محمد اظہار الحق

اُٹھو!اہل کراچی! اُٹھو

جمال احسانی مرحوم یارِ طرح دار تھا اور شاعر نغزگو‘ کیسے کیسے شعر کہہ گیا   ؎
تمام تیشہ بدست حیرت میں گم ہوئے ہیں
چراغ سے کاٹ دی ہوا کی چٹان میں نے
اوریہ بھی   ؎  
یہ لالٹین ہے کہ چوکیدار کے
نحیف ہاتھ میں کوئی ستارہ ہے
مزے لے لے کر واقعہ سنایا کرتا کہ ایک صاحب کراچی میں اپنے آپ کو مغل خانوادے کا آخری چشم و چراغ کہتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے لال قلعہ قسم کی جائیدادوں کی وراثت کا دعویٰ بھی کیا ہوا تھا۔ ایک دن جوش ملیح آبادی کے پاس آئے اور شعر سنانے شروع کیے ۔ بے وزن‘ بے ہنگم اور مضحکہ خیز شاعری تھی۔ جوش صاحب کہاں تک برداشت کرتے‘ زچ ہو کر ملازم سے کہا اسے باہر نکال دو۔ وہ صاحب باہر نکلتے ہوئے جوش صاحب کو کہے جا رہے تھے:’’جوش صاحب! دم خم ہے تو شاعری میں مقابلہ کیجیے ۔ غنڈہ گردی پر کیوں اترآئے ہیں؟‘‘
زوال کی مثال دینے کے لیے یہ کوئی زیادہ موزوں واقعہ نہیں‘ اس لیے کہ واقعہ کم اور لطیفہ زیادہ ہے۔ زوال آتا ہے تو ہمہ گیر ہوتا ہے۔ آندھی آتی ہے تو گلاب ہو یا نسترن‘ کسی کو نہیں چھوڑتی   ؎
تم اپنی شمع تمنا کو رو رہے ہو فراز
ان آندھیوں میں تو پیارے چراغ سب کے گئے
زوال آیا ہے تو ایسا ہمہ گیر کہ کچھ نہیں بچا۔ یونیورسٹیاں سیاست کے اکھاڑے بن گئیں اور سیاسی جماعتیں ڈیروں پر پرورش پانے والے گروہ! بلندی کیسی تھی اور پستی کیسی ہے! کہاں ذوالفقار علی بھٹو ‘ اور کہاں زرداری خاندان! کہاں قائد اعظم اور کہاں میاں محمد نواز شریف‘ کہاں مولانا مودودی اور کہاں منور حسین اور سراج الحق ! کہاں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور کہاں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف ۔ ہمہ گیرزوال ہے کچھ بھی نہیں بچا۔ لیکن جو زوال اردو بولنے والی آبادی پر آیا ہے‘ اسے دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ کمر سے پٹکا باندھ کر بال کھول لیے جائیں ‘ اورسینہ کوبی وہ کی جائے کہ  ؎
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو ہٹ جائو دے دو راہ جانے کے لیے
یہ جو خطہ ہے کرنال سے پٹنہ تک کا۔1206ء میں دہلی کے پہلے سلطان قطب الدین ایبک کی تخت نشینی سے لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے عروج نامسعود تک۔ برصغیر کے مسلمانوں کی نہ صرف عسکری اور سیاسی قیادت کرتا رہا۔تعلیمی ثقافتی اور سماجی رہبری بھی اسی کے پاس تھی ! تغلقوں کا عہد تھا یا مغلوں کا دنیا کے چوٹی کے علماء ‘ دانش ور اور اہل کمال اسی خطے میں تھے ٹھیک ہے زوال کا ذمہ دار بھی یہی خطہ تھا لیکن دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ زوال کے زمانے میں بھی ڈھارس بندھی تو یہیں سے! بریلی ہی کے سید احمد شہید اور پٹنہ ہی کے ولایت علی اور عنایت علی برادران نے تحریک مجاہدین چلائی۔ غلام رسول مہر‘تحریک مجاہدین کی تاریخ میں جن مجاہدوں کے نام گنواتے ہیں ان میں میانوالی کے اعوان بھی تھے لیکن قیادت شمالی ہند ہی کی رہی! مسلمانوں کو جدید تعلیم و ترقی کی راہ پر لانے والے سر سید سے لے کر مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی تک رہنما یہیں سے اٹھے۔ ابو الکلام آزاد‘ علی برادران‘ حکیم اجمل خان ‘ حسرت موہانی‘ سب یہیں سے تھے قائد اعظم جنوب سے تھے مگر مسلم لیگ کی جدوجہد کا مرکز یو پی تھا! قائد اعظم کے ساتھ کھڑے ہونے والے علماء‘ مولانا اشرف علی تھانوی‘ شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع یہیں سے تھے اور تو اور قیام پاکستان کے بعد اس ملک کی علمی ثقافتی اور تنظیمی باگ ڈور حکیم سعید‘ پروفیسر محمود حسین ‘ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور پروفیسر کرار حسین جیسوں کے ہاتھوںمیں رہی۔
مگر افسوس! صد افسوس ! آج ایم کیو ایم جس طرح اپنے آپ کو تضحیک کا سامان بنا رہی ہے‘ دماغوں اور دلوں میں اپنے بارے میں جو تاثر قائم کیے جا رہی ہے‘ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تعلیمی اور ثقافتی قیادت کرنے والوں نے اپنا کیا حال کر لیا ہے   ؎
دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جوگوشِ نصیحت نیوش ہے
ایک زمانہ تھا جب ان حضرات کے آبائو اجداد اپنی عزت کے بارے میں اس قدر حساس تھے کہ غربت میں بھی وقار قائم رکھتے تھے‘ فاقوں سے مر جاتے تھے کسی کے سامنے دست سوال درازنہیں کرتے تھے‘ فکر یہ ہوتی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے۔
اب حالت یہ ہے کہ کون سی بات ہے جو نہیں کی جا رہی اور کون سی تضحیک ہے اور پھبتی‘ جو اڑائی نہیں جا رہی ! بلیک میلنگ کا الزام لگ رہا ہے۔ دہشت گردی‘ قتل و غارت اورجسموں میں ڈرلنگ کرنے کے الزامات تو پرانے ہو چکے ’’بوری بند‘‘ ایسا محاورہ بنا کہ نتھی ہی ہو گیا۔
جب بھی الطاف بھائی قیادت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں لوگ ہنسنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جس بے بسی اور بے کسی کے عالم میں بیٹھ کر ٹیلی فونک تقریریں سنی جاتی ہیں‘ اس کے لیے کیا کیا تشبیہیں نہیں تراشی گئیں۔ اب جو قومی اسمبلی میں استعفے دیئے گئے ہیں تو خلق خدا کہہ رہی ہے کہ انہیں استعمال کیا جا رہا ہے اور مقصد استعمال کرنے والوں کا کراچی میں لیے گئے ایکشن کی کشتی میں سوراخ کرنا ہے۔ کثیر تعداد لوگوں کی یہ بھی رائے رکھتی ہے کہ یہ بلیک میلنگ ہے جو اس گروہ کا وتیرہ ہی بن چکا ہے!
اردو بولنے والی آبادی کے ساتھ دو المیے ہوئے اور دونوں المیے ایسے کہ مُہر پر مُہر لگتی گئی! سندھی وڈیروں‘ بلوچی جاگیرداروں اور اپنے آپ کو پاکستانی کہلانے کے بجائے پٹھان پنجابی کشمیری کہلانے والوں نے اردو سپیکنگ حضرات کو دیوار سے لگایا یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو مہاجر کہلانے پر مجبور ہو گئے ۔ استبدادی کوٹہ سسٹم تو ناانصافی کی طویل داستان کا محض ایک باب ہے ! اس المیے نے انہیں پاکستانی سے مہاجر بنا دیا؟ دوسرا المیہ یہ ہوا کہ مڈل کلاس کے نام پر ایم کیو ایم بنی تو اس کے رہنمائو ں کی کثیر تعداد مڈل کلاس کو خیر باد کہہ کر اپر کلاس میں منتقل ہو گئی۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ کراچی اور حیدر آباد کے لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اور سب کچھ سامنے دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہے اور ساتھ رہے! ورنہ کیا انہیں نہیں معلوم تھا کہ لندن میں براجمان قیادت‘ ہاتھوں سے ایک پتہ توڑے بغیر‘ قابل رشک معیار زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہے! کیا وہ نہیں جانتے کہ کن کن لیڈروں کے کنبے امریکہ میں کہاں کہاں رہ رہے ہیں! دیکھتے دیکھتے اثاثے کروڑوں اربوں تک پہنچ گئے۔ وہ جو اداکارائیں ہمیشہ پچیس برس ہی کی رہتی ہیں‘ تو لیڈر بھی مڈل کلاس ہی میں رہے! دوسری طرف شہرت اس قدر خراب ہوئی کہ حکیم سعید‘ رئیس امروہی اور صلاح الدین  جیسے مشاہیر‘ جو انہی کے چشم و چراغ تھے‘ خلق خدا نے انہیں کے کھاتے میں ڈالے۔ ثبوت ہو نہ ہو‘ زبان خلق کو کون روک سکتا ہے!!
ایک سوال ہے جو رہ رہ کر ذہن میں اٹھتا ہے۔ دماغ میں چبھتا ہے اور دل میں گرہ ڈالتا ہے۔ جب قائد تحریک ٹیلی فونک خطاب کے دوران‘ گانے گاتے ہیں اور عجیب و غریب کیفیتوں کے مظاہرے کرتے ہیں تو اس وقت تحریک کے رہ نما‘ اکثریت جن کی سنجیدہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ کیا نہیں سوچتی کہ صورتحال مضحکہ خیز ہے سخت مضحکہ خیز اور یہ کہ تحریک سے باہر کے لاکھوں کروڑوں لوگ ہمارے بارے میں اور ہمارے قائد کے بارے میں کیا کہیں گے اور کیا رائے رکھیں گے؟کیا برصغیر کے مسلمانوں کی علمی اور دینی قیادت کرنے والوں کے قابل فخر جانشینوں میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ زکوٰۃ ‘ فطرانے اور کھالیں سیاست چلانے کے لیے نہیں ہوتیں؟
اُٹھو! اے اہل کراچی اُٹھو! خدا کے لیے انگڑائی لو! اپنے اوپر بلیک میلنگ جیسے پست الزامات لگنے کے اسباب رفع کرو! خدا کی قسم ! جن لوگوں کی جدوجہد چند وزارتوں کے حصول پر موقوف رہی‘ وہ تمہارے نمائندے نہیں ہو سکتے! کسی کے ہاتھ میں نہ کھیلو! مضحکہ خیز گیت گانے والوں کی پرورش کا تم کیوں سامان بنتے ہو؟ جن کے اہل و عیال بحراوقیانوس کے پار ہیں‘ انہیں وہیں بھیجو‘ اٹھو‘ انگڑائی لو‘ استعفوں کا کھیل تمہاری قامت سے بہت نیچے اور تمہاری شان سے بہت کم ہے! اپنے عالی مرتبت نام کے ساتھ ’’بوری بند‘‘ جیسے مکروہ سابقے اور لاحقے لگانے والوں کی نام نہاد لیڈری کو بوری میں بند کر کے بحیرہ عرب میں پھینک دو! قیادت ایسی چنو جو سر سید احمد خان‘ علی برادران ‘ حکیم اجمل خان‘ لیاقت علی خان‘ حکیم محمد سعید‘ پروفیسر کرار حسین مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے پائے کی ہو! اپنا رشتہ پورے ملک کی مڈل کلاس سے جوڑو! سب تمہارے اپنے ہیں اور تمہیں مایوس نہیں کریں گے!

