بھارتی ٹائی ٹینک ڈبونے کیلئے امریکی دوستی ہی کافی ہے…..آخری قسط

ایشیا و بحرالکاہل کے خطے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام اور تجزیہ کار ٹرمپ کی متلون مزاجی سے پریشان ہیں۔چھ اپریل ۲۰۱۷ء میں ٹرمپ نے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد انہیں سراہا تھا۔ بہت سے تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ امریکا کا کوئی بھی فیصلہ چین سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا۔ ایشیا سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ فوجی افسر کا کہنا ہے کہ” ہمیں جیمز میٹس اور یو ایس پیسفک کمانڈر ہیری ہیرس پر پورا بھروسہ ہے مگر اعلیٰ ترین سطح پر اس معاملے میں اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ ہمارے خوف کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ چین کے سامنے اگر کوئی سرخ لکیر کھینچ سکتا ہے تو وہ صرف امریکا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ امریکی قیادت معاملات میں خاطر خواہ دلچسپی لیتی دکھائی نہیں دے رہی”۔ امریکا چین کے ایک ٹریلین ڈالرکامقروض ہے جس کی بازیابی کیلئے چین مختلف ذرائع کوبروئے کارلارہاہے جبکہ ٹرمپ چین کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی ناکام کوششوں اورسازشوں میں مصروف ہیں۔

امریکا کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا، یہ کچھ کھلتا نہیں، معاملات تذبذب اور اسرار کے پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ملائیشیا کے وزیر دفاع ہشام الدین حسین کہتے ہیں کہ ایشیا اب تک یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس خطے کے لیے ٹرمپ کی پالیسی کیا ہے؟ہم بالکل واضح طور پر جاننا چاہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کیا چاہتی ہے، اس کے عزائم کیا ہیں؟سنگاپور کے وزیر اعظم نیگ اینگ ہین کہتے ہیں کہ پارٹنرز کے درمیان اشتراکِ عمل بڑھتا جارہا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ انہوں نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے خیالات کا بھی خیرمقدم کیا۔ ایک پریس کانفرنس میں نیگ اینگ ہین نے کہا کہ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق پالیسیوں میں تبدیلیاں لاتا ہے اور ایسا کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اس بات کو کسی حالت میں پسند نہیں کرتا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے ہاتھوں کسی الجھن سے دوچار ہو۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، ملائیشیا اور سنگاپور مل کر عسکری اتحاد تشکیل دینے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پانچ ملکی دفاعی اتحاد آگے چل کر وسیع البنیاد عسکری اتحاد میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ پانچوں نے طے کیا ہےModi47 کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور بحری حدود کے مؤثر دفاع کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے سے دیگر بہت سے معاملات میں بھی تعاون کریں گے۔ علاقائی سلامتی سے متعلق امور کے ایک ماہر ٹیم ہکسلے نے ایک اخباری مضمون میں لکھا ہے کہ ان پانچوں ممالک کو تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور طاقت کے توازن کی تبدیلی کے دور میں اپنی آپریشنل صلاحیتیں بڑھانا ہیں۔ اس کیلئے اشتراکِ عمل ناگزیر ہے۔ ایک طرف چین مالی اعتبار سے انتہائی مستحکم اور اپنی بات منوانے کے حوالے سے خاصا جارح مزاج ہوتا جارہا ہے اور دوسری طرف امریکا ٹرمپ کی صدارت کے ہاتھوں غیر یقینی حالات کے جال میں پھنستا جارہا ہے۔ ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کے بیشتر ممالک شدید غیر یقینیت کا شکار ہیں۔ وہ اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے امریکا یا یورپ کی طرف دیکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ امریکی قیادت اس وقت تذبذب کا شکار ہے۔ ایسے میں کوئی بھی اونچ نیچ ہوگئی تو پورا خطہ عدم توازن کی نذر ہو جائے گا۔ ایسے میں بہترین آپشن یہی ہے کہ عسکری سطح پر اپنی آپریشن صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے اور پارٹنرشپ کے ذریعے علاقائی ممالک سے تعاون کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

بھارت نے شینگری لا فورم میں اپنا کوئی وفد نہیں بھیجا مگر وہ اس خطے میں اپنی موجودگی ثابت کرنے کے حوالے سے غیر معمولی حد تک فعال رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بحر ہند کے خطے میں اس کے مفادات کسی بھی سطح پر، کسی بھی حال میں متاثر نہ ہوں۔ اس نے مئی میں سنگاپور کے ساتھ بحری مشقیں کیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ویت نام سے عسکری سطح کے تعلقات کو وسعت دینے کیلئے بھی بے تاب ہے۔ گزشتہ ماہ سنگاپور میں منعقدہ انٹر نیشنل میری ٹائم ڈیفنس ایگزیبیشن میں متعدد بھارتی کمپنیوں نے بھی حصہ لیا۔ ان میں سے چند ایک کمپنیاں کم فاصلے تک مار کرنے والےمیزائل بھی تیار کرتی ہیں۔

بھارت نے گزشتہ ماہ امریکا اور جاپان کے ساتھ مالابار فوجی مشقوں میں حصہ لینے کی آسٹریلوی دعوت مسترد کردی تھی کیونکہ وہ فی الحال چین کو ناراض کرنے کے موڈ میں نہیںتھا۔ چین نے بھارت کو واضح انتباہ کر رکھا ہے کہ اسے بحری مشقوں اور ہتھیاروں کی نمائش کے حوالے سے چند حدود و قیود کا خیال رکھنا ہوگامگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بھارتی قیادت چین کے خوف سے بین الریاستی معاہدوں کو نظر انداز کردے گا۔ بھارت کے آسٹریلیا، سنگاپور اور ویت نام سے دو طرفہ دفاعی معاہدے ہیں جن کی حدود میں رہتے ہوئے دفاعی اشتراکِ عمل بڑھتا جائے گا اور یوں یہ تمام ممالک ایک پیج پر آتے جائیں گے لیکن تمام تدابیرکے باوجودمودی کے حا لیہ امریکی دورے کے بعدبھارتی فوج نے اچانک سکم کے ڈوکلام علاقے میں ایک سڑک کی تعمیرپر سرحدی جھڑپ میں چین کے ہاتھوں جوبری طرح شرمناک ہزیمت اٹھانی پڑی ہے  وہ جہاں امریکاکیلئے ایک انتباہ ہے وہاں یقیناًبھارتی ٹائی ٹینک ڈبونے کیلئے امریکی دوستی ہی کافی ہے ۔آئندہ بھارت اپنے مربی امریکاکوخوش کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا!

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>