Modi vs Aqliytien

بھارت:اقلیتوں کے خون کی ارزانی

یوں توبھارت میں پہلے بھی تمام اقلیتوں کاخون انتہائی ارزاں ہے اوربالخصوص مسلمان،دلت، عیسائی اورسکھوں کے قتل و غارت کی بھیانک تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کی جاسکتی لیکن مودی سرکارکے دورِحکومت میں اقلیتوں کے خون کی ارزانی اپنی آخری حدوں کوچھورہی ہے۔راجستھان پولیس نے پہلوخان موب لنچنگ معاملے میں چھ ملزموں کو”کلین چٹ”دے دی ہے جواس معاملے میں ملوث تھے۔اب پہلوخان کے اہل خانہ انصاف کیلئے کون سادروازہ کھٹکھٹائیں؟ایک ممتازبھارتی دانشورصحافی آغاخان کااس حوالے سے کہنا ہے:محض پہلو خان ہی کیوں؟اب پوری مسلم قوم اوردلت جوپچھلے دوتین برسوں کے اندرموب لنچنگ کانشانہ بنائے جارہے ہیں،وہ سب کہاں انصاف مانگیں؟کیونکہ راجستھان میں جس بے رحمی سے پہلوخان کوماراگیاتھااوراس کے بعدجس طرح ملزموں کوبری کردیاگیااس کے بعدیہ واضح ہے کہ ”گئورکھشوں”(گائے کی حفاظت کرنے والوں کا)کہیں کوئی کچھ بگاڑنے والا نہیں ہے،ہرجگہ گئورکھشوں کو پناہ ملے گی خواہ وہ قتل ہی کیوں نہ کریں۔

کیاپہلوخان کے بہیمانہ قتل میں ملوث ملزمان کوکلین چٹ ملنے کے بعدیہ امیدکی جاسکتی ہے کہ گئورکھشوں کے خلاف کبھی کوئی کاروائی ہوگی؟ کوئی کاروائی توکیا،ان کے خلاف انگلی بھی نہیں اٹھائی جائے گی کیونکہ گئورکھشک سنگھ پریوارکاحصہ ہیں اوریہ پریوارشدت اورتشددبلکہ دہشتگردی کوبڑھاوادینے میں سب سے آگے ہے۔مزیدبرآں یہ پریوارہندوراشٹربنانے میں بھی ماہرسمجھے جاتے ہیں۔اس بناء پرآرایس ایس(راشٹریہ سیوک سنگھ)کے کاندھوں پرسواربی جے پی حکومت یہ جرأت کیسے کرے گی کہ وہ گئورکھشکوں کوسزادے،پھرگئو رکھشک کسے سے ڈھکے چھپے تونہیں۔ گئو رکھشک کسی پہلوخان یااخلاق یا پھراونامیں آبادکسی دلت ہی کی جان لے رہے ہیں۔اس ملک میں بالخصوص مودی راج میں مسلمان اوردلت کاخون پانی سے بھی سستاہے۔مودی نے خودیہ اعلان کیاہے کہ وہ ایک نیابھارت بنائیں گے۔بعض لوگ سوچتے ہیں کہ آخرایک نئے بھارت کی کیاضرورت ہے؟ کیا۱۹۴۷ء میں ایک نیاآئین نہیں بناتھا؟سب جانتے ہیں کہ اس آئین کی بنیادپرایک نیابھارت ہی تووجودمیں آیاتھا۔

وہ بھارت سیکولرہے اورملک کے تمام مذاہب کوماننے والے باشندوں کوبرابرکا شہری تسلیم کرتاہے۔جب۱۹۵۰ءمیں نئے بھارت کے خدوخال طے کردیئے گئے توپھرمودی کوایک نئے بھارت کی ضرورت کیوں پڑگئی؟اس کاجواب مودی کے سیاسی ماضی وحال میں مضمرہے۔دنیاجانتی ہے کہ مودی نہ صرف انتہاء پسند سنگھ پریوارسے منسلک رہاہے بلکہ انہوں نے سنگھ ہی کیلئے نہ صرف اپنی ایک رات کی دلہن کوتیاگ دیاتھابلکہ مودی نے آرایس ایس کی محبت میں اپناگھر باربھی چھوڑدیاتھا۔پھروہ سیاسی طورپربی جے پی سے منسلک ہوگئے۔جس نے ان کو۲۰۱۴ءمیں ملک کااقتدارسونپ کروزیراعظم بنادیا۔وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پرفائزہونے سے قبل مودی جی بارہ برس گجرات کے وزیراعلیٰ رہے۔ان کے وزیراعظم بنتے ہی گجرات میں۲۰۰۲ء میں ایسے بدترین فسادات ہوئے جس کی نظیرملنی مشکل ہے۔

