Modi29

مودی :خطے میں امن تباہ کرنے کاذمہ دار{آخری قسط}

ایک ایسی دنیامیں جہاں دولت،طاقت اورمرتبے ہی کوسب کچھ سمجھاجاتاہے،جہاں بالزیک کے الفاظ میں انسانوں کویاتوبیوقوف یابے ایمان سمجھاجاتاہے۔مودی ہرماہ روزگارکیلئے نکلنے والے دس لاکھ بھارتیوں کو نوکریاں دینے کاوعدہ سچ کردینے سے بہت دورہیں۔وہ ابھی بھی تصوراتی دنیا میں سفرکرتے ہیں ،جہاں بینالوگوں سے زیادہ نابینا سفرکرتے ہیں جہاں ہروقت سمارٹ شہروں اوربلٹ ٹرینوں اورڈیجیٹل بھارت کاذکرہوتارہتاہے،جس میں ہر دورافتادہ گاؤں میں آن لائن ہوگامگربھارت کو تیزی سے ترقی کرتی معیشت سمجھ کرچین کے مقابلے میں لانے والی عالمی اشرافیہ غربت کے ساتھ ساتھ منظم قتل عام کی نفی کردیتی ہے۔نیویارک میں مقیم ایک سرمایہ دارکی بھارت میں احتجاج کرنے والے لکھاریوں کے بارے میں یہ ٹویٹ مروجہ اخلاقیات کی بھرپور ترجمانی کرتاہے:نئے بھارت کے معماروہ ہیں جودولت پیدا کرتے ہیں یہ اتنے بے وقعت ہیں کہ ان لکھاریوں کوتوکوئی چوہے کی مینگنی کے برابربھی اہمیت نہیں دیتا۔
اب توبھارت میں سکھوں کابہیمانہ قتل عام کرنے والی کانگرس میں بھی خودکو سیکولرکہتی ہے کیونکہ مودی کی بی جے پی بلکہ صحیح ترالفاظ میں آرایس ایس نے کانگرس کی بہیمت کوکوسوں پیچھے چھوڑدیاہے۔اب توکانگرس کی حکومت کی سرپرستی میں رہنے والے لبرل دانشوروں کی خاموشی بھی جائز قرارپاجاتی ہے۔جب بھارتی فوج کشمیریوں کواسی تصوربھارت کے نام پراجتماعی قبروں میں دفن کردیتی ہے،زنابالجبرکانہائت آرام سے ارتکاب کرتی ہے اورشرم اسے آتی ہے نہ اس کی سرکار کو!اورمشتبہ عسکریت پسندوں کے مخصوص اعضاء میں کرنٹ بھرے تارڈالتی ہے ۔اگربھارتی لکھاریوں میں سے کوئی آوازبلندکربھی دیتاتواس پرادب میں سیاست کی ملاوٹ کاالزام لگ جاتاتھا۔
ٹی وی اینکر اورکالم نگاربھی اسی تصوربھارت کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کے خلاف حب الوطنی پرمبنی منافرت پھیلانے میں پیش پیش رہے۔پرانی حکومت کے سیکولر قوم پرست جب گلے پھاڑپھاڑکرہندوبرتری کے نعرے لگانے والوں کوبرابھلاکہتے ہیں تودراصل وہ اپنی ہی جائز اولادکوعاق کررہے ہوتے ہیں۔صرف یہ امیدہی کی جا سکتی ہے کہ ہندو برتری کے قائل انتہاء پسندوں کامکروہ چہرہ شائد اشرافیہ کے عقائدونظریات کوجھنجھوڑ ڈالے اوروہ جھوٹ میں پلنے والی نوجوان نسل کوسیاست زدہ کرنابند کر دیں ۔ یہ سچ ہے کہ مودی اور ان کے پٹھوکسی شرم وحیایالحاظ کے بغیرطاقت کی سفاکیت کامظاہرہ کررہے ہیں اورکسی خوشنما لبادے کوچوہے کی مینگنی کے برابربھی اہمیت نہیں دیتے،پھربھی تصویر بھارت پران کے حملے سنگلاخ چٹانوں میں دراڑیں پیداکررہے ہیں جن میں شائدکسی طرح انسانیت پرمبنی سیاست وثقافت کاگزرہو سکے۔اگرایسانہ ہواتومتبادل مابعدانسانیت بھارت ہے جہاں حالیہ ہفتوں میں نظرآگیا ہے کہ کس طرح قاتل گروہ اپنے سرغنہ کی اس پکارپرلبیک کہہ رہے ہیں کہ ”اسے ماردو،اسے ماردو”۔
قارئین اغلباً”ماردو،ماردو”کے معانی نہیں سمجھ سکیں گے توتفہیم کیلئے پیش خدمت ہے وہ یہ کہ جب نریندرمودی مالدار بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ تھے توپولیس نے سفاکیت کے ساتھ شیخ سہراب الدین نامی ایک مسلمان”مجرم” کومارڈالاتھا۔ہندوقوم پرست بی جے پی کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے لوگوں کویقین دلایاکہ سہراب الدین کووہ مل گیاجس کاوہ حقدارتھا۔انہوں نے پوچھاکہ ”ایسے شخص کے ساتھ بھلااورکیاکیاجاتاجوغیرقانونی اسلحہ رکھتا ہو؟” جوشیلا مجمع چیخ پڑا”ماری نکھو،ماری نکھو”(مار ڈالو،مارڈالو)۔Modi29
اسی مجمع کی پکاردہلی کے قریب ایک چھوٹے قصبے میں بلندہوئی،جہاں جنونیوں نے ایک مسلم کسان کوگائے کاگوشت رکھنے کے بے بنیادشبہ میں مار ڈالا ۔اس قسم کے درجنوں واقعات نے انسانیت کاسرشرم سے جھکادیا۔مودی جب برطانیہ کادورۂ کررہے تھے توناول نگارموکل کیساوانی کے لفظوں میں ہندو جنونی مکمل شکارکے موڈ میں چیختے چلاتے آگے بڑھ رہے تھے۔انہی دنوں سیکولردانشوروں مغرب زدہ خواتین مسلم اورعیسائی ناموں کی حامل عوامی شخصیات اورگرین پیلس میں غیر سرکاری تنظیموں کونشانہ بنانے والے ہندو فسادیوں کے خلاف نکلنے والے کارکن اوردانشورجان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ یہ ہلاکتیں کئی ماہ سے جاری تشدداورہندو جنونیوں کی تنگ نظری کے بعدہوئی تھیں۔
یہی تنگ نظری جب نابینائی میں بدلتی ہے یعنی جب مودی سرکار کے سربراہ اور ان کے موالی اندھے ہوجاتے ہیں۔ آنکھوں کے اندھے یاعقل کے اندھے ہوجاتے ہیں توان سے کسی بھی بہیمت کے ارتکاب کی توقع کی جاسکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ ان پاکستانی طلباء کی گرفتاری اورقیدکے دوران ان پرتشددکے خدشات نے بچوں کے والدین اقرباء پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کوپریشان کررکھا تھا ۔بہرحال بھارت نے اوڑی حملے کے الزام میں گرفتاران دوبچوں کوواہگہ بارڈر پرپاکستان رینجرزکے حوالے کردیا۔بھارتی حکام ان دونوں بے گناہوں کے ساتھ مجرموں جیساسلوک کیااورانہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کرسرحدتک لایاگیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبرمیں اوڑی حملے کے تین روزبعدبھارتی فوج نے غلطی سے سرحدپارکرنے والے ان طلباء کوگرفتارکیااورانہیں اوڑی حملے کے سہولت کار قراردیتے ہوئے تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کردیا۔بعدازاں چھ ماہ کی طویل تحقیقات کے بعدبھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے)نے دونوں بچوں کو مکمل بے قصورقراردیتے ہوئے اپنی فوج کے حوالے کردیاتاکہ انہیں پاکستان بجھویاجاسکے۔دونوں طلباء آزادکشمیرکے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں۔
ان بچوں کی رہائی کی اچھی خبرکے ساتھ ساتھ یہ بری خبربھی عوام الناس تک پہنچنی چاہئے کہ اسلام آبادمیں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنرکو پاکستان نے دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں ایک احتجاجی مراسلہ دیاجس میں سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ماسٹرمائنڈسوامی آسیم آنندکی بریت پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا۔احتجاجی مراسلے میں کہاگیاکہ ملزم سوامی نے سرعام تسلیم کیاتھاکہ وہ فروری ۲۰۰۷ء میں سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کاماسٹرمائنڈہے۔ملزم نے اعتراف کیا تھاکہ بھارتی فوج کاایک افسرکرنل پروہت جودہشتگردتنظیم ابھینسیوبھارت کاسربراہ تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی میں اس کاساتھی تھا۔اس سانحے میں ۴۲پاکستانی شہیدہوئے تھے لہندابھارت اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افرادکو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔واضح رہے چندروزقبل بھارتی عدالت نے اجمیرمزارحملہ کیس میں غیرمعمولی طورپر٣انتہاء پسندوں کومجرم قراردیا،تاہم عدالت نے حملے کے ماسٹر مائنڈ نابا کمارعرف سوامی آسیم آنند کو الزمات سے بری کردیاتھا۔کیابھارت کی اندھی بہری مودی سرکارخطے میں امن تباہ کرنے پرتلی رہے گی؟یہ ہے وہ سوال جوسوچنے سمجھنے والے ہرامن پسند ذہن میں آج ہمیشہ سے زیادہ شدت کے ساتھ ابھر رہا ہے!

About سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>