مزید پڑھئے »

اُٹھو!اہل کراچی! اُٹھو

جمال احسانی مرحوم یارِ طرح دار تھا اور شاعر نغزگو‘ کیسے کیسے شعر کہہ گیا   ؎
تمام تیشہ بدست حیرت میں گم ہوئے ہیں
چراغ سے کاٹ دی ہوا کی چٹان میں نے
اوریہ بھی   ؎  
یہ لالٹین ہے کہ چوکیدار کے
نحیف ہاتھ میں کوئی ستارہ ہے
مزے لے لے کر واقعہ سنایا کرتا کہ ایک صاحب کراچی میں اپنے آپ کو مغل خانوادے کا آخری چشم و چراغ کہتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے لال قلعہ قسم کی جائیدادوں کی وراثت کا دعویٰ بھی کیا ہوا تھا۔ ایک دن جوش ملیح آبادی کے پاس آئے اور شعر سنانے شروع کیے ۔ بے وزن‘ بے ہنگم اور مضحکہ خیز شاعری تھی۔ جوش صاحب کہاں تک برداشت کرتے‘ زچ ہو کر ملازم سے کہا اسے باہر نکال دو۔ وہ صاحب باہر نکلتے ہوئے جوش صاحب کو کہے جا رہے تھے:’’جوش صاحب! دم خم ہے تو شاعری میں مقابلہ کیجیے ۔ غنڈہ گردی پر کیوں اترآئے ہیں؟‘‘
زوال کی مثال دینے کے لیے یہ کوئی زیادہ موزوں واقعہ نہیں‘ اس لیے کہ واقعہ کم اور لطیفہ زیادہ ہے۔ زوال آتا ہے تو ہمہ گیر ہوتا ہے۔ آندھی آتی ہے تو گلاب ہو یا نسترن‘ کسی کو نہیں چھوڑتی   ؎
تم اپنی شمع تمنا کو رو رہے ہو فراز
ان آندھیوں میں تو پیارے چراغ سب کے گئے
زوال آیا ہے تو ایسا ہمہ گیر کہ کچھ نہیں بچا۔ یونیورسٹیاں سیاست کے اکھاڑے بن گئیں اور سیاسی جماعتیں ڈیروں پر پرورش پانے والے گروہ! بلندی کیسی تھی اور پستی کیسی ہے! کہاں ذوالفقار علی بھٹو ‘ اور کہاں زرداری خاندان! کہاں قائد اعظم اور کہاں میاں محمد نواز شریف‘ کہاں مولانا مودودی اور کہاں منور حسین اور سراج الحق ! کہاں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور کہاں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف ۔ ہمہ گیرزوال ہے کچھ بھی نہیں بچا۔ لیکن جو زوال اردو بولنے والی آبادی پر آیا ہے‘ اسے دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ کمر سے پٹکا باندھ کر بال کھول لیے جائیں ‘ اورسینہ کوبی وہ کی جائے کہ  ؎
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو ہٹ جائو دے دو راہ جانے کے لیے
یہ جو خطہ ہے کرنال سے پٹنہ تک کا۔1206ء میں دہلی کے پہلے سلطان قطب الدین ایبک کی تخت نشینی سے لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے عروج نامسعود تک۔ برصغیر کے مسلمانوں کی نہ صرف عسکری اور سیاسی قیادت کرتا رہا۔تعلیمی ثقافتی اور سماجی رہبری بھی اسی کے پاس تھی ! تغلقوں کا عہد تھا یا مغلوں کا دنیا کے چوٹی کے علماء ‘ دانش ور اور اہل کمال اسی خطے میں تھے ٹھیک ہے زوال کا ذمہ دار بھی یہی خطہ تھا لیکن دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ زوال کے زمانے میں بھی ڈھارس بندھی تو یہیں سے! بریلی ہی کے سید احمد شہید اور پٹنہ ہی کے ولایت علی اور عنایت علی برادران نے تحریک مجاہدین چلائی۔ غلام رسول مہر‘تحریک مجاہدین کی تاریخ میں جن مجاہدوں کے نام گنواتے ہیں ان میں میانوالی کے اعوان بھی تھے لیکن قیادت شمالی ہند ہی کی رہی! مسلمانوں کو جدید تعلیم و ترقی کی راہ پر لانے والے سر سید سے لے کر مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی تک رہنما یہیں سے اٹھے۔ ابو الکلام آزاد‘ علی برادران‘ حکیم اجمل خان ‘ حسرت موہانی‘ سب یہیں سے تھے قائد اعظم جنوب سے تھے مگر مسلم لیگ کی جدوجہد کا مرکز یو پی تھا! قائد اعظم کے ساتھ کھڑے ہونے والے علماء‘ مولانا اشرف علی تھانوی‘ شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع یہیں سے تھے اور تو اور قیام پاکستان کے بعد اس ملک کی علمی ثقافتی اور تنظیمی باگ ڈور حکیم سعید‘ پروفیسر محمود حسین ‘ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور پروفیسر کرار حسین جیسوں کے ہاتھوںمیں رہی۔
مگر افسوس! صد افسوس ! آج ایم کیو ایم جس طرح اپنے آپ کو تضحیک کا سامان بنا رہی ہے‘ دماغوں اور دلوں میں اپنے بارے میں جو تاثر قائم کیے جا رہی ہے‘ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تعلیمی اور ثقافتی قیادت کرنے والوں نے اپنا کیا حال کر لیا ہے   ؎
دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جوگوشِ نصیحت نیوش ہے
ایک زمانہ تھا جب ان حضرات کے آبائو اجداد اپنی عزت کے بارے میں اس قدر حساس تھے کہ غربت میں بھی وقار قائم رکھتے تھے‘ فاقوں سے مر جاتے تھے کسی کے سامنے دست سوال درازنہیں کرتے تھے‘ فکر یہ ہوتی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے۔
اب حالت یہ ہے کہ کون سی بات ہے جو نہیں کی جا رہی اور کون سی تضحیک ہے اور پھبتی‘ جو اڑائی نہیں جا رہی ! بلیک میلنگ کا الزام لگ رہا ہے۔ دہشت گردی‘ قتل و غارت اورجسموں میں ڈرلنگ کرنے کے الزامات تو پرانے ہو چکے ’’بوری بند‘‘ ایسا محاورہ بنا کہ نتھی ہی ہو گیا۔
جب بھی الطاف بھائی قیادت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں لوگ ہنسنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جس بے بسی اور بے کسی کے عالم میں بیٹھ کر ٹیلی فونک تقریریں سنی جاتی ہیں‘ اس کے لیے کیا کیا تشبیہیں نہیں تراشی گئیں۔ اب جو قومی اسمبلی میں استعفے دیئے گئے ہیں تو خلق خدا کہہ رہی ہے کہ انہیں استعمال کیا جا رہا ہے اور مقصد استعمال کرنے والوں کا کراچی میں لیے گئے ایکشن کی کشتی میں سوراخ کرنا ہے۔ کثیر تعداد لوگوں کی یہ بھی رائے رکھتی ہے کہ یہ بلیک میلنگ ہے جو اس گروہ کا وتیرہ ہی بن چکا ہے!
اردو بولنے والی آبادی کے ساتھ دو المیے ہوئے اور دونوں المیے ایسے کہ مُہر پر مُہر لگتی گئی! سندھی وڈیروں‘ بلوچی جاگیرداروں اور اپنے آپ کو پاکستانی کہلانے کے بجائے پٹھان پنجابی کشمیری کہلانے والوں نے اردو سپیکنگ حضرات کو دیوار سے لگایا یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو مہاجر کہلانے پر مجبور ہو گئے ۔ استبدادی کوٹہ سسٹم تو ناانصافی کی طویل داستان کا محض ایک باب ہے ! اس المیے نے انہیں پاکستانی سے مہاجر بنا دیا؟ دوسرا المیہ یہ ہوا کہ مڈل کلاس کے نام پر ایم کیو ایم بنی تو اس کے رہنمائو ں کی کثیر تعداد مڈل کلاس کو خیر باد کہہ کر اپر کلاس میں منتقل ہو گئی۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ کراچی اور حیدر آباد کے لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اور سب کچھ سامنے دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہے اور ساتھ رہے! ورنہ کیا انہیں نہیں معلوم تھا کہ لندن میں براجمان قیادت‘ ہاتھوں سے ایک پتہ توڑے بغیر‘ قابل رشک معیار زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہے! کیا وہ نہیں جانتے کہ کن کن لیڈروں کے کنبے امریکہ میں کہاں کہاں رہ رہے ہیں! دیکھتے دیکھتے اثاثے کروڑوں اربوں تک پہنچ گئے۔ وہ جو اداکارائیں ہمیشہ پچیس برس ہی کی رہتی ہیں‘ تو لیڈر بھی مڈل کلاس ہی میں رہے! دوسری طرف شہرت اس قدر خراب ہوئی کہ حکیم سعید‘ رئیس امروہی اور صلاح الدین  جیسے مشاہیر‘ جو انہی کے چشم و چراغ تھے‘ خلق خدا نے انہیں کے کھاتے میں ڈالے۔ ثبوت ہو نہ ہو‘ زبان خلق کو کون روک سکتا ہے!!
ایک سوال ہے جو رہ رہ کر ذہن میں اٹھتا ہے۔ دماغ میں چبھتا ہے اور دل میں گرہ ڈالتا ہے۔ جب قائد تحریک ٹیلی فونک خطاب کے دوران‘ گانے گاتے ہیں اور عجیب و غریب کیفیتوں کے مظاہرے کرتے ہیں تو اس وقت تحریک کے رہ نما‘ اکثریت جن کی سنجیدہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ کیا نہیں سوچتی کہ صورتحال مضحکہ خیز ہے سخت مضحکہ خیز اور یہ کہ تحریک سے باہر کے لاکھوں کروڑوں لوگ ہمارے بارے میں اور ہمارے قائد کے بارے میں کیا کہیں گے اور کیا رائے رکھیں گے؟کیا برصغیر کے مسلمانوں کی علمی اور دینی قیادت کرنے والوں کے قابل فخر جانشینوں میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ زکوٰۃ ‘ فطرانے اور کھالیں سیاست چلانے کے لیے نہیں ہوتیں؟
اُٹھو! اے اہل کراچی اُٹھو! خدا کے لیے انگڑائی لو! اپنے اوپر بلیک میلنگ جیسے پست الزامات لگنے کے اسباب رفع کرو! خدا کی قسم ! جن لوگوں کی جدوجہد چند وزارتوں کے حصول پر موقوف رہی‘ وہ تمہارے نمائندے نہیں ہو سکتے! کسی کے ہاتھ میں نہ کھیلو! مضحکہ خیز گیت گانے والوں کی پرورش کا تم کیوں سامان بنتے ہو؟ جن کے اہل و عیال بحراوقیانوس کے پار ہیں‘ انہیں وہیں بھیجو‘ اٹھو‘ انگڑائی لو‘ استعفوں کا کھیل تمہاری قامت سے بہت نیچے اور تمہاری شان سے بہت کم ہے! اپنے عالی مرتبت نام کے ساتھ ’’بوری بند‘‘ جیسے مکروہ سابقے اور لاحقے لگانے والوں کی نام نہاد لیڈری کو بوری میں بند کر کے بحیرہ عرب میں پھینک دو! قیادت ایسی چنو جو سر سید احمد خان‘ علی برادران ‘ حکیم اجمل خان‘ لیاقت علی خان‘ حکیم محمد سعید‘ پروفیسر کرار حسین مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے پائے کی ہو! اپنا رشتہ پورے ملک کی مڈل کلاس سے جوڑو! سب تمہارے اپنے ہیں اور تمہیں مایوس نہیں کریں گے!

مزید پڑھئے »

شیر اور سرگوشی

آپ کا کیا خیال ہے مصر کے ظالم بادشاہ نے، جو خدائی کا دعویدار تھا، بنی اسرائیل کے لڑکوں کو مارنے اور لڑکیوں کو چھوڑنے کا پروگرام بنایا تو اس پروگرام کی کامیابی کے لئے کسے مامور کیا تھا؟ 
اور جب اہرامِ مصر بن رہے تھے اور ہزاروں، لاکھوں غلام اس مشقت میں لگے ہوئے تھے اور ان کی جسمانی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئے انہیں مسلسل پیاز کھلائے جاتے تھے، تو اتنی بڑی بیگار فورس کو کنٹرول کرنے کے لئے اور ان کی سرینوں پر لاٹھیاں برسانے کے لئے کس کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی؟ 
اور چنگیز خان جب شہر اور بستیاں جلاتا آگے بڑھ رہا تھا تو مفتوحہ علاقوں میں اُن لوگوں کو کیسے تلاش کر لیتا تھا جنہوں نے تاتاریوں کے خلاف لڑنے کے لئے مقامی آبادیوں کو ابھارا تھا؟ 
اور روم کے کلوسیم میں جب انسانوں کو بھوکے شیروں کے آگے ڈالا جاتا تھا تو اِس وحشیانہ کھیل کا انتظام کس کے سپرد تھا؟ 
اور جب شیر نے جنگل میں ایک شخص کو کھانے کا ارادہ کیا اور اُس شخص نے شیر کے کان میں سرگوشی کی اور سرگوشی سن کر شیر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا تو اُس نے شیر کے کان میں کیا کہا تھا؟ 
آپ کو ان سوالوں کے جواب اچھی طرح معلوم ہیں لیکن آپ بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ آپ کا رنگ زرد پڑ رہا ہے۔ آپ کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ آپ کے گھر میں مائیں بہنیں ہیں۔ آپ ایک عزت دار شہری ہیں۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ پنجاب پولیس کا نام لیں! آپ کو یہ بھی اچھی طرح پتہ ہے کہ اس شخص نے شیر کے کان میں کہا تھا کہ یہ علاقہ پنجاب پولیس کا ہے اور اگر تم نے مجھے کھایا تو تمہیں مستقل نذرانہ دینا پڑے گا اور اس کے علاوہ جو شکار بھی کرو گے اس کا سر، دھڑ، رانیں، پنڈلیاں، بازو اور کلیجی نزدیک ترین تھانے میں جمع کرانا ہو گا اور تمہیں صرف انتڑیاں، اوجھڑی اور ناقابلِ بیان حصے ملیں گے! 
روبینہ بی بی کہتی ہے کہ اس کا تیرہ سالہ بیٹا قصور سکینڈل کے ناقابلِ بیان ظلم کا شکار ہوا ہے۔ ڈیڑھ ماہ قبل وہ تھانے میں گئی تھی۔ ڈیوٹی پر متعین پولیس اہلکار نے اُسے کہا کہ وہ دفان ہو جائے۔ اسے تھانے سے باہر نکال دیا گیا۔ پھر وہ بتاتی ہے کہ اس کے بیٹے کی وڈیو بنائی گئی مگر پولیس والے اسی سے مجرموں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ شکیلہ بی بی کہتی ہے کہ وہ فریاد کرنے پولیس سٹیشن گئی مگر الٹا اسی کے مظلوم بیٹے کو پکڑ لیا گیا۔ اس کا پندرہ سالہ بیٹا ابھی تک جیل میں ہے۔ گاؤں کے امام مسجد کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ زیادتی کیس میں احتجاج کرنے اور انصاف لینے کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیر اعلیٰ کے پاس جانے کا اعلان کرو۔ اس کے بعد پولیس والے جوتوں سمیت مسجد میں گُھس آئے، اسے گریبان سے پکڑ کر نیچے گرایا اور داڑھی سے پکڑ کر پوچھا کہ یہ اعلان کیوں کیا؟ پھر اسے مارتے ہوئے چوکی لے گئے، اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جو ڈاکوؤں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جس پولیس والے نے اُسے دھمکی دی کہ وہ (یعنی پولیس والا) اُسے (یعنی امام مسجد کو) ’’مقابلے‘‘ میں مار دے گا، اُس پولیس والے کا نام بھی امام نے پریس کو بتایا ہے۔ 
یہ سب کچھ کسی خفیہ تفتیش کا نتیجہ نہیں، نہ ہی سکاٹ لینڈ یارڈ نے یہ سربستہ ’’راز‘‘ کھولے ہیں۔ سب کچھ میڈیا میں چھپ چکا ہے اور کہا جا چکا ہے۔ متاثرین کا وکیل ٹیلی ویژن چینل پر آیا اور کروڑوں ناظرین کو اس نے بتایا کہ ملزمان کو گزشتہ پندرہ سال سے حلقے میں جیتنے والی سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل ہے۔ وکیل کو ایک عورت نے بتایا کہ وہ پانچ بھائیوں کا جنسی تشدد پچیس برسوں سے برداشت کر رہی ہے۔ اب ان لوگوں کے بچے اس کے بچے کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہیں۔ وکیل نے عورت سے پوچھا کہ کیا تم تھانیدار کے پاس گئیں؟ عورت نے جواب دیا کہ وہ گئی تھی۔ اس کی موجودگی میں تھانیدار نے ملزموں کو بلا لیا۔ ایک ملزم نے (اس کا نام بھی عورت نے بتایا) تھانیدار کے سامنے اُسے بالوں سے پکڑا، تھپڑ مارے اور پوچھا کہ پچیس برسوں سے تمہارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تمہارے بچے کے ساتھ ہو گیا تو کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے؟ وکیل نے ٹی وی پر بتایا کہ فحاشی کے خلاف تقریر کرنے والے مولوی کو چوکی کے انچارج نے (اس انچارج کا نام وکیل نے ٹیلی ویژن پر بتایا) مسجد سے نکالا اور تشدد کر کے اس کا بازو توڑ دیا۔ جب مظلوم شکایت کنندگان فریاد کرنے تھانے گئے تو ایس ایچ او نے ان کی وڈیو بنائی اور ملزمان کو بھیج دی۔ جب یہ بے کس اور بے بس لوگ واپس گاؤں پہنچے تو ملزموں نے انہیں مارا۔ ڈی ایس پی نے سماجی کارکن مبین غزنوی پر ڈی پی او کے سامنے تشدد کیا اور اسے کہا کہ فلاں ایم پی اے کو (وکیل نے اس ایم پی اے کا نام ٹیلی ویژن پر بتایا) فون کرو۔ اگر وہ کہیں گے تو تمہیں (یعنی مبین غزنوی کو) چھوڑ دیا جائے گا! 
دو ہی امکانات ہیں! یہ سب کچھ… جو پریس میں چھپا ہے اور ٹیلی ویژن پر عوام اور خواص نے سنا ہے… جھوٹ ہے یا سچ ہے۔ اگر جھوٹ ہے تو پولیس والے اور حکومت وضاحت کیوں نہیں کرتے۔ روبینہ بی بی بھی موجود ہے، شکیلہ بی بی بھی، اس کا بیٹا بھی۔ امام مسجد بھی۔ امام مسجد کو ’’مقابلے‘‘ میں مارنے کی دھمکی دینے والا پولیس مین بھی! جس عورت کو تھانے میں تھپڑ مارے گئے، وہ بھی زندہ ہے، جن پانچ بھائیوں کا وکیل نے ذکر کیا، وہ بھی اسی ملک میں ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹ ہے تو پریس والوں پر اور وکیل پر اور الیکٹرانک میڈیا والوں پر مقدمہ کیوں نہیں دائر کیا جاتا؟ انہیں اس جھوٹ پر معافی مانگنے کے لئے کیوں نہیں کہا جاتا؟ آخر وہ ہتک عزت کے مرتکب ہوئے ہیں! اور اگر یہ سب سچ ہے تو حکومت نے کیا ایکشن لیا ہے؟ پولیس والے شکایت کرنے والوں کی وڈیو بناتے ہیں، امام مسجد کو داڑھی سے پکڑ کر اس کا بازو توڑ دیتے ہیں، سماجی کارکن کو مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایم پی اے سے فون کرواؤ… اور حکومت کچھ بھی نہیں کرتی۔ یہ وہی حکومت ہے جو حکمرانِ اعلیٰ کے پروٹوکول قافلے میں ذرا سی گڑبڑ ہو جانے پر ایس پی سطح کے افسر کو معطل کر دیتی ہے! 
ناقابلِ بیان زیادتی بچوں کے ساتھ سالہاسال سے ہو رہی ہے۔ وڈیو پھیلائی جاتی رہیں، اگر کوئی کہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ پولیس والوں کو اس سب کچھ کا علم نہیں تھا تو وہ بے وقوف ہے یا دوسروں کو بے وقوف سمجھتا ہے! پولیس کی رضامندی کے بغیر شاید ہی کوئی جرم پنپ سکتا ہو! یہ وہی پولیس ہے جس کے بل بوتے پر انگریزوں نے ایک صدی تک صوبے پر حکومت کی۔ پولیس مجرموں کو پکڑنے میں، سراغ رسانی میں، انتظامی معاملات میں دنیا کی کسی بھی پولیس سے پیچھے نہیں۔ جاپان سے لے کر کینیڈا تک اور امریکہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک کسی پولیس فورس سے اس کا مقابلہ کرا کے دیکھ لیں۔ اس پولیس کا المیہ یہ ہے کہ سیاست دان اور حکمران طبقات اسے قومی فورس نہیں، خاندانی نوکر سمجھتے ہیں! اس سے جرائم کرائے جاتے ہیں، مخالفین کا ناطقہ بند کرایا جاتا ہے، بچوں اور بیگمات اور ان کے دوستوں اور سہیلیوں کی خدمت کرائی جاتی ہے۔ گھروں پر پہرے دلوائے جاتے ہیں۔ گھنٹوں شاہراہوں پر کھڑا رکھا جاتا ہے تاکہ شاہی سواریاں اور خاندانی بگھیاں گزریں تو شان و شوکت کا اور تزک و احتشام کا مظاہرہ ہو اور حکمرانی کی تیز و تند روشنی سے عوام کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں! 
یہ سب کچھ پولیس کرے تو بدلے میں وہ آزادی مانگتی ہے۔ دنیا میں فری لنچ کہیں نہیں ہوتا، پولیس بھی یہ سب کچھ مفت میں نہیں کرتی۔ غیر اعلانیہ معاہدہ یہ ہے کہ پولیس حکمران خاندانوں کی حفاظت کرے‘ اپنے آپ کو ان کا ذاتی ملازم سمجھے، اہلِ اقتدار کے اقتدار کی پاسبانی کرے اور بدلے میں اُسے کھلی چھٹی ہے عوام کے ساتھ جو چاہے کرے! چاہے تو ملزموں کو چھوڑ دے‘ مظلوموں کی ہڈیاں توڑ دے‘ چاہے تو بے یار و مددگار ملزموں کو تشدد سے ہلاک کر دے‘ چاہے تو غنڈوں، بدمعاشوں اور بلیک میلروں سے دوستیاں نبھائے۔ 
کیا کسی کو معلوم ہے گزشتہ پانچ یا دس یا پندرہ یا بیس برسوں کے دوران پولیس کے کتنے ریٹائرڈ افسروں کو اعلیٰ ملازمتوں سے نوازا گیا ہے؟ اگر اعداد و شمار میسر ہوں تو نتیجہ حیرت انگیز نکلے گا۔ اس لئے کہ جس طرح جاگیرداروں کی جان پٹواریوں اور تحصیلداروں میں ہے، اسی طرح شہروں سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندانوں کی ’’سیاسی‘‘ بقا کا انحصار پولیس افسروں کے ساتھ ذاتی دوستیوں پر ہے! اِس صورتِ حال میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہماری پولیس کا کام جرائم کی بیخ کنی ہے تو اُسے ماہرِ نفسیات کے پاس جانا چاہئے! 
اگر ہمارے حکمران تاریخ سے آشنا ہوتے، اگر وہ کتابیں پڑھتے، اگر ان کی پرورش، ان کے ماحول اور ان کے گھروں میں علم کا اور لائبریریوں کا عمل دخل ہوتا، اگر ان کے ارد گرد لطیفہ گو مسخروں کے بجائے بے لوث اہلِ علم ہوتے تو حکمرانوں کو معلوم ہوتا کہ کامیاب حکمرانی کی بنیاد صرف اور صرف امن و امان ہے! اگر تاجر اور ڈاکٹر اغوا برائے تاوان کی نذر ہو جائیں، اگر موبائل فونوں کو بچاتے ہوئے عام شہری ڈاکوؤں کی گولیوں کی نذر ہو جائیں، اگر بچے اور ان کے والدین بلیک میلنگ کے ڈر سے گھروں میں چھپ جائیں، اگر دکاندار بھتہ خوروں کے جبڑوں میں پھنسے ہوں تو میٹرو بسوں اور ٹرینوں پر کون سوار ہو گا؟ چور، ڈاکو، اغواکار، بھتہ خور، موبائل فون اور پرس چھیننے والے اور ہاں پولیس والے!!

