Democracy

قرض یافرض

اگرسننے والے مزاج آشناہوں توگفتگو کرنے کامزاآتاہے اوران سب کی سننے کی خواہش بھی مزادیتی ہے لیکن پتہ نہیں ان دنوں طبیعت کیوں بوجھل سی رہتی ہے۔اردگردسناٹاسامحسوس ہوتاہے اورجذبات کی شائیں شائیں نے کپکپی طاری کررکھی ہے۔اسی لئے گزشتہ چنددنوں سے ٹیلیفون کاگلہ دبا کرسب کے ساتھ رابطہ منقطع کئے خاموش بیٹھا ہوں۔ ان دنوں ٹی وی کے ہر چینل پرپاناما مقدمے کے نتائج نے ملک کے دوسرے تمام مسائل پرگرد اوردھول کی موٹی اور دبیزتہہ نے فی الحال آنکھوں سے اوجھل کردیاہے ۔لکھنے پڑھنے پر بھی طبیعت بڑی مشکل سے مائل ہوتی ہے۔ اچانک کل صبح ایک بچی نے گھرکادروازہ زورزور سے پیٹناشروع کردیا۔دروازہ کھولاتوشکائت شروع کر دی کہ اتنی دیرسے ٹیلیفون کررہی تھی لیکن کسی نے اٹھانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی توسوچاخودہی دیکھ آؤں۔ منافقت بھری مسکراہٹ سے آنے کامقصددریافت کیاتوبولی : مجھے تقریر کرنی ہے لکھ دیں۔ میں نے انکارکردیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر اس نے اپنامطالبہ دہرایا۔ اصرار بڑھا تو میری ڈانٹ اس کے منہ کا مزا کرکرا کرگئی۔ اچھا خود لکھ لوں گی لیکن …….. لیکن کیا؟ آپ اسے دیکھ تو لیں گے ناں۔اس کی معصومیت کے سامنے اقرارکرناپڑا، ہاں ضرور دیکھ لوں گا۔ اب یہ میرے سامنے ہے ……..یوم آزادی جمہوریت پر ایک مباحثہ ……..ہنسی آتی ہے اب تو۔ خیر ایک بچی کے خیالات پڑھ لیجیے۔ اس سے متفق ہونا کیا ضروری ہے ،معلوم نہیں۔

جناب اسپیکر! ایوان میں موجود افراد کی تقاریر آپ نے سنیں جن میں انہوں نے آزاد ملک کے آزاد شہریوں کی پرکیف زندگی کے بڑے سہانے مناظر  دکھائے ہیں۔ ان تمام حضرات کی تقاریر سے میں محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ یقین ہوگیا ہے کہ بینائی اس حد تک کمزور ہوسکتی ہے ، معلومات کا اس قدر فقدان ہوسکتا ہے یا ہم حقائق سے نظریں چراتے ہیں !ہماری خود میں مصروف زندگیاں ہمیں اجازت نہیں دیتیں کہ ہم عوام کی اس دھندلائی ہوئی تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں جہاں صرف دکھ ہے، درد ہے ،محرومی ہے، احساسِ غلامی ہے، اپنے تمام اور مکمل وجود کے ساتھ بھی بے دست و پائی ہے، آزاد ملک کے شہری ہونے کے باوجود احساسات تک پہرے میں ہیں، زندگی کی ہرسانس مقروض ہرفکر پہ پہرہ ہرجنش پرچیک ہربات کی نگرانی۔ یہ توایک مڈل کلاس اورکچھ سوچنے سمجھنے والے کا حشر ہے اور یہ بھی عوام کی زندگی کاایک رخ ہے۔

