصا پامال ہو چکا ہے ۔ سمندر کے کنارے ساحل کی نرم آسودہ ریت پر ایک چینی آنکھیں بند کیے مزے سے لیٹا تھا اور جانفزا ہوا کے جھکوروں سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ ایک امریکی یہودی وہاں سے گزرا ۔ اسے افسوس ہوا کہ افیون زدہ چینی سونا سی عمر اور موتی سا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اس کی پسلی کو پائوں سے ٹھوکر ماری اور کہا اُٹھو‘ بے وقوف‘ کچھ کام کرو۔ وقت ضائع کیوں کر رہے ہو۔ چینی نے نیم واآنکھوں سے اسے دیکھا اور پوچھا‘ کیا کروں؟
’’یہ اتنی کشتیاں لانچیں اور سٹیمر کھڑے ہیں۔ ان میں کام تلاش کرو۔‘‘
’’پھر کیا ہو گا؟‘‘
’’تمہاری شہرت اچھے کارکن کی ہو جائے گی‘ تنخواہ بڑھے گی امیر ہو جائو گے۔
’’پھر؟‘‘
’’پھر تم اپنی ایک لانچ خرید لینا۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر کئی لانچیں لے لینا‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر تم بہت سے بحری جہازوں کے مالک ہو جائو گے۔ ارب پتی بن جائو گے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر ساحل کی ریت پر لیٹ کر مزے کرنا۔‘‘
چینی نے احمق امریکی یہودی پر نگاہ افسوس ڈالی اور آہستہ سے کہا ؛’’بے وقوف! وہی تو میں اب کر رہا ہوں!‘‘
یہ دو تصویریں وہی کچھ بتا رہی ہیں جو ورلڈ بینک کی ہزارہا صفحوں کی رپورٹیں ‘ آئی ایم ایف کے ضخیم جائزے اور پلاننگ کمیشن میں گھومتی ہوئی قیمتی کرسیوں پر بیٹھے فُٹ فُٹ لمبے سگار پیتے ‘ مراعات گزیدہ‘ منجمد دماغوں والے متکّبر ‘ برخو د غلط‘ ملک کی زمینی حقیقتوں سے یکسر ناواقف بیورو کریٹ درجنوں بیرون ملک دوروں کے بعد غلط انگریزی میں لکھے گئے ٹور نوٹس 
(Tour Notes)
 کی شکل میں پیش کرتے ہیں!
پہلی تصویر کراچی کی ہے۔ ایک معروف سیاسی پارٹی کے نوجوان سربراہ صوفے پر تشریف فرما ہیں۔ ساتھ میز پر ملک اور پارٹی کے جھنڈے لگے ہیں۔ نوجوان سربراہ کے ساتھ صوفے کے دوسرے کنارے پر پارٹی کی معروف رہنما‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون بیٹھی ہیں۔ سامنے والے صوفے پر ایک مذہبی روحانی شخصیت تشریف فرما ہیں۔ سر پر دستار ہے۔ ریش مبارک خضاب سے سیاہ ہیں۔ یوں لگتا ہے شلوار قمیض کے بجائے انہوں نے لمبی قبا زیب تن کر رکھی ہے۔ نمایاں ترین چیز تصویر میں یہ ہے کہ ان کے دونوں ہاتھ‘ ایک دوسرے میں پیوست‘ ان کی گود میں رکھے ہیں اور نظریں نوجوان رہنما پر ہیں نہ خاتون سیاست دان پر۔ ان کی نظریں جھکی ہوئی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے سامنے پڑی میز کو دیکھ رہے ہیں۔ خاتون سیاست دان‘ اِس شخصیت کو جس انداز سے دیکھ رہی ہیں‘ اُس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ سب کچھ‘ اور بہت کچھ جانتی اور سمجھتی ہیں۔ نوجوان سربراہ کے چہرے پر معصومیت ہے‘ کچھ کچھ شائبہ حیرت کا ہے!نوجوان سربراہ کو‘ جو نووارد ہے اور معصوم بھی‘ ایک مختصر سی بریفنگ ملاقات سے پہلے ضرور دی گئی ہو گی مگر تفصیلات سے اور لہروں
(Currents)
سے اور سمندر کے اندر چھپی ہوئی لہروں
( Under Currents)
سے وہ یقینا آگاہ نہ ہو گا۔ اسے حج کے سکینڈل کی ساری تفصیلات کا شاید ہی علم ہو۔ غالباً اسے باریک تفصیلات میں دلچسپی بھی نہ ہو۔ اسے کیا علم کہ پارٹی سربراہی کے دوران عام سیاست دانوں سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے تو سیاست میں آنے والے مذہبی روحانی حضرات سے نمٹنا از حد مشکل ہوتا ہے۔ ایسے ایسے پُر پیچ وخم طُرّے ہیں کہ بڑے بڑے پارٹی رہنما ان میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ایسی ایسی اجلی عبائیں ہیں کہ نظافت کی روشن آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔
یہ روحانی مذہبی شخصیت اپنی ہی پارٹی کے عہد حکومت میں داخلِ زنداں رہی ۔ ڈیڑھ سال بعد ضمانت ہوئی۔ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ جب تک ان کی پارٹی کے وزیر اعظم اقتدار میں ہیں‘ وہ جیل میں رہیں گے۔ بلٹ پروف کاروں کے مالک اور ’’ایم بی بی ایس‘‘ کرنے والے بچ گئے اور حضرت پھنس گئے۔ مولانا کوثر نیازی تو حیات نہیں‘ عقل مند ہوتے تو مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا فن سیکھنے کے لیے ڈی آئی خان جا کر زانوئے تلمذ تہہ کرتے۔
مگر قومیں وہی فلاح پاتی ہیں جن کی مذہبی اور روحانی قیادتیں اقتدار کے در پر نہیں جھکتیں۔ بلکہ یہ ان کے حکمران ہوتے ہیں جو علماء ‘ صوفیا اور سکالرز کے آستانوں پر حاضری دیتے ہیں   ؎
قوموں کی تقدیر وہ مردِ درویش
جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ
جب عوام کی اخلاقی تربیت کرنے والے خود اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہو جائیں تو عوام اُنہی کو منتخب کرتے ہیں جن میں اخلاق ہوتا ہے نہ دیانت۔ پھر عوام کی اکثریت محلات پر اعتراض کرتی ہے نہ اُن اربوں کھربوں پر جو سوئٹزر لینڈ سے لے کر اوقیانوس پارتک اور لندن سے لے کر جدہ تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔
دوسری تصویر میں ہمارے ملک کے وزیر اعظم دارالحکومت میں ایک اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس خارجہ پالیسی کے بارے میں نہیں‘ نہ ملک کی صنعتی یا زرعی پالیسی کے متعلق ہے۔ اس کا موضوع ملک کا ناقص تعلیمی نظام ہے نہ ہر سال تباہی پھیلانے والے سیلابوں سے بچائو کا طریقہ! یہ اجلاس لاہور ایئر پورٹ کی توسیع کے بارے میں ہے!
روس کے شہر اوفا میں ’’شنگھائی تعاون کونسل‘‘ کے سربراہ اجلاس سے واپس آ کر وزیر اعظم نے فوراً لاہور ایئر پورٹ کی توسیع کے متعلق اس اجلاس کی صدارت کی۔ دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم اوفا سے سیدھے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد پہنچے۔ ترکمانستان کی حکومت سے مذاکرات کے بعد مودی بشکیک گئے اور کرغزستان اور بھارت کے درمیان چار معاہدوں پر دستخط کئے۔ ان چار میں سے ایک معاہدہ دفاعی امور سے متعلق تھا ۔ اب بھارت اور کرغزستان مشترکہ جنگی مشقیں سرانجام دیں گے۔ بشکیک سے مودی‘ منزلوں پر منزلیں مارتے تاجکستان پہنچے۔ تاجکستان کے اندر‘ افغانستان کی سرحد پر‘ بھارت ایک عظیم الشان ہسپتال تعمیر کر رہا ہے جو عوامی مقبولیت حاصل کرنے کا راستہ ثابت ہو گا۔ اوفا جانے سے پہلے مودی قازقستان گئے جہاں بھارت اور قازقستان کے درمیان اس موقع پر پانچ معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ یہ معاہدے دفاع‘ ریلوے‘ یورینیم سپلائی اور کھیلوں کے شعبوں میں ہوئے ۔ بحیرہ کیسپین کے کنارے تیل کی کھدائی اب بھارتی کمپنیاں کریں گی۔2017ء میں ایک بہت بڑی عالمی نمائش قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہو رہی ہے ۔ بھارت اس میں اگلی صفوں میں ہو گا۔ آنے والے پانچ برسوں کے دوران بھارت‘ قازقستان کی چھ بڑی یونیورسٹیوں کے ساتھ طلبہ کے تبادلے کرے گا۔ یہ قازق طلبہ‘ جو بھارت میں تعلیم حاصل کریں گے‘ اپنے ملک میں واپس جا کر‘ بھارت کے بے دام سفیر ثابت ہوں گے!
یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے اُن معاملات کی‘ جو مودی نے وسط ایشیائی ریاستوں میں طے کیے۔ کیا تاثرات ہیں اور کیا کمنٹس ہیں ہماری وزارت خارجہ کے ان معاملات پر اور ان معاہدوں پر؟
اس کے مقابلے میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟ اوفا سے وزیر اعظم واپس آتے ہیں اور لاہور ایئر پورٹ کے توسیعی منصوبے کے اجلاس کی صدارت بنفس نفیس کرتے ہیں؟ کیا یہ اس بلند ترین سطح کا کام تھا؟ یا یہ کام شہری ہوا بازی کی وزارت کے وزیر کی لیول کا تھا؟ اگر ایک پہلے سے تعمیر شدہ اور کام کرتے ہوئے ہوائی اڈے کی محض توسیع کے لیے وزیر اعظم کا قیمتی وقت درکار ہے تو اہم ترین امور کا کیا ہو گا؟
آپ کا کیا خیال ہے اگر یہ توسیع پشاور‘ یا کراچی یا کوئٹہ کے ہوائی اڈے کی ہوتی تو تب بھی وزیر اعظم اس حد تک ذاتی دلچسپی لیتے؟ اسلام آباد کا نیا ایئر پورٹ‘ جو فتح جنگ روڈ پر بن رہا ہے‘2007ء میں شروع ہوا۔ آٹھ سال ہو گئے ہیں، ابھی تک مستقبل قریب میں اس کی تکمیل کے کوئی آثار کسی افق پر نظر نہیں آ رہے! ہمارے واجب الاحترام وزیر اعظم ذہنی طور پر اپنے شہر سے نکلنے کے لیے تیار ہی نہیں! کیا قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ برسر اقتدار آنے کے بعد حکومت کے سربراہ کا سب سے زیادہ وقت کہاں گزرا ہے؟ اور کیا سارے شہر ان کی نظرِ التفات سے برابر کا حصہ پا رہے ہیں؟
تصویریں تو اور بھی ہیں! سیلاب زدہ ڈوبتے عوام پر احسان جتانے والی تصویریں جن میں اعلان کیے جا رہے ہیں کہ ہم تو طبی معائنہ چھوڑ کر تمہاری خدمت کے لیے واپس آ گئے!  ع
ہم پہ احسان جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا
اس کے بجائے سیلاب روکنے کے لیے چند دیواریں ‘ چند ڈیم‘ چند جھیلیں ہی بن جاتیں تو عوام واقعتاً احسان مند ہوتے! رہا طبی معائنہ! تو کاش ہمارا غیر ترقی یافتہ‘ پس ماندہ ملک‘ کبھی اس قابل ہو جائے کہ حکمران طبی معائنہ یہیں کرائیں‘ تعطیلات یہیں گزاریں‘ اپارٹمنٹ اور محلات صرف یہیں بنوائیں اور اپنے بچوں کی شادیاں اسی دھرتی پر کریں۔

مزید پڑھئے »

دو تصویریں

یہ دو تصویریں کافی ہیں۔ قوموں کے حا ل کو سمجھنے اور مستقبل کو جاننے کے لیے ہزاروں صفحات کی کتابیں پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ سالہاسال مشاہدہ کرنے کی۔ گہری تحقیق کے بعد حُمَقَاء اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں جس پر مجذوب ایک نظر ڈال کر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ لطیفہ نما واقعہ خاصا پامال ہو چکا ہے ...

مزید پڑھئے »

میڈیا کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟

یہ کڑوی سچائی تو ہم ذہنی طور پر قبول کر ہی چکے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا مسلمانوں کا‘ خاص طور پر ہم پاکستانیوں کا دشمن ہے! 
ایک طویل عرصہ سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان قومیتوں‘ زبانوں‘ علاقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں‘ حالانکہ حقیقت کا اس سے دور دور کا تعلق نہیں۔ ایران‘ ترکی‘ سعودی عرب آپس میں شیرو شکر ہیں۔ شام اور مصر میں گاڑھی چھنتی ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان مل کر ایک کنفیڈریشن بنانے کا سوچ رہے ہیں اور وسط ایشیائی ریاستوں کو بھی ساتھ ملانے کا پروگرام بنا رہے ہیں! 