مزید پڑھئے »

شیر اور سرگوشی

آپ کا کیا خیال ہے مصر کے ظالم بادشاہ نے، جو خدائی کا دعویدار تھا، بنی اسرائیل کے لڑکوں کو مارنے اور لڑکیوں کو چھوڑنے کا پروگرام بنایا تو اس پروگرام کی کامیابی کے لئے کسے مامور کیا تھا؟ 
اور جب اہرامِ مصر بن رہے تھے اور ہزاروں، لاکھوں غلام اس مشقت میں لگے ہوئے تھے اور ان کی جسمانی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئے انہیں مسلسل پیاز کھلائے جاتے تھے، تو اتنی بڑی بیگار فورس کو کنٹرول کرنے کے لئے اور ان کی سرینوں پر لاٹھیاں برسانے کے لئے کس کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی؟ 
اور چنگیز خان جب شہر اور بستیاں جلاتا آگے بڑھ رہا تھا تو مفتوحہ علاقوں میں اُن لوگوں کو کیسے تلاش کر لیتا تھا جنہوں نے تاتاریوں کے خلاف لڑنے کے لئے مقامی آبادیوں کو ابھارا تھا؟ 
اور روم کے کلوسیم میں جب انسانوں کو بھوکے شیروں کے آگے ڈالا جاتا تھا تو اِس وحشیانہ کھیل کا انتظام کس کے سپرد تھا؟ 
اور جب شیر نے جنگل میں ایک شخص کو کھانے کا ارادہ کیا اور اُس شخص نے شیر کے کان میں سرگوشی کی اور سرگوشی سن کر شیر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا تو اُس نے شیر کے کان میں کیا کہا تھا؟ 
آپ کو ان سوالوں کے جواب اچھی طرح معلوم ہیں لیکن آپ بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ آپ کا رنگ زرد پڑ رہا ہے۔ آپ کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ آپ کے گھر میں مائیں بہنیں ہیں۔ آپ ایک عزت دار شہری ہیں۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ پنجاب پولیس کا نام لیں! آپ کو یہ بھی اچھی طرح پتہ ہے کہ اس شخص نے شیر کے کان میں کہا تھا کہ یہ علاقہ پنجاب پولیس کا ہے اور اگر تم نے مجھے کھایا تو تمہیں مستقل نذرانہ دینا پڑے گا اور اس کے علاوہ جو شکار بھی کرو گے اس کا سر، دھڑ، رانیں، پنڈلیاں، بازو اور کلیجی نزدیک ترین تھانے میں جمع کرانا ہو گا اور تمہیں صرف انتڑیاں، اوجھڑی اور ناقابلِ بیان حصے ملیں گے! 
روبینہ بی بی کہتی ہے کہ اس کا تیرہ سالہ بیٹا قصور سکینڈل کے ناقابلِ بیان ظلم کا شکار ہوا ہے۔ ڈیڑھ ماہ قبل وہ تھانے میں گئی تھی۔ ڈیوٹی پر متعین پولیس اہلکار نے اُسے کہا کہ وہ دفان ہو جائے۔ اسے تھانے سے باہر نکال دیا گیا۔ پھر وہ بتاتی ہے کہ اس کے بیٹے کی وڈیو بنائی گئی مگر پولیس والے اسی سے مجرموں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ شکیلہ بی بی کہتی ہے کہ وہ فریاد کرنے پولیس سٹیشن گئی مگر الٹا اسی کے مظلوم بیٹے کو پکڑ لیا گیا۔ اس کا پندرہ سالہ بیٹا ابھی تک جیل میں ہے۔ گاؤں کے امام مسجد کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ زیادتی کیس میں احتجاج کرنے اور انصاف لینے کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیر اعلیٰ کے پاس جانے کا اعلان کرو۔ اس کے بعد پولیس والے جوتوں سمیت مسجد میں گُھس آئے، اسے گریبان سے پکڑ کر نیچے گرایا اور داڑھی سے پکڑ کر پوچھا کہ یہ اعلان کیوں کیا؟ پھر اسے مارتے ہوئے چوکی لے گئے، اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جو ڈاکوؤں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جس پولیس والے نے اُسے دھمکی دی کہ وہ (یعنی پولیس والا) اُسے (یعنی امام مسجد کو) ’’مقابلے‘‘ میں مار دے گا، اُس پولیس والے کا نام بھی امام نے پریس کو بتایا ہے۔ 
یہ سب کچھ کسی خفیہ تفتیش کا نتیجہ نہیں، نہ ہی سکاٹ لینڈ یارڈ نے یہ سربستہ ’’راز‘‘ کھولے ہیں۔ سب کچھ میڈیا میں چھپ چکا ہے اور کہا جا چکا ہے۔ متاثرین کا وکیل ٹیلی ویژن چینل پر آیا اور کروڑوں ناظرین کو اس نے بتایا کہ ملزمان کو گزشتہ پندرہ سال سے حلقے میں جیتنے والی سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل ہے۔ وکیل کو ایک عورت نے بتایا کہ وہ پانچ بھائیوں کا جنسی تشدد پچیس برسوں سے برداشت کر رہی ہے۔ اب ان لوگوں کے بچے اس کے بچے کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہیں۔ وکیل نے عورت سے پوچھا کہ کیا تم تھانیدار کے پاس گئیں؟ عورت نے جواب دیا کہ وہ گئی تھی۔ اس کی موجودگی میں تھانیدار نے ملزموں کو بلا لیا۔ ایک ملزم نے (اس کا نام بھی عورت نے بتایا) تھانیدار کے سامنے اُسے بالوں سے پکڑا، تھپڑ مارے اور پوچھا کہ پچیس برسوں سے تمہارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تمہارے بچے کے ساتھ ہو گیا تو کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے؟ وکیل نے ٹی وی پر بتایا کہ فحاشی کے خلاف تقریر کرنے والے مولوی کو چوکی کے انچارج نے (اس انچارج کا نام وکیل نے ٹیلی ویژن پر بتایا) مسجد سے نکالا اور تشدد کر کے اس کا بازو توڑ دیا۔ جب مظلوم شکایت کنندگان فریاد کرنے تھانے گئے تو ایس ایچ او نے ان کی وڈیو بنائی اور ملزمان کو بھیج دی۔ جب یہ بے کس اور بے بس لوگ واپس گاؤں پہنچے تو ملزموں نے انہیں مارا۔ ڈی ایس پی نے سماجی کارکن مبین غزنوی پر ڈی پی او کے سامنے تشدد کیا اور اسے کہا کہ فلاں ایم پی اے کو (وکیل نے اس ایم پی اے کا نام ٹیلی ویژن پر بتایا) فون کرو۔ اگر وہ کہیں گے تو تمہیں (یعنی مبین غزنوی کو) چھوڑ دیا جائے گا! 
دو ہی امکانات ہیں! یہ سب کچھ… جو پریس میں چھپا ہے اور ٹیلی ویژن پر عوام اور خواص نے سنا ہے… جھوٹ ہے یا سچ ہے۔ اگر جھوٹ ہے تو پولیس والے اور حکومت وضاحت کیوں نہیں کرتے۔ روبینہ بی بی بھی موجود ہے، شکیلہ بی بی بھی، اس کا بیٹا بھی۔ امام مسجد بھی۔ امام مسجد کو ’’مقابلے‘‘ میں مارنے کی دھمکی دینے والا پولیس مین بھی! جس عورت کو تھانے میں تھپڑ مارے گئے، وہ بھی زندہ ہے، جن پانچ بھائیوں کا وکیل نے ذکر کیا، وہ بھی اسی ملک میں ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹ ہے تو پریس والوں پر اور وکیل پر اور الیکٹرانک میڈیا والوں پر مقدمہ کیوں نہیں دائر کیا جاتا؟ انہیں اس جھوٹ پر معافی مانگنے کے لئے کیوں نہیں کہا جاتا؟ آخر وہ ہتک عزت کے مرتکب ہوئے ہیں! اور اگر یہ سب سچ ہے تو حکومت نے کیا ایکشن لیا ہے؟ پولیس والے شکایت کرنے والوں کی وڈیو بناتے ہیں، امام مسجد کو داڑھی سے پکڑ کر اس کا بازو توڑ دیتے ہیں، سماجی کارکن کو مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایم پی اے سے فون کرواؤ… اور حکومت کچھ بھی نہیں کرتی۔ یہ وہی حکومت ہے جو حکمرانِ اعلیٰ کے پروٹوکول قافلے میں ذرا سی گڑبڑ ہو جانے پر ایس پی سطح کے افسر کو معطل کر دیتی ہے! 
ناقابلِ بیان زیادتی بچوں کے ساتھ سالہاسال سے ہو رہی ہے۔ وڈیو پھیلائی جاتی رہیں، اگر کوئی کہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ پولیس والوں کو اس سب کچھ کا علم نہیں تھا تو وہ بے وقوف ہے یا دوسروں کو بے وقوف سمجھتا ہے! پولیس کی رضامندی کے بغیر شاید ہی کوئی جرم پنپ سکتا ہو! یہ وہی پولیس ہے جس کے بل بوتے پر انگریزوں نے ایک صدی تک صوبے پر حکومت کی۔ پولیس مجرموں کو پکڑنے میں، سراغ رسانی میں، انتظامی معاملات میں دنیا کی کسی بھی پولیس سے پیچھے نہیں۔ جاپان سے لے کر کینیڈا تک اور امریکہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک کسی پولیس فورس سے اس کا مقابلہ کرا کے دیکھ لیں۔ اس پولیس کا المیہ یہ ہے کہ سیاست دان اور حکمران طبقات اسے قومی فورس نہیں، خاندانی نوکر سمجھتے ہیں! اس سے جرائم کرائے جاتے ہیں، مخالفین کا ناطقہ بند کرایا جاتا ہے، بچوں اور بیگمات اور ان کے دوستوں اور سہیلیوں کی خدمت کرائی جاتی ہے۔ گھروں پر پہرے دلوائے جاتے ہیں۔ گھنٹوں شاہراہوں پر کھڑا رکھا جاتا ہے تاکہ شاہی سواریاں اور خاندانی بگھیاں گزریں تو شان و شوکت کا اور تزک و احتشام کا مظاہرہ ہو اور حکمرانی کی تیز و تند روشنی سے عوام کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں! 
یہ سب کچھ پولیس کرے تو بدلے میں وہ آزادی مانگتی ہے۔ دنیا میں فری لنچ کہیں نہیں ہوتا، پولیس بھی یہ سب کچھ مفت میں نہیں کرتی۔ غیر اعلانیہ معاہدہ یہ ہے کہ پولیس حکمران خاندانوں کی حفاظت کرے‘ اپنے آپ کو ان کا ذاتی ملازم سمجھے، اہلِ اقتدار کے اقتدار کی پاسبانی کرے اور بدلے میں اُسے کھلی چھٹی ہے عوام کے ساتھ جو چاہے کرے! چاہے تو ملزموں کو چھوڑ دے‘ مظلوموں کی ہڈیاں توڑ دے‘ چاہے تو بے یار و مددگار ملزموں کو تشدد سے ہلاک کر دے‘ چاہے تو غنڈوں، بدمعاشوں اور بلیک میلروں سے دوستیاں نبھائے۔ 
کیا کسی کو معلوم ہے گزشتہ پانچ یا دس یا پندرہ یا بیس برسوں کے دوران پولیس کے کتنے ریٹائرڈ افسروں کو اعلیٰ ملازمتوں سے نوازا گیا ہے؟ اگر اعداد و شمار میسر ہوں تو نتیجہ حیرت انگیز نکلے گا۔ اس لئے کہ جس طرح جاگیرداروں کی جان پٹواریوں اور تحصیلداروں میں ہے، اسی طرح شہروں سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندانوں کی ’’سیاسی‘‘ بقا کا انحصار پولیس افسروں کے ساتھ ذاتی دوستیوں پر ہے! اِس صورتِ حال میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہماری پولیس کا کام جرائم کی بیخ کنی ہے تو اُسے ماہرِ نفسیات کے پاس جانا چاہئے! 
اگر ہمارے حکمران تاریخ سے آشنا ہوتے، اگر وہ کتابیں پڑھتے، اگر ان کی پرورش، ان کے ماحول اور ان کے گھروں میں علم کا اور لائبریریوں کا عمل دخل ہوتا، اگر ان کے ارد گرد لطیفہ گو مسخروں کے بجائے بے لوث اہلِ علم ہوتے تو حکمرانوں کو معلوم ہوتا کہ کامیاب حکمرانی کی بنیاد صرف اور صرف امن و امان ہے! اگر تاجر اور ڈاکٹر اغوا برائے تاوان کی نذر ہو جائیں، اگر موبائل فونوں کو بچاتے ہوئے عام شہری ڈاکوؤں کی گولیوں کی نذر ہو جائیں، اگر بچے اور ان کے والدین بلیک میلنگ کے ڈر سے گھروں میں چھپ جائیں، اگر دکاندار بھتہ خوروں کے جبڑوں میں پھنسے ہوں تو میٹرو بسوں اور ٹرینوں پر کون سوار ہو گا؟ چور، ڈاکو، اغواکار، بھتہ خور، موبائل فون اور پرس چھیننے والے اور ہاں پولیس والے!!

