Ali Gilani4

”میری سنوجوگوشِ نصیحت نیوش ہو”

پچھلی سات دہائیوں سے زائدمقبوضہ کشمیرمیں سلگتی اوردہکتی آگ کی تپش جس شدت سے اب دنیامیں محسوس کی جارہی ہے اغلباًاس سے قبل اقوام عالم کی بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کی خاطراس سے جان بوجھ کراس سے جوغفلت برتی ہے ،اب ان کونئے سرے سے سے یہ پریشانی لاحق ہوگئی ہے کہ اگراس آگ کویہاں نہ روکا گیاتوبعیدنہیں کہ اس سے ہمارادامن خاکسترہونے سے بچ سکے،یہی وجہ ہے کہ اب امریکاجس نے اپنے مفادات کیلئے بھارت کوگودلے رکھاہے ،وہاں کے مشہورزمانہ اخبارات نیویارک ٹائمز اورواشنگٹن پوسٹ بھی واویلاکررہے ہیں کہ” کشمیرمیں چوتھی نسل اپنے بنیادی حقوق خوداردایت کیلئے اپنے جان ومال کی قربانیاں دینے کیلئے پنے آباؤاجدادسے زیادہ پرجوش اورپرعزم ہیں اور مقبوضہ کشمیراب بھارت کے ہاتھوں تیزی سے نکل رہاہے” اوروہ بھی اپنے حالیہ مضامین میں بھارت کومشورہ دے رہے ہیں کہ کوڑھ مغزمودی سرکارکواپنے بیٹے کلبھوشن کی بات مان کردینی ہوگی۔اس کے اقبال جرم پرصادکئے بغیراب کوئی چارہ ہی نہیں مگراس سے پہلے بھارت نواز کشمیری لیڈرفاروق عبداللہ کی صدائے حق پرلبیک کہنا ہو گا جوپہلی مرتبہ چلااٹھاہے کہ ”میری سنوجوگوشِ نصیحت نیوش ہو”۔ مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ کی صداپراس بناپر بھی گونگے بہرے بنے رہنے کاجوازباقی نہیں ہے کہ یہ وہی شخص ہے جوبھارت سرکارکی کٹھ پتلی کاکرداراداکرتارہاہے۔یہ صاحب کشمیر کے ناہنجار بیٹے ہی رہے،ان کی بھی نہ سنی تومزیدتباہی مودی اینڈکمپنی کامقدربنی رہے گی اوربقول شاعر:
روئیں نہ ابھی اہل ِنظرحال پرمیرے
کہ ہوناہے ابھی مجھ کوخراب اورزیادہ
کی تفسیربنے رہے گی۔بھارتی میڈیاکودیئے گئے انٹرویومیں نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت کوحالیہ ضمنی ناکام انتخابات کے دوران تشدد اورقتل وغارت گری پرشدیدغم وغصے کااظہارکرتے ہوئے مودی حکومت کوذمہ دارٹھہراتے ہوئے خبردارکیاہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے ورنہ رہاسہامقبوضہ کشمیربھی پاکستان میں شامل ہوجائے گا۔فاروق عبداللہ کاکہناتھا:مودی سرکارآگ سے کھیل رہی ہے،سیکورٹی فورسز کے بہیمانہ ظلم وستم اورفائرنگ کے جواب میںپتھراؤ کرنے والے کشمیری نوجوان کسی عہدے یا وزارت کے طلبگارنہیں بلکہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف لڑرہے ہیں کیونکہ بھارتی حکومت نے ان سے ہرقسم کی آزادی چھین لی ہے اوروہ آزادی کیلئے لڑرہے ہیں۔آپ چاہیں یانہ چاہیں پاکستان سے مذاکرات کرناہوں گے۔انہوں نے مختلف بھارتی چینلزپربراہِ راست مودی کومتنبہ کرتے ہوئے کہا: جاگو، جاگوانڈیا:تم کشمیرکھورہے ہو۔پاکستان سے فوری بات کرکے مسئلے کاحل نکالو!