بین الاقوامی میڈیا جو یہودیوں اور نصرانیوں کے آہنی پنجے میں جکڑا ہوا ہے‘ رات دن مذموم پروپیگنڈا کیے جا رہا ہے کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ دروغ گوئی کی حد یہ ہے کہ بجلی کا بلب شیخوپورہ کے چودھری نصیر احمد نے ایجاد کیا تھا مگر پاکستان دشمنی کا شاخسانہ ملاحظہ ہو کہ کتابوں میں تھامس ایڈیسن کا نام لکھا جا رہا ہے۔ ہوائی جہاز ہی کو دیکھ لیجیے۔ تحصیل تلہ گنگ کے دو بھائیوں ملک سمندر خان اور ملک جمعہ خان نے جدید دنیا کو یہ تحفہ دیا مگر سہرا آرول رائٹ اور ولبر رائٹ کے سر باندھا جا رہا ہے۔ دنیا کی پہلی ای میل کا تجربہ سوڈان کے ایک مسلمان شیخ عنابی ارضی سماواتی نے کیا تھا مگر یہودی میڈیا کہتا ہے کہ ایک امریکی رے ٹام لِن سن نے کیا تھا۔ یونیورسٹیوں کے شعبے میں اس قدر دھاندلی برتی گئی ہے کہ دنیا کی چوٹی کی پانچ سو یونیورسٹیاں ساری کی ساری جبوتی‘ صومالیہ‘ برونائی‘ پاکستان‘ مراکش اور سینی گال میں ہیں لیکن نام ہارورڈ‘ جان ہاپکن‘ کیمبرج وغیرہ کا لیا جاتا ہے۔ ٹائلٹ کا فلش سسٹم ایک برطانوی شخص سر جان ہیرنگٹن کے ذمے لگایا جاتا ہے کہ اس نے 1596ء میں ’’ڈبلیو سی‘‘ بنا ڈالا تھا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ ایجاد تو دو مسلمانوں نے بیک وقت کی تھی۔ ایک کا نام ابراہیم لودھی تھا دوسرے کا ظہیرالدین بابر تھا۔ دونوں لڑائی جھگڑے سے دور‘ سائنس کے تجربوں میں مگن رہتے تھے تاکہ خلق خدا کو آرام پہنچائیں۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ دونوں نے بیک وقت فلش سسٹم ایجاد کر ڈالا۔ ابراہیم لودھی نے آگرہ میں اور بابر نے کابل میں۔ اب یہ عام سی بات ہے کہ دو بھائیوں کے درمیان بھی جھگڑا ہو ہی جاتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان بھی تلخ کلامی ہوئی اور اس بات پر کہ فلش سسٹم پہلے کس نے بنایا‘ پانی پت میں معمولی سا جھگڑا ہو گیا جسے عالمی دشمن میڈیا نے پانی پت کی پہلی جنگ کا نام دے دیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہزاروں افراد ہوسِ ملک گیری کی بھینٹ چڑھ گئے۔ 
بین الاقوامی میڈیا کی یہ اسلام دشمنی تو ہم ذہنی طور پر قبول کر ہی چکے تھے مگر تازہ افتاد یہ آن پڑی ہے کہ قومی میڈیا بھی غلط خبریں دینے لگ گیا ہے۔ اس عیدالفطر کے سعید موقع پر پاکستانی مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اتنے بڑے بڑے جھوٹ… سفید جھوٹ بولے گئے کہ عقل دنگ رہ گئی۔ وزیراعظم پاکستان کے بارے میں خبر دی گئی کہ انہوں نے عید سعودی عرب میں منائی۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف کے متعلق پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے لندن میں عید منائی۔ زرداری صاحب اور بلاول بھٹو کے بارے میں ڈس انفارمیشن پھیلائی جا رہی ہے کہ دونوں رہنمائوں نے عید دبئی میں کی۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عید کے روز وزیراعظم پاکستان سحری کے وقت بیدار ہوئے۔ راولاکوٹ پونچھ سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے وزیراعظم سخت پریشان تھے۔ مسلمان جنگ سے پریشان نہیں ہوتا۔ آپ کو پریشانی اس بات کی تھی کہ فوجی جوان عید کے دن بھی دشمن کی بزدلانہ کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ فوجی جوان تو مورچے میں ہوں اور ہمارے مقبول و ہردلعزیز حکمران عید کے روز آرام کریں۔ چنانچہ وزیراعظم نے عید کی نماز اگلے مورچوں کے پاس جوانوں اور افسروں کے ہمراہ ادا کی۔ زمین پر دسترخوان بچھایا گیا۔ وزیراعظم مجاہدوں اور غازیوں کے ساتھ بیٹھے۔ وہی کچھ کھایا جو سب کھا رہے تھے۔ لشکریوں کے حوصلے بلند ہو کر آسمان کو جا لگے۔ ایک نیا ولولہ پیدا ہوا۔ 
