Chaman Border

نادان دوست یامکاردشمن

چمن کوئٹہ شہرسے اندازاً۱۲۰/کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔یہ پاکستان اورافغانستان کے دوبڑے شہر قندہار اوردیگرجنوبی علاقوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے۔ بدقسمتی سے بھارتی”را” افغانستان میں موجودہ افغان حکومت کے ساتھ پینگیں بڑھاتے ہوئے پاکستانی سرحدسے متصل چھ قونصل خانوں سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں شب و روزمصروف ہے اورپاکستان نے درجنوں مرتبہ بھارتی”را” کی طرف سے افغان سرزمین سے پاکستان پردہشتگرد حملوں کے مضبوط شواہداوردیگرٹھوس ثبوتوں کے ساتھ افغان حکومت کو پاکستان دشمن سرگرمیوں کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے احتجاج بھی ریکارڈ کروایااورتاریخی حوالوں سے افغان عوام کیلئے پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کاحوالہ دیتے ہوئے اس آگ وخون کے کھیل کوختم کرنے کیلئے بھارتی”را”کاآلہ کاربننے کے نقصانات سے بھی آگاہ بھی کیا لیکن افغان کٹھ پتلی حکومت منافقانہ کردارسے بازنہیں آرہی۔ حال ہی میں تین اعلیٰ سطحی پاکستانی وفودنے نیک خواہشات کے پیغامات کے ساتھ افغانستان کادورۂ بھی کیاجہاں افغان حکومت کوہرقسم کی امدادکایقین بھی دلایاگیالیکن موجودہ افغان کٹھ پتلی حکومت اپنے بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے پرعملدرآمد کرتے ہوئے پہلی مرتبہ باقاعدہ جنگ کاساماحول پیداکردیا۔
پاکستان اورافغانستان کے درمیان گذشتہ روزچمن کے قریب سرحد پرجھڑپ اب تک کی سب سے زیادہ جان لیواثابت ہوئی جس کی وجوہات اب کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ اصل تنازع ٢٨ اپریل کو شروع ہوا جب پاکستانی فوج نے افغان حکام کو اطلاع دی کہ وہ چمن سرحد کے قریب دو دیہاتوں میں مردم شماری کیلئے جا رہے ہیں۔ وہاں افغان فورسز نے انہیں روک دیا اور کہا کہ یہ افغان علاقہ ہے۔اس پرپاکستانی حکام نے انہیں نقشوں کی مددسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن تنازع حل نہ ہوا لہذا اس روز ٹیم واپس لوٹ گئی۔مردم شماری کے چوتھے روز ۲۹/ اپریل کو مردم شماری کی ٹیم کلی لقمان اورکلی جہانگیرمیں مردم شماری کیلئے گئی۔ یہ وہ گاؤں ہیں جو سرحد کی دونوں جانب ہیں لیکن ہماری ٹیمیں پاکستان میں مردم شماری کررہی تھیں۔ ۳۰/اپریل کو اس حوالے سے افغان بارڈر پولیس کے مقامی کمانڈر کے ساتھ میٹنگ کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ہمیں تین چار روز دے دیں پھراس کے بعدآپ اپنا کام دوبارہ شروع کرلیجیے گا۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق اس کے بعدمتعددمرتبہ افغان حکام سے رابطہ کیا گیااوراپنی خواہش کااظہارکیاگیالیکن چارمئی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔آئی جی ایف سی نے بتایاکہ حکام نے افغان بارڈرپولیس کودوبارہ چارمئی کوبتایا کہ کل یعنی پانچ مئی سے مردم شماری کاکام دوبارہ شروع کیاجارہا ہے بالخصوص ان دوگاؤں کے ان حصوں میں جوپاکستان میں آتے ہیں۔افغان سیکورٹی فورسزکوباقاعدہ اطلاع دیکرٹیم ایک مرتبہ پھروہاں روانہ کی گئی اورجس کے جواب میں باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن کے قریب سرحد پرجھڑپ اب تک کی سب سے زیادہ جان لیواثابت ہوئی جس کی وجوہات اب کھل کرسامنے آرہی ہیں۔
