Modi47

مودی :خطے میں امن تباہ کرنے کاذمہ دار……پہلی قسط

اب آئے دن مودی سرکارکے ڈرامے فلاپ ہوتے جارہے ہیں اور ماسوائے شرمندگی اورمنہ پرمزیدکالک ملنے کے اورکوئی راستہ بھی تونہیں بچا۔ خودساختہ اوڑی کیمپ حملے نے جس قدر دھول اڑائی تھی اب مودی کے سرکی طرف لوٹ رہی ہے۔ پچھلے دنوں مودی کی روسیاہی کے باب میں ایک اوراضافہ ہواجب دوپاکستانی کمسن بچے جوغلطی سے سرحد عبورکر گئے تھے اور بھارتی سیکورٹی فورسزنے انہیں اوڑی کیمپ پرحملے کی پاداش میں گرفتارکرلیا،بالآخر کئی ماہ کی سخت تفتیش اورتحقیق کے بعدانہیں بے گناہ قراردیکر رہاکرناپڑا۔یوں اوڑی ڈرامہ کاآخری سین بری طرح فلاپ اور وقت کے سب سے بڑے دہشتگرد کے چہرے سے ایک اورنقاب الٹانے کا موجب بن گیا ۔نریندر مودی کی انتہاء پسندی اورکالے کرتوت اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکے ہیں۔خودبھارت کے معقول ومعتدل دانشوروں کے نزدیک اکیسویں صدی میں بھارت کی قیادت کرنے والے مودی ہمیشہ ہی سے ایک ناموزوں انتخاب تھے۔ان کے ابتدائی ایاّم میں ان سے مل کرممتازسماجی ماہرنفسیات اشیش نندی نے مودی کومحدودجذباتی زندگی کا حامل سخت گیرمذہبی،تشددکے خواب دیکھنے والا آمرشخص بتاتے ہوئے کلینیکل کیس قراردیاتھا۔گجرات میں مسلمانوں کے منظم قتل عام کے بعد سسکتے لاکھوں مسلمانوں کے کیمپوں کو بچے پیداکرنے کے مراکزکوئی ایساہی شخص قراردے سکتا تھا ۔مسلمان اورپاکستانی اس ذات شریف کی ملامت ودہشت کاخصوصی ہدف چلے آرہے ہیں۔
گجرات کے قتل عام میں ملوث ہونے کے متعلق جب ایک انٹرویوکے دوران ان سے باربارسوالات کئے گئے توان کاکہنا تھا:میری غلطی صرف یہ ہے کہ میں نے میڈیاسے بنا کر نہیں رکھی۔ایک دہائی سے زائدعرصے تک جب ان سے اس غیرمعمولی بے حسی کے بارے میں سولات کئے گئے توبالآخرانہوں نے یہ کہا: مجھے ان اموات پراتناہی افسوس ہے جتنا کسی کتے کے گاڑی تلے آجانے پرہوتا ہے۔بدترین دہشت کی علامت نریندرمودی اپنے آپ کوخصوصی حلقے میں ایمانداراورپاکبازثابت کرنے میں اس بناء پرکامیاب رہاکہ بھارت کے اکثرتاجر، سیاستدان اورمیڈیاسب بدعنوانی کے سکینڈلز میں ملوث ہونے کی بناء پران کے کرتوتوں پرسے پردہ نہیں اٹھاتے تھے بلکہ پردہ پڑارہنے میں ممدومعاون ثابت ہوئے اس اعلیٰ ترین عہدے کیلئے مودی کے ابتدائی حمائتی بھارت کے امیرترین مگرمتعصب ہندوتھے ۔ان لوگوں کاتذکرہ آگے بڑھانے سے قبل کچھ ذکرپردہ اٹھانے یانہ اٹھانے کااپنے قارئین تک پہنچاناضروری معلوم ہوتاہے۔
ان سطورکے اختتامیہ میں دوکمسن طلباء کی رہائی کااشارةًذکرکیاگیاہے۔ مودی سرکارکے نابیناقسم کے اہلکاروں نے فیصل اعوان اوراحسن خورشیدنامی دوبے گناہ طلباکو سرحدی علاقے سے گرفتارکرکے بھارتی جیل میں بندکردیاتھا۔ان پر اوڑی حملے میں ملوث ہونے کابے سروپاالزام عائدکیاگیاتھاتاہم خودبھارتی تحقیقاتی ایجنسی ہی نے مسلسل پانچ ماہ تک بلاجوازبھارتی عقوبت خانوں میں مقیدرکرکے سخت ترین تفتیش کے بعدبالآخر انہیں بے گناہ قرار دیکر چھوڑدیا لیکن اس کے باوجودجب ان بے گناہ لڑکوں کوپاکستانی سرحدپران کے اعزہ و اقرباء کے حوالے کیاگیاتوان کوبھارتی عقوبت خانوں سے آنکھوں پرپٹی باندھ کرلایاگیا۔حوالے کرنے والے مودی سرکارکے اہلکاروں کی آنکھیں کھلی تھیں مگرسچ یہ ہے کہ اصلاًپٹی ان کی اوران کے باوا نریندرمودی کی آنکھوں ،ذہنوں اوردلوں پربندھی ہوئی ہے۔Modi47