جناب شہبازشریف عید کے روز پو پھٹے بیدار ہوئے۔ وہ کئی دن سے سوچ رہے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ جاری ہے اس میں عساکر کے شانہ بشانہ ہماری پولیس بھی فرنٹ لائن پر ہے۔ پولیس کے بے شمار جوان اور افسر شہادت کے جام نوش کر چکے ہیں۔ یہی وہ جاں باز ہیں جو ان تمام محلات پر پہرہ دے رہے ہیں جنہیں ’’وزیراعلیٰ ہائوس‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ خادم اعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ عید کی نماز پولیس لائن میں ادا کریں گے اور نماز کے بعد جوانوں اور افسروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 
جناب آصف علی زرداری جب تک صدر رہے‘ کوئی عید ایسی نہ تھی جو انہوں نے صدارتی محل کے پرتعیش ماحول میں منائی ہو۔ کبھی وہ سیاچن ہوتے تھے تو کبھی کارگل۔ جہاں کہیں دھماکہ ہوتا‘ بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں پہنچتے‘ زخمیوں سے ملتے‘ ہسپتالوں کے دورے کرتے اور شہدا کے لواحقین کے پاس جاتے۔ اس عید پر انہوں نے اپنی اس روایت کا پاس کیا۔ وہ عید کی نماز ادا کرنے لیاری کے تنگ گلی کوچوں میں پہنچ گئے۔ عوام انہیں اپنے درمیان دیکھ کر حیران رہ گئے۔ لیاری کے باشندے پیپلز پارٹی کے پشتینی وفادار ہیں 
اور اس عزوشرف کے مستحق ہیں۔ جناب زرداری نے عید کی نماز ان کے ساتھ ادا کی۔ اور پھر لوگوں سے عید ملے۔ 
جناب بلاول بھٹو زرداری نے عید کی صبح فیصلہ کیا کہ وہ رینجرز کے جوانوں کا حوصلہ بڑھائیں گے کیونکہ امن و امان قائم کرنے کا جو کام جناب قائم علی شاہ نے کرنا تھا‘ وہ رینجرز کو کرنا پڑا ہے۔ رینجرز کے افسروں اور جوانوں کی قربانیاں بھی بے مثال ہیں۔ جانیں انہوں نے ہتھیلیوں پر رکھی ہوئی ہیں؛ چنانچہ بلاول بھٹو زرداری رینجرز ہیڈ کوارٹر میں پہنچے اور عید جوانوں کے ساتھ منائی۔ 
رہی ہمارے میڈیا کی یہ خبر کہ عساکرِ پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے عید کی نماز وانا میں پڑھی اور جوانوں سے عید ملے یا یہ خبر کہ جنرل نے بکاخیل کیمپ میں متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور دور دراز کے علاقوں میں متعین فوجی جوانوں کو عید پر ان کے مورچوں میں جا کر ملے‘ تو بین الاقوامی میڈیا کی طرح ہمارے قومی میڈیا نے بھی یہ چالاکی اب سیکھ لی ہے کہ جہاں چار جھوٹی خبریں دو‘ وہاں ایک سچی بھی دو تاکہ اعتبار قائم رہے۔ 
ویسے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر میڈیا قوم کو یہ بتا رہا ہے کہ ہمارے صفِ اول کے سیاستدان اپنے فوجیوں‘ پولیس کے جوانوں اور رینجرز کے جاں بازوں کو بھلاتے‘ عوام کو پسِ پشت ڈالتے عید کے موقع پر لندن‘ سعودی عرب اور دبئی کے عشرت کدوں کا رُخ کرتے ہیں اور آرمی کا سربراہ منزلوں پر منزلیں مارتا عید کی صبح وانا جوانوں کے ساتھ اور عید کی شام بکاخیل متاثرین کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ ثابت کیا کرنا چاہتا ہے؟

مزید پڑھئے »

میڈیا کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟

یہ کڑوی سچائی تو ہم ذہنی طور پر قبول کر ہی چکے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا مسلمانوں کا‘ خاص طور پر ہم پاکستانیوں کا دشمن ہے! ایک طویل عرصہ سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان قومیتوں‘ زبانوں‘ علاقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں‘ حالانکہ حقیقت کا اس سے دور دور کا تعلق ...