مزید پڑھئے »

خلا جو جنوب میں پیدا ہو رہا ہے

الطاف حسین کا زمانہ لد چکا۔ تو کیا جنرل پرویز مشرف کا عہدِ ہمایونی نہیں ختم ہو رہا؟ 
عہدِ ہمایونی سے کوئی شہنشاہ ہمایوں کا عہد نہ مراد لے لے۔ ہمایوں کم از کم اتنے کام کا تو نکلا کہ اس کی وفات کے بعد اس کا مقبرہ اس کی نسلوں کے لیے پناہ گاہ رہا۔ آخری چشم و چراغ‘ شاعرِ ماتم کناں‘ بہادر شاہ ظفر نے قلعے سے نکل کر ہمایوں کے مقبرے ہی میں پناہ لی۔ تاریخ کا عجیب اتفاق ہے کہ دونوں آخری بادشاہ‘ بہادر شاہ ظفر اور شہنشاہِ اودھ واجد علی شاہ‘ ادب شاعری‘ ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی خدمت کر رہے تھے جبکہ انتظامِ سلطنت دہلی اور لکھنؤ میں بیٹھے ہوئے انگریز ریذیڈنٹ چلا رہے تھے۔ طبلہ نوازی اور رقص کی حد تک تو جنرل صاحب بھی فنون لطیفہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ 
جنرل پرویز مشرف نے ایک تاثر اپنے بارے میں یہ دیا ہوا ہے کہ وہ انڈیا کے معاملے میں کڑی کمان کا تیر ہیں۔ سخت اور غیر لچکدار! مگر حقائق یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جہاں الطاف حسین کا معاملہ آ جائے وہاں جنرل صاحب اپنی نام نہاد بھارت دشمنی کو بڑی صفائی سے گول کر جاتے ہیں۔ الطاف حسین کی ’را‘ کے ساتھ سازباز اب کسی اشتباہ سے بالاتر ہے۔ یہ کہنا کہ انڈیا اتنا بے غیرت ہے کہ پاکستان میں مہاجروں کی مدد نہیں کرتا‘ پھر نیٹو کی افواج کو پکارنا‘ یہ ساری باتیں صریحاً غداری کے ضمن میں آتی ہیں مگر جنرل صاحب کا پیار بھرا بیان ملاحظہ ہو: ’’الطاف حسین کے بھارت سے مدد مانگنے کے بیان کو کوئی بھی اچھا نہیں کہہ سکتا‘‘۔ اگر خدانخواستہ اس قسم کا سلسلہ میاں نوازشریف کے حوالے سے سامنے آتا تو جنرل صاحب فصاحت اور حب الوطنی کے دریا بہا دیتے! 
آفاق احمد نے درست کہا ہے کہ جب جنرل صاحب کے دور حکومت میں الطاف حسین نے بھارت میں قیام پاکستان کو غلط قرار دیا تھا تو انہوں نے نوٹس کیوں نہ لیا اور الطاف حسین کی جماعت کو اس کے باوجود حکومت میں کیوں شامل کیا اور شامل رکھا؟ نومبر 2004ء میں جب الطاف حسین دہلی ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو راستے ان کی قد آدم تصاویر سے مزین تھے! جیسے وہ کوئی ہیرو ہوں! تاج محل ہوٹل میں تقریر کرتے وقت انہوں نے اعلان کیا کہ برصغیر کی تقسیم تاریخ کی عظیم ترین غلطی تھی! پھر انہوں نے چلاّ کر کہا: ’’مہاجر ہونے کے سبب پاکستان میں ہمارے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہے۔ اب اگر ایسا ہوا تو ہم آپ لوگوں کی پناہ لیں گے‘‘۔ پھر انہوں نے پوچھا… ’’دلّی والو! بولو! ہمیں پناہ دو گے؟‘‘ 
اس تقریر کی مکمل رپورٹ پاکستانی سفارت خانے نے حکومت کو ارسال کی۔ جب کچھ دنوں کے بعد پاکستانی سفیر نے الطاف حسین کی دعوت کی تو ان کے رفقائے کار نے احتجاج کیا۔ اس پر سفیر نے بتایا کہ ’’یہ اوپر سے حکم ہے‘‘۔ جنرل صاحب کی جماعت کے ترجمان نے تردید کی ہے مگر پانچ دن پہلے جس صحافی نے یہ سارا قصہ شائع کیا ہے وہ اس ’’تردید‘‘ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ جنرل صاحب سے کون پوچھے کہ اُس وقت آپ کی حب الوطنی اور بھارت دشمنی گھاس چرنے کہاں چلی گئی تھی؟ آپ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف دشمن ملک میں یاوہ گوئی کی اور آپ نے نہ صرف یہ کہ اس یاوہ گوئی کا نوٹس نہ لیا بلکہ اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایسے شخص کے لیے دعوت کا انتظام کرایا۔ کیا وردی کو کھال قرار دینے والے پاکستان اور بھارت کے معاملے میں ایسے جذبات رکھتے ہیں؟ اس میں شک ہی کیا ہے کہ وردی سے محبت اور بھارت سے دشمنی کا سارا پاکھنڈ اقتدار کو طول دینے کے لیے تھا! 
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ الطاف حسین کی جانشینی کے ضمن میں جنرل صاحب کا نام سننے میں آ رہا ہے! کیا حالات اس حد تک ابتر ہو چکے ہیں کہ اب ایم کیو ایم کی قیادت جنرل صاحب جیسے افراد کے سپرد کردی جائے گی؟ مصطفی کمال کی بات اور ہے۔ اس کی کارکردگی بطور میئر قابلِ رشک تھی۔ پھر اس نے پارٹی کی قیادت سے اختلاف کرنے کی جرأت بھی کی اور اس کی پاداش میں اسے ملک چھوڑ کر باہر جانا پڑا۔ 
موجودہ سیاسی جماعتوں میں ایسی کون کون سی ہیں جو ایم کیو ایم کے کارکنوں کو اپنی آغوش میں لے سکیں؟ پیپلز پارٹی کا وہ زمانہ ختم ہو چکا جب وہ چاروں صوبوں کی زنجیر تھی۔ اب تو وہ بہن بھائی کی جاگیر ہے اور اندرون سندھ تک سمٹ چکی ہے۔ مسلم لیگ نون‘ اصلاً پنجاب کی بلکہ وسطی پنجاب کی جماعت ہے۔ اس کی وفاقی حکومت میں اندرون سندھ کی قابل ذکر نمائندگی تک نہیں‘ نہ ہی خیبر پختونخوا یا بلوچستان ہی میں اس کی جڑیں ہیں۔ رہا ہزارہ کا علاقہ تو وہ خاندانی حوالے سے لاہور ہی کی توسیع ہے! پیچھے رہ گئیں اے این پی اور جے یو آئی جیسی جماعتیں‘ تو اے این پی جیسی لسانی اور نسلی بنیادوں پر کام کرنے والی جماعتوں ہی نے تو پاکستانیوں کو مجبور کیا کہ وہ بھی مہاجر بن کر سامنے آئیں۔ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ پہلے ہم پٹھان‘ پنجابی‘ بلوچی‘ کشمیری اور سندھی بنے تو کراچی اور حیدرآباد کے لوگ بعد میں مہاجر بنے۔ یہ بات اس سے پہلے بھی بتائی جا چکی ہے کہ جب کراچی یونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا 
ڈول ڈالا گیا تو یونیورسٹی میں لسانی‘ نسلی اور علاقائی حوالے سے دس سے زیادہ طلبہ تنظیمیں کام کر رہی تھیں۔ جس جماعت میں خیبر پختونخوا کے غیر پختون باشندوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو‘ وہ ایم کیو ایم کو کیا منہ دکھائے گی! رہی جے یو آئی‘ تو اس ملک کا المیہ ہے کہ عقائد اور فرقہ واریت کی بنیاد پر بھی سیاست کی جا رہی ہے اور ڈٹ کر‘ دوسروں کے سینے پر مونگ دل کر کی جا رہی ہے! 
کیا عمران خان اور اس کی جماعت کے اربابِ حل و عقد نے جنوب کی صورتِ حال پر غور کیا ہے؟ تمام کمزوریوں اور نقائص کے باوجود تحریکِ انصاف ہی وہ خلا پُر کر سکتی ہے جس کا ایم کیو ایم سامنا کر رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف پر کسی زبان‘ کسی علاقے‘ کسی نسل یا کسی عقیدے کی چھاپ نہیں لگی ہوئی۔ خاندانی جماعتوں کے قصیدہ خوان تحریک انصاف میں ہر وہ برائی تلاش کر رہے ہیں جو روئے زمین پر ممکن ہے۔ کوئی تبدیلی کو ہیجان کا نام دے رہا ہے‘ کسی کے نزدیک عمران خان سیاست کے لیے بنے ہی نہیں‘ کوئی انتظار کر رہا ہے کہ پارٹی کا اندرونی خلفشار پارٹی کو کس وقت دفناتا ہے یعنی اونٹ کا نچلا ہونٹ کس وقت نیچے گر پڑے گا؟ مگر یہ سب اندھیری رات میں لکڑیاں چننے والی باتیں ہیں۔ تحریک انصاف کو چاہیے کہ کراچی اور حیدرآباد کے عوام کے مسائل پر توجہ دے۔ اُن اسباب پر غور کرے جو ایم کیو ایم کی تشکیل کا اور پھر اس کے انتہا پسندانہ ردعمل کا باعث بنے۔ ایم کیو ایم کے مخلص رہنمائوں سے رابطہ قائم کرے اور ہو سکے تو اپنا ایم کیو ایم وِنگ قائم کرنے کی کوشش کرے۔

