’’افغانستان کا ذکر چھیڑنے کا مطلب موت‘‘

اب بھی دنیامیں بسنے والوں کی ایک کثیرتعدادیہ سمجھتی ہے کہ نائن الیون کاواقعہ ایک بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں رونماہواجس کیلئے خود کئی امریکی  دانشوراورسیاسی تجزیہ نگاراپنے خدشات وتحفظات کااظہارکرچکے ہیں اوراس کی تائیدمیں کئی فنی ماہرین کی دستاویزاتی فلمیں بھی خودامریکاکی مارکیٹ میں کافی مقبول ہیں لیکن اس واقعے کی پلاننگ کچھ ایسی ڈرامائی تھیں کہ اس حادثے نے ساری دنیاکوہلاکررکھ دیا۔اس واقعے کے رونماہونے کے بعدفوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ فوری طور پر کیا گیا تھا اور اس خوفناک حادثے کے بعد امریکامیں عوامی ردِّعمل بھی مثبت تھا۔یہ احساس جاگزیں تھاکہ یہ جنگ ضروری ہےکیونکہ پہلی مرتبہ امریکی سرزمین پر مہلک ترین حملہ ہوا تھا۔ جن افراد کو اس کی منصوبہ بندی کاذمہ دار اور جو انتہا پسندی کی ترویج کرنے والے افرادکواپنی سرزمین پرمحفوظ ٹھکانے فراہم کر نے کاالزام لگایاگیا ان کے پیچھے جانےاوراُن کاخاتمہ کرنے کیلئے افغانستان کوتاراج کرنے کااعلان کردیا گیااورجدیدجنگی ہتھیاروں اورچندنوں میں ساٹھ ہزارسے زائدخطرناک فضائی حملوں سےیہ مقصد بہت مختصر مدت میں پورا ہوگیا۔ امریکی مشن نے بہت جلد طالبان حکومت کو ختم اورافغانستان سے القاعدہ کے ٹھکانوں کا صفایا کردیا۔ طالبان کسی طور امریکی فائر پاور کا مقابلہ نہ کر سکےلیکن اس فوری ہاتھ آنے والی کامیابی کے بعد امریکیوں پر ایک ناخوشگوارسچائی آشکارہوئی، یہ کہ جنگیں شروع کرناآسان لیکن ختم کرنامشکل ہوتاہے۔ ویت نام سے بھی یہی تلخ سبق حاصل ہواتھابعدمیں عراق سے ہاتھ آنے والی سچائی بھی یہی تھی لیکن قصر سفیدکے فرعون نے دہشتگردی ختم کرنے کے بہانے افغان عوام پرنیپام بم اورمنی ایٹم بم کے بے تحاشہ اوربے رحم استعمال سے افغانستان کومکمل تباہ کردیا۔ امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف توبہت تیزی سے حاصل کرلیے تاہم تب سے اب تک اس سوال کاجواب دینا انتہائی دشوارثابت ہورہاہے کہ اس دور افتادہ سر زمین پرامریکی فوجی اتنی طویل مدت سے کیاکررہے ہیں، کیوں لڑاورمررہے ہیں۔

جب سے طالبان کی سرگرمیوں میں نمایاں شدت آئی ہے، امریکا کو نئی اور جامع حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اس وقت طالبان کے کنٹرول میں اُس سے کہیں زیادہ علاقہ ہے جتنا ۲۰۰۱ء کے بعد کبھی اُن کے پاس تھا۔اب تویہ حال ہے کہ امریکی وزیرخارجہ اوروزیردفاع کو بھی یہ ہمت نہیں کہ وہ اپنے ہزاروں فوجیوں کی معیت میں افغان دارلحکومت میں اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں سے ملاقات کرسکیں بلکہ امریکی فوجیوں کی انتہائی نگہداشت والے زیرزمین مورچوں میں اشرف غنی،عبداللہ عبداللہ اورامریکی جنرلوں سے ملاقاتیں کرکے انتہائی پراسراراندازمیں رخصت ہونے پرمجبورہوگئے ہیں۔

امریکا نے افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ اس نہ ختم ہونے والی جنگ میں اب تک۲۴۰۰؍امریکی فوجی اور۳۱۰۰۰عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جان ومال کی بھاری قربانی دینے کے باوجود اس جنگ میں ابتدائی طورپرحاصل ہونے والی کامیابیاں بھی ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ یہ صرف سکیورٹی کامحاذ نہیں جس پرامریکاناکام رہا، کئی اور شعبوں میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی ہے۔بظاہر امریکا کادعوی ہے کہ وہ برسوں سے افغانستان کے طول وعرض میں ہونے والی منشیات کی تجارت روکنے کی بھرپور کوشش کررہاہے کیونکہ طالبان اس تجارت سے حاصل ہونے والی رقوم سے اپنے جنگی اخراجات پورے کرتے ہیں اورمنشیات کوکنٹرول کیے بغیرطالبان کوشکست دینامشکل ہے۔

اسے ختم کرنے کی کوشش میں پہلے توپوست کی فصلوں کو تلف کرنے کیلئے اسپرے کیاگیااوراس کے بعدمتبادل فصلیں اگانے اورضرورت کےمطابق روزی کمانے کیلئے کسانوں کی مالی معاونت بھی کی گئی۔ان کوششوں کانتیجہ کیانکلا؟ حالیہ برسوں میں پوست کی ریکارڈ فصلیں ہYou nextوئی ہیں۔افغان معیشت کودرست کرنے کا شعبہ بھی ناکام رہا ہے لیکن اس بارے میں کئی بین الاقوامی رپورٹس منظرعام پرآچکی ہیں کہ خودامریکی فوجی منشیات کے ساتھ ساتھ دیگرقیمتی نوادرات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

افغانستان کا شمار امریکا سے غیر معمولی امداد حاصل کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ اس نے ۲۰۱۴ء میں ۷؍ارب ڈالر سے زائدکے فنڈوصول کیے۔ رواں سال بھی افغانستان کو۴؍ارب ڈالرسے زائدامداددیے جانے کی توقع ہے۔اس کے باوجود افغان معیشت کاقبلہ درست کرنے میں اب تک خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اس کی مجموعی قومی پیداوارمیں اضافے کی شرح۲۰۱۲ء میں ۱۴؍ فیصد تک تھی۔ اب یہ صرف ڈیڑھ دو فیصد کے درمیان رہ گئی ہے۔ ایک مخصوص اندازمیں میڈیامیں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ افغان معیشت کو غیرملکی افواج کے انخلا کے بعدشدید دھچکالگاہے۔غیر ملکی فورسزکی موجودگی میں ایک ’’جنگی معیشت‘‘ وجود میں آئی تھی لیکن۲۰۱۴ء میں فورسزکی واپسی نے اس معیشت کو ختم کر ڈالا جبکہ خود امریکی سیاسی تجزیہ نگار اس مفروضے کو تسلیم کرنے سے انکارکررہے ہیں۔

ان تمام معروضات سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ افغان کشمکش ایک ناگزیر جنگ سے ایک نادیدہ جنگ میں کیوں تبدیل ہوچکی ہے۔ تمام امکانات کے ساتھ امریکی ایسی جنگ  کی دلدل میں پھنس چکے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں۔ مزید برآں افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کے حوالے سے کوئی بھی واضح روڈ میپ امریکیوں کے پاس نہیں۔ یہ جنگ ان کی سرزمین سے بہت دورلڑی جا رہی ہے۔افغان معاشرے کاامریکیوں کوکچھ خاص فہم بھی نہیں۔ اب جنگی جنون میں مبتلاکچھ سازشی امریکی کہہ رہے  ہیں کہ اگریہ جنگ لڑناناگزیرہی ہے تو پھر رضاکارحاصل کیے جائیں،جو جان کی بازی بخوشی لگائیں اورخون کے چھینٹے امریکی سرزمین پرنہ گریں،شائداسی حکمت عملی کے تحت داعش کواستعمال کرنے  کی منصوبہ بندی جاری ہے لیکن پاکستانی سپاہ نے بروقت خیبر فور کے کامیاب آپریشن کے بعدداعش کے پاکستان میں داخلے کے تمام راستے بند کردیئے ہیں اور دوسری طرف افغان طالبان نے تورابوراکامکمل طورپرمحاصرہ کررکھا ہے۔

کچھ فوجیوں نے وطن واپسی پر افغانستان کے کٹھن حالات کاذکرکرکے امریکیوں کو دنگ اورپریشان کردیا۔ ڈومینگ ٹیری نے ۲۰۱۵ءمیں معروف جریدے ’’اٹلانٹک‘‘ میں لکھا تھا ’’افغانستان کا ذکر چھیڑنے کا مطلب موت کی باتیں کرنا ہے، لوگ چاہتے ہیں کہ اس موضوع کو فوراً تبدیل کر دیا جائے‘‘۔ خوش قسمتی سے اس موسمِ گرما میں یہ جنگ دوبارہ امریکی راڈارپر ابھری۔ اگست میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان کیلئے ایک نئی حکمتِ عملی بنائیں گے اور یہ کہ وہ وہاں سے القاعدہ اورداعش کاخاتمہ چاہتے ہیں جبکہ خودہلیری کلنٹن اپنی کتاب کے علاوہ کئی مرتبہ اپنی ٹی وی انٹرویوز میں”داعش کی تشکیل”کا اعتراف کرچکی ہیں۔

اب ایک مرتبہ پھرامریکی قوم کامورال بلندرکھنے کیلئےپہلی بارکسی امریکی کمانڈرانچیف نے کہاہے کہ وہ افغانستان میں کامیابی کیلئے ایک پلان رکھتے ہیں اوربد قسمتی سے یہ پلان ہنوزغیرواضح اورنادیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی قیادت اگرواقعی افغانستان سے دہشت گردی کاخاتمہ اور سیاسی استحکام دیکھنا چاہتی ہے تواس کیلئے تمام غیرملکی افواج کافوری انخلاء اوروہاں معاشی استحکام کاپایاجانالازم ہے اورموجودہ جنگی ماحول میں یہ ممکن نہیں۔ اس کیلئے افغانستان کی سفارت کاری کوفعال کیاجانا انتہائی اہم ہے اوراس کیلئےہمسایہ ریاستوں کاتعاون ازحدضروری ہے۔ پاکستان،ایران اورطالبان کواعتمادمیں لیناہوگا ۔اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیاقصرسفیدمیں مقیم فرعون ٹرمپ ان سے بات کرنے کیلئےتیار ہے؟

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>