آپ کو سن کر بہت اچھا لگے گا میرے قابل احترام ساتھیوں کو بہت خوشی ہوگی سن کر، یہاں ہر ایک آزاد ہے۔ دال کھائے  ، چٹنی کھائے، کھا سکے تو کھائے ورنہ آزاد ہے کہ رات کو بھوکا ہی سوجائے۔ اگر اس کا معصوم بچہ بیمار ہے اور اس کو دوا کی ضرورت ہے تو وہ بالکل آزاد ہے چاہے اس کو بخار سے سلگ کر مرنے دے، چاہے پانچ روپے کی میٹھی گولیاں لا دے ……..جس طرح چاہے مرنے دے اس پرکوئی پابندی نہیں۔ وہ کسی کی ذمہ داری نہیں ہے، اس کی موت کسی کا بوجھ نہیں ہے۔ اگر اس وطن کے شہری کو بڑھاپے یا ادھیڑ عمری نے آلیا ہے، اس کو کوئی تکلیف ہے تو وہ بالکل آزاد ہے چاہے اپنی کھولی میں دم توڑے، سڑک کے کنارے کھانس کھانس کر مرجائے یا چلتی ہوئی کسی منی بس سے اترتے ہوئے اس کے پہیوں تلے کچلا جائے اور ہاں اگرکوئی مقروض ہے، اولادوں کا بوجھ ہے، ذمہ داریاں ہیں، قرض اتارنا ہے تو وہ بالکل آزاد ہے گردہ بیچ ڈالے، اپنا لہو فروخت کر دے اپنی ایک آنکھ بیچ دے۔ اگر عورت ہے تو اپنا جسم بیچ دے، عزت و آبرو سربازار نیلام کردے کیونکہ وہ آزاد وطن کی آزاد شہری ہے۔

اگر کوئی نوجوان اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے شہر میں دن بھرآوارہ گردی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اسے مکمل آزادی ہے۔ وہ جب تک اور جتناچاہے سڑکیں ناپ لے اور جب چاہے جس طرح چاہے خود کشی کرلے۔ ریل کی پٹری پر لیٹ جائے گھر میں پنکھے سے لٹک جائے زہر پی لے … … اس پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ اس کی اپنی زندگی تھی، اپنی موت ہے، وہ آزاد ہے جس طرح چاہے مرجائے۔ ایک اور دلچسپ بات ہے جو میرے تمام فیوڈل ساتھیوں کو پسند آئے گی کیونکہ ہمارا   ایوان زیادہ تر فیوڈلز سے ہی بھرا ہوا ہے ناں۔ ان کی خوشی کے لیے یہ پہلو بھی اجاگرکرنا مناسب سمجھتی ہوں کہ ہمارے ہاں ہر طرح کی آزادی ہے ہم جس کی بہن بیٹی بیوی کو جب چاہیں اور جہاں سے چاہیں اٹھا لیں اور اس کے ساتھ جو چاہے سلوک کریں ….. …اور پھر جس طرح چاہیں کہانی ختم کرادیں۔ خواہ ہم اسے کاری کہہ دیں اوربھری پنچائت کے فیصلے پر ایک بے گناہ اورمعصوم چودہ سالہ بچی کی جبراً عصمت دری کردی جائے۔معاملہ یہی پرختم نہیں ہوابلکہ بلوچستان میں ایک قبائلی سردارکے حکم پرایک حاملہ بچی کوکتوں سے نچوادیاگیا اور بعدازاں اس کواس بچی کواس کی ماں سمیت زندہ دفن کردیاگیا۔اسی قانون سازاسمبلی میں جب اس ظلم پرآوازاٹھائی گئی توجواب آیاکہ خبردار! ہمارے قبائلی نظام میں کسی کومداخلت کی اجازت نہیں اورہم کچھ نہیں کرسکے  کیونکہ ان کومعلوم ہے کہ ہمیں کوئی کچھ نہیں کہے گا،ہم آزاد ہیں۔

لوگوں کی یہ بات قطعی غلط ہے کہ ہم پرکوئی چیک لگا سکتا ہے اور جو ہمارا سماج ہے ناں اس میں تومزیدآزادی یہ بھی ہے کہ جب جس کابس چلے وہ دوسری خاتون کوجلادے۔ یہ نہیں کرسکتا توکم ازکم اس پرتیزاب توپھینک سکتا ہے ناں۔