ان فسادات میں دوہزارافراد(جن میں۹۰فیصدمسلمان تھے)ایک منظم نسل کشی کے ذریعے مارے گئے۔جب ان فسادات سے متاثرمسلم پناہ گزینوں نے اپنے گھروں سے بھاگ بھاگ کردوسری جگہوں پرپناہ لی اورمودی حکومت سے ان پناہ گزینوں سے امدادکی اپیل ہوئی تومودی نے مسلم پناہ گزینوں کوامداددینے سے انکارکردیاپھر۲۰۱۴ء میں جب ایک انٹرویوکے دوران مودی سے یہ سوال پوچھاگیاکہ۲۰۰۲ء میں گجرات کے فسادات میں مارے جانے والے افراد کے سلسلے میں ان کوکوئی ندامت یاافسوس ہے توان کاسیدھاساجواب تھا:مجھے اتناہی افسوس ہے جتناایک کار کے نیچے کچلے جانیوالے کتے کے پلے کی موت پر ہوتاہے،یعنی سنگھ نظریات میں پلے بڑھے مودی کیلئے مسلمان کی حیثیت کتے کے پلے سے زیادہ نہیں ہے۔بھلاایسے مودی کے راج میں پہلوکان کوکیسے انصاف مل سکتاہے؟کیاگجرات میں ذکیہ جعفری اور عشرت جہاں کے اہل خانہ کوانصاف ملا ؟کیا کتوں کے پلوں کومارنے والوں کیلئے کوئی سزاہوتی ہے؟اس کاجواب ہے، نہیں،ہرگزنہیں۔توپھرشروع سے یہ واضح تھاکہ پہلوخان اوراخلاق جیسوں کومارنے کیلئے پولیس کوئی مقدمہ قائم نہیں کرے گی۔کیاپہلوخان یااخلاق ،اب کہیں بھی کوئی اقلیت کافردماراجائے،اس کے مارنے والے کوسزانہیں بلکہ انہیں تمغے دیئے جائیں توحیرت نہ ہوگی کیونکہ بھلے ہی آئین آئینی سطح پراس بات کااعلان نہ ہواہوکہ بھارت ایک ہندوراشٹربن چکا ہے لیکن عملی طورپر اقلیتوں کے خلاف جومنافرت کاماحول ہے اورپہلوخان جیسے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں،اس سے یہ واضح ہے کہ اقلیتوں کواس ملک میں دوسرے درجے کا شہری تصور کیاجارہاہے۔

بھارت میں خوداقلیتیں خوف کاشکاراور نفسیاتی طورپرخودکواس قدرلاچاراوربے بس محسوس کررہی ہیں کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آوازاٹھارہی ہیں لیکن خود بھارت میں اپنے اوپرہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے سے ڈرتی ہیں،یعنی بھارتی اقلیتیں اب اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ اپنے آئینی حقوق کوبطورحق استعمال کرنے سے بھی گریزکررہی ہیں۔جب کوئی پوری قوم خوداپنے حقوق سے دستبردارہوجائے تواسے نفسیاتی غلامی کاہی نام دیاجائے گا۔یہی سنگھ کاایجنڈاتھااورمودی سرکارنے اسی ایجنڈے کو اس خوبی سے نافذکیاہے کہ اب پہلوخان کیلئے انصاف کی گنجائش نہیں بچی ہے لیکن جس طرح ملک کے آئین کولایعنی بنایاجارہاہے وہ محض اس ملک کی اقلیتوں ہی کا مسئلہ نہیں،یہ تواب خوداس ملک کوطے کرناہوگاکہ آیاوہ اس ملک کوایک ہندو ریاست بناناچاہتے ہیں یاپھربھارتی آئین کی بنیادپراس ملک کوترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔اس لئے پہلوخان کے انصاف کی لڑائی اب محض اقلیتوں ہی کے حقوق کی لڑائی نہیں ہے،یہ بھارت کے ہندوؤں کی لڑائی ہے جوبھارت کوایک سیکولردیکھنا چاہتے ہیں۔مگرکیابھاتی عوام میں کسی بھی طبقے میں یہ آس یا امیدپیداکی جاسکتی ہے کہ وہ بھارت کوسنگھ پریواراورمودی سرکارکے ظلم و ستم سے نجات دلانے میں کامیاب ہوسکیں گے؟