مقبوضہ کشمیرمیں حالیہ ضمنی انتخابات بے حدچشم کشاہیں۔بھارت کی سفاک فوج نے گجرات کے قصاب اوربھارت کے دہشتگردنریندرمودی کی قیادت میں نہتے کشمیریوں پربے رحمانہ فائرنگ کرکے درجنوں کشمیریوں کوشہیداورسینکروں کوزخمی کردیاہے۔سرینگر،بڈگاماورگاندربل اضلاع کے ڈیڑھ ہزارپولنگ اسٹیشنزپراحتجاج کرنے والوں پربھارتی فورسز نے اندھادھندفائرنگ کی جن خالی نشستوں پرضمنی الیکشن ہورہاتھاان میں سے ایک اس وقت خالی ہوئی جب مقامی رکن اسمبلی نے بھارتی فوج کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی شہادت پربطوراحتجاج گزشتہ برس استعفیٰ دیا۔ضمنی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح شرمناک حدتک چھ فیصدسے کم رہی جوتیس برسوں کے دوران سب سے کم شرح ہے۔بھارت نے کشمیر پر اپناجابرانہ تسلط برقرارکھنے کیلئے چھ لاکھ سے زائدسیکورٹی فورسزکوتعینات کررکھاہے۔ضمنی انتخابات کے دوران حریت پسندوں کی مزاحمت کے پیش نظربیس ہزارمزیدفوجی مقبوضہ کشمیر بھیجے گئے ۔پولیس اورفوج نے مل کرہزاروں کشمیری نوجوانوں کوگرفتارکررکھاہے۔ان کاجرم یہ ہے کہ وہ بھارتی قبضے اورظلم وستم کے خلاف آوازبلندکررہے ہیں۔
قائداعظم محمدعلی جناح نے کشمیرکوپاکستان کی شہہ رگ قراردیاتھاکیونکہ کشمیرجغرافیائی طورپربھی پاکستان سے منسلک ہے۔اس کے خشک راستے اور آبی دھابے پاکستان کی طرف چلتے ہیں۔تاریخی اورثقافتی حوالے سے دیکھیں توپاکستان اورکشمیرواضح طورپرایک نظرآرہے ہیں۔کشمیراورپاکستان کے لوگوں کے درمیان سب سے اہم رشتہ مذہب کاہے۔یہ وہ بنیادی خصوصیات ہیں جوجواہل کشمیراوراہل پاکستان کوایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ۳جون ۱۹۷۴ء کے اعلان آزادی میں یہ طے پایاتھاکہ برصغیرکی ریاستیں پاکستان یابھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں گی،اس وقت تیسراکوئی آپشن طے نہیں ہواتھا۔بھارت نے کشمیرکے ڈوگرہ حکمران کے ساتھ ملی بھگت اورطاقت کے ناجائز دباؤ کے تحت یہاں کی مسلم اکثریتی آبادی پراپناجبرنافذکرکے ناجائزقبضہ کرلیاتواسی دن سے کشمیری عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اورآج تک اپنے بنیادی حق کیلئے لاکھوں جانیں قربان کرچکے ہیںاوردن بدن اپنی لازوال قربانیوں اورعزم صمیم سے بھارت کی سیکورٹی فورسزکے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔Ali Gilani4
تقسیم ہندکے فوری بعداہل کشمیرکی مزاحمت نے قابض فوج کوکئی علاقوں سے پسپاکردیااوراب یہ علاقے آزادکشمیرپرمشتمل ایک نئی جغرافیائی حقیقت بن چکے ہیں۔بھارت نے کشمیر کوہاتھ سے جاتادیکھا تواقوام متحدہ سے مداخلت کی درخواست کی ۔سوویت یونین اوردیگرعالمی طاقتوں نے بھارت کی مددکی اورکشمیریوں کویہ کہہ کرجنگ روکنے کاکہاگیاکہ بھارت کشمیرکافیصلہ اہل کشمیرکی رائے سے کرنے پرآمادہ ہے۔بھارت نے اس امرکاعہداقوام متحدہ میں تحریری طورپرکیااوراس عہدکواب سات دہائیاں ہورہی ہیں۔عالمی برادری کے سامنے عہدکرنے کے بعدبھارت حیلے بہانوں سے اس معاملے سے روگردانی کرتاچلاآرہاہے۔
بھارتی حکومتیں اہل کشمیرکواس امرپرقائک کرنے کی کوشش کرتی رہیں ہیں کہ وہ بھارتی آئین کوقبول کرکے مزاحمت ترک کردیں۔اپنی ان بناوٹی کوششوں کودنیاکے سامنے پیش کرنے کیلئے بھارت نے کئی بارچندکشمیری رہنماؤں کوخریدنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی۔ان خریدے گئے رہنماؤں نے بھارتی آئین کے تحت ریاست میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیااوربھارت سے خوب مراعات پائیں۔یہ حکمت عملی میں طویل المدتی کامیابی کاذریعہ نہ بن سکی۔شیخ عبداللہ کے پوتے اورسابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمرفاروق عبداللہ کوبھی آخرکاریہ کہناپڑاکہ بھارت جبرکے ذریعے سے کشمیریوں کواپنے قابومیں نہیں رکھ سکتا۔اس امرمیں رتی بھرشبہ نہیں کہ مقبوضہ کشمیرمیں انتخابات کاڈھونگ قطعی طورپرحق خود اردایت کانعم البدل نہیںہوسکتا،اہل کشمیر اپنا حق طلب کررہے ہیں،یہ حق جومہذب دنیابنیادی شہری حق کے طور پرتسلیم کرتی ہے۔
مقبوضہ کشمیرکی آبادی کیلئے بھارت کاتسلط قابل قبول نہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے تمام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح ظاہرکرنے کیلئے بھارت بڑے پیمانے پربین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔بھارت کی تمام ترمکاری کے باوجودمقبوضہ کشمیرمیں ووٹنگ کی شرح نے بھارتی پروپیگنڈہ کواقوام عالم میں ننگا کر دیاہے۔حالیہ ضمنی انتخاب میں یہ شرح ساڑھے چھ فیصدریکارڈکی گئی جس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتاہے کہ اہل کشمیربھارتی جمہوریت کوایک ڈھونگ سمجھتے ہیں۔بھارت برسہابرس سے انہیں اپنی فرمانبرداری کے عوض جوسہانے خواب دکھاتا آیا ہے کشمیریوں نے انہیں یکسرردکرکے پوری دنیاپرواضح کردیاہے کہ کشمیریوں کو آزادی سے کم کسی قسم کی رعائت کوقبول نہیں ۔
اس انتہائی جائزاوربنیادی مطالبے کے جواب میں بھارتی فوج انہیں شہیدوزخمی، معذور،بینائی سے محروم اورعفت مآب کشمیری بیٹیوں کی درندہ صفت فوجیوں کے ہاتھوں عصمت دری جیسے خوفناک دہشتگردی سے خوفزدہ کرکے انہیں دبانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ حالیہ دنوں میں غاصب بھارتی فورسزکی بہیمانہ کاروائیوں میں مزیداضافہ ہوگیاہے۔ مقبوضہ کشمیرکے دارلحکومت سرینگرکے مشرقی ضلع گاندربل میں پولیس نے ایک درجن سے زائدکرکٹ کھلاڑیوں کو گرفتار کر لیا،یہ کشمیریوں کے وہ مسلمان کرکٹرزہیں جنہوں نے ایک کرکٹ میچ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کی وردی زیب تن کرکے مقابلے سے پہلے پاکستان کاقومی ترانہ گایا تھا۔ ان نوجوانوں کایہ ویڈیوکلپ فیس بک ،واٹس ایپ اورسوشل میڈیا پر ساری دنیامیں وائرل ہوگیا جس کودیکھ کربھارتی فوجیوں کی حسدکی آگ ایسی بھڑکی کہ انہوں نے فوری طورپرکشمیرکے کئی مقامات پرآپریشن کرکے ان نوجوانوں کو گرفتارکرلیااورابھی تک ان دوافرادکی تلاش جاری ہے جنہوں نے اس میچ کااہتمام کیاتھا۔
جموں وکشمیرمیں وحشت انگیزسانحات پیش آئے جنہیں لکھتے ہوئے قلم بھی اشک بارہوجاتے ہیں۔کشمیریوں کوپاکستانی پرچم سربلندرکھنے کیلئے ہر دور میں آگ وخون کے دریاپیش آئے کشمیریوں پرظلم وستم کے پہاڑڈھانے کے باوجودان کے دلوں سے پاکستان سے محبت کے جذبے کوسردنہیں کرسکا ۔کشمیرکی جدوجہدآزادی کا محورنظریہ پاکستان کی آفاقی فکرہے۔ہندوکی غلامی سے انکاراوربھارتی مراعاتی پیکجزکومستردکرتے ہوئے آج نوجوان جموں و کشمیر پرپاکستانی پرچم لہراتے ہوئے شہیدہورہے ہیں۔یہ نظریہ پاکستان کوزندہ رکھنے ہی کافیض ہے کہ پاکستان اورکشمیرکے مسلمانوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔نظریہ پاکستان کی اسی آفاقی فکرکے تحت کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے لیکن کیاہمارے سیاستدانوں کواس کااحساس بھی ہے؟

About سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>