مزید پڑھئے »

خواب اور خطابت

مولانا، قائداعظم کے مزار پر کھڑے تھے۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھے ہوئے تھے۔ فاتحہ خوانی کر کے باہر نکلے تو میڈیا والوں نے گھیر لیا۔ ’’کیا بات ہے مولانا؟ آپ اور بانیٔ پاکستان کے مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی؟ ایسا تو آج تک نہ ہوا تھا‘‘ مولانا اپنی دلکش مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے ’’تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا کبھی بھی نہ ہو گا! آخر دیکھیے، ہم پاکستان سے فائدہ اٹھانے والوں میں سرفہرست ہیں۔ وزارتیں ہماری! کمیٹیاں ہماری! پروٹوکول، گاڑیاں، مراعات، اسمبلیاں، سب کچھ پاکستان ہی کے طفیل ہے تو پھر اس ہستی کے ہم احسان مند کیوں نہ ہوں جس کی جدوجہد کے باعث یہ ملک وجود میں آیا۔‘‘
اس کے بعد مولانا نے ایک خصوصی پریس کانفرنس کو خطاب کیا جس میں لندن بیٹھے ہوئے اس سیاست دان کو آڑے ہاتھوں لیا جو پاکستان کے بارے میں مسلسل ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ مولانا نے بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس بیان پر احتجاج کیا جس میں انڈیا کو اشتعال دلایا گیا اور کہا گیا کہ انڈیا میں غیرت ہوتی تو پاکستان کی سرزمین پر مہاجروں کا خون نہ ہونے دیتا! مولانا نے پوچھا کہ جو انڈیا گجرات میں مسلمانوں کا خون بہاتا ہے اس سے آپ کس برتے پر مدد مانگ رہے ہیں۔ مولانا نے یہ بھی پوچھا کہ نیٹو کی فوج کو کشمیر بھیجنے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟
مگر افسوس! صد افسوس! واحسرتا! یہ سب خواب تھا۔ چار سالہ پوتے نے اخبارات کا بنڈل مجھ پر پھینکتے ہوئے کہا۔ ابو اٹھیے! اخبار پڑھیے، اسے یقینا اس کی دادی نے ایسا کرنے کو کہا ہو گا!ع خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا! کہاں مولانا اور کہاں قائداعظم کے مزار پر فاتحہ خوانی! اور لندن سے جاری ہونے والے پاکستانی دشمن بیانات کی وہ کیوں مذمت کریں، وہ تو ابھی عمران خان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مصروف ہیں اور اس کارخیر میں حکومتی پارٹی، بالواسطہ، پوری طرح نہ صرف ممدومعاون ہے بلکہ لطف اندوز بھی ہو رہی ہے۔ عام غیر معیاری زبان میں، جیسے دہلی کی کرخنداری زبان تھی، اسے چسکے لینا کہتے ہیں! اسمبلی کو بھارت نواز بیانات کی تو فکر نہیں مگر عمران خان کے لیے سبحان اللہ! کیا کوثر و تسنیم سے دُھلی ہوئی زبان استعمال ہورہی ہے۔
’’انہوں نے تحریک انصاف کے سربراہ کے بارے میں کہا کہ وہ خیرات بھی مانگتے ہیں اور غنڈہ گردی بھی کرتے ہیں۔ اس پر سپیکر نے مسکراتے ہوئے (’’مسکراتے ہوئے‘‘ پر غور فرمایئے) اعلان کیا کہ وہ لفظ غنڈہ گردی کو کارروائی سے حذف کرتے ہیں۔ اس پر مولانا نے کہا کہ بدمعاشی سے مانگتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ اس لفظ کو بھی دیکھنا پڑے گا تو انہوں نے اسی لہجے میں کہا کہ خیرات بھی مانگتے ہیں اور دہشت گردی بھی کرتے ہیں۔ اس پر ایوان کشتِ زعفران کا منظر پیش کرنے لگا اور وزیراعظم بھی قہقہہ بار ہو گئے‘‘
بغداد پر چڑھائی ہو رہی تھی تو وہاں کے فقہا کوے کی حِلت و حرمت پر بحث کر رہے تھے۔ لندن سے بھارت اور نیٹو کو پکارا جا رہا ہے اور ہمارا منتخب ایوان تحریک اِنصاف کی مشکیں کسنے میں مصروف ہے!
ایک معاصر نے حضرت مولانا کی تقریر کی روانی اور زور خطابت کو ابوالکلام کے مرتبے پر فائز قرار دیا۔ یہ الگ بات کہ خطابت کے لیے ابو الکلام آزاد کی نسبت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور شورش کاشمیری زیادہ مشہور ماڈل ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد تقریر کے میدان کے شہسوار بھی تھے لیکن اصلاً ان کی شہرت ان کی تصانیف کی وجہ سے ہے۔ ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ نکالا، پھر ’’تذکرہ‘‘ جیسی کتاب لکھی۔ تاہم ایک بات ضرور مشترک ہے۔ قیام پاکستان کی مخالفت جہاں مولانا ابوالکلام آزاد نے کی وہاں جمعیۃ العلماء ہند نے بھی کی۔ قائداعظم نے مولانا آزاد کو کانگریس کا شو بوائے کہا تھا۔ تقسیم کے بعد مولانا مرکزی حکومت ہند میں وزیر رہے مگر بھارتی مسلمانوں کے لیے کوئی قابل ذکر خدمات سرانجام نہ دے سکے۔ روزنامہ دنیا کے لیے ’’مکتوب دہلی‘‘ لکھنے والے صحافی جناب افتخار گیلانی نے گزشتہ ہفتے ایک اہم حقیقت بیان کی۔ وہ لکھتے ہیں۔ ’’بی جے پی کے ایک مسلم وزیر نے مجھے بتایا تھا کہ بھارت میں چاہے کانگریس ہو یا بی جے پی، ان کو نمائشی مسلمان عہدوں کے لیے درکار ہوتے ہیں جن کا کمیونٹی کے ساتھ دور کا بھی ربط نہ ہو اور جو اپنی کمیونٹی کے لیے پاور میں حصہ داری کے لیے کوشاں بھی نہ ہوں‘‘
شورش کاشمیری مولانا ابوالکلام آزاد کے بہت بڑے عقیدت مند اور مداح تھے۔ سالہاسال پہلے شورش کاشمیری کی مولوی حضرات سے قلمی جنگ چھڑ گئی۔ یہ جنگ معرکے کی تھی۔ ان کا ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ اس جنگ کا خاص میدان تھا۔ قبولیت کا یہ عالم تھا کہ آٹھ آنے کا پرچہ پانچ روپے میں خریدا جاتا تھا۔ اس زمانے میں ایک صاحب کو، کہ خطابت میں شہرہ پایا تھا، ابو الکلام کہا جاتا تھا۔ شورش کاشمیری نے اس پر طنز کیا اور کہا   ؎
اک وہ ابوالکلام تھا اک یہ ابوالکلام
وہ شہسوارِ علم تھا، یہ خنگِ بے لگام
کالم نگار اس وقت سکول کا طالب علم تھا۔ اس جنگ کے دوران قبولیت عامہ حاصل کرنے والے شورش کاشمیری کے کچھ دلچسپ اشعار اب بھی حافظے میں محفوظ ہیں   ؎
حاشیہ ادرک کی چٹنی کا، پھریری دال پر
قورمہ، فرنی، پلائو، کیا یہی اسلام ہے؟
نوشگفتہ کونپلوں کو خواہش اولاد پر
اپنے پہلو میں بٹھائو، کیا یہی اسلام ہے؟
بپھر گئے ہو مزاروں کی روٹیاں کھا کر
تمہارے پیٹ کمر سے لگا کے چھوڑوں گا
باعث رسوائی دینِ حنیفہ ہو گیا
مفتیٔ لاہور آوارہ لطیفہ ہو گیا
ویسے الطاف حسین کے ’’حب الوطنی‘‘ میں ڈوبے ہوئے بیانات پر صرف مولانا ہی خاموش نہیں، جنرل پرویز مشرف بھی منقار زیر پر ہیں! یوں تو وہ بھارت کے حوالے سے خوب چوکس اور چوکنے رہتے ہیں مگر مفادات اور وابستگیوں کے بندھن بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو کسی نہ کسی موقع پر، جلد یا بدیر، برہنہ ضرور کر دیتے ہیں اور عکس اپنے اصل سے جدا ہو کر رہتا ہے! جنرل پرویز مشرف کے تذکرے سے ذہن این ایل سی سکینڈل کی طرف مڑ گیا ہے۔ یہ جنرل صاحب ہی کے عہدِ ہمایونی کے سلسلے ہیں جن کے کفارے اب ادا کیے جا رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے سالہاسال سے زیر التوا اس معاملے پر دو ٹوک فیصلہ کر کے تاریخ میں اپنا نام ایک ایسے صفحے پر لکھوا لیا ہے جو تابناک ہے اور ہمیشہ تابناک رہے گا! کیا عجب یہ بارش کا پہلا قطرہ ہو!
این ایل سی کے معاملے میں منصوبہ بندی کمیشن نے ابتدائی انکوائری کے لیے اس فقیر کو مقرر کیا تھا مگر بیرون ملک پابہ رکاب ہونے کی وجہ سے معذرت کر دی تھی اور سابق وفاقی سیکرٹری جناب مرزا حامد حسین کا نام تجویز کیا تھا۔ یہ نام منظور کر لیا گیا اور ابتدائی انکوائری مرزا حامد حسن صاحب ہی کی قیادت میں ہوئی۔ یہ چھ سات سال پہلے کی بات ہے۔ نیک نام جنرل امتیاز اس وقت این ایل سی کے سربراہ تھے۔ اس ضمن میں کچھ اور بھی راز تو نہیں، واقعات ضرور ہیں۔ کچھ دلچسپ شخصیات کا تذکرہ بھی اس ضمن میں آتا ہے تاہم اس کی تفصیل زیر تالیف خود نوشت میں آئے گی کہ ایک اخباری کالم تفصیلات کا متحمل نہیں ہو سکتا!۔

مزید پڑھئے »