مزید پڑھئے »

اس عید پر


تدفین ہو چکی تھی۔ دوسری بستیوں اور شہروں سے آئے ہوئے مہمانوں کو گاؤں کے لوگ راستوں میں کھڑے، درخواست کر رہے تھے کہ کھانا تیار ہے، تناول فرما کر رخصت ہوں۔ کچھ گاڑیاں موڑ رہے تھے،اژدحام تو نہ تھا لیکن لوگ اتنے زیادہ تھے اور موٹریں اس قدر تھیں کہ گرد بہت تھی۔ مٹی اڑتی تھی تو ارد گرد کے چہرے چھپ چھپ جاتے تھے۔ میں اپنے عزیزوں کی اُس حویلی میں کھڑا تھا جہاں مرد حضرات کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ آمد و رفت لگی ہوئی تھی۔ اچانک شدید تھکاوٹ کا احساس ہوا۔ چوبیس گھنٹوں میں شاید ہی آنکھ لگی ہو۔ آنسو خشک اور آنکھیں بنجر تو ہو ہی چکی تھیں، جسم کے دوسرے اعضا بھی ناتوانی کا شکار لگنے لگے تھے۔ نہ جانے کیا ہوا‘ دفعتاً میرے منہ سے الفاظ نکلے، جن کا مخاطب میں خود ہی تھا۔ اظہار الحق، آج تمہیں کسی نے نہیں کہنا کہ ’’میرے بچے تھک گئے ہو، ذرا لیٹ جاؤ‘‘، پھر کسی کو آواز دیتیں، ’’جاؤ، اظہار کے لئے اندر سے تکیہ لے آؤ‘‘، محرومی کا احساس ہوا اور اتنا شدید کہ بے کسی سے، بقول محبوب خزاں، دنیا رگوں میں چلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ تھکے تھکے قدم آہستہ آہستہ اٹھائے، ایک خالی کمرے میں فرش پر بچھی ہوئی دری پر لیٹ گیا۔ تکیہ تھا نہ کوئی تکیہ منگوا کر دینے والی! برہنگی تھی، افق سے افق تک چھائی ہوئی‘ کڑکتی دھوپ، جھلسا دینے والی گرم ہوا، کوئی سایہ نہ تھا۔ وہ روایت یادآئی، موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی رحلت ہوئی تو متنبہ کئے گئے کہ ہوش سے!! اب وہ پہلے والی بات نہیں، ماں کی دعا پشت سے اُٹھ چکی ہے۔ 
اُسی دن، شام ڈھلے، لاہور سے ایک دوست پہنچے۔ صحن میں چارپائیاں بچھی تھیں، ہوا چل رہی تھی۔ کہنے لگے کیا ہی اچھی ہوا ہے تمہارے گاؤں میں۔ جواب دیا، ہاں! لیکن وہ جو تہہ خاک چلے گئے، انہیں اِس ہوا سے کیا!   ؎
ہواؤں اور بادلوں سے اظہارؔ کوئی کہہ دے 
کہ اب ملاقات ان سے زیرِ زمین ہوگی! 
کہنے لگے یہ وہ زخم نہیں جو چند دنوں یا چند مہینوں یا چند برسوں میں بھر جائے، یہ کھرنڈ چھلتا رہے گا۔ خون رستا رہے گا۔ جہاں کوئی بوڑھی عورت دکھائی دے گی، ماں یاد آ جائے گی۔ یہی ہوا، سترہ سال گزر چکے، سر کے بچے کھچے اور ریش کے بال برف کی لاتعداد تہوں سے ڈھک گئے ہیں۔ اب بھی جھریوں بھرے چہرے والی کوئی بزرگ خاتون نظر آئے تو آنکھوں کے سامنے ایک اور چہرہ آ جاتا ہے! 
