Brave Kashmiries

کوئی ہے جو اُن کی فریاد سنے؟ (پہلی قسط)

کیاموجودہ  جنگی جرائم کے ٹرائل آج کےدرندہ صفت انسانوں کو ایک عبرتناک مثال بنا سکیں گے جیسا کہ چرچل نے کہا تھا ’’انہیں گردن سے پکڑیں‘‘۔ اگر نیمبرگ ٹرائلز فاتحین کا انصاف تھے تو بھی میں ایسے ہی ٹرائل کو ترجیح دیتا ہوں، بجائے اس کے کہ استعماری قوتوں کی فورسزجیت جائیں اورعالمی عدالت انصاف  ہیگ میں ان مظلوموں کی دادوفریادسنانے والوںکاٹرائل اور ناانصافی کے بعددنیاایک ایسی خانہ جنگی کاشکارہوجائے جس کے جواب میں کوئی رونماقیامت اس دنیاکواپنے انجام تک پہنچادے۔

اس وقت جنگی جرائم کے ٹرائل کا مطالبہ ہر طرف سے زور پکڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ سوئس جوڈیشل اتھارٹیز کے سامنے رفعت الاسد پر جنگی جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلایاگیا۔ رفعت الاسد شام کے صدر بشارالاسد کے چچا اور حافظ الاسد مرحوم کے بھائی ہیں۔ان پر۱۹۸۰ءمیں تدمرجیل،اور۱۹۸۲ء میں حمہ میں قتل عام کا الزام ہے۔ یواین کمیشن برائے شام اورایمنسٹی ان پرجنگی جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلانے میں فریق ہیں۔ اب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے داعش کے خلاف متفقہ طور پر ایک قراردادمنظور کی ہے جس میں اس پر’’نسل کشی، جنگی جرائم اورانسانیت کے خلاف جرائم‘‘کاارتکاب کرنے کے الزامات کا ثبوت حاصل کرنے کا کہا گیا ہے لیکن کیاداعش کی تشکیل کرنے والوں کوعدالت کے کٹہرے میں لایاجا سکتاہے؟جبکہ سابقہ امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے میڈیامیں اپنے کئی انٹرویوزاوراپنی کتاب میں “داعش”کی تشکیل کااعتراف کیا ہے۔

دنیاکے دیگرانسانوں کی طرح میں بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات اوران کاارتکاب کرنے والوں کوٹرائل کاسامنا کرتے دیکھناچاہتا ہوں، لیکن اس دوران میں یہ بھی چاہتاہوں کہ قدرے توازن قائم ہوجائے توبہترہے۔ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والوں نے بوسنیا کی جنگ کے بعد الزامات کا دائرہ پھیلا دیا۔ اس کے نتیجے میں جنگی جرائم کاارتکاب کرنے والے سرب مجرموں کے ساتھ ساتھ بوسنیا اورکروشیا کے دیگرمجرم بھی ہیگ عدالت کےکٹہرےمیں کھڑے دکھائی دیے۔

مجھے یادہے کہ میڈیامیں برملااس شک کااظہارکیاجاتاتھا کہ(Milosevic) میلا سویک کوکبھی بھی عدالت میں نہیں لے جایاجاسکے گا۔ تاہم ایک پولیس افسر پُرعزم تھا۔ اس کاکہناتھا:’’ہم اسے پکڑیں گے، ہم اسے ہیگ عدالت کے سامنے پیش کریں گے‘‘اوروہ پولیس افسر درست تھااورمیڈیا میں الزام لگانے والے غلط نکلےلیکن وہ جیل میں ہی مرگیا(ہیگ عدالت کے بہت سے دیگرملزمان کی طرح، جوفیصلہ سنائے جانے سے پہلے اس دنیاسے رخصت ہوگئے)۔ تاہم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔کہاگیاکہ آپ جنگی جرائم کاارتکاب کرکے بچ نہیں سکتے۔ صدام حسین بھی نہیں بچ سکا، اگرچہ اُن کا ٹرائل ایک مضحکہ خیز ڈرامے بازی تھی۔ لبرل یورپ کی طرف سے کوئی احتجاج دیکھنے میں نہ آیا، جب صدام حسین کوتوہین آمیزطریقے سے سزادی گئی جبکہ اس کے سیاسی مخالفین جشن منارہے تھے۔ ہمیں یادرکھناہوگاکہ صدام حسین کوسنائی جانے والی سزا ہیگ کے معیارسے شرمناک حد تک برعکس تھی۔ کردوں کوگیس سے ہلاک کرنے کا ذکر تک نہ کیا گیا، کئی سال پہلے اپنے مسلکی حریف شیعوں کوہلاک کرنے کی پاداش میں سزاسنائی گئی۔ اس طرح ہیگ نے پوری کوشش کرتے ہوئے اس ٹرائل کومسلکی رنگ دے دیا۔ اس پرکردششدررہ گئے تھے۔

مجھے شک ہے کہ اگرداعش کااصل لیڈرگرفتارہوگیا تواس پربھی ایساہی مقدمہ چلے گا۔ میں تصور کرسکتا ہوں کہ اگر اسے کبھی کٹہرےمیں کھڑا کرنے کی نوبت آئی تو اس سے کم ازکم یہ سوال ہر گز نہیں پوچھا جائے گا کہ اُس نے وہ جدید ہتھیار کہاں سے حاصل کیے تھے جن سے اُس کے جنگجوؤں نے شام اور عراق میں خون کی ہولی کھیلی اوراب افغانستان میں اپنے دانت تیزکررہے ہیں۔ جب ڈیوڈ کیمرون نے’’دہشت گردوں کی فنڈنگ‘‘ کی تحقیقات کیلئےانکوائری کمیشن بنایاتوہماری نیک سیرت ٹریسامے نے اس کی رپورٹ کوخفیہ رکھاتاکہ  ان کی ایک دوست اہم ریاست کوشرمندگی کاسامنانہ کرناپڑے۔ کیااس کی تشکیل کرنے والے اورفنڈنگ کرنے والے اصل مجرم نہیں جوانتہاپسندوں کوہتھیار خریدنے کیلئےرقم فراہم کرتے ہیں؟

