Modi47

سانس بندکرکے رہے گا

اقوام متحدہ کی تاریخ میں شائدیہ پہلااورمنفردواقعہ تھاکہ یکم دسمبر۲۰۱۶ء کوجنرل اسمبلی میں اقوام عالم کے نمائندوں کے سامنے کھڑے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے ندامت سے سر جھکائے ہیٹی کی حکومت اوراس کے عوام سے باقاعدہ معافی مانگی لیکن یہ واقعہ کیوں اورکیونکرہوا؟اس سوال کا جواب جاننا مختلف حوالوں سے بے حدضروری ہے۔یہ سن کریقیناً ہم سب انگشت بدنداں رہ جائیں گے کہ اس واقعے کی تمام ذمہ داری بھارتی ہندوماتاسرکارپرعائدہوتی ہے۔ بالواسطہ ذمہ داری کہاجا سکتاہے مگرذمہ داری بالواسطہ یابلاواسطہ بہرحال ذمہ داری ہے جس کااحساس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ایسے منصب پرفائز شخصیت کونہیں ہوگاتوکس کو ہوگا ؟
۲۰۱۰ء میں ہیٹی میں ہیضے کی وباء پھیل گئی اوردنوں میں دس ہزارسے زائد افرادکونگل گئی۔ایسے دردناک مناظرجس کو دیکھ کراقوام عالم کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں اورجسم پرلرزہ طاری ہوگیا۔سوکھی ہڈیوں اورلاچارجسموں کے حامل ہیٹی کے باشندے گلیوں،بازاروں اورسڑکوں پرلاشوں کی طرح بکھرے غم واندوہ کے ساتھ ساتھ عبرت کی علامت بنے سب نے دیکھے۔ہیٹی کی حکومت نے اپنے دس ہزارسے زائداہل وطن کی اموات کا ذمہ داراقوام متحدہ کوقراردیا۔ اس حکومت کاکہناتھاکہ عالمی ادارے کی غفلت ان وسیع ہلاکتوں کاسبب بنی ہے۔ ہیٹی میں ہیضے کی وباءکی تشخیص،تفتیش اور تحقیق کی گئی توپتہ چلاانہی دنوں بھارتی ریاست کیرالہ میں یہی وباءان گنت اموات کاباعث بنی تھی۔۲۰۱۰ء میں جوامن مشن ہیٹی پہنچاوہ اس بھارتی فوجی دست پرمشتمل تھاجوکیرالہ سے آیاتھا اوراس وقت بھارتی فوجیوں کیلئے جوویکسی نیشن سرٹیفکیٹس دیئے گئے وہ تمام جعلی تھے۔بانکی مون نے اس”ہلاکت خیزسہو”پرجنرل اسمبلی میں اقوام عالم کے سامنے ہیٹی کی حکومت سے معافی مانگی۔
اقوام متحدہ کے امن مشن کی طرف سے بھارت سے باقاعدہ احتجاج کیاگیا۔عالمی ادارہ اوردیگررکن ممالک کےعلم میں لاچکاہے لیکن اصل توجہ طلب حقیقت یہ ہے کہ جب وزارتِ دفاع (جسے وزارتِ جنگ کہنازیادہ موزوں ترہوگا)سے ان جعلی سرٹیفکیٹس کے بارے میں پوچھاگیاتواس کے پاس اس کے سواکوئی جواب نہیں تھا:انکوائری کے بعدہی کچھ بتایا جاسکے گااورطویل عرصے سے جو انکوائری ہورہی ہے وہ عذرگناہ بدترازگناہ سے بھی بدتر قرارپاتی ہے۔اب تک مودی سرکار کی وزارتِ داخلہ اوروزارتِ دفاع ایک دوسرے کواس شرمناک فعل کی ذمہ دارقراردینے کے مقابلے میں مصروف ہیں۔معاملے کوطول دیاجارہاہے جس سے عالمی سطح پربھارت کی روسیاہی میں اضافہ ہورہاہے اورنادان بھارتی حکمران نہیں جانتے کہ ایک نہ ایک دن دس ہزارسے زائدانمول جانوں کے اتلاف کارازتوکھل کرہی رہے گا،اس وقت بھارتی حکمرانوں کوکس جگہ منہ چھپائے بنے گی؟
