Traitor_Hussain_Haqqani

دھرتی کاغلیظ بوجھ

میموگیٹ سکینڈل میں ملوث اورپاکستانی عدالت کامفرورملزم حسن حقانی نے ایک مرتبہ پھر واشنگٹن پوسٹ میں اپنے ایک مضمون میں نہ صرف اپنے ننگ ملت ہونے کاایک اورثبوت فراہم کیابلکہ زرداری دورِ حکومت کے چہرے کی کالک کواور نمایاں کرکے قوم کے سامنے ان کی اصلیت کو بیان کردیاہے۔ حسین حقانی جو زرداری حکومت میں امریکامیں پاکستانی سفیر تعینات تھے ،نے اپنے مضمون میں انکشاف کیاہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش کیلئے امریکی سی آئی اے کے ایجنٹوں کوبغیر کسی تحقیق کے تھوک کے حساب سے سول حکومت کی اجازت سے ویزے جاری کئے گئے تھے اور یوں پی پی پی کی دورِ حکمرانی میں سانحہ ایبٹ آباد وقوع پذیرہوا۔امریکی پٹھوحسین حقانی جوزرداری کے چہیتے اورگھرکے بھیدی ہیں،ان کا یہ انکشاف کوئی نیانہیںبلکہ اس کواگروعدہ معاف کاکوئی بیان سمجھ کر توجہ طلب سمجھاجائے توالگ بات ہے۔
امریکی سی آئی اے ایجنٹ ریمنڈڈیوس کی گرفتاری اورپھررہائی،ننگ ملت ننگ دیں شکیل آفریدی کی پولیوقطروں کے لبادہ میں تلاش اسامہ اورپھر سانحہ ایبٹ آبادکے دوسرے دن ہی اس وقت کے آصف زرداری اوروزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے امریکی اخبارات میں اس کاکریڈٹ لینے کے مضامین کی اشاعت یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ یہ سب کچھ کن ہاتھوں اورکن کی چشم پوشی کی بدولت ہوا۔حسین حقانی ملک سے باہرکیسے گئے ،تمام پاکستانی غداروں کایہ غلیظ بوجھ یہ دھرتی ایک دن ضروراگلے گی کہ ان کاتعفن زیادی دیرتک دفن نہیں رہ پائے گا۔اسامہ کی شہادت کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ ان پریہ الزام بھی تھاکہ انہوں نے بے نظیرکاتختہ الٹنے اورممبران اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کیلئے نواز شریف کو بھاری رقوم فراہم کی تھی۔بہرحال اس ملک کی تاریخ قائداعظم محمد علی جناح کی پراسرارموت سے لیکرضیاء الحق کی شہادت تک مٹی پاؤ اور آگے جاؤکی رہی ہے۔کمیشن بناؤ،کمیشن کھاؤ اوررپورٹ کی دھول اڑاؤسے بات آگے بڑھ کرعوام تک نہیں جانے دی گئی۔
پاکستان اس وقت بدترین دشمنی کے دورمیں ہے،امریکاجوپاکستان کی چین سے بڑھتی ہوئی قربت اورگوادربندرگاہ کی شراکت سے ناراض ہے،اس نے بھارت کوجدیدترین ڈرون طیارے دیئے ہیںجن کی نظریں اتنی تیزہیں کہ وہ بادلوں کی اوٹ سے اورخراب ترین موسم میں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ ڈرون حملہ کی بہترین سہولتوں سے بھی آراستہ ہیں ۔ اب ایک اورخطرناک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے کہ نوازشریف جوامریکی قربت کی دوڑ حاصل کرنے کیلئے زرداری کو پیچھے چھوڑناچاہتے ہیں،موجودہ وفاقی حکومت نے بے نظیرانکم سپورٹ کے تحت جوسروے کرانے کاعزم کیاہے اس کے پیچھے مبینہ طور پرسی آئی اے کے اہلکارایک نجی ادارے کے روپ میں ملکی سلامتی کے خلاف سروے کرانے جارہے ہیں، آپ حیران ہوں گے ۔ بے نظیرانکم سپورٹ کامقصدغربت کی حدلکیرکے مکینوں کی تلاش اورامدادہے۔اس سروے پروگرام میں گھرکی دیواروں کی چوڑائی،موٹائی اور ساخت کے بارے میں ڈیٹااکٹھا کیاجا رہاہے۔اس سروے کاپائلٹ پروگرام ملک کے سولہ اضلاع میں شروع کیاگیاہے۔ چار اضلاع میں ڈیسک سروے کیاگیا اوربارہ اضلاع میں گھرگھر سروے کیاجارہاہے۔اس کیلئے سیٹلائٹ سے بھی مددلی جارہی ہے۔