بھارت میں انسان توستم کانشانہ بن رہے ہیں مگرگائے کی حفاظت مودی سرکار کے نزدیک خصوصی ترجیح کی حامل قرارپائی ہے۔حالیہ دنوں میں گائے کے تحفظ کامعاملہ ایک بارپھر شدت کے ساتھ سامنے آیاہے اورمختلف مقامات پر مسلمانوں کو مشتعل ہجوموں نے گئوماتاکی بے حرمتی کے جرم میں قتل کیاہے۔ ایسی ریاستیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں گئورکھشاکمیشن قائم کیے گئے ہیں جوگائیوں کوتحفظ اورفلاح وبہبودکیلئے کام کرتے ہیں ۔ریاست ہریانہ میں گائیوں کے تحفظ کیلئے خصوصی پولیس فورس قائم کی گئی ہے۔۲۰۱۴ء میں جب مودی اقتدارمیں آئے توانہوں نے عہدکیاتھاکہ گائے کاقتل عام روکیں گے۔ بھارتی شہرلکھنؤمیں ایک نیوزکانفرنس کے دوران بی جے پی کے ایک رہنماء امت شاکاکہناتھا: ہم گائیوں کی حفاظت اورفلاح وبہبودکیلئے ایک الگ وزارت قائم کرنے پرغورکررہے ہیں اوراس حوالے سے بہت سی تجاویزاورسفارشات آرہی ہیں جن پرغورکیاجارہاہے۔ امت شاکے ساتھ اترپردیش کے وزیراعلیٰ جوگی ادتیا ناتھ (بدترین مسلم دشمن و متعصب ہندو)بھی نیوزکانفرنس سے خطاب میں شامل تھا۔

بھارت میں انسانوں کے مقابلے میں مویشی کے جان ومال کاتحفظ زیادہ ضروری سمجھاجارہاہے،یہ تصویرکاایک رخ ہے۔ دوسرارخ یہ ہے کہ انسانی زندگی مودی دورمیں مزیدسستی ہوگئی ہے۔اقلیتوں کی زندگی توہمیشہ اجیرن رہی، مسلمان، عیسائی،سکھ سب کے سب ہندوجنونیوں کے زخم رسیدہ رہے ہیں مگران کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوبھی گوناگوں مظالم کاشکارہیں۔نچلی ذات کے لوگوں سے انتہائی گھٹیااورنیچ قسم کے کام کیلئے جاتے ہیں۔بھارتی دلت باشندوں سے بالعموم خاکروب،صفائی کے دیگرکام مثلاً گٹرکی صفائی کاکام لیاجاتاہے۔دلتوں کونیچ کاموں کیلئے درکار ضروری سامان تک نہیں دیاجاتا،ان کی زندگی توحرام ہے مگرمرنے کے بعدبھی ان کے مردوں سے ناگفتہ بہ سلوک روارکھا جاتاہے۔ ایک غیرسرکاری تنظیم پریکس نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ وہ دارلحکومت دہلی میں گٹرصاف کرنے والے قریباً۱۰۰خاکروب ہرسال ہلاک ہوجاتے ہیں۔اس سال جولائی اوراگست کے مہینے میں صرف ۳۵دنوں میں ۱۰خاکروب ہلاک ہوگئے۔ایک تنظیم ”صفائی ملازمین اندولن”کے مطابق۱۹۹۳ء سے قریباًپندرہ سو خاکروب غیرانسانی ڈیوٹی کے باعث ہلاک ہوئے۔ادارے نے اس حوالے سے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ جورپورٹ مرتب کی ہے۔اس میں بتایا گیاہے کہ بعض شواہدسے پتہ چلتاہے کہ اصل تعدادبہت زیادہ ہے۔لاکھوں کی تعدادمیں دلت سماج کے بھارتی انتہائی گندہ اورمضرکام کرنے پرمجبورہیں۔ گٹر میں زیادہ اموات ہائیڈروجن سلفائڈ سے واقع ہو رہی ہیں۔Modi vs Aqliytien

