China Kick Modi

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

چین میں اتوارکو”بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو”کے دوروزہ اجلاس کاآغازہوا جس میں۱۳۰ممالک سے۱۵۰۰مندوبین اور۲۹سربراہان مملکت بھی شریک ہوئے۔ اہم سربراہان میں روسی صدرپیوٹن، ترکی کے صدراردوگان اوروزیراعظم میاں نواز شریف ملک کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ خصوصی شرکت کیلئے چین پہنچے لیکن مودی سرکارجس نے پاکستان کو عالمی سطح پرتنہاکرنے کاچیلنج دیاتھا،وہ آج عالمی طورپر تنہا صر ف احتجاج کرتی ہوئی نظر آئی جبکہ انڈیانے اس پراجیکٹ کانام تبدیل کرنے کی شرط پرشمولیت کی خواہش کااظہارکیاجس کوچین کی طرف سے ردکردیاگیا۔
دنیابھرکے بڑے سرمایہ کاروں نے چین میں ”بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو”کو سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلاس قرار دیا ہے جس کا آغاز صدر شی جن پنگ نے ان الفاظ میں کیاکہ ”یہ پراجیکٹ چین کی جانب سے عالمی سطح پرمعاشی مشکلات کے خاتمے کی کوشش ہے۔ یہ وہ گیت ہے جوکسی ایک آواز میں نہیں ہے بلکہ کورس میں ہے”۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے چین تجارت میں اضافہ اور اپنی معیشت کو ایشیا سے باہر کے خطے لے جