Modi51

مادی توجیہات،طاقت کےپجاری

نہ کوئی دنیاکی حقیقتوں کوجانتاہے اورنہ ہی اپنے اردگردبکھرتی قوموں اورتباہ ہوتی ہوئی قوتوں کودیکھتاہے۔عذاب کے فیصلوں اوراللہ کی جانب سے نصرت کے مظاہروں کودیکھنے کیلئے کسی تاریخ کی کتاب کھولنے یاعادوثمود کی بستیوں کامطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ ابھی کل کی باتیں ہیں،کوئی سوچ سکتاتھاکہ دنیاکی ایک ایٹمی سپرطاقت جس کے پاس اس ساری دنیاکوکئی مرتبہ تباہ کرنے کاسامان موجودہو،جس کی تسخیر خلاؤں تک ہو،جودنیامیں پچاس سے زیادہ کیمونسٹ تحریکوں کی برملامددکرتاہو،بے خانماں،بے سروساماں افغان مجاہدوں نے صرف اپنے رب کے بتائے ہوئے حکم جہادکے ذریعے اس کی یہ حالت کردی کہ روس کی ائیر ہوسٹس صرف ایک ڈبل روٹی کیلئے اپنی عزت بیچنے پرمجبورہوجائے اوروہاں کے لوگ صرف روٹی کیلئے دوکانوں پراس طرح ٹوٹ پڑیں کہ معاملہ مقامی پولیس کے قابو میں نہ رہے اوربپھراہجوم ایک دوسرے پرحملہ آورہوجائے اور سینکڑوں شدیدزخمی ہوجائیں،نفرت اس حدتک پہنچ جائے کہ کل تک جس لینن کے مجسمے کوچومنااپنے لئے اعزازسمجھتے تھے اسی مجسمے کوسرعام جوتے مارے جائیں اوراس پرتھوکنافخرکی علامت بن جائے ۔
کسی ایک محاذپرشکست کے بعد قومیں متحدہوجایاکرتیں ہیں،انتقام کیلئے،اپنے آپ کومزید طا قتورکرنے کیلئے،لیکن جو مسلمان قوم جہاد سے منہ موڑ لے تو قدرت اس قوم کیلئے زوال ورسوائی کا فیصلہ صادرکر دیتی ہے۔ان کونفرت، تعصب،بھوک،افلاس اورایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہونے کامزاچکھادیا جاتاہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکا١٩٠١ء سے چین،فلپائن،کوریا،ویت نام،جنوبی امریکہ دنیاکے دیگر٣٩ممالک سے ذلیل ورسواہوکرنکلاہے۔دورنہ جائیں ابھی کل کی بات ہے،امریکاکی بھرپورطاقت اورقوت کامظہراسرائیل،جس کادفاعی نظام اس قدرمضبوط تھاکہ امریکی پینٹاگون بارہاایسی خواہش کااظہار کرتا تھاکہ اس کادفاعی انتظام بھی اسرائیل جیساہولیکن اس طاقت کوایک فوجی لحاظ سے غیرمنظم صرف۳۵۰۰افرادپر مشتمل تنظیم حزب اللہ نے اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کے ذریعے امریکاکے لے پالک اسرائیل کوایسی ذلت آمیزشکست دی کہ اس کے فوری تین شہرخالی ہوگئے،اس کے چارلاکھ شہری در بدرہوگئے،کیاحزب اللہ کو کسی عالمی طاقت کی مدد حاصل تھی؟
فرمان ربی ہے جب ہم کسی قوم پرکوئی آفت نازل کرتے ہیں تووہ اس کی مادی توجیہات کرنے لگ جاتاہے لیکن وہ طاقت کے پجاری جن کادل ہی نہیں مانتا کہ اس کائنا ت پرایک اورحکمران طاقت ہے جس کایہ وعدہ ہے کہ اگرتم مجھ پر یقین کروتوتم قلیل بھی ہوگے توزیادہ طاقت پرغالب آؤگے۔یہ لوگ پھربھی تو جیہات کرتے ہیں لیکن آخرمیں انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ قدرت نے ہرانسان کے سینے میں ایک چھوٹاساایٹم بم”دل”کی شکل میں نصب کررکھاہے۔یہ چھوٹا سالوتھڑاپہاڑوں سے ٹکرا جانے کی ہمت رکھتاہے اگراس میں صرف ایک رب کا خوف موجودہو، ساراباطل اس سے لرزاں اورخوفزدہ رہتاہےلیکن اگراس میں دنیا کاخوف بٹھالیں توہ دن رسوائی کی موت آپ کی منتظررہتی ہے۔ جومسلمان قوم جہادسے منہ موڑتی ہے توہردن رسوائی کی موت اس کی منتظررہتی ہے۔ ہم ایک جوہری قوت ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے اپنے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف دنیاکی تمام جوہری طاقتیں افغان طالبان سے مذاکرات کیلئے راستہ ڈھونڈ رہی ہیں جنہوں نے صرف جہادکا سہارالیکراپنے وجودکومنوایاہے۔