نئی دہلی کے ہرن کیداناعلاقے میں بہنے والے نالے میں آس پاس کے مکانات اورکمپنیوں کاانسانی فضلہ اورفیکٹریوں کاکیمیکل جمع ہوتاہے،قریبی سڑک کی خالی جگہ پرنالے سے کئی روزقبل نکالاگیاگندکچراسخت ہوچکاہے۔ اس سے نکلنے والاتعفن اتناشدیدہے کہ سانس لینابے حد دشوارہے۔اسی نالے کوصاف کرنے کیلئے دوخاکروب نیتواوراجیت اس کے اندراترے،وہ گردن تک اس غلاظت میں ڈوبے ہوئے تھے۔کئی بارنالے کاپانی ان کے منہ اور ناک تک چلا جاتا۔ دونوں نے اپنامنہ زورسے بندکررکھاتھا۔ایک کے ہاتھ میں بانس کی لمبی چھڑی تھی تودوسرے کے ہاتھ میں لوہے کاکانٹا جس سے وہ نالے کی تہ میں پھنسے ہوئے کوڑے کچرے کوہلانے کی کوشش کررہے تھے تاکہ وہاں سے پانی نکلنے کی جگہ بن سکے۔نیتوکا کہناتھاکہ کالاپانی گیس کا پانی ہوتاہے جولوگوں کی جان لے لیتی ہے۔ہم بانس مارکر دیکھ لیتے ہیں کہ وہاں کوئی گیس موجودہے کہ نہیں اورپھرہم اس میں داخل ہوتے ہیں۔گٹرمیں کام کرنے والے خاکروب اسی لئے مر جاتے ہیں کیونکہ وہ اسے دیکھے بغیراس میں کود جاتے ہیں۔

ایک دن میں تین سوروپے کمانے کیلئے وہ نالوں میں موجودخطرناک سانپوں اور مینڈکوں کابھی سامناکرناپڑتاہے۔دبلا پتلانیتوجس نے جانگیہ پہناہواتھا، نالے سےنکل کردھوپ میں کھڑاہواتواس کے بدن سے بہنے والاپسینہ اورجسم پرلگا ہوا کیچڑعجیب سے بدبوپیداکررہاتھاجس کی وجہ سے ہرراہگیر ناک پرہاتھ رکھ کر توہین آمیزاشاروں سے اس کودورجانے کاکہہ رہے تھے۔کوئی اس بات پردھیان نہیں دے رہاتھا کہ انہی افرادکی غلاظت صاف کرتے ہوئے گٹرمیں پائے جانے والے کانچ،کنکریٹ  یازنگ آلودلوہے سے کئی باراس کے پاؤں اورجسم کے دیگرحصوں پرگہرے زخم بھی آچکے ہیں۔ اس کے پیروں میں ایسے کئی زخم ابھی بھی تازہ تھے کیونکہ کئی متعصب ہندوؤں کے جبری احکامات اورغربت نے ان کو بھرنے کاموقع نہیں دیا۔

وہ لوگ جوان گٹروں میں کام کرتے ہیں،وہ جلدہی سانس،جلداورپیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلاہوجاتے ہیں۔نیتوسولہ برس کاتھاجب اس نے یہ کام شروع کیا تھا۔دہلی میں اپنے بہنوئی روشن سنگھ کی ایک فاسٹ فوڈکی دکان میں رہتےہیں۔انہی جھگیوں میں بہت سے خاکروب رہتے ہیں۔ان کے آس پاس آبادی اتنی زیادہ ہے کہ یہاں سانس لینے میں بہت دقت ہوتی ہے ۔روشن سنگھ نامی خاکروب نے بارہ سال کی عمرمیں صفائی کاکام شروع کردیاتھالیکن جب اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے دوساتھیوں کی المناک موت واقع ہوگئی تواس نے یہ کام چھوڑدیا۔اس نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا:ایک اپارٹمنٹ میں ایک پراناگٹر طویل عرصے سے بندپڑاتھاجس میں بہت گیس جمع ہوگئی تھی۔ ہماری جھگیوں میں رہنے والے دوافراد نے دوہزارروپے میں اس کاٹھیکہ لیاتھا۔پہلے جوبندہ گھسا،وہ وہیں رہ گیاکیونکہ گیس بہت بھیانک تھی۔اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو بچانے کیلئے گزرتے راہگیروں کوآواز دیکر مددکیلئے بلایالیکن کوئی مددنہ ملنے پروہ اپنے باپ کوبچانے کیلئے خوداندرگھس گیالیکن دونوں واپس نہ آسکے ۔ان کی لاشیں انہی جھگیوں کے دوسرے افرادکئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد نکالنے میں کامیاب ہوئے۔یہ منظردیکھ کرمجھے اس وقت شدیددکھ اورصدمہ ہواجب لوگ معمولی سی مددکی بجائے اپنے موبائل فون سے اس تکلیف دہ مناظر کی فلمیں بنارہے تھے۔ میں نے اسی وقت اس کام کوچھوڑنے کافیصلہ کرلیا۔

