SA vs US

جوش نہیں ہوش!

سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے اچانک قطرکے خلاف محاذکھول لیاہے۔دونوں نے قطرپردہشتگرتنظیموں کی حمایت اور مددکاالزام عائدکیاہے۔ قطرکو جھکانے کی سعودی کوشش کامیابی سے ہم کنارہوگی؟اس سوال کاجواب فی الحال پورے تیقن کے ساتھ نہیں دیاجاسکتا۔اس وقت خلیج فارس کاخطہ شدید بحران کی زد میں ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے ہیں۔ مصر، لیبیا،یمن،مالدیپ،بحرین،ماریشس، اردن، جبوتی، ماریطانیہ  اورسینیگال نے بھی اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیاہے۔

آخرکیاسبب ہے کہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے اچانک قطرسے تعلقات ختم کرنے کااعلان کردیا؟ قطر نے عرب دنیا میں عوامی سطح پرشعور کی بیداری کی حوالے سے چلائی جانے والی تحریک کی حمایت کی تھی۔ ریاض اور ابوظہبی کو یہ پسند نہ آیا۔ دونوں ممالک میں بادشاہت ہے اور وہ کسی بھی حال میں نہیں چاہتے کہ ان کے ہاں جمہوریت پروان چڑھے۔ عرب دنیا میں عوامی سطح پر بیداری کی لہر سے ریاض اور ابوظہبی کی قیادت سخت پریشان ہوئی۔ انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں جمہوریت نوازی کی لہر اُن کے اپنے گھر تک نہ آجائے۔

قطر کی حکومت نے اخوان سے تعلقات کسی بھی دور میں کمتر سطح پر نہیں رکھے۔ اس نے جمہوریت کے حوالے سے اخوان کی سوچ کی حمایت کی ہے۔ مصر میں اخوان کے قائدین سے قطر کے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ۲۰۱۲ء میں جب محمد مرسی مصر کے پہلے باضابطہ منتخب صدر بنے تب قطر نے اخوان سے تعلقات بہتر بنانے پر خاص توجہ دی۔ اس امر کو ریاض اور ابوظہبی نے اپنے لیے خطرہ گردانا۔ جولائی ۲۰۱۳ء میں مصر میں فوجی بغاوت برپا ہوئی اور منتخب صدر محمد مرسی کو معزول کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔

قطر کی قیادت چاہتی ہے کہ اپنے بیشتر معاملات میں آزاد اور خود مختار رہے۔ وہ ہر معاملے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طفیلی ریاست کی طرح کام نہیں کرنا چاہتی۔ خلیجی مجلس تعاون میں ایک قطر ہی نہیں، کویت اور عمان (اومان)بھی اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں سعودی عرب کی مرضی کو اولیت دینے کو تیار نہیں۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ خطے میں اسے قائد کا کردار حاصل رہے مگر معاملات خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شاہ سلمان کے سابق ولی عہدنے امریکی ایماء پر قدرے جارحانہ پالیسی اختیار توکی مگر پھر بھی وہ معاملات کو اپنے حق میں کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہے اور اب شاہ سلمان کی ہدائت پر نئے ولی عہد قدرے محتاط ہوکر چل رہے ہیں۔قطر نے ایران سے مراسم بڑھا کرسعودی عرب کوواضح اشارہ دے دیاہے کہ وہ ہرمعاملے میں ریاض کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرسکتا۔ سعودی قیادت کوبھی اندازہ ہوچکا ہے کہ قطر کا ایران کی طرف جھکاؤ اس کی علاقائی قائد کی حیثیت کیلئے خطرہ ہے۔ ایسے میں خلیجی مجلس تعاون میں سعودی حکمراں خاندان اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں نہیں۔

سعودی عرب اور امارات کی طرف سے قطر سے تعلقات کا توڑ لیا جانا قطری قیادت کے لیے بہت بڑا دردِ سر ہے۔ ایسے میں اس پر خلیجی مجلس تعاون سے نکل جانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ صورت حال خطے کے واحد فعال اتحاد کے لیے شدید بحران پیدا کر رہی ہے۔ ریاض اور ابوظبی خطے کےرہے سہے اتحاد کو بھی داؤ پر لگارہے ہیں۔ کویت اور عمان بھی جی سی سی سے نکلنے اور نیا اتحاد تشکیل دینے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں عرب دنیا کا انتشار بڑھے گا۔