نریندرمودی اپنے مخالفین کوٹھکانے لگانے کیلئے برسوں سے جعلسازی کو بطورہتھیاراستعمال کرتاچلاآرہاہے۔جب گجرات میں اس نے مسلم کشی کی بہیمانہ مثالیں قائم کیں تواپنے تئیں طاقتورنیتابن بیٹھااورخودکواپنی جماعت ہی میں موجود اپنے مخالفین سے ٹکرلینے کااہل سمجھنے لگا۔اس کے مخالفین میں سنجے، جوشی،ہربن پانڈے اورگردھان زادفیانمایا ں تھے ۔ مودی کی حکومت میں بطوروزیر خزانہ کام کرنے والے ہرین پانڈے کو۲۰۰۳ء میں قتل کردیاگیا۔اس قتل کے اسرار سے آج تک پردہ نہیں اٹھ سکا۔سنجے جوشی بی جے پی کاجنرل سیکرٹری تھا۔اس کے خلاف جعلسازی پرمبنی ایک سازش تیارکی گئی، برہنہ عورتوں کے ساتھ اس کی تصاویربنائی گئیں جنہیں عام کیاگیاتواسے مستعفی ہوناپڑا۔بعدمیں میڈیاکی تحقیق کے نتیجے میں یہ تصاویرجعلی ثابت ہوگئیں۔
جب نریندرمودی گجرات کے وزیراعلیٰ کے دوران میں بی جے پی کواپنی راہ سے ہٹانے میں ”کامیاب” ہوگیاتوگجرات کی پولیس میں شامل مسلمانوں کوختم کرنے میں لگ گیا۔ مسلمان پولیس اہلکاروں کوجعلی مقابلوں میں شہیدکراتارہا۔ بعد ازاں یہ مسلمان دہشتگردآئی ایس آئی اورلشکرطیبہ کے ایجنٹ قرارپائے۔مودی اوراس کے چیلے چپاٹے اپنی جعل سازی کواستحکام اوردوام بخشنے کے منصوبوں میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی جعل سازی شایدمودی کارناموں میں سرفہرست قرارپاتی ہے۔ بھارت میں حال ہی میں ۶۸ویں یوم جمہوریہ کی پریڈکااہتمام کیاگیا، مہمان خصوصی کااعزازنریندر مودی کوعطاہوا،بعدمیں عقدہ کھلاکہ یہ ناٹک بھی ہلاکت آفرین جعلسازی کواصلی ثابت کرنے کی ایک کاوش تھی۔
بھارتی سیناکی پریڈختم ہوئی توپاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کا ”کارنامہ”انجام دینے والی بھارتی فوج کے بہادر سپوتوں میں اعزازات اوراسناد تقسیم کرکے یہ ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی کہ ان کامذکورہ ڈرامہ جعلی نہیں عین اصلی تھی۔حاضرین پر بھارتی فوج کے بہادرسولجرکا رعب بٹھاتے ہوئے کہاگیا”یہ ہیں ہمارے فوجی جنہوں نے لائن آف کنٹرول پرپاکستان کے خلاف کامیاب سرجیکل اسٹرائیک میں حصہ لیاتھا۔ خود بھارتی میڈیامیں یہ رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں کہ نریندرمودی جب اپنی سیناکے جوانوں میں اسناد تقسیم کررہے تھے تواس تقریب میں شریک بیرونی ملکوں کے سفارتی نمائندے سرگوشیاں کررہے تھےجن کے چہروں پربڑی معنی خیزمسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی جیسے زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں کہ مودی شایدبھول گئے ہیں کہ اس فوج کے”سورما”غیرمبہم اندازمیں اپنی بھوک اورفاقہ کشی کے حقائق بیان کرنے کی پاداش میں ان دنوں فریب کاراورجعل سازحکمرانوں کے عقوبت خانوں میں اپنے انجام کوپہنچ رہے ہیں۔
گزشہ دنوں بھارتی گجرات میں مسلمانوں پرمودی بہیمانہ ظلم وستم کی سولہویں برسی بھی منائی گئی۔باقاعدہ تقریب کا اہتمام توشائدممکن نہیں تھا،بھارتی میڈیاپر بھی خاموشی طاری رہی تاہم سوشل میڈیاپرعدالت کے تعصب پرمبنی فیصلے کو شدیدتنقیدکانشانہ بناتے رہے۔بھارتی عدالت کاسولہ سال بعدسنایاجانے والاشرمناک انصاف مودی سرکارکی ذلتوں میں مزید اضافہ کرتارہا۔اس انصاف کی روسے بھارتی عدالت نے چارہزارسے زائدمسلمانوں کوبیدردی سے موت کے گھاٹ اتارنے اورزندہ جلاڈالنے والے ۲۸جنونی ہندوؤں کوعدم ثبوت کی بناءپررہاکردیا۔ ہندوغنڈہ تنظیم کے رہنماءگووندپٹیل نے ۲۷ساتھیوں سمیت ۲۸فروری ۲۰۰۲ءکو ضلع گاندھی نگرکے تعلقہ کلول میں مسلمانوں کی آبادی پردھاوابول کر ۵۴ مسلمانوں کوبیدردی سے قتل کیااوربہت سے مسلمانوں کوتیل چھڑک کرزندہ جلا ڈالاتھا۔یہ واقعہ گودھرا ریلوے اسٹیشن پراس وقت کے وزیراعلیٰ گجرات نریندر مودی کی ایماء پرٹرین جلانے اور۵۰ہندوسادھوؤں کی ہلاکت کے ردّ ِ عمل میں اگلے روزپیش آیا۔
گووندپٹیل اوراس کے۲۷شرکائے جرم کے خلاف سولہ سال سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں مقدمہ چل رہاتھا جس کابعدازخرابی بسیار اب فیصلہ آیاہے۔یہ خصوصی عدالت بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت قائم کی گئی ۔جج پی بی ڈیسائی نے مودی سرکاراورہندوؤں کی انتہاء پسندتنظیموں کے دباؤپر۳۶ خطرناک قاتلوں کوبے گناہ قراردیتے ہوئے انہیں رہاکرنے کاحکم صادرکیااور۲۴ ملزموں کومجرم قراردیا۔جج نے سرکاری وکیل کے مطالبے اورمسلمانوں کوزندہ جلائے جانے کے باوجود۲۴قرارواقعی ملزمان کوقرارواقعی سزادینے سے انکار کردیااوراپنے حیرت انگیزفیصلے میں لکھاہے: اس کیس کے۹۰٪ملزم ضمانتوں پر رہائی پاچکے ہیں،طویل عرصے سے ان کاکوئی مجرمانہ ریکارڈسامنے نہیں آیا اس لئے انہیں عادی مجرموں کی سزانہیں دی جاسکتی۔اسی عدالتی فیصلے کے تحت جن مجرموں کوعمرقیدسنائی گئی ان میں کیلاش دھوبی، یوگندرشیخاوت، دنیش مشر،دلیپ پرامار،سندیپ پنجابی،وشواہندوپریشدکاسرخیل اتول ویداور کانگرس کاسابق کونسلرمیگھ جی شامل ہیں۔ان مجرموں کی عمرقیدمودی سرکار چاہے توکم یاختم بھی کرسکتی ہے اوراہم ذرائع یہ کہہ رہےہیں کہ ان سب کو مختلف جیلوں میں رکھ کروہاں سے ایک ایک کرکے خاموشی سے چھوڑدیا جائے گا۔