ابھی اُفق سلامت ہے


تو پھر کیا ہم تھک ہار کر بیٹھ جائیں؟ تو پھر کیا چراگاہ کو بھیڑیوں کے حوالے کر کے پہاڑوں کی طرف نکل جائیں؟
ہم ایک دو نہیں! ایک دو ہزار نہیں! ایک دو لاکھ نہیں! ایک دو کروڑ نہیں! ہم بیس کروڑ ہیں! جن چند سو افراد نے اس ملک پر قبضہ کر رکھا ہے وہ تو چاہتے ہی یہی ہیں! کیا یوسف رضا گیلانی نے نہیں کہا تھا کہ جو جانا چاہتا ہے چلا جائے روکتا کون ہے؟ نفرت کا یہ اظہار اس نے صرف اپنی طرف سے نہیں، اپنے پورے طبقے کی طرف سے کیا تھا۔ یہ تو چاہتے ہی یہی ہیں۔ ان کا بس چلتا تو یہ افریقہ یا عرب کا صحرا خریدتے اور بیس کروڑ لوگوں کو وہاں دھکیل دیتے تاکہ ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی نہ رہے!۔
گزشتہ کالم کے ردعمل میں، جس میں عرض کیا تھا کہ کوئی ضرور آئے گا اور سب کچھ بدل دے گا، پڑھنے والوں نے یاس کے مرجھائے ہوئے پھول بھیجے ہیں۔ بے یقینی کے پژ مردہ سندیسے! بیرون ملک سے لوگ پوچھتے ہیں کیا وہ اپنے بچوں کو اس وطن میں واپس بھیج دیں جہاں چند سو افراد کی حکمرانی ہے؟ جہاں سیاسی جماعتوں پر چند خاندانوں کی آمریت چمگادڑوں کی طرح لٹک رہی ہے! کچھ نے کرب کا اور دل برداشتگی کا اظہار یہ کہہ کر کیا ہے کہ کالم نویس اپنے آپ کو بھی فریب دے رہا ہے اور پڑھنے والوں کو بھی! کون آئے گا؛ اب تک کوئی نہیں آیا تو آئندہ ستر سالوں میں بھی یہی کچھ ہو گا!
نہیں ! ہم مایوس نہیں ہوں گے! ابھی افق سلامت ہے جس پر شفق پھولے گی! ابھی اس ملک میں اکل حلال کھانے والے، کم سہی، موجود ہیں! ابھی اس ملک میں، گنتی کے سہی، ایسے مسلمان پائے جاتے ہیں جو اسلام کو مسجد اور خانقاہ کے باہر بھی اپنے اوپر نافذ کرتے ہیں! ہم مایوس نہیں ہوں گے، اگرچہ حالات شرمناک حد تک حوصلہ شکن ہیں۔ ملک میں وہ کام ہو رہے ہیں اور دن دیہاڑے ڈنکے کی چوٹ ہو رہے ہیں جو دنیا کے کسی بھی اور ملک میں ناقابلِ تصور ہیں! پیپلز پارٹی کے مالکوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ کو ایک بار پھر دبئی طلب کیا ہے وہ کتنے پھیرے لگا چکے ہیں؟ کیا اس حاضری اور دوسری حاضریوں اور دوسرے ’’رہنمائوں‘‘ کے لاتعداد پھیروں کے سفری اخراجات یہ معززین اپنی جیبوں سے ادا کر رہے ہیں؟ کیا وہ وضاحت کریں گے؟ گمان غالب یہ ہے کہ سندھ کے اصل دارالحکومت دبئی تک کے آنے جانے کے اخراجات قومی خزانہ بھر رہا ہے جو ظلم کی انتہا ہے۔ وژن کی ’’وسعت‘‘ کا یہ عالم ہے کہ اپوزیشن لیڈر یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ وزیراعظم پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ سندھ کیوں نہیں آتے؟ یہاں یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ وزیراعظم اپنے قافلے کے ساتھ پروٹوکول کی وسیع و عریض نزاکتوں سمیت اب تک کتنی بار لاہور تشریف لے جا چکے ہیں اور اس آمدورفت پر اب تک قومی خزانہ کس قدر خرچ ہو چکا ہے؟ وسائل کے ساتھ اس سنگدلانہ سلوک میں دونوں جماعتیں، یوں لگتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہیں۔ یوں بھی جوہری اعتبار سے پاکستان پر ایک ہی گروہ حکومت کرتا چلا آ رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا اختلاف اور نام نہاد جمہوری اور غیر جمہوری ادوار کا فرق اصل میں کوئی فرق نہیں! ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کا انتخاب کیا جو مبنی برانصاف بھی نہ تھا۔ جنرل صاحب کی ژرف بیں نگاہوں نے میاں صاحب کو تلاش کیا اور منصب پر بٹھایا۔ میاں صاحب نے جنرل پرویز مشرف کو اٹھایا اور نیچے سے اوپر لے آئے۔ جنرل پرویز مشرف نے این آر او کا ڈول ڈالا اور پیپلز پارٹی کو اقتدار میں واپس لائے۔ یوں دائرہ مکمل ہو گیا۔
کیا تسلسل ہے! غالب کا تصرف شدہ شعر صادق آتا ہے   ؎  اصل میں سارے ایک ہیں۔ موت سے پہلے آدمی ’’ان‘‘ سے نجات پائے کیوں؟ ان دوچار بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ دائرے میں باقی بھی حسب توفیق شریک ہیں۔ کیا جے یو آئی! کیا ایم کیو ایم، کیا قاف لیگ، کیا ان سرکاری ملازموں کی باقیات جو اوجڑی کیمپ کے بعد اور ’’جہاد‘‘ کے بعد ارب پتی صنعتکار بن کر ابھریں اور کیا آمروں کے خاندان! ٹیلی ویژن پر سنی ہوئی پلاسٹک کے وزیراعظم شوکت عزیز کی وہ تقریر نہیں بھولتی جو انہوں نے ہزارہ کے ایک حلقے میں کی۔ مضحکہ خیز اور بے معنی تقریر تھی۔!
ہم مایوس نہیں‘ ہوں گے اس لیے بھی کہ اس ملک کو دلدل سے نکال کر پکے راستے پر لانے کے لیے بھاری مشینری کی ضرورت نہیں فقط ایک ایسے دھکے کی ضرورت ہے جس کے پیچھے دیانتدار ہاتھ ہوں۔ ہم چاند نہیں مانگ رہے، نہ ہی باغ ارم ہمارا ہدف ہے۔ اگر مچھیروں کے گندے جزیرے کو لی جیسا معمار مل سکتا ہے جس نے اسے سنگاپور بنا دیا اور ملائیشیا کو مہاتیر مل سکتا ہے تو بے لوث لیڈر شپ کا ہمارے ہاں ظہور پذیر ہونا ناممکنات میں سے نہیں! آخر بھارت میں بھی تو ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ واپس آ رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران تین لاکھ بھارتی واپس وطن آ گئے ہیں۔ ایسی پیشہ ورکمپنیا ںبن گئی ہیں جن کا کام ہی بیرون ملک رہنے والوں کے لیے ان کی خواہش اور معیار کے مطابق بھارت کے اندر ملازمتیں تلاش کرنا ہے۔ اگر ایسا بھارت میں 
ہو سکتا ہے تو پاکستان میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو کم از کم چار کام کرے اور بغیر ڈنڈی مارے، بغیر کسی استثنا کے، بغیر کسی سے رعایت برتنے کے، پورے ملک میں یکساں طور پر کرے۔ اول: ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے خواہ کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ زراعت کو صنعت کا درجہ دے کر وہ حقوق دیے جائیں جو صنعتوں کو حاصل ہیں اور اس کے بعد زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس لگایا جائے۔ دوم: بیورو کریسی کو بشمول پولیس سیاسی آلودگی سے مکمل طور پر پاک کیا جائے اور
 Tenure
 (ایک جگہ پر تعیناتی کی مدت) پر اس طرح عمل کیا جائے جیسے مسلح افواج میں ہوتا ہے۔ جس طرح ہر چند ماہ کے بعد بیورو کریسی میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کی مچلتی خواہشوں کو تسکین پہنچانے کے لیے تبادلے کیے جاتے ہیں اور جس طرح بیرون ملک تعیناتیاں چشم و ابرو کے اشاروں پر ہوتی رہی ہیں اور مسلسل ہو رہی ہیں، اس طرح تو جانوروں کے باڑے بھی نہیں چل سکتے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی حیثیت ڈاکخانے کے پوسٹ ماسٹر سے زیادہ نہیں۔ صوبوں میں اندھیر نگری چوپٹ راج سے بھی بدتر حالات ہیں! ہمیں ایسی لیڈر شپ درکار ہے جو اہل حکومت اور اہل سیاست کی مقدس تھوتھنیاں بیورو کریسی کی دیگچی سے باہر نکالے۔ سوم: پروٹوکول، محلات، گاڑیوں، ذاتی عملے کی افراط۔ ان سب کو ختم کرے اور حکمرانوں کے خاندانوں کی سرکاری خرچ پر پرورش و کفالت کا سلسلہ بند کیا جائے۔ عوام کو سڑکوں پر روکنا کہ شاہی سواری گزر رہی ہے، غلامی کی بدترین قسم ہے اور شرق اوسط میں رائج کفیل سسٹم کی طرح ہے۔ گائوں کے غریب میراسی کی ماں حج کر کے آئی تو چودھری کی ماں بھی حج کر کے واپس پہنچ گئی۔ سب لوگ 
مبارک باد دینے چودھری کی ماں کے پاس جا رہے تھے۔ میراسی کی ماں کو کسی نے گھاس نہ ڈالی۔ ایک دن آمنا سامنا ہوا تو میراسی نے چودھری صاحب سے پوچھا کہ آپ کی والدہ محترمہ کیا طواف میں اول آئی تھیں؟ تو کیا لوگوں کی نقل و حرکت روک دینے والے حکمران شاہراہوں کے لیے خصوصی ٹیکس دیتے ہیں؟ چار دن پہلے شاہی قافلے کی اجارہ داری میں خلل ڈالنے کے جرم میں ایک ریٹائرڈ ایئر کموڈور صاحب کو پکڑ لیا گیا۔ ظاہر ہے آپ خلق خدا کو شاہراہوں پر چلنے سے روک دیں گے تو اسی قسم کی ’’گستاخیاں‘‘ سرزد ہوں گی۔ چہارم: جہاں جہاں مدارس کی اجارہ داری ہے، وہاں عوام کو جدید تعلیم، کم خرچ پر مہیا کی جائے اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اقدامات تو بہت سے اور بھی ضروری ہیں مگر یہ چند اقدامات ایسے ہیں جو ہماری سمت بدل سکتے ہیں!
تاہم لازم ہے کہ عوام کا سیاسی شعور بھی بیدار ہو۔ وہ چپ رہ کر ’’گزارہ کرنے‘‘ والے رویے کو خیرباد کہیں اور اپنے حقوق کو غصب ہوتا دیکھیں تو تشدد کو اپنائے بغیر پوری قوت سے آواز بلند کریں۔ فرانس کی حالیہ مثال سے سبق سیکھنا چاہیے۔ شرق اوسط کے ایک حکمران تعطیلات گزارنے فرانس آئے تو ساحل اور رہائش گاہ کے ارد گرد کے راستے عوام کے لیے بند کر دیے گئے۔ اس پر احتجاج ہوا۔ اس قدر کہ ایک لاکھ فرانسیسی شہریوں نے احتجاجی درخواست پر دستخط کیے۔ بظاہر تو یہ کہا جا رہا ہے کہ حکمران اپنے ایک ہزار مصاحبین کو لے کر خود ہی واپس چلے گئے مگر کیا عجب کہ فرانس کی حکومت نے سفارتی زبان میں عوام کے جذبات پہنچا کر معذرت کی ہو۔ ہمارے شعور کی ’’پختگی‘‘ کا یہ عالم ہے کہ ہمارے قیمتی اور نادر پرندے سالہاسال سے غیر ملکیوں کے ذوقِ شکار کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں مگر ہم عوام احتجاج کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتے   ؎
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی
دوڑو، زمانہ چال قیامت کی چل گیا

مزید پڑھئے »