ہمارا قانون ہماری پولیس بھی بالکل آزاد ہیں ان کوکوئی کچھ نہیں کہہ سکتا،نہ ہاتھ پکڑسکتا ہے نہ پوچھ سکتاہے،وہ جس کوچاہیں مجرم بنادیں اورجس کوچاہیں معصوم۔ اسی آزادی کی وجہ سے آج یہ ایوان وجود میں آیا ہے جس میں صرف مراعات یافتہ لوگ ہی براجمان ہوسکتے ہیں مگرجناب اسپیکر! میرے معزز اراکین یقیناًاس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ آزادی اورجمہوریت کے راگ الاپنے والے تمام لوگ کس طرح ایوان تک پہنچتے ہیں۔ حالت جب یہ ہوکہ عوام کے نمائندگان کونمائندگی دینے کافیصلہ بھی ایسے ہوکہ پہلی مرتبہ ایک آزاد الیکشن کمشنرکی تعیناتی پرسب نے سکھ کا سانس لیاتھا لیکن اس انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں پرہرجماعت نے اپنے شدید تحفظات کااظہارکرکے گویااپنے ہی فیصلے کوماننے سے انکارکردیااور پاکستان کی ایک سیاسی جماعت نے تواس کے خلاف باقاعدہ ایک ایسی تحریک چلائی کہ جمہوریت کاجنازہ نکلنے کا شدید خطرہ پیداہوگیا۔ طویل دھرنوں میں پاکستان کے ایک نئے معاشرے کی تشکیل دینے کی بھرپورکوشش کی گئی جس میں پارلمینٹ کے اندربیٹھنے والوں کوجن القابات سے نوازاگیاکہ الاامان الحفیظ ۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی طرف جانے والے  تمام راستوں کونہ صرف مسدودکردیاگیا،نہ صرف عدالت عالیہ کے ججوں کو برملا پہلی مرتبہ دشنام طرازی کابھی سامنا کرنا پڑابلکہ اس کی دیواروں پرجس بے توقیری کامظاہرہ دیکھنے کوملا جویقیناًشرمناک تھا،قومی ٹیلیویژن پر باقاعدہ حملہ کر دیا گیا،شب وروزموسیقی کاسہارالیکرایک نئے مخلوط کلچرکوجنم دیاگیا۔

جناب اسپیکر!دھرنے میں شریک معزارکان نے برملاباقاعدہ نہ صرف اس ایوان کی بے حرمتی کرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف استعفیٰ کااعلان کیا بلکہ اس ایوان کے بارے میں جونازیبازبان استعمال کی گئی،وہ بھی ایک تاریخ کاحصہ بن چکی ہے اورآئین کی روسے مستعفی ہونے کے باوجوددوبارہ اسی ایوان میں بھائی بندوں کے تعاون سے نہ صرف اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے بلکہ دھڑلے سے اپنے تمام واجبات بھی وصول کئے جواس ملک کے عوام نے اپناپیٹ کاٹ کرٹیکس کی مد میں اس ملک کے خزانے میں جمع کروائے تھے!Democracy

جناب اسپیکر!میں پوچھتی ہوں جس ملک میں صابن اور ڈٹرجنٹ سے لے کر تمام کی تمام اشیاصرف غیرملکی کمپنیاں بناتی ہوں اور ملک میں روٹی سے لے کر پٹرول اور تیل وگیس کی قیمتیں تک آئی ایم اور ورلڈ بینک طے کرتے ہوں اس ملک کو کیا آپ آزاد کہہ سکتے ہیں؟ آزادی کسی دیوی پری یاکسی مجسمہ کا نام تو نہیں ہے کہ وہ آپ نے نصب کردیا اور سب نے تالیاں بجا دیں۔ اس کے بعد زندگی پہروں میں رہے سانس بھی قید میں ہو ……..ہم نے صرف لفظ ِجمہوریت کا لولی پاپ عوام کو پکڑادیا کہ خوش ہوجائے۔ آزادی تو اپنی سرزمین پر اپنے عقیدے نظریے کے ساتھ اپنے وسائل کو خود استعمال کرکے اپنی مٹی پر آزادی سے چل کر پیٹ بھرکر روٹی کھانے اور نیند بھرکر سونے کا نام ہے۔ آزادی میں اپنے حال اور مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ آزاد وطن میں ہر ایک اپنا نقطہ نظر بیان کرنے اور اپنی مرضی سے جینے میں آزاد ہوتا ہے۔

جمہوری وطن کے لوگوں اور بچہ جمہورا میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ کاش یہ ہمارے مظلوم اور پسے ہوئے عوام کو پتہ ہوتا۔ اگر وہ یہ جان جائیں تو جو منظر آج ہے وہ نہ ہو۔ جس آزادی کے راگ ہم اور آپ الاپتے رہتے ہیں وہ اگر حقیقتا ًعوام کو نصیب ہوتی تو ہماری اور آپ کی بڑی مشکل ہوجاتی۔ ہماری یہ پرتعیش زندگی جس کا ہر ہر پل غریب عوام کے خون سے نچڑکر بنا ہے ،مجھے ان بڑے بڑے ایوانوں لمبی لمبی ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں بلند و بالا سیمینار ہالوں سے غریب عوام کے جلے ہوئے خون اور بھنے ہوئے گوشت کی بوآتی ہے۔ میرا دل لرزتا ہے کہ جن کے ٹیکسوں سے ہم نے عیاشی کی ،جنہیں مہنگائی کے عذاب نے پیس ڈالا، غریب عوام کی کھال تو کیا ان کی چربی اورگوشت کی تہہ کو بھی جلاکر یہ سارا کاروبار ہم نے سجالیاہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن ہم سب اس میں دفن ہوجائیں۔