عرب دنیا میں مزید انتشار کا فائدہ اگر کسی کو پہنچ سکتا ہے تو وہ امریکااورایران ہے۔ چند برسوں کے دوران ایران نے اپنے آپ کو خاصا مضبوط بنایا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کو سزا دینے کا جو طریقہ اپنایا ہے وہ خاصا بچگانہ، غیر سنجیدہ اور نان پروفیشنل ہے۔ ایسا تو ایک دوسرے کی کٹّر مخالف ریاستوں کےدرمیان بھی نہیں ہوتا۔ پروازوں پر پابندی لگادی گئی ہے، فضائی حدود کا استعمال بھی ممنوع ہے اور شہریوں کو بھی نکالا جارہا ہے۔ سعودی عرب کی اس روش سے کویت اور عمان مزید بدک جائیں گے۔

قطر کے معاملے میں سعودی عرب نے راتوں رات جو طرزِ فکر و عمل اختیار کی ہے وہ انتہائی نامناسب ہے اور اس کے نتیجے میں سعودی حکمراں خاندان اور پوری ریاست کا وقار داؤ پر لگ گیا ہے۔ مشرق وسطٰی کے تمام ہی ممالک سعودی عرب کو ایک بڑے بھائی کے روپ میں دیکھتے آئے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مناسبت سے سعودی عرب کو اسلامی دنیا میں خاص مقام حاصل ہے۔ اسے انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جو کچھ سعودی عرب نے قطر کے معاملے میں کیا ہے اس کے نتیجے میں خطے کے ممالک ایران کی طرف جھکنے پر مجبور ہوں گے۔ ریاض نے ایران کے معاملے میں جو کچھ چاہا ہے اُس کے بالکل برعکس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

قطر کو بین الاقوامی معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جو کچھ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے کیا ہے وہ پریشانی کا باعث بن رہا ہے مگر خیر، اس سے خود ریاض اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی تو مشکلات بڑھیں گی۔ سعودی عرب کا ساتھ دینے والوں میں مصر، یمن، لیبیا، مالدیپ اور بحرین نمایاں ہیں۔ ان میں سے دو ایک تو ناکام ریاستیں ہیں۔ مالدیپ میں سعودیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہے اس لیے وہ تو کسی بھی حال میں سعودی عرب کے خلاف جانے کے متحمل نہیں ہوسکتا۔ ۲۰۱۲ء میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے بعد سے وہاں شدید سیاسی عدم استحکام ہے۔ اپوزیشن نے حکومت پر ۱۹جزائر سعودی عرب کے ہاتھ فروخت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بحرین امور داخلہ کے معاملے میں خود مختار سہی،امور خارجہ کے معاملے میں وہ سعودی عرب کی طفیلی ریاست جیسا ہے۔ اس وقت اس کی پوزیشن ایسی نہیں کہ کسی بھی حوالے سے سعودی عرب کے خلاف جائے یااس کی بات ماننے سے انکار کرے۔مصر میں غیر معمولی سیاسی و معاشی عدم استحکام ہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ مصر سے سعودی عرب کے تعلقات مثالی ہیں۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ۲۰۱۶ء میں ایران کی طرف جھکاؤ اپنایا تو سعودی عرب نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ تب سے اب تک معاملات معمول پر نہیں آسکے ہیں۔ مصر میں سیاسی و معاشی ہی نہیں، معاشرتی عدم استحکام بھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور مصر کے تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری تو ختم کرادی ہے اوردونوں کوایران کے خلاف محاذپریکجا کردیاہے۔لیبیانے سعودی عرب کی حمایت کااعلان ضرورکیاہے مگریہ اعلان لیبیا کی علیحدگی پسند انتظامیہ کی طرف سے آیاہے جوسعودی عرب اورمصرکی حمایت سے تبروک میں قائم ہے۔ باضابطہ ریاستی سطح پرحمایت کااعلان کیاجاناابھی باقی ہے۔

یمن کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی اپنی حالت بہت پتلی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کچھ زیادہ مفہوم نہیں رکھتا۔ اس وقت یمن میں تین فریق پورے ملک پرتصرف کے دعویدارہیں۔سعودی عرب کی حمایت سےعبدربوہادی کی حکومت قائم تو ہے مگر اس کے کنٹرول میں چند ہی علاقے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے تعاون سے الزبیدی فورسز بھی میدان میں ہیں۔ اور ایران کی حمایت سے حوثی قبائل بھی بعض علاقوں پر قابض و متصرف ہیں۔یمن کے صدر عبد ربو ہادی نے قطرپردہشتگری میں معاونت کاالزام عائدکیاہےمگریہ بات کسی طوربھلائی نہیں جاسکتی کہ مارچ۲۰۱۵ء میں اُنہیں حوثیوں کےقبضےسے نکالنے کے آپریشن میں قطرنے بھی حصہ لیاتھا۔SA vs US