احسان جعفری صاحب کی بیگم ذکیہ جعفری نے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے موقع پرایک کوٹھڑی میں چھپ کرجان بچائی تھی لیکن ان کے خاندان پرجو قیامت ٹوٹی تھی اس نے انہیں طویل عرصہ تک نیم پاگل حالت میں رکھا۔وہ رفتہ رفتہ صدمے سے نکلیں اورحواس بحال کرنے میں کامیاب ہوئیں۔انہوں نے عزم کیاکہ نریندرمودی اوردیگرانتہاء پسند لیڈروں کے خلاف ایف آئی آرکٹوائیں گی لیکن کس تھانیدارمیں ہمت تھی کہ وہ مودی کے خلاف پرچہ کاٹتا کیونکہ ہر تھانیدارکواپنی جان عزیز تھی۔تب ذکیہ جعفری بھارتی سپریم کورٹ پہنچ گئیں اوربالآخرجون۲۰۰۶ء میں مودی اوردیگر انتہاء پسندوں کے خلاف احمدآباد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آردرج کرانے میں کامیاب ہوگئیں مگرتوقع کے عین مطابق گجرات پولیس مودی کی باندی ثابت ہوئی ۔اس کے ہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والامعاملہ تھا۔تفتیش چیونٹی کی چال کی طرح آگے بڑھی،ذکیہ جعفری نے پھرسے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایا۔مارچ۲۰۰۸ء میں کورٹ نے چھان بین کرنے کیلئے ایک خصوصی ٹیم ایس آئی ٹی(سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم) تشکیل دے دی لیکن انصاف دینے میں بھارتی عدالت عظمیٰ بھی ڈنڈی مارگئی۔Modi47
ہوایہ کہ اس نے خفیہ ایجنسی سی بی آئی(سنٹرل بیوریوانویسٹی گیشن) کے سابق سربراہ آرکے رگھوان کوایس آئی ٹی کاسربراہ بناکراسے تمام اختیارات دے دیئے۔یہ شخص متنازعہ ریکارڈ کا حامل تھالہندابھارت سرکارکی ایک اوربڑی جعل سازی سامنے آگئی ۔۱۹۸۴ء میں اس کی سربراہی میں پولیس وخفیہ ادارے وزیراعظم راجیو گاندھی کی سیکورٹی پرمامورتھے مگروہ اپنے فرائض بجالانے میں ناکام رہے اورایک تامل خودکش خاتون نے راجیوکوبم دہماکے میں اڑادیا۔بعد ازاں حکومت نے اس واقعے کی تحقیق کیلئے”ورماکمیشن”بنایا۔کمیشن کو تحقیقات سے پتہ چلاکہ آرکے رگھوان نے سیکورٹی انتظامات میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔الزام ثابت ہونے پر ازروئے قانون آرکے رگھوان کوبرطرف کرنا چاہئے تھا لیکن کمیشن نے اس سے رعائت برتی اوروہ بدستوراپنے سرکاری عہدے پرکام کرتارہا۔
رگھوان ہندوقوم پرستی کیلئے نرم گوشہ رکھتاتھااسی لئے ۱۹۹۹ء میں بی جے پی برسراقتدارآئی تواسے سی بی آئی کاچیف بنادیاگیا۔حیرت یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے تفتیشی ٹیم کا سربراہ ایسے سرکااری افسرکوبنایاجوقاتلوں سے قربت رکھتاتھا اوریہ شناسائی رنگ لائی۔ایس آئی ٹی نے ذکیہ جعفری کیس کے سلسلے میں اپریل ۲۰۱۰ء اورفروری ۲۰۱۲ء میں دو رپورٹیں پیش کیں جن میں مودی کوبے گناہ قراردیاگیا۔ایک رپورٹ راجورام نامی تفتیشی افسر نے مرتب کی جس کیلئے وہ دوماہ گجرات میں مقیم رہا۔