بھارت میں رائج قانون کے مطابق ہاتھ سے سیورصاف کرنے کاکام صرف ایمرجنسی میں ہی کرناہوتاہے جس کیلئے خاکروب ملازمین کی حفاظت کے کئی طرح کے سازوسامان مہیا کرناضروری ہے لیکن حقیقت میں بیشترایسے ملازمین ننگے بدن سیورمیں داخل ہونے پرمجبورہوتے ہیں اورکام کے دوران ہلاک ہونے کی صورت میں حکومت کی طرف سے کبھی بھی ذمہ داروں کے خلاف محض اس لئے کوئی کاروائی نہیں ہوتی کہ ان اقلیتی افراد کوانسان ہی نہیں سمجھاجاتا۔ کام کے دوران ہلاک ہونے کی صورت میں حکومت کی طرف سے دس لاکھ روپے دینے کی تجویزہے لیکن ”آل انڈیا دلت پنچائت”کے مورسنگھ کاکہناہے کہ اوّل تواس کیلئے بہت جدوجہدکرناپڑتی ہے اوراس کی وصولی کیلئے ایک خطیر رقم وکلاء کی فیس اورمحکمہ کے کارندوں کی رشوت کی نذرہوجاتی ہے تاہم ہر شخص کویہ مددنہیں مل پاتی۔حال ہی میں ایسے ہی ایک واقعے میں دہلی کالوک جن نائیک اسپتال کوگٹرصاف کرنے کے دوران ۴۵سالہ رشی پال موت کی وادی میں جاسویا۔سرکاری مددتودرکنار،اسی اسپتال سے بروقت طبی امداد بھی نہ مل سکی۔

صفائی ملازمین اندولن کے بینروڑاولسن کاکہناہے:اگرایک مہینے میں دہلی میں دس گائیں مرجائیں توہنگامہ مچ جائے گااورلوگ سڑکوں پرنکل آئیں گے۔ اس شہر میں ایک ماہ میں دس خاکروب ہلاک ہوئے لیکن اس پرایک آوازبھی نہیں اٹھی ۔ ایسی خاموشی روحانی اذیت کاسبب بنتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص دوسرے کاپیشاب وپاخانہ صاف نہیں کرناچاہتالیکن سماجی ڈھانچے کی وجہ سے دلت کوکام کرنے پرمجبورکیاجاتاہے۔حکومت لاکھوں بیت الخلاء بنانے کی بات تو کرتی ہے لیکن ان کیلئے بنائے گئے گڑھوں کوصاف کرنے کیلئے کوئی نہیں سوچتاکیونکہ یہ جان لیواخدمت حاصل کرنے کیلئے دلت دستیاب ہیں جنہیں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ یہ ہے اس مودی کے اس نئے ہندوستان کاچہرہ جس کی ایک ہلکی سی جھلک آپ کے سامنے ہے۔اسی مودی کا چہیتااترپردیش کے وزیراعلیٰ کاچہرہ تواس سے بھی زیادہ گھناؤناہے جس نے مسلمانوں کے تعمیرکردہ تاج محل کو نہ صرف نصاب سے خارج کردیاہے بلکہ ان مسلمانوں کی تمام عالمی شہرت یافتہ عمارات کوغداروں کی یادگارقراردیکر کھلے عام اپنی نفرت کاپرچارکررہاہے جبکہ سوال یہ ہے کہ انہی مسلمانوں کے تعمیر کردہ لال قلعے پرہرسال ترنگاکس منہ سے لہرانے کیلئے پہنچ جاتاہے؟یہاں قائداعظم محمدعلی جناح اوران تمام اکابرین کی دوراندیش قیادت کوصدسلام اور خراج تحسین پیش کرناچاہئے جنہوں نے بروقت ان متعصب ہندوؤں کی ذہنیت کو بھانپ کرپاکستان بنانے کافیصلہ کیااورآج یہی ایٹمی قوت کاحامل پاکستان جہاں مودی اوراس جیسے ہزاروں تنگ نظرہندوؤں کے سینے پرمونگ دل رہاہے وہاں یہاں کی اقلیتیں بھارت کے مقابلے میں لاکھ درجہ بہتر زندگی کی آسائشوں سے لطف اندوزہورہی ہیں۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>