مودی کواقتدارمیں لانے والے دراصل وہ امیر ترین لوگ تھے جنہیں سستی زمین اورٹیکس کالالچ تھا۔اسٹیل اورکار بنانے کے شعبوں میں مانے ہوئے رتن ٹاٹاوہ پہلے صنعت کارتھے جنہوں نے مسلمانوں کے منظم قتل عام کے دوران مودی کوگلے لگایا۔گجرات میں مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کے موقع پرمودی کی آنکھوں پرظاہری کوئی پٹی نہیں بندھی ہوئی تھی اور وہ سب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہاتھا،جھگیوں کے شہرممبئی میں کئی منزلہ گھرکے مالک معروف تاجر مکیش امبالی نے مودی کی اعلیٰ بصیرت کی ستائش کی تھی اوران کے بھائی نے مودی کوبادشاہوں کابادشاہ قراردیاتھا۔بڑے صنعت کاروں،تاجروںاورملک کے بڑے تجارتی گروپس کے مالکان کی مودی کے بارے میں دیوانگی (یانابینائی) کو رپورٹ کرتے ہوئے اکانومسٹ بھی اس نمائش خوشامدکے جھانسے میں آئے بغیر نہ رہ سکا۔
ایساہونانہیں چاہئے تھامگرمودی کے بھارت میں امبانی خاندان برلسکونی کی طرزپرخبروں اورتفریح کے میڈیاپرچھاتارہا ہے۔میڈیامینجمنٹ ،مودی کیلئے کوئی مسئلہ نہیں رہی ہے کیونکہ ٹی وی چینلزاوراخبارات ان کے وفادارحمایتیوں کی ملکیت ہیں جوانہیں مسلسل بھارت کانجات دہندہ قراردیتے رہے ہیں۔مودی نے بھی ان دانشوروں،لکھاریوںاور صحافیوں کو اپنی طرف متوجہ کیاجوسابقہ دورمیں نظراندازکئے گئے تھے۔یہ سب غصے میں بھرے وہ لوگ تھے جوآزادخیال تحریکوں کی مخالفت سمت میں خاموشی سے رواں رہتے تھے اورموقع کی تلاش میں رہتے تھے۔نطشے کے الفاظ میں مواقع سےمحروم یہ لوگ دوسروں کوالزام دیتے ہوئے انتقام کی آگ سینوں میں سلگائے ہوئے تھے اورمودی کے آتے ہی اداروں کے سربراہ بن کر فضاکواپنے انتہاء پسندانہ اعمال وافکارسے آلودہ کررہے تھے۔ سماجی
میڈیاپرکھلے بندوں مودی کے پٹھوکہلانے والوں نے خوب کل پرزے نکالے،چھوٹے قصبوں میں رہ کرمسلمان اورہندومیں محبت کی مخالفت کرنے والوں سے لیکر خود کو انگریز کی محبت میں مبتلابتانے والے تنگ نظرسواپن داس گپتا تک ہرکوئی اس میں شامل تھامگریہ بھی نہیں بھولناچاہئے کہ عالمی سطح پرنامورگروہ بھی مودی کیلئے سرگرم رہے۔ وسطی ایشیائی آمروں اوران کے کارندوں کیلئے عوامی روابط بنانے والے اے پی سی اورکمپنی سے لیکر کرائے کے ان سپاہیوں تک سب سرگرم رہے جوسماجی میڈیاپرشورمچاتے ہیں یا آن لائن مضامین کے نیچے تبصرے کرتے ہیں۔ٹونی بلیئر کے سابق مشیر نے انگریزی بولنے والوں کیلئے عقیدت میں ڈوبی سوانح لکھی۔لیبرپارٹی کے رہنماء میگھندرڈیسائی نے پھرتی اور تیز رفتارترقی کی دیو مالائی کہانیاں بنتے ہوئے بڑی کمپنیوں کوسہولتیں دینے کامودی کاتشخص خوب اجاگرکیا۔
نوبل انعام یافتہ اینکسڈیٹن کے غربت کی نفی کے تصورکاپرچارکرنے والے ماہرین معاشیات جگدیش بھاگوتی اوراروندپانا گریانے اکنامسٹ کولکھے گئے ایک خط میں کہاکہ گجرات میں مسلمانوں کامنظم قتل عام دراصل فسادات تھے۔ جب مودی کے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہوئے توامریکی تھنک ٹینکس میں بیٹھ کربڑہانکنے والے دانشوروں نے اخباروں میں مودی کوایک ایسارہنماء قراردیناشروع کیاجوجدیدبھارت کوآگے لیجاتے ہوئے امریکااوراسرائیل کے حق میں خارجہ پالیسی کومستحکم کرے گا۔اس مصنوعی اتفاق ِ رائے کاحصہ بنتے ہوئے بہت سے اخباری نمائندے اوران کے بھارتی پشت پناہ ہوش وخردسے بیگانے ہوچکے تھے۔پس مودی بغیرکسی رکاوٹ کے ذلت سے عزت کی منزل تک پہنچ گئے۔۔۔۔ جاری ہے

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>