اس دوران اس نے سرکاری افسروں اور گواہوں سے ملاقاتیں کیں اورجولائی میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔اس رپورٹ میں قرار دیاگیاکہ اس امرکے ثبوت موجودہیں کہ نریندرمودی نے مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ لیاچنانچہ ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے مگرسپریم کورٹ نے دوبارانصاف کاخون کرتے ہوئے اس رپورٹ کودرخور اعتناء نہیں سمجھا بلکہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کوسچ جانتے ہوئے فروری ۲۰۱۲ء میں عدالت نے مودی کوبے گناہ قراردے ڈالا۔
یہ خبرذکیہ جعفری پربجلی بن کرگری۔احمدآبادمیں بچہ بچہ جانتاہے کہ مودی نے ہندوغنڈوں کوہلاشیری دی تاکہ وہ مسلمانوں پرخونخواربھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑیں۔ اپریل ۲۰۱۳ء میں ذکیہ جعفری نے (قانون کے مطابق)احمدآبادمیں مجسٹریٹ کوایس آئی ٹی رپورٹوں کے خلاف درخواست دی لیکن وہی ہواجس کاخدشہ تھا۔ دسمبر۲۰۱۳ء میں مجسٹریٹ نے درخواست مستردکردی۔انصاف نہ ملتادیکھ کرذکیہ بیگم آبدیدہ ہوگئیں مگرانہوں نے ہمت نہ ہاری اوراعلان کیاکہ وہ دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گی۔
اب پندرہ سال سے اپنے شوہرکامقدمہ لڑنے والی بزرگ خاتون ذکیہ جعفری نے مذکورہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر مایوسی کااظہارکرتے ہوئے اسے کمزور فیصلہ قرار دیاہے۔ان کاکہناہے مجھے بے حدمایوسی ہوئی مگرمیں دوبارہ جنگ شروع کروں گی گجرات ہائی کورٹ میں اپیل دائرکروں گی۔ ادہرسوشل میڈیاپر بھارت سرکارکے ساتھ ساتھ عدالتی فیصلوں پر سخت تنقیدکاسلسلہ جاری ہے آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے صدراسدالدین اویسی نے ٹویٹ کیا:اگریہ قتل عام تاریخ کاسیاہ ترین باب تھاتواس میں مجرموں کوسزائے موت دی جانی چاہئے تھی ،عمرقیدناقابل فہم ہے۔ایک بھارتی شہری اشیش ترویدی نے طنزاً لکھا:کمال ہے! میں نے ریپ کیا،آگ لگائی،قتل کرسکتاہوں،اگر کردوں توپھربھی مجھے سات سال کی سزاملے گی۔چودہ پندرہ برس گزرنے کے بعدگجرات میں ہندوہوتے ہوئے بھی فخر محسوس ہورہاہے۔ایک اور بھارتی شہری راکیش فکری نے لکھا:کیااس ملک میں موت کی سزاصرف مسلمانوں کیلئے ہے؟
دل کی بھڑاس نکالنے والے موجودہیں اورنکالے جارہے ہیں جبکہ مودی کے زیر اثرمیڈیانے دجل وفریب اورجعلسازی جیسے حربوں سے کمال مہارت کے ساتھ مودی کو بھارتی ہندوعوام کے نجات دہندہ کی صورت میں پیش کرنے کاسلسلہ شروع کررکھاہے لیکن ہیٹی میں ہونے والی ہلاکتوں پرسابق سیکرٹری جنرل بانکی مون کی اقوام عالم کے سامنے سرنگوں ہو کرمعافی مانگنے کے بعدیہ سلسلہ بندنہیں ہوابلکہ اس کاآغازہواہے اوریہ پھندہ دھیرے دھیرے گلے کی سانس بند کرکے رہے گا!

About سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>