مجھے ایک مرتبہ ہیگ کے ایک افسرکی فون کال آئی۔ اُس افسرنے مجھے کہا کہ ایک سرب کمانڈرجوایک عقوبت خانے کانگران تھا،کے خلاف ثبوت فراہم کروں۔ میں نے کہاوہ میری شائع شدہ رپورٹ کومقدمے کی کارروائی کیلئےاستعمال کر سکتا ہے لیکن میں بذاتِ خود گواہی کیلئےپیش نہیں ہوں گاکیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگاکہ آپ جنگ کے دوران اس رپورٹرکانام افشاءکرکےجاسوس کاکرداراداکرنے لگ جائیں۔مجھے دھمکی دی گئی کہ عدالت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکارکی بناء پرمجھے گرفتارکیاجاسکتاہے۔ میں نے جواب دیاکہ میں ہیگ کااحترام کرتا ہوں اوراس کے ساتھ تعاون کرنےBrave Kashmiries کیلئےتیارہوں لیکن شرط یہ ہے کہ عدالت مشرق وسطیٰ کے جنگی مجرموں کا ٹرائل بھی کرے۔ میں نے سربیا،چنالیا اور غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کابھی ذکرکیا۔ میں نے یہ بھی استفسار کیاکہ کیا لبنانی کرسچین ملیشیا کوبھی گرفتارکیا جائے گاجنہوں نے۱۹۸۲ء میں۱۷۰۰ فلسطینی مردوں،عورتوں اوربچوں کوبے دردی سے قتل کیاتھا؟ بلکہ اس سے بھی اہم، کیا انہیں قتل عام کی کھلی چھٹی دینے والے اُس وقت کے اسرائیلی وزیردفاع ایریل شیرون (جوبعد میں وزیراعظم بھی بنے) کوبھی گرفتارکرکے عدالت کے کٹہرے میں کھڑاکیاجائے گا؟، ایک لاکھ سے زائدبے گناہ کشمیریوں کوشہید اورسینکڑوں کشمیریوں کوپیلٹ گن سے بصارت سے محروم کرنے والی بھارتی سیکورٹی فورسزاورفوج کے طویل جرائم کاذکرکرتے ہوئے نریندرمودی کوبھی عدالت کے کٹہرے میں لانے کابھی مطالبہ کیا۔قارئین کویہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے دوبارہ اُس افسر کی فون کال وصول نہیں ہوئی۔

دوسری جنگ عظیم سے قبل اگر کچھ افرادیاجماعتیں ایسے کام کرتی تھیں جو تسلیم شدہ بین الاقوامی قانونِ جنگ کے منافی ہوں تووہ جنگی جرائم تصورہوتے تھے۔ مثلاً مقبوضہ ممالک کے باشندوں یاغیرلڑاکافوجیوں کاجنگی سرگرمیوں میں ملوث ہونا۔ عارضی صلح ہوجانے کی صورت میں بھی قتل وغارت گری اور متشددانہ کارروائیاں جاری رکھنایاصلح کے سفیروں پرگولی چلاناجنگی جرائم کے ذیل میں آتاتھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعدبین الاقوامی جنگی ٹریبونل نے جارحانہ جنگ کے منصوبے باندھنا، شہری آبادی کوقتل کرنا، اس سے بدسلوکی کرنایاغلامانہ مزدوری کرانے کیلئےلوگوں کودوسرے ملک میں لے جانا بھی جنگی جرائم میں شامل کردیے۔وہ افرادجوجنگی جرائم کامطالبہ کرتے نہیں تھکتے وہ بھی دراصل من پسند ٹرائل چاہتے ہیں۔ وہ ہرگزنہیں چاہتے کہ تمام مجرموں کوبلاتخصیص گرفتارکرکےکٹہرےمیں کھڑاکردیاجائے خواہ ان پرکوئی الزام ہویانہ ہو۔وہ اُن طاقتورحلقوں کی تادیب نہیں چاہتے جن سے انہیں فنڈزملتے ہیں یاجوان سے ہتھیارخریدتے ہیں یایو این کے بل اداکرتے ہیں۔ مثال کے طورپر یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ رفعت الاسد کئی عشروں سے یورپ میں رہ رہے تھے۔اُن پراس وقت سے ہی حمہ میں شہریوں کوہلاک کرنے کاالزام تھا۔ تاہم وہ لندن میں پرتعیش زندگی بسر کرتے رہے۔ یہی نہیں دنیا کے بیشتر ملکوں کے حکمران جواپنے اپنے ممالک کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ہیں لندن میں نہ صرف ان کی عظیم الشان جائیدادیں ہیں بلکہ وہ یہاں بھی شاہانہ زندگی ہی گزارتے ہیں؟ان میں غالباًدنیاکے ہربراعظم کے حکمران شامل ہیں۔ میں نے اُس وقت بھی یہ سوال اٹھایاتھاکہ اسکاٹ لینڈ یارڈکئی برس سے برطانیہ میں پُرسکون زندگی گزارنے والے رفعت الاسد کی طرف کیوں نہیں دیکھتی، آخر اس میں کیا چیز حائل ہے؟(جاری ہے)

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>