خالق ِ ارض و سما ان کابھی رب ہے، آزادی کے نعروں میں جس دن اس نے چاہا رنگ بھردیا تو ہم اور آپ عوام سے بچ کر کہاںجائیں گے؟ اس لیے کہ جس کا خو ن، جس کا پسینہ جس کا ووٹ اور جس کا نوٹ ہے اس کا کوئی اختیار نہیں۔ آپ چاہے بجلی دیں چاہے نہ دیںاورخود ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ان کو صبر اور اولو العزمی کادرس دیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ سب کچھ ہم پر عوام کا قرض ہے جو انہوں نے اپنی کمرتوڑ کر ہمیں دیا ہے ،ہمیں یہ لوٹانا ہوگا ۔ہمارے اکابرین نے اپنی انتھک محنت اوردیانتداری کے ساتھ جس آزادی کوحاصل کیاتھایقینا اس خواب سے ہم اب بھی کوسوں دورہیں ۔

جناب سپیکر!آزادی اورغلامی میں کیافرق ہے ،اس کااندازہ ہرآئے دن نہتے کشمیریوں پرہونے والے ظلم وستم سے لگالیں جن کاقرض بھی ہم پاکستانیوں  پرواجب ہے جو ابھی تک پاکستان کی دیوانہ وارمحبت میں اس قدر سرشارہیں کہ پاکستان کی تکمیل کیلئے اب تک ایک لاکھ سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں اورباوجودنامساعدحالات کے انہوں نے عید الفطر بھی پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہوئے منائی جس کی وجہ سے بھارتی فورسز نے بہیمانہ ظلم کرتے ہوئے کرفیونافذکررکھا ہے ۔ابھی سے بھارتی فورسزنے مقبوضہ کشمیرمیں انٹرنیٹ کی تمام سہولت بندکردی ہے اور سڑکوں پرسخت پہرے بٹھا دیئے ہیں کہ کشمیری ہمیشہ کی طرح پاکستان کایومِ ِ آزادی نہ مناسکیں اور بھارتی یوم آزادی کے دن سیاہ جھنڈے اٹھاکراپنی نفرت کااظہارنہ کرسکیں ۔اس ضعیف العمری اورعلالت میںقرون اولیٰ کی نشانی جناب سیدعلی گیلانی کاکشمیریوں کے ایک جم غفیرمیں یہ پرعزم نعرے  ‘ ‘ہم ہیں پاکستانی ، پاکستان ہماراہے” کا جواب نہ صرف ہم پرقرض بلکہ فرض ہے ۔سیدہ آسیہ اندرابی جموں جیل میں سخت اذیت سے شب و روز گزاررہی ہے اوران کے شوہرڈاکٹرقاسم کوناکردہ گناہ کے جرم میں پچھلے بائیس سالوں سے جیل میں بندکررکھاہے لیکن اس ایوان کے قائد ایوان بھارت کے متعصب وزیراعظم مودی کو لاہورکے ہوائی اڈے سے بڑی شان کے ساتھ گلے لگاکر اپنی ذاتی رہائش گاہ”جاتی عمرہ” میں لے جاتاہے ۔ کبھی ایک منٹ کیلئے یہ بھی نہیں سوچاکہ اس عمل سے مقبوضہ کشمیرکے شہداء کی ارواح تڑپ اٹھی ہوں گی اورجلد ہی مکافات عمل کاشکار ہوکر دنیا میں عبرت کانشان بن جائیں گے!

جناب اسپیکر!آزادی عوام کے لحاظ سے یہ چند پہلو تھے جو مختصرا ًمیں نے آپ کے سامنے رکھ دئیے۔ وقت کی کمی کے باعث اختصار برتا ہے۔ آزادی کیا ہوتی ہے کیسی ہونی چاہیے؟ آپ تھوڑی دیر کے لیے خود کو عوام یاکشمیری سمجھ کر محسوس کیجئے پھرہم میں سے کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ عوام آزاد ہیں یا نہیں۔ میں آزادی اورغلامی کا فیصلہ آپ پرچھوڑتی ہوں!

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>