دہشتگردی،شرپسندی اورتخریب کاری پرقابوپانے کے دعوے بھی عجیب ہیں،ہر روزمیڈیاپران دہشتگردوں،شرپسندوں او تخریب کاروں کوکچل دینے کے تبصرے اور تجزئیے سنتاہوں توحیرت میں گم ہوجاتاہوں۔اس دنیاکے نقشے میں کوئی اقتدار کی کرسی پربیٹھاہوا شخص کسی ایک ملک کی بھی نشاندہی کرسکتا ہے جو فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کرسکتاہو کہ وہ دہشتگردی پرقابوپا نے کی اہلیت رکھتا ہے۔امریکاسے برطانیہ،پورا یورپ،عراق سے لیکرسری لنکا تک،بھارت سے لیکر افغانستان تک ، سب حکومتیں بے بس ہیں،مجبورہیں،لاچارہیں لیکن کوئی اس بے بسی اور کمزوری کو قبول نہیں کر رہا بلکہ ایسے ہی تجزیوں اور تبصروں پر عملدرآمدکی بناءپراس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں۔کوئی یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ مقلب القلوب صرف ایک ذات پروردگارہے جودلوں کو بدلتاہے،ان کو محبت سے بھردیتاہےلیکن ہم نے تو نفرت سیکھی ہے،کچلنااوررٹ قائم کرناسیکھا ہے لیکن دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم میں یہ بلا نازل ہوئی وہ اپنی پوری صلاحیت کے باوجود اس سے نہیں لڑ سکی۔Modi51
امریکااورمغربی ممالک(جن کے گھٹنوں کوچھوکر ہمارے حکمران دن رات بھیک مانگ رہے ہیں) جو جدیدٹیکنالوجی رکھنے کادعویٰ کرتے ہیں جہاں ہزاروں افراد اپنی اس ٹیکنالوجی کی بدولت دہشت گردوں کی بوسونگھتے رہتے ہیں جہاں کوئی شہری اپنے پڑوسی میں کسی لمبی داڑھی والے کودیکھ لیں توفوراًپولیس کوآگاہ کر تے ہیں، باہرسے آنے والوں کوگھنٹوں ائیرپورٹ پرسیکورٹی کے نام پرذلیل کیاجاتاہے، کیاوہاں یہ سب ختم ہوگیا؟یاان کے شہران خطروں سے محفوظ ہوگئے ہیں؟یاان کا خوف کم ہوگیا؟ہرگز نہیں،ہم توایک آتش فشاں کے دہانے پربیٹھے ہوئے ہیں، پھر بھی ہماری سیاسی شیخیاں ختم نہیں ہوتیں،کیادنیا کے کسی خطے میں ایسا ہوا ہے؟ویت نام،لاؤس،فلسطین،سری لنکا،چلی، نکاراگوا،کمبوڈیا،کہاں کسی نے میڈیا پرایسی دوکانداری چمکائی ہے؟لیکن شاید یہ خودکوبہت طاقتوراوردانشور سمجھتے ہیں ۔درپردہ ہمارے کچھ سیاسی لیڈراوردشمن تویہی چاہتے ہیں کہ کراچی،بلوچستان اوروزیرستان میں جاری آپریشن ناکام ہوں،عوام کاخون اور بہے اورگھرانے ماتم کدہ بن جائیں اورلوگ اس آگ میں جھلس جائیں اورپھر مجبورہو کرسرجھکاکران کی ہربات،ہرمطالبہ مان لیں۔،جوہری اثاثوں اورکشمیر سے دستبرداری اوربھارت کی غلامی اختیارکرلیں لیکن وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایسانہ کبھی پہلے ہواتھا اورنہ ہی آئندہ ہوگا۔
اس میں شک نہیں کہ ماضی میں ایک فوجی ڈکٹیٹرنے ہماری بہترین افواج کو ان دشمنوں کاآلہ کاربنانے کی پوری کوشش کی لیکن”جہاد”جیسے جذبے سے معمورفوج آج بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ضربِ عضب آپریشن کے نتائج سے ساری قوم میں اطمینان کی لہردوڑگئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری افواج کومکمل طورپر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کیلئے استعمال کیاجائے۔مجھے قوی امید ہے کہ”جہاد”کے جذبے سے سرشارافواج اپنے ملک کے جوہری اثاثوں اورمسئلہ کشمیرپرکبھی قوم کومایوس نہیں کرے گی اسی لئے ہماری بہادرفوج نے ببانگ دہل کشمیرکوپاکستان کی شہ رگ قراردیکر کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کااعلان کیا ہے۔پچھلے۷۰برسوں سے بھارت اور عالمی طاقتوں نے مسئلہ کشمیرسے جس طرح بے اعتنائی اختیارکی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔اقوام متحدہ جوان عالمی طاقتوں کی کنیزاورلونڈی کاکرداراداکر رہی ہے اس کے چارٹرمیں بھی مظلوم اقوام کی اپنی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کی حمائت کی گئی ہے اورکشمیرکامسئلہ تواقوام متحدہ کے ایجنڈے پرسب سے پراناایسامسئلہ ہے جوابھی تک عالمی ضمیرکوان کی بے حسی کی یاددلانے کیلئے کافی ہے۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>