1

امریکی جمہوریت:دھوکہ اورفراڈ

امریکا کے علمی جریدے’’پرس پیکٹوز آن پولیٹکس‘‘کے تازہ ترین شمارے میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں جو نظام اس وقت کام کر رہا ہے، اُسے جمہوری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کہنے کو یہ جمہوریت ہے، لوگ ووٹ دے کر اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرتے ہیں مگر یہ حکومت ان کی مرضی کے مطابق کام نہیں کرتی۔یہ چندبڑوں کی حکومت ہےجو اپنی مرضی اورمفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور ان کے بیشتر فیصلے بدعنوانی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت کے بیشتر معاملات میں عوام کی مرضی کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کاکردارووٹ ڈالنے اورچند ایک معاملات میں اپنی رائے دینے تک محدودہوکررہ گیاہے۔منتخب ادارے جوچاہتے ہیں،سو کرگزرتے ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ سے اندازہ ہوتاہے کہ امریکاکے بارے میں اب تک اکثریتی جمہوریت کے حوالے سے جوتصورات پائے جاتے ہیں، وہ کچھ زیادہ حقیقت پرمبنی نہیں۔امریکامیں عام ووٹر کی بات نہیں سنی جاتی۔وہ مختلف سطحوں کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعدمطمئن ہورہتاہے کہ اس نے جمہوری کرداراداکردیامگرسچ یہ ہے کہ اس نام نہادجمہوری ڈھانچے میں اس کا کوئی خاص کردارنہیں۔ امریکی جمہوریت کے حوالے سے اس نوعیت کی تحقیقی رپورٹس کم کم ہی دکھائی دی ہیں۔ بڑے کاروباری اداروں کے مفادات نے انہیں ایک پلیٹ فارم پرپہنچادیاہے جس کے نتیجے میں وہ ملک کے مجموعی مفاداور بالخصوص بہبودِعامہ کے مقصدکوایک طرف ہٹاکرصرف اپنے مفادات کواوّلیت دیتے رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عام امریکی کیلئے اداکرنے کوکوئی خاص کردارنہیں رہ گیا۔وہ صرف ووٹ دینے کی حدتک جمہوری رہ گیا ہے۔ ملک کے کسی بھی اہم فیصلے میں، پالیسی کی تیاری اور ان پر عمل کے معاملے میں عام امریکی کا کوئی کردار نہیں۔ مختلف امور کو جواز بناکر حکمراں طبقہ وہی کچھ کرتا ہے، جو اُسے کرنا ہوتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکا میں در حقیقت جمہوریت نہیں بلکہ چند بڑوں کی حکومت ہے جوہرمعاملے میں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ان کے فیصلوں کاعوام کے مجموعی مفادسے کم ہی تعلق ہوتاہے۔اس رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ امریکامیں جوکچھ بھی جمہوریت کے نام پردکھائی دے رہا ہے، وہ محض چندگروپوں کامفادہے جواپنی بقااوراستحکام کیلئے ایک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مختلف معاملات میں تحقیق کے ذریعے ثابت کیاہے کہ امریکا میں انتہائی طاقتورطبقہ بیشترمعاملات پرجوگرفت رکھتاہے وہ بھی پوری ایمانداری سے سامنے نہیں لائی جارہی۔اس حوالے سے اعدادوشماربھی درست نہیں۔ کاروباری طبقہ بیشترامورپرحاوی ہوچکاہے۔ سیاسی معاملات پران کی گرفت خاصی مستحکم ہے گوکہ اِس حوالے سے پیش کیے جانے والے اعدادوشمار گمراہ کن ہوتے ہیں۔

۹اپریل۲۰۱۴ءکو’’ٹیسٹنگ تھیوریزآف امریکن پولیٹکس‘‘کے عنوان پرپرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسرمارٹن گلیزاورنارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر

بنجمن آئی پیج نے۴۲صفحات پرمشتمل اپنے ایک تحقیقی مقالے میں موجودہ امریکی جمہوریت کاپول کھول کررکھ دیاہے۔ان دونوں ماہرین نے لکھا ہے کہ امریکا میں اب بیشتر معاملات انتہائی مالدار لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ ہر معاملے میں وہی طریق کاراختیار کرتے ہیں،جواُن کے تمام مفادات کوہرطرح سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے کافی ہوتاہے۔ان ماہرین نے اپنے مضمون میں کھل کراعتراف کیاہے کہ انہوں نے انتہائی طاقتورافراداوراداروں کے بارے میں جو کچھ بھی بیان کیاہے،وہ اعداد وشماراورحقائق کی روشنی میں اگرچہ بہت متاثر کن دکھائی دیتاہے اوراس سے یہ بھی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ طبقہ کس حدتک طاقتورہے مگرپھربھی حقیقت یہ ہے کہ سیاسی امورسمیت تمام معاملات میں ان کے حقیقی اختیاراوراثرکادرست ترین اندازہ کوئی بھی نہیں لگاسکتا۔1