نجی اداروں کے ذریعے گوگل نقشوں کی مددسے کمپیوٹر ٹیبلٹس پرڈیٹااکٹھاکیاجارہاہے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ پائلٹ سروے کے تمام اضلاع سی پیک روٹ پرواقع ہیں جو امریکا، اسرائیل اوربھارت کاکھلاہدف ہے۔حساس ترین علاقوں کایہ ڈیٹاملک دشمن عناصر کے ہاتھ لگنے کا بھی خدشہ ہے۔سروے کیلئے غیرملکی ڈونر اورادارے فنڈنگ اورمعاونت کررہے ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ بھلاان کواس پراجیکٹ پرسرمایہ کاری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ان کے مفادات کیاہیں،یہ غورطلب بات ہے؟Traitor_Hussain_Haqqani
بے نظیرانکم سپورٹ سروے کی آڑمیں ملک کے ہرگھرکی سیٹلائٹ میٹنگ ہو رہی ہے، سروے کیلئے ٹیم گلگت پہنچ چکی ہے۔واضح رہے کہ گلگت اور غذر اضلاع واخاں پٹی کے ساتھ ہیں جوکہ چترال ضلع میں ہے اوریہ پٹی چین اور افغانستان کوملاتی ہے،درمیان میں تھوڑاسا علاقہ تاجکستان کاہے۔ واخاں پٹی میں بے شماردرے ہیں جوافغانستان سے ملتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان ہی نالوں اوردروں سے دہشتگردپاکستان آتے ہیں۔واخاں سے شاہراہ ریشم کاجو پاکستان اورچین کوملانے کی شہ رگ ہے،کاپیدل راستہ بھی ایک گھنٹے کا ہے اور گاڑیوں کافاصلہ گھنٹوں کاہے۔جن اضلاع میں سروے کاکام عروج پرہے اس میں مہمندایجنسی ،چارسدہ(حساس ترین علاقہ میرپور،لکی مروت، قلعہ سیف اللہ۔کیج، لیہ، فیصل آباد،چکوال،جیکب آباداورٹھٹھہ شامل ہیں)۔ ہری پور،نصیرآباد،سکھر اوربہاولپورمیں یہ کام پہلے ہی مکمل کیا جاچکاہے۔ غیرملکی اداروںاوراین جی اوزکی مشاورت سے آزاد کشمیراور گلگت بلتستان سمیت ملک بھرمیں گھرگھر جیو میپنگ کے ذریعے سروے سے ملکی سلامتی کوشدیدخطرے سے دوچارکرسکتاہے۔اس سروے کے ذریعے حاصل ہونے والاڈیٹا ملک دشمن قوتوں کے ہاتھ لگنے کے قوی امکان ہیں اوردشمن عناصرسیٹلائٹ نقشوں کے حامل اس ڈیٹاکو ڈرون حملوں کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔
حال ہی میں امریکانے بھارت کوجدیدڈرون طیارے فراہم کرکے اس خدشے کو تقویت بھی بخشی ہے۔امریکا،بھارت اوراسرائیل کاہدف پاکستان ہے جوایٹمی قوت ہونے کے ناطے دشمن کے دلوں میں پیوست ہے۔بی آئی ایس پی نے اس ڈیٹاکو محفوظ کرنے اورکسی دوسری جگہ شیئرنہ ہونے کو یقینی بنانے کیلئے کوئی میکنزم نہیں بنایا، جو انتہائی ضروری ہے۔بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام غربت سروے کیلئے محکمہ شماریات سے مل کربھی سروے کرسکتاہے۔حکومت کو اورمحب وطن حلقوں کواس صورتحال کافوری نوٹس لیناچاہئے اورملکی سلامتی کے خطرے کے اس پروگرام کوفوری بند کرنا چاہئے۔غربت کے سروے میں پاکستان کے تمام گھرانوں کی سیٹلائٹ میٹنگ کی کیاضرورت ہے اوریہ کام غیرملکی اورمقامی این جی اوز (جن کی اکثریت مشکوک کرداروالی رہی ہے) کوکیوں سونپاگیاہے؟یہ شکیل آفریدی کی پولیومہم طرزکی جدید ترین کوشش ہے ، جس کامقصدحساس علاقوں تک رسائی حاصل کرنااورپاکستان غیرمحفوظ بنانا بھی ہے۔سوفوری طورپرعدالت عظمیٰ کواس کانوٹس لینا چاہئے۔تمام ڈیٹااور کمپیوٹرٹیبلٹ آئی ایس آئی کے حوالے کرناچاہئیں اورحساس اداروں اورملکی نظریاتی سرحدی محافظوں کواس بے نظیرانکم سپورٹ کے سروے پروگرام پر گہری نظررکھنی چاہئے ۔نیشنل ڈیمو کریٹک فاؤنڈیشن نے صدرمملکت کواس منصوبے کے خطرناک مضمرات و محرکات سے آگاہ کردیاہے۔یہ غربت سروے کا پروگرام کہیں ملکی سلامتی کے خطرے کاپروگرام نہ ثابت ہو،اس کوفوری دیکھناہوگا۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>