China Kick Modi....

مودی سرکارکی ایک اورپسپائی(آخری قسط)

اس وقت امریکاسمیت کسی بھی ملک سے چین کی جنگ کا بظاہرکوئی امکان نہیں۔تائیوان کے معاملے میں چین مجموعی طورپرامن پسندرہاہے۔ تائیوان کی قیادت سے معاملات طے کرنے کی کوششیں طاقت کے استعمال سے دورلے گئی ہیں۔ امریکا نے جب بیجنگ کو چین کادارالحکومت تسلیم کرلیااوراس حوالے سے تائپے کی حمایت ترک کردی تب چین نے بھی تائیوان کوطاقت کے ذریعہ اپنے میں ضم کرنے کاارادہ ترک کر دیااورباضابطہ اعلان کیاکہ وہ تائیوان کوپرامن طریقے سے اپناحصہ بنائے گا۔

تائیوان ہویاکوئی اورملک،کسی بھی تنازع میں چین نے یہ واضح کرنے میں کوئی کسراٹھانہیں رکھی کہ وہ طاقت کے استعمال کواوّلین ترجیح نہیں دیتا اوراس کی کوشش ہوتی ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے طے کرلیے جائیں۔ چینی قیادت ایک طرف تودنیاکویہ بتاتی ہے کہ چین بے انتہاطاقتورہے اور کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتا ہے اوردوسری طرف وہ اس بات کوبھی واضح کرتی ہے کہ چین طاقت اسی وقت استعمال کرتاہے جب ایساکرنا ناگزیرہو۔اپنی بڑھتی ہوئی قوت کو ذہن نشین رکھتے ہوئے چینی قیادت اس وقت کاانتظارکرنے کوترجیح دیتی ہے، جب فریق ثانی خوداپنے مطالبات سے دستبردارہوجائے اورچین سے معاملات کو طے کرنے میں دلچسپی لے۔

ریکارڈاورمشاہدے سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ چین محدودمقاصد،محدود وسائل اورمحدودمساعی کے ساتھ کام کرنے کاعادی ہے۔ وہ کسی بھی بہتر موقع پراچھی طرح،طویل مدت تک انتظارکرتاہے اورجب موقع ہاتھ آتاہے تب وہ اُس سے مستفید ہونے میں ذرابھی دیرنہیں لگاتا۔ماہرین کہتے ہیں کہ چین نے کبھی کسی بھی موقع سے ضرورت اورگنجائش سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ چینی قیادت مشن کی تکمیل کے حوالے سے کھلواڑکی عادی نہیں۔اگر ایک انچ دیا جائے تواس بات کاامکان معدوم ہے کہ چینی قیادت ایک میل کیلئےتگ ودوکرے گی لیکن ان دنوں چین اوربھارت کی دوہزارمیل طویل مشترکہ سرحدجوکہ شمال مغرب میں جاکرپتلی سی راہداری کی صورت اختیارکرلیتی ہے اوریہ راہداری ایٹمی طاقت کے حامل دو پڑوسی ممالک کے درمیان تنازع کی وجہ بن گئی تھی۔

۱۶جون۲۰۱۷ءکو چینی فوجیوں نے ڈوکلام کے مقام پرسڑک کووسعت دینے کیلئےکام شروع کیا،یہ وہ متنازع جگہ ہے جس پر بھوٹان اورچین دونوں دعوی کرتے ہیں (یاد رہے بھارت کا اس سے کوئی تعلق نہیں)۔جب کام شروع ہواتو بھوٹان نے بھارت سے اس کی تعمیررکوانے کیلئے مدد مانگی۔جب نئی دہلی نے اپنی فوج بھیجی توبیجنگ نے اس مداخلت کوسختی سے مستردکردیااوراس کے بعددونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ میں بیانات کی ایک جنگ شروع ہوگئی۔گزشتہ ہفتے چین نے سرحد سے ملحقہ علاقے میں جنگی مشقیں بھی کیں جن میں اصلی اسلحہ و بارود استعمال کیا گیا۔China Kick Modi....

دونوں ممالک کی طرف سے فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک ماہ تک جا ری رہا اور بالآخر٣/اگست کوچین کی وزاتِ خارجہ نے بھارت کی اس حرکت کو غیرذمہ دارانہ اورجارحیت سے بھرپورقراردیکرمتنبہ کیا۔ اس کے ایک ہی دن بعد چینی وزارت دفاع کے ترجمان”جنرل ووقیان”نے پریس کانفرنس میں بھارت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا”کہ قومی سلامتی اورخودمختاری کے تحفظ کیلئےچین کاعزم غیر متزلزل ہے، بھارت حالات ہمیشہ اپنے حق میں سازگاررہنے کے مفروضے پر رسک لینے اور خیالی دنیا میں رہنے سے گریز کرے”۔

بھارت ڈوکلام پرتوکوئی دعویٰ نہیں کرتالیکن یہ مقام”سلی گوری” راہداری سے متصل ہےجو ریاست سکم کے پاس سے گزرتی ہے،یہ ریاست بھارت کی سات انتہائی شمال مغربی ریاستوں کومرکزی بھارت سے ملاتی ہے ۔انہی میں سے ایک ریاست اروناچل پردیش بھی ہے جوکہ رقبے کے لحاظ سے مغربی کیرولینا جتنی ہے،فی الحال تواس ریاست کاکنٹرول بھارت کے پاس ہے لیکن چین اس کی ملکیت کادعویٰ کرتا ہے۔ یہ علاقہ تزویراتی طورپر بھارت کیلئےبہت اہم ہے اور بھارت کوڈرہے کہ چین اس علاقہ پر قبضہ نہ کرلے لیکن زمینی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ چین ہمیشہ ایک لمبی اورصبرآزما پالیسیوں کے تحت بالآخراپنی منزل کوحاصل کرکے رہتاہے۔

چین اوربھارت ایک سرحدی جنگ لڑچکے ہیں، اس کے باوجودان دونوں ممالک کے درمیان تنازعات حل نہیں ہوئے۔اروناچل پردیش کے علاوہ سیاچن، اکسائی چن اورDepsang Plainsبھی متنازع علاقوں میں شامل ہیں لیکن اس مرتبہ چین نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پربیٹھ کرڈوکلام کاتنازعہ کوختم کرنے کیلئے اپنی دوٹوک پالیسی کے تحت بھارت کوڈوکلام سے فوج نکالنے پرمجبورکردیا۔ بظاہرمودی سرکارنے اپنی عوام کے سامنے یہ کہہ کر ”دونوں ملکوں نے باہمی اتفاق سے اپنی فوجیں واپس بلالیں ہیں”اپنی شرمندگی کوچھپانے کی کوشش کی لیکن حقیقت کوزیادہ دیرتک نہیں چھپایا جاسکتاکیونکہ چین کی فوج بھارت کے سینے پرمونگ دلنے کیلئےاب مستقل طورپروہاں موجودرہے گی۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>