پتہ نہیں کس وقت اُٹھ جاتی تھیں، عید کے دن ہم بیدار ہوتے تھے تو مکھڈی حلوہ بھی پک چکا ہوتا تھا۔ سویاں بھی میز پر تیار پڑی ہوتی تھیں، شلواروں میںکمربند بھی ڈالے جا چکے ہوتے تھے۔ عید کی نماز پڑھ کر گھر میں داخل ہوتے تھے تو کھڑی ہوتی تھیں۔ بسم اللہ کہہ کر بازوؤں میں لپیٹ لیتی تھیں۔ اب تو کچھ بھی نہیں! زیرِ پا زمین ہے نہ سر پر سائبان! کوئی ابرپارہ ہے نہ آسمان!   ؎ 
یہ زندگی کے کڑے کوس! یاد آتا ہے 
تری نگاہِ کرم کا گھنا گھنا سایہ 
افسوس! جن کے ماں باپ زندہ ہیں، انہیں اکثر و بیشتر احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنے خوش بخت ہیں! پیدائش سے ساتھ دیکھ کر، ہم انہیں اپنے وجود، اپنے ماحول کا حصہ سمجھ لیتے ہیں،
 Taken for granted
لیتے ہیں! وقت گزرتا جاتا ہے۔ وہ کمزور، پھر ضعیف ہونے لگتے ہیں، ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں، بات بات پر رقت طاری ہونے لگتی ہے۔ بچوں کی ذرا سی تکلیف پر بے چین ہو جاتے ہیں، رات کو دیر سے آئیں تو جاگ کر انتظار کر رہے ہوتے ہیں، شام کو کام سے واپس آنے میں تاخیر ہو جائے تو دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں، کھانے کا کہا جائے تو آہستگی سے کہہ دیتے ہیں کہ وہ آجائے تو کھا لیں گے! بیٹا بیٹی، پوتا، نیا لباس نیا جوتا یا کوئی اور تحفہ لائے تو یہ فکر کہ بچے کا اتنا خرچ ہو گیا! کیا کبھی کسی نے اس بات پر غور کیا ہے کہ بیٹے کے مکان، مال اور اشیا کی جتنی حفاظت بوڑھے والدین کرتے ہیں اور جتنی فکر انہیں ہوتی ہے، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اپنے رخصت ہونے کے بعد جو کچھ بچوں پر گزرے گی، اس کی فکر الگ۔ فلاں کام اس طرح کر لینا،، فلاں سے ہوشیار رہنا، فلاں پر اعتبار کرنا، فلاں پر نہ کرنا! کچھ خوش قسمت سنتے ہیں۔ کچھ سنی ان سنی کرتے ہیں۔ ہوتا اکثر و بیشتر وہی ہے جو وہ بتا چکے تھے۔ مگر اب کیا ہو سکتا ہے!   ؎ 
عصا در دست ہوں، اُس دن سے بینائی نہیں ہے 
ستارہ آنکھ میں آیا تھا، میں نے کھو دیا تھا 
افسوس! آدم کی اولاد کو جتنی محبت اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد سے ہے، اتنی ماں باپ سے نہیں! شاید اس لئے کہ آدم کے ماں باپ نہیں تھے، محبت کا اور تعلق کا اور دلسوزی کا اور اضطراب کا بہاؤ آگے کی طرف ہے، پیچھے کی طرف نہیں۔ نشیب آگے ہے، پیچھے اونچائی ہے! اس صورتِ حال کا علم پیدا کرنے والے کو تھا‘ اسی لئے تو وارننگ دی کہ بوڑھے ہو جائیں تو اُف نہ کرو‘ درشتی سے نہ جواب دو۔ عجز سے بازو پھیلائے رکھو، یہ کہیں نہیں فرمایا کہ بچوں کا خیال رکھو کہ وہ ہاتھ سے مکھی بھی نہیں اڑا سکتے! بچے کے لئے ماں بھی جاگتی ہے، پیشاب پاخانہ سنبھالتی ہے، باپ بھی ہر وقت بچھنے کے لئے تیار ہے، پھر جب وہ ڈیڑھ فٹ کا بے بس بچہ کڑیل جواب بنتا ہے تو سمجھتا ہے ہمیشہ سے گبھرو تھا؟ پھر وہ بات بات پر بگڑتا ہے، اونچی آواز سے بولتا ہے، گستاخی کرتا ہے، اُن کی دل آزاری کرتا ہے، ان کے آرام کا، ضروریات کا خیال نہیں رکھتا۔ رابطہ نہیں کرتااور اگر بیوی اپنے زعم میں حورپری ملی جائے یا اپنی سطح سے اونچے گھر سے کوئی میم نما، غرور و استکبار سے بھری کم ظرف آ جائے تو اُن دو ہستیوں کو جنہوں نے راتوں کو بیٹھ بیٹھ کر اس کی تیمارداری کی تھی، اُسکی غلاظت صاف کی تھی، اس کے منہ میں دودھ کے قطرے ٹپکائے تھے، اس کے پیروں میں جورابیں اور جوتے ڈالتے تھے، اُسے نہلاتے تھے، اس کے منہ میں ایک ایک حرف ڈال کر بولنا سکھاتے تھے، پاؤں پاؤں چلنے کی مشق کراتے تھے‘ سکول لے جانے سے پہلے ننھے ننھے جوتے چمکاتے تھے، اپنی ضروریات پسِ پشت ڈال کر اُس کے لئے بازاروں سے خریداریاں کرتے پھرتے تھے، قرض لے کر اُسکی فیسیں ادا کرتے تھے‘ چھٹی ہوتی تھی تو دروازے پر بانہیں پھیلائے کھڑے ہوتے تھے، اُن دو ہستیوں کو بھول جاتا ہے، پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ آج جو بو رہا ہے، کل وہی کچھ کاٹے گا۔ ہے نا انسان خسارے میں! اپنے ہاتھوں سے اپنے لئے کنواں کھودتا انسان!! 