امریکی جمہوریت واقعی جمہوریت ہے بھی یانہیں،اِس موضوع پریہ اپنی نوعیت کی پہلی جامع تحقیق ہے۔ بہت سے ماہرین کی طرح بنجامن پیج اور مارٹن جلینز نے لکھاہے کہ اب تک یہی دعویٰ کیاجارہاہے کہ امریکامیں جمہوریت ہے اور یہ کہ جمہوری سیٹ اپ چند بڑوں کی بدعنوانی پرمبنی اجارہ داری کے خلاف کار فرمارہاہے مگر۱۷۷۹/پالیسی ایشوزکاعمیق جائزہ لینے کے بعدیہ اندازہ لگاناکچھ دشوارنہیں کہ امریکا میں جمہوری سیٹ اپ اب تک توچند بڑوں ہی کے مفادات کانگران ومحافظ رہا ہے۔ جولوگ جمہوری سیٹ اپ کوچلانے کے دعویدارہیں، وہ بہت سے معاملات میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کابہبودِعامہ سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوتا۔ مختلف معاملات میں اعدادوشمارکاعمیق جائزہ لینے کے بعدمارٹن جلینزاوربنجامن پیج اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ امریکامیں دکھائی دینے والی جمہوریت درحقیقت جمہوریت نہیں بلکہ چند بڑوں کی حکومت یااجارہ داری ہے جوہرمعاملے میں اپنی مرضی کودیگرتمام امورپرمقدم رکھتے ہیں۔یہ چندبدعنوان ملک کے بیشتر امورپرقابض ومتصرف ہیں۔ میڈیاکوانہوں نے اپنے کنٹرول میں کررکھاہے۔ منتخب اداروں میں بھی انہی کی اجارہ داری ہے۔عام طورپر روس کے بارے میں یہ خیال کیاجاتاہے کہ وہاں چندبڑوں کی حکومت ہے،جوہرمعاملے میں بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں اوراپنی مرضی کے مطابق ملک کوچلاتے ہیں۔ اگربغور جائزہ لیا جائےتوامریکا،روس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ چند بڑوں نے ہرچیز پراپناتسلط قائم کررکھاہے۔ شخصی آزادی کاتصورمحض فریبِ نظرہے۔ ملک کے تمام اہم امورمیں حتمی فیصلہ انہی کاہوتاہے،جوتمام معاملات پرقابض ومتصرف ہیں۔

اس چشم کشارپورٹ کے بعدجمہوریت کے ان دعویداروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جودن رات اس طاغوتی نظام کی حمائت میں قلابے ملاکرقوم وملت کوایک سنہری جال میں پھانسنے کے جرم میں شریک ہیں۔آج مارکیٹ میں موجودایک چھوٹی سی ایجادکے بارے میں اس کے موجدکی جانب سے ایک واضح ہدائت نامہ موجودہوتا ہے جس میں اس کےاستعمال کے بارے میں اس تمام عمل سے

خبرداربھی کیاہوتاہے جس کی بناء پریہ ایجادآپ کونقصان یاضررپہنچاسکتی ہے یا موجودپراڈکٹ کی گارنٹی ختم ہوجاتی ہے،پھریہ کس طرح ممکن ہے کہ میرا رب جوزمین وآسمان کے ہر ذرّے کاخالق ہے اورجس کی سب سے بہترین تخلیق ”انسان”ہے،اس کیلئے اس نے انفرادی اوراجتماعی اعمال کے استعمال کاکوئی طریقہ یااصول وضع نہ کئے ہوں؟میرے رب نے دنیاکے ہرخطے میں اپنے ہادی کے ساتھ الہامی کتب کی شکلوں میں ہدائت نامے بھی نازل فرمائے اورتاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے اپنے رب کی طرف سے مبعوث کئے گئے ہادی کاساتھ دیا، وہ دنیاوآخرت کی فلاح پاگئے اورجنہوں نے اپنے بنائے قوانین کوفوقیت دی وہ دنیامیں بھی رسواہوئے اورآخرت میں بھی ان کاٹھکاناجہنم بتایاگیاہے۔میرے رب نے اپنے آخری نبیۖ کواسی لئے رحمت العالمین بناکرمبعوث فرمایاکہ ان کے ذریعے ساری انسانیت کیلئے دنیاوآخرت کی فلاح کیلئے ”قرآن حکیم” نازل فرمایا اوراسی میں صرف ہرانسان کی بقاء محفوظ ہےاورمیرے نبی ۖکے یوم ولادت کا سب سے بڑاپیغام یہی ہے کہ اس معجزاتی ریاست میں صرف اورصرف اللہ کاقانون یعنی مکمل قرآن نافذہو۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>