افغان بارڈرپولیس چاراورپانچ مئی کی درمیانی رات کوافغانستان میں پڑنے والے ان دودیہات کے حصوں کواستعمال کرتے ہوئے پاکستانی حصے میں داخل ہوئے اورلوگوں کے ساتھ زورزبردستی کی اوران کوانسانی ڈھال کے طورپراستعمال کیا۔ان کے مکانوں پرقبضہ کرکےپوزیشنیں سنبھال لیں۔اس حوالے سے جب افغان بارڈرپولیس سے رابطہ کیاگیاتوانہوں نے اس کاجواب دینے سے انکارکردیالہنداہمارے بہادراورغیورلوگوں نے افغان بارڈر پولیس کے اہلکاروں کی مزاحمت کی توانہوں نے ایک بچے کوگولی مارکرہلاک کر دیااوراپنی پوزیشنیں مستحکم کرلیں۔ اس کے بعدچاراورپانچ مئی کی رات کو ایف سی اورپاکستانی فوج نے آپریشن کاآغازکیااورصبح افغان بارڈرپولیس کے اہلکاروں کوپاکستانی علاقے سے نکال دیا۔میجرجنرل ندیم احمدنے میڈیا کویہ بھی بتایاکہ ہم چاہتے توزیادہ نفری اورطاقت کے ساتھ علاقہ بہت جلدی خالی کرالیتے لیکن پاکستان اورافغانستان میں شہری آبادی ہونے کے باعث ہم نے ایسانہیں کیالیکن علاقے سے نکالے جانے پرافغان اہلکاروں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں۴۰ سے زیادہ شہری زخمی ہوئے اوربارہ افراد ہلاک ہوئے ۔ ہم نے ان چیک پوسٹوں کونشانہ بنایاجہاں سے شہری آبادی پرفائرآرہاتھا۔ان کی پانچ چیک پوسٹیں مکمل طورپرتباہ کی گئیں اورافغان بارڈرپولیس اور سکیورٹی فورسز کے پچاس اہلکار ہلاک اور سوسے زیادہ زخمی ہوئے۔Chaman Border
میجرجنرل ندیم احمدنے بتایا کہ جب پانچ مئی کوجھڑپیں جاری تھیں توافغان حکومت نے پاکستانی حکومت کوجنگ بندی کی درخواست دی جس کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسزنے دوپہردوبج کربیس منٹ پرجنگ بندی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ مئی کوفلیگ میٹنگ ہوئی جس میں کچھ امورزیربحث آئے۔ ”یہ ہمارااٹل فیصلہ ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی سرحدپربحث نہیں ہو سکتی اورہم اس پرکسی قسم کی خلاف ورزی کوقبول نہیں کریں گے۔اس کے دفاع کیلئےجس حدتک جاناپڑاجائیں گے”۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس واقعے کی تمام ترذمہ داری افغان بارڈرپولیس کے کمانڈراورسپین بولڈک میں تعینات کمانڈروں کی ہے تاہم جی ایچ کیواور افغان ملٹری کے درمیان فلیگ میٹنگ کے نتیجے میں یہ طے پاگیاکہ افغانستان اورپاکستان کی سروے ٹیمیں اس سرحدکاجائزہ لیکرپاک افغان سرحدکے اس حصے کو ڈیمارکیٹ کرکے اس تنازع کوہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی پوری کوشش کریں گی جس کیلئے باقاعدہ زمینی طورپرکام شروع ہوگیاہے تاہم ایک مرتبہ پھرپاک افغان چمن سرحدمکمل طورپربندکردی گئی ہے۔یادرہے کہ اس سے قبل بھی انہی وجوہات کی بناء پرچمن کے باب دوستی کو۱۹فروری سے۲۰مارچ ۲۰۱۷ءتک بندکردیاگیاتھا۔ بعد ازاں برطانیہ کی ثالثی پرلندن میںپاک افغان سرکاری حکام کے اہم مذاکرات کے بعدکڑی شرائط کے ساتھ اس سرحد کوکھولاگیاتھالیکن بدقسمتی سے چھ ہفتوں کے قلیل وقفے کے بعدافغان کٹھ پتلی حکومت نے دوبارہ اپنے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پرپاکستان کے دست وبازوکوآزمانے کیلئے ایک نادان دوست کاطرزعمل اختیارکرتے ایسے دگرگوں حالات پیدا کردیئے کہ پاکستان کواپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے ناگواری میں یہ قدم اٹھاناپڑا۔
دراصل بھارت افغانستان میں حکمت یارکی واپسی کواپنے لئے ایک بڑاخطرہ محسوس کررہاہے۔مودی سرکاراس بات سے بخوبی واقف ہے کہ حزب اسلام کے سربراہ حکمت یارہرحال میں پاکستانی مفادات کاتحفظ کریں گے اوراس طرح پچھلے دس سالوں سے اس کی کثیرسرمایہ کاری اورمستقبل کی تمام منصوبہ بندی خاک میں مل جائے گی۔عالمی اوربھارتی ذرائع ابلاغ کابھی کہنا ہے کہ حکمت یارکی افغان سیاست میں واپسی کے باعث یقیناافغانستان میں بھارتی کردارختم ہوجائے گاکیونکہ حکمت یارکابھارت خاص طورپرکشمیر پرماضی میں اوراب بھی مؤقف کافی واضح اورسخت ہے اورکشمیریوں پر بھارتی ظلم وتشددکے باعث انہوں نے کئی مرتبہ اس بات کاعندیہ بھی دیا تھاکہ افغانستان اپنے کشمیریوں بھائیوں پربھارتی تسلط اوربے پناہ ظلم وتشددکامداواکرنے کیلئے اپنی ذمہ داری کوضرورنبھائے گا۔بی بی سی کے مطابق حزب اسلامی کے سربراہ کی پاکستان سے بے لوث دوستی ہمیشہ کی طرح آج بھی قائم ہے ۔ وہ شخصیات نہیں بلکہ پاکستان کے دوست ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ حزبِ اسلامی واحد جماعت ہے جونسلی اورمذہبی تعصب سے پاک ہے۔ان کی جماعت میں سنی تاجک وازبکوں کے علاوہ بامیان کے شیعہ بھی شامل ہیں۔یہ کسی کومعلوم نہیں کہ وہ طویل عرصہ کہاں رہے ہیں لیکن ان کی واپسی کاسلسلہ اسلام آباد سے شروع ہواتاہم ان کی واپسی کااعلان پاکستان میں متعین افغان سفیر زاخیلوال نے سب سے پہلے اپنے ٹوئٹ میں کیا۔افغان سیاست سے طویل غیر حاضررہنے کے باوجودان کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جس کی واضح مثال کابل میں جمعے کے بڑے اجتماع اورکابل کے اسٹیڈیم میں لاکھوں افغانوں کے اجتماع نے امریکا،مغرب اوربھارت کوواضح پیغام دے دیاہے اوریہ سب کوعلم ہے کہ وہ پاکستان سے بڑھ کرپاکستانی مفادات کا تحفظ کرنے والے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت اوردیگرافغان دشمن طاقتیں افغانستان میں ایسے حالات پیداکرنے کی ازحد کوششوں میں مصروف ہیں جس کی بناء پروہ افغان امن کوسبوتاژکرکے اسے ایسے انتشار میں مبتلاکردیں جس کی بناءپروہ مزید افغانستان میں قیام کرنے کیلئے اپناجوازثابت کرسکیں لیکن حکمت یارکی طرف سے امریکی اورہرقسم کے بیرونی قوتوں کے انخلاء کیلئےطالبان سے تعاون کی اپیل کے جواب میں طالبان نے مثبت پیغام دیکر خطے میں سیاست کی تبدیلی کااعلان کردیاہے۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>