1

کشمیر:نیوکلیرفلیش پوائنٹ

میں نے اپنے سابقہ کالم میں یہ تحریرکیاتھاکہ کشمیری مسلمان نظریہ پاکستان کی وجہ سے پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ جس عظیم رشتے سے پیوستہ ہیں وہ انہیں ایک دوسرے سے ہرگز جدانہیں ہونے دے گالیکن اپنے ہاں پاکستانی سیاستدانوں کی اپنے اقتدارکی ہوس نے جس بری طرح کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم پرمجرمانہ خاموشی اختیارکررکھی ہے،اس کا احتساب کون کرے گا؟اس میں شک نہیں کہ نظریہ پاکستان کی اس آفاقی فکرکے تحت کشمیربھارت کانہیں بلکہ پاکستان کاحصہ ہے اورمسئلہ کشمیرتقسیم ہندکانامکمل ایجنڈا۔آج ہم دیکھ رہے ہیںکہ بھارت کی سفاک فوج نے کشمیری نوجوانوں کے خلاف چومکھی جنگ چھیڑرکھی ہے تواس کاپس منظربھی یہی ہے کہ بھارت کشمیرکے مسلمان کی پہچان کواسی لئے ختم کرنا چاہتاہے تاکہ خطہ کشمیرسے نظریۂ پاکستان کاخاتمہ ہوسکے۔واضح رہے کہ خطہ کشمیر کبھی بھی بھارت کاحصہ نہیں رہا۔١٩٣٠ء سے آج تک کشمیرکے مسلمانوں نے اپنی مسلم شناخت برقراررکھتے ہوئے ہمیشہ متنوع قسم کے ہندوؤں کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکارکیاہے۔
کشمیرکاپاکستان سے تعلق کلمہ طیبہ کی بنیادپرقائم دینی رشتے ،مسلم تہذیب وثقافت اورجغرافیائی وسعتوں پرمحیط ہے۔دینی رشتہ ،مسلم تہذیب و ثقافت ،کشمیرکی تاریخ ،جغرافیہ اور دریاؤں کارخ یہ ثابت کرتاہے کہ کشمیرپاکستان کاقدرتی حصہ ہے۔تقسیم برصغیرکے ایجنڈے (جسے دانش فرنگ نے جان بوجھ کرنامکمل اورادھورا چھوڑدیاتھا)کی تکمیل کیلئے اسلامیانِ کشمیرجہادمیں مصروف ہیں جس میں ۱۹۴۷ء سے لیکراب تک پانچ لاکھ سے زائدفرزندان کشمیراپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ تقسیم برصغیرسے لیکرآج تک اہل کشمیرنے ہر مرحلے پریہ ثابت کیاہے کہ وہ امت مسلمہ کے ساتھ اپنے دینی رشتے مضبوط سے مضبوط تربناناچاہتے ہیں،اسی تناظرمیں وہ اپنامستقبل پاکستان کے ساتھ استوارکرناچاہتے ہیں، محاذ رائے شماری کی تحریک ہویاپھر١٩٨٨ء میں منصۂ شہودپرآنے والی تاریخ سازجدوجہدبالسیف کامعاملہ،ہر مرحلے پرپاکستان سے رشتہ کیا”لاالہ الااللہ” کے نعرے ہی سننے کو ملے۔ہرموقع پرکشمیری مسلمان الحاق پاکستان کے اپنے عزم کودہراتے رہے اوراقوام متحدہ کے چارٹرمیں کشمیرکے متعلق قراردادوں پرعملدر آمد کرنے کامطالبہ کرتے رہے۔آج تک یہ ثابت نہیں کیاجاسکتاہے کہ اہل کشمیرنے کبھی اپنی جدوجہدترک کی ہویااپنے مؤقف سے دستبردارہوئے ہوں۔
کشمیرمیں احتجاجی مظاہروں کے دوران پاکستانی پرچم لہرانے کاعام رحجان ہے۔بعض مبصرین کے نزدیک یہاں کے لوگ پاکستانی قومی ترانہ گاکر یا پاکستانی پرچم لہراکردراصل جہاں بھارتی حکومت کوچڑاناچاہتے ہیں وہاں دنیاکوبھی یہ باورکراتے ہیں کہ ان کی بالآخرمنزل پاکستان سے الحاق ہے۔ دہلی میں ہندوقوم پرست بی جے پی کی حکومت قائم ہوتے ہی ایسے واقعات کی بڑے پیمانے پربھارتی میڈیاپرتشہیرہوتی ہے،چونکہ فی الوقت کشمیر میں بی جے پی اورپی ڈی پی کی مخلوط حکومت ہے،اس لئے وہاں کی حکومت بھی ایسی کسی بھی سرگرمی کانوٹس لیکر اس میں ملوث افرادکوگرفتارکرلیتی ہے۔اکثردیہات میں شہیدہوجانے والے کمانڈروں کی یادمیں کرکٹ مقابلوںکاانعقادہوتارہتاہے اورکھلاڑی اکثرپاکستانی کرکٹ ٹیم کی ہی وردی پہنتے ہیں لیکن مذکورہ واقعے کایہ پہلاموقع ہے کہ پاکستانی قومی ترانہ بجایاگیا اوراس کاویڈیوکلپ ساری دنیامیں وائرل ہوا۔