اللہ کے بندو! تم میں سے جن کے ماں باپ سلامت ہیں، ان کی قدر کرو، خدا کے لئے جنت کا یہ ٹکٹ ہاتھ سے نہ گنواؤ، اگر وہ ناراض ہیں تو اس عید پر اُن کے قدم چوم لو، اپنی مکروہ انا کو جھٹک کر اُن کے مقدس پیروں پر اپنے سر رکھ دو۔ ان کے کانپتے ہاتھوں پر اپنا چہرے جھکاؤ، آنکھیں اُن کی ہتھیلیوں پر ملو، اُن کے رعشہ زدہ سروں کے لئے اپنے کندھوں کو ٹیک بنا دو۔ اُن کے پوپلے منہ میں اپنے ہاتھوں سے نوالے ڈالو۔ انہیں بٹھا کر، پسِ پشت خود تکیہ بنو۔ وقت اُڑ رہا ہے، کہیں زندگی بھر کا پچھتاوا تمہارے لئے جلتا تنور نہ بن جائے۔ اُن کے پاؤں تلے پلکیں نہیں بچھا سکتے تو اپنے ہاتھوں سے اُن کے پاؤں جوتوں میں ڈالو۔ تمہارے جوتے اگر تمہارے ملازم پالش کرتے ہیں تو ماں باپ کے جوتے اپنے ہاتھوں سے پالش کرو۔ اُن کے جھریوں بھرے رخساروں کے ساتھ اپنے رخسار لگاؤ، یہی بہشت کا مَس ہے۔ اگر وہ بستر سے لگ گئے ہیں، تو پاس بیٹھ کر آگے کو جھکو اور ان کے گلے لگ جاؤ، ان کے دُکھتے جسم کو نرم ہاتھوں کے ساتھ آرام پہنچاؤ۔ اُن کی اجاڑ بے خواب بے آب آنکھوں میں جھانکو، اُن میں بے کنار جہان آباد ہیں، وہ بستر سے نیچے اتریں تو ان کے جوتے سیدھے کرو، عصا پکڑاؤ، ان کے پاس بیٹھو، ان سے باتیں کرو، وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں سنو، انہیں احساس نہ ہو کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔ ان کی یادداشت بوسیدہ ہو چکی ہے، اگر وہ ایک بات بار بار کر یں، کسی چیز کے بارے میں بار بار پوچھیں، لوگوں اور اشیا کے نام خلط ملط کر دیں تو تحمل سے کام لو۔ بیس بار بھی بات دہرانی پڑے تو دہراؤ‘ لہجے میں اکتاہٹ نہ آنے دو فَلا تَقُل لَھُما اُفٍ وَلا تَنھرھُمَا۔ کیا خبر، اگلی عید پر وہ ہوں نہ ہوں! کیا خبر اگلی عید پر تم خود رہو نہ رہو۔ کسی کو کیا معلوم ایک سال کی تقویم میں کسی تاریخ کے گرد دائرہ لگ جائے؟ کون جانے وقت کتنے الاؤ پھونک دے اور کتنے بگولے پھانک چکا ہو! اُٹھو! ابھی اُٹھو! دیر نہ کرو!

مزید پڑھئے »