حوثیوں کے قبضے سے نکالنے کے آپریشن میں قطر نے بھی حصہ لیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ یمن کے حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے موقف میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ قطر کے خلاف جانے کے نام پر وہ ایک تو ہوئے ہیں مگر بہت جلد اختلافات ابھریں گے۔گزشتہ مارچ میں صدر عبد ربو ہادی نے جب عدن کے گورنر ادریس الزبیدی کو معزول کیا تھا تب انہوں نے عبوری سیاسی کونسل کا صدر ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن رفتہ رفتہ تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سعودی حکمراں خاندان کسی بھی حال میں یمن کی تقسیم نہیں چاہتا۔

ترکی اور جرمنی نے اس بحران میں قطر کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ سگمر گیبریل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی شدید مذمت کی ہے۔ دوسری طرف رجب طیب ایردوان نے پارلیمنٹ میں قطر کے حق میں بیان دیا ہے۔ ترکی نے قطر کو بحرانی کیفیت میں خوراک فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔ ۷ جون کو ترک پارلیمان نے ایک قرارداد کے ذریعے قطر میں ترک فوج تعینات کرنے کی منظوری بھی دی۔ ترکی نے واضح پیغام دیا ہے کہ قطر کے خلاف جاکر سعودی عرب نے ایک قابل اعتماد دوست کو بھی ناراض کردیا ہے۔ ترکی خطے کا اہم ملک ہے اور اس حد تک طاقتور ہے کہ سعودی عرب اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ علاقائی اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے بہت سے معاملات میں سعودی عرب اور ترکی ایک پیج پر ہیں۔

یہ بات بھی قابل غورہے کہ امریکاپرسعودی عرب پورابھروسانہیں کرسکتاکیونکہ سب سے بڑاہوئی اوربحری مستقراس نے قطرمیں قائم کررکھاہے جہاں سے خطے کے تمام ممالک پر اس کی کڑی نگاہ بھی ہے اورکاروائی کیلئے دس ہزار سے زائدسریع الحرکت فوج کوتعینات کررکھاہے،یہی وجہ ہے کہ بائیکاٹ کے اس عمل پرٹرمپ نے اپنے دورۂ سعودی عرب کوانتہائی کامیاب قراردیتے ہوئے خوشی سے بغلیں بجائیں لیکن اس سے اگلے دن ہی مصالحت کامشورہ دے ڈالا۔یہ بھی ہمیشہ سے جاری امریکی دوغلی پالیسی ہے جس کے نتیجے میں اس نے سعودی عرب اورقطرسمیت خلیج کے دیگرممالک کواپنے گوداموں میں پڑے ہوئے اسلحے کوفروخت کرنے کے نہ صرف معاہدے کرلئے ہیں بلکہ اپنے ملک کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے اگلے کئی سالوں کیلئے روزگارکاسامان مہیاکردیاہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کودباؤمیں رکھنے کیلئے امریکی کانگریس نے گزشتہ سال ایک قانون منظور کیاہے جس کے تحت نائن الیون کے واقعات میں ملوث ہونے کے شبہ میں سعودی حکومت پر بھی مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ٹرمپ کی شاطر انتظامیہ کویہ بخوبی علم ہے کہ امریکی ڈوبتی ہوئی معیشت کوبچانے کیلئے امریکی بینکوں میں عربوں کے سرمایہ کوکس طرح قابومیں کرناہے۔

اس لئے اب یہ ضروری ہوگیاہے کہ سعودی عرب اوراس کے دیگراتحادیوں سمیت ایران بھی فوری طورپرقصرسفید کے چنگل سے نکلنے کیلئے کوئی ایسالائحہ عمل وضع کریں کہ سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی محفوظ رہے۔اس کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ سعودی حکومت ان تمام پڑوسی مسلم ریاستوں سے بلاتاخیر”شفیق ماں”جیسا سلوک روارکھے اورپاکستان اورکویت کی مصالحانہ کوششوں کوخوش دلی سے قبول کرتے ہوئے بائیکاٹ کو ختم کرے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قطر کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش میں سعودی عرب ہی الگ تھلگ ہوکر رہ جائے۔ بہتر یہ ہے کہ خطے کے مسائل پر مل کرتوجہ دی جائے اورایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کے بجائے معاملات کوافہام وتفہیم سے طے کیاجائے۔

 

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>