مسئلہ کشمیرپربھارت کی غیرحقیقت پسندانہ اورجارحانہ سوچ کانتیجہ ہے کہ اس کے نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات میں غیرمعمولی تلخی پیدا ہوچکی ہے بلکہ آئے دن بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکی ہے۔ابھی حال ہی میں بھارت نے ایک مرتبہ پھرپاکستان پر بٹل سیکٹر(مقبوضہ کشمیر کے کرشنا گھاٹی سیکٹر)پرگشت کرنے والی بھارتی فوجی پارٹی پر حملہ کر کے دو فوجیوں کو ہلاک اور ان کی لاشیں مسخ کرنے کاالزام لگایاہے جس پرپاکستانی فوج کے آئی ایس پی آرنے فوری طورپر بھارتی الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے نہ تو لائن آف کنٹرول پر فائربندی کی کوئی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی کوئی ”بیٹ ایکشن”کیا ہے۔ انڈین فوج کی جانب سے اس کے فوجیوں کی لاشیں مسخ کرنے کے الزامات بھی جھوٹے ہیں۔پاکستانی فوج ایک پیشہ ور فوج ہے اور کسی بھی فوجی کی چاہے وہ بھارتی ہی کیوں نہ ہو، بے حرمتی نہیں کرے گی۔ 1
بھارت کی جانب سے پاکستان پر اپنے فوجیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کے الزامات پہلے بھی لگائے جاتے رہے ہیں اور پاکستانی حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں ۔ گذشتہ سال نومبر میں بھارت نے پاکستان پر کنٹرول لائن کے قریب ہی تین ابھارتی فوجیوں کو مارنے اور ان میں سے ایک کی لاش مسخ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس سے قبل٣٠/اکتوبر٢٠١٦ء کو بھی مندیپ سنگھ نامی فوجی کی ہلاکت کے بعد ان کی لاش کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا تھا.خیال رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی فوج پر کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے علاقے میں حملے کا یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب کشمیرمیں جدوجہدآزادی کیلئے اسکول وکالج کی بیٹیاں بھی میدان میں اترآئی ہیں اوران دنوں کشمیرکی دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال پر ساری دنیاکی خصوصی نظر ہے جس کی بناء پردنیابھرکامیڈیا بالعموم اور امریکی مشہورزمانہ اخبارات ”نیویارک ٹائمز ” اور”واشنگٹن پوسٹ” نے بھی واضح طور پر لکھاہے کہ ”بالآخر کشمیربھارت کے ہاتھوں سے نکل رہاہے ” ۔
خیال رہے کہ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی فوج پر لائن آف کنٹرول کے علاقے میں حملے کا یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان بھارت کے دورے پر ہیں۔طیب اردوغان نے اپنے دورے کے آغاز سے قبل ایک انڈین ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت کی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے بلکہ اس سلسلے میں ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ” ہمیں مزید ہلاکتیں نہیں ہونے دینی چاہئیں، کثیر الملکی بات چیت کے ذریعے جس میں ہم بھی شریک ہو سکتے ہیں ہمیں اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے”۔ بھارت پہنچنے کے بعد بھی اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ تنازعات کو طول دینا اور انھیں مستقبل میں لے جانا آئندہ نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی کیونکہ اس کی قیمت انہیں چکانی پڑے گی۔