جزیرہ اور املی کے بیج

دوسری جنگ عظیم چھڑی تو وہ آٹھ سال کا تھا۔ وجہ پتہ نہیں کیا تھی لیکن ہوا یہ کہ املی کے بیج کی مانگ بڑھ گئی۔ وہ دن بھر املی کے بیج چن چن کر اکٹھے کرتا اور مسجد سٹریٹ میں واقع ایک دکان کے مالک کو بیچ آتا۔ ایک دن میں یوں وہ ایک آنہ کما لیتا۔ اُس چھوٹے سے گائوں میں‘ جو ایک جزیرے میں تھا‘ اُس نے نیوز پیپر ایجنسی والے کے ہاں مزدوری بھی کی اور اپنے بڑے بھائی کی دکان پر بیٹھ کر پیاز، تیل، چاول، سگریٹ اور بیڑی بھی بیچی۔ انجینئرنگ کالج میں داخلے کے لئے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی جو اُس کے باپ کی استطاعت سے باہر تھے۔ جس کیریئر کا خواب اس نے دیکھا تھا، وہ اس کی دسترس سے دور… بہت دور… دکھائی دے رہا تھا۔ اس نازک موڑ پر اُس کی بہن زہرا نے اس کی دستگیری کی اور اپنی سونے کی چوڑیاں اور ہار رہن رکھوا کر داخلے کی رقم کا بندوبست کیا۔ داخلہ تو ہو گیا، اس سے آگے کیا ہو گا؟ ایک ہی صورت تھی کہ اُسے سکالر شپ ملے۔ اس نے جان توڑ محنت کی اور سکالر شپ حاصل کر لیا۔ انجینئرنگ کے آخری سال کے دوران پانچ طلبہ کو ایک خصوصی پروجیکٹ دیا گیا۔ ایک جنگی طیارہ بنانا تھا۔ پانچوں نے کام آپس میں بانٹ لیا۔ اُس کے ذمے ڈیزائن کی ڈرائنگ آئی۔ ایک دن ڈیزائن کے پروفیسر نے اُس کے کام کا جائزہ لیا تو شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ پروفیسر کے خیال میں اس کی کارکردگی توقع سے کہیں کم تھی۔ اُس نے تاخیر اور کم معیار کی کئی توجیہیں پیش کیں مگر استاد متاثر نہ ہوا۔ آخرکار اس نے درخواست کی کہ اسے ایک ماہ کا وقت دیا جائے۔ پروفیسر نے اسے غور سے دیکھا اور کہا… ’’ینگ مین! یہ جمعہ کی شام ہے، میں تمہیں تین دن دیتا ہوں۔ اگر پیر کی صبح تک کام مکمل نہ ہوا تو تمہارا سکالر شپ روک دیا جائے گا۔‘‘ اُس کے اوسان خطا ہوگئے۔ سکالر شپ اس کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا تھا، لائف لائن تھا۔ اُس نے کمرِ ہمت باندھ لی۔ ڈرائنگ بورڈ پر بیٹھ گیا۔ کھانے کا وقت آیا، گزر گیا، وہ نہ اٹھا۔ دوسرے دن صبح صرف ایک گھنٹے کا وقفہ کیا۔ اتوار کا دن تھا، وہ تکمیل کے نزدیک پہنچ گیا تھا۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کمرے میں کوئی اور بھی ہو، اس نے دیکھا کہ پروفیسر صاحب کھڑے ہیں۔ وہ جم خانے سے ٹینس کھیل کر آ رہے تھے اور کھیل ہی کے لباس میں تھے۔ جو کچھ وہ کر چکا تھا اسے دیکھا تو اسے گلے سے لگا لیا اور اعتراف کیا کہ ان کے خیال میں اتنے وقت میں کام مکمل کرنا ناممکنات میں سے تھا، نہ ہی انہیں توقع تھی کہ وہ کامیاب ہو جائے گا! 
یہ کہانی عبدالکلام کی ہے، جنہیں بھارت میں ’’میزائل مین‘‘ کہا جاتا تھا۔ جولائی 2002ء میں وہ بھارت کے گیارہویں صدر منتخب ہوئے اور اس منصب پر پانچ سال رہے۔ گذشتہ ہفتے ان کا انتقال ہوا۔ 
اس میں کیا شک ہے کہ عبدالکلام کا تعلق ایک ایسے ملک سے تھا جس سے ہماری کئی جنگیں ہوئیں، ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع اُس ملک نے ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ مشرقی پاکستان کے حالات ہم نے خود خراب کئے مگر اُس سے بھارت نے ایک شاطر کھلاڑی کی طرح پورا فائدہ اٹھایا۔ عبدالکلام نے بھارت کی جارحانہ اور دفاعی قابلیت کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا اور مسلسل کئی عشرے جنگی تیاریوں کی قیادت کی۔ مگر اس کے باوجود، عبدالکلام کی زندگی میں ہمارے لئے کئی سبق ہیں۔ وہ جو عربی میں کہتے ہیں کہ غور اس پر کرو کہ کیا کہا گیا ہے، یہ نہ دیکھو کہنے والا کون ہے۔ تو آج ہم جس پاتال میں کھڑے ہیں، اُس کے پیشِ نظر یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ حریف کے پاس ایسی کون سی قوتیں ہیں جن سے ہم محروم ہیں! 
اگر برِصغیر کے نقشے کو غور سے دیکھیں تو تعجب اس بات پر ہے کہ عبدالکلام جہاں پیدا ہوئے، وہ گاؤں ایک اعتبار سے برِصغیر سے باہر ہے۔ تامل ناڈو کی ریاست بھارت کے جنوب مشرقی کونے میں آخری ریاست ہے۔ یہاں برِصغیر کی سرحد ختم ہو جاتی ہے۔ سرحد سے آگے سمندر میں تیس کلومیٹر چوڑا اور سات کلومیٹر لمبا ایک ننھا منا جزیرہ ہے جو بھارت اور سری لنکا کے درمیان واقع ہے۔ اس جزیرے میں ایک چھوٹا سا بے بضاعت گاؤں رامِش ورام عبدالکلام کی جائے پیدائش ہے۔ رامش و رام سے سری لنکا کا فاصلہ دو، اڑھائی سو کلومیٹر ہے۔ اس گاؤں کے ایک انتہائی غریب مسلمان کے بیٹے عبدالکلام نے، جس کا باپ ساری زندگی اپنے گاؤں سے باہر نہ گیا، ہزاروں کلومیٹر دور دہلی تک کا سفر جس طرح طے کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے ممکنات کی حد کوئی نہیں۔ غربت واحد رکاوٹ نہ تھی۔ کٹر ہندو معاشرے کا تعصب غربت سے بھی بڑی مصیبت تھی جو عبدالکلام کے گلے میں کانٹوں کا ہار بن کر لٹک رہی تھی۔ اس ماحول کا تصور کیجئے، گاؤں کے سکول میں عبدالکلام اپنے ہندو دوست کے ساتھ پہلی صف میں بیٹھتا تھا۔ اس کے سر پر مسلمانوں کی ٹوپی ہوتی تھی۔ ایک دن ایک نئے استاد سے برداشت نہ ہو سکا کہ اونچی ذات کے برہمن لڑکے کے ساتھ مسلمان لڑکا بیٹھے۔ اس نے عبدالکلام کو کلاس کی آخری صف میں بٹھا دیا، وہ تو عبدالکلام کی قسمت اچھی تھی کہ برہمن لڑکے کا باپ گاؤں کا کھڑپینچ تھا اور روشن خیال بھی۔ بیٹے کی شکایت پر اس نے متعصب استاد کو آڑے ہاتھوں لیا کہ چھوٹے سے گائوں میں منافرت کا زہر نہ پھیلاؤ۔ بالآخر استاد نے معذرت کی اور عبدالکلام کو اپنی نشست واپس مل گئی۔ ایک اور ہندو استاد جو بچے کی قابلیت سے حددرجہ متاثر تھا، جب اُسے کھانے کے لئے گھر لے آیا تو بیوی نے مسلمان بچے کو باورچی خانے میں داخل نہ ہونے دیا۔ یہ صورتِ حال صرف گاؤں میں نہ تھی، پورے بھارت میں تھی۔ مگر عبدالکلام کی لیاقت اور بے مثال ذہانت بھارت کی ضرورت بن گئی۔ تعصب اور تنگ نظری اس کی صلاحیتوں کی راہ میں دیوار نہ بن سکی۔ ’’میزائل مین‘‘ کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز ملا اور سیاسی جماعتوں نے اُسے متفقہ صدر کے طور پر چُنا۔ 
مگر اس سے بھی بڑا سبق ہمارے لئے اور ہمارے رہنماؤں کے لئے عبدالکلام کی وہ بے نیازی ہے جو اس نے دنیاوی مال و متاع، بینک بیلنس، جائیداد، مکان اور مال و دولت سے برتی۔ جن اٹیچی کیسوں کے ساتھ وہ بھارت کے ایوانِ صدر میں داخل ہوا، پانچ سال بعد انہی اٹیچی کیسوں کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوا، بطور سابق صدر جب اُس سے پسند کی رہائش کا پوچھا گیا تو اس کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ اس کی لائبریری کے لئے جگہ موجود ہو۔ کوئی بزنس کیا، نہ آبِ رواں کے کنارے کوئی محل بنایا۔ اس کے بھائیوں اور بہنوئی کے اس پر کئی احسانات تھے‘ مگر اُس نے اپنی بلند حیثیت میں ان کی کوئی سفارش کی نہ اُن کی ’’قسمت‘‘ بدلنے کی کوشش کی! ایک جگہ اس نے لکھا ہے… 
’’میری کہانی… زین العابدین کے بیٹے کی کہانی… زین العابدین جس نے رامش ورام کے جزیرے کی مسجد سٹریٹ والے گھر میں سو سال سے زیادہ زندگی گزاری اور وہیں داعیٔ اجل کو لبیک کہا… اُس لڑکے کی کہانی جو اپنے بھائی کے ساتھ اخبارات بیچتا تھا، اُس سائنس دان کی کہانی جس کا کئی ناکامیوں اور سختیوں نے امتحان لیا، ہاں! یہ کہانی میرے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ دنیاوی اعتبار سے میرے پاس کچھ بھی نہیں! میں نے کچھ بھی نہیں بنایا! کوئی گھر نہیں تعمیر کیا، نہ ہی میری ملکیت میں کچھ ہے!! میں تو اس سرزمین پر ایک کنواں ہوں۔ جس کی لاکھوں بچوں اور بچیوں پر نظر ہے تاکہ وہ آئیں اور جو (علم) میرے پاس ہے، اُس کے ڈول بھر بھر کر نکالیں اور دور و نزدیک ہر جگہ پہنچائیں!!‘‘ 
یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی صورت دیکھ سکتے ہیں! ہاں! اپنی صورت! جو اس قدر بگڑ چکی ہے کہ ہماری شناخت ہی خطرے میں پڑ رہی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے رہنما وہ ذہنی مریض ہیں جن کو دولت کے بے کنار انبار بھی سکون و اطمینان نہیں بخش سکتے۔ پورے کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی دولت، محلات اور پرستانوں جیسے عشرت کدوں کی ملکیت کے باوجود، حکومتی محکموں، سرکاری ملازموں کی تعیناتیوں، یہاں تک کہ عام سرکاری خرید و فروخت سے بھی اپنا حصہ مانگتے ہیں اور اس میں کوئی خجالت نہیں محسوس کرتے بلکہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں! 
عبدالکلام کی کہانی میں بھارتی مسلمانوں کے لئے بھی سبق پوشیدہ ہے۔ انہیں چاہئے کہ اپنی نئی نسل کو اوسط قسم کی کاروباری سرگرمیوں میں ڈالنے کے بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کی طرف منتقل کریں۔ چند دن پہلے دہلی کی ایک مسلمان بستی میں ٹیلی ویژن والے مختلف لوگوں کا انٹرویو لے رہے تھے۔ ایک مسلمان نوجوان رونا رو رہا تھا کہ اچھے بھلے لائق لڑکے کو آٹھویں جماعت سے اٹھا کر دکان پر بٹھا دیا جاتا ہے اور پھر وہ ساری زندگی اُسی سطح پر رہتا ہے۔ مانا ہندو تعصب بہت بڑی حقیقت ہے لیکن اگر عبدالکلام کا راستہ نہ روکا جا سکا تو غیر معمولی ذہانت اور محنت کرنے والے دوسرے مسلمان بچوں کو بھی اپنی قسمت ضرور آزمانی چاہئے۔ کھڑکی پر پردہ تان کر کرنوں کو ایک کمرے میں آنے سے روکا جا سکتا ہے مگر کرنوں پر یہ پابندی کوئی نہیں لگا سکتا کہ وہ فضا کو منور نہ کریں! کوئی نہیں! کسی کا باپ بھی نہیں! 

مزید پڑھئے »