اس صورتحال کے علاقائی استحکام پرمسلسل منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ خودبھارت کے اندرتحاریک آزادی نے سنگین صورتحال اختیارکرلی ہے۔بھارتی پارلیمان سے ریاستی اسمبلیوں اورسیاسی رہنماؤں سے سماجی شخصیات تک کشمیرکے معاملے پرسنجیدہ رویہ اختیارکرنے کامطالبہ کررہےہیں۔خودکشمیرکے عوام جن پربھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں عالمی قوانین،سیاسی اصولوں ،اپنے آئین اورعدالتی تعبیرات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تسلط جمارکھاہے،حق خوداردایت کیلئے گرانقدر قربانیاں دیتے چلے جارہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیرمیں حالات کے بگاڑکااندازہ اس بات سے بھی ہوتاہے کہ تمام ترکوششوں اورریاستی وسائل کے اندھادھنداستعمال کے باوجودضمنی انتخابات میں ووٹرزکو پولنگ اسٹیشنوں پرنہیں لایاجاسکتا۔مقبوضہ وادی میں انتخابی ڈھونگ پراہل کشمیرکے نہتے احتجاج نے نئی تحریک کوجنم دیاہے۔ اب تک انمول قربانیاں پیش کی جاچکی ہیں جبکہ فوج کاظلم وستم جاری ہے۔کشمیرپرتسلط برقراررکھنے کی اس بھارتی غنڈہ گردی کاعالمی سطح پرنوٹس لیاجا رہاہے،خودمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی شہ پردوبارنام نہادوزارتِ اعلیٰ جیسے منصب پربراجمان رہنے والے فاروق عبداللہ بھی رائے دے رہے ہیں کہ کشمیرکے مسئلے کوامریکی ثالثی میں حل کرایاجائے۔انہوں نے حالیہ انٹرویومیں مزیدکہا: دونوں ملکوں کے درمیان پانی کامسئلہ بھی امریکانے حل کرایا تھا۔بھارتی سامراج کیلئے بہترہوگاکہ اپنے سابق ہم نواہی کی بات پرکان دھرلے اورامریکایاکسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی میں پاکستان کے ساتھ ایسے مذاکراتی عمل پررضامندہوجائے جوتقسیم ہندکے نامکمل ایجنڈے،یعنی تنازع کشمیرکے منصفانہ حل میں مدددے سکے۔مودی امریکاکے نئے صدرڈونلڈٹرمپ کی ہندونوازی سے بخوبی آگاہ ہیں،اس کے باوجوداگرامریکی ثالثی سے خوفزدہ ہیں توپھرپوری دنیایہ حقیقت مزیدکھل کرسمجھ سکتی ہے کہ مودی مسئلہ کاحل چاہتے ہی نہیں لیکن اب دنیابھرکے مشہور تجزیہ نگاربھی یہ کہنے پرمجبورہوگئے ہیں کہ امریکااور مغرب مسئلہ کشمیرپرکسی ایسی جنگ کوروکنے کیلئے کب مثبت اقدام اٹھائیں گے جودنیاکوپتھرکے دورمیں دھکیل سکتی ہے۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

ایک تبصرہ

  1. Th&#1110&#1109 page truly h&#1072&#1109 &#1072&#406&#406 &#959f th&#1077 info I wanted &#1072b&#959&#965t th&#1110&#1109 subject &#1072n&#1281 didn’t know wh&#959 t&#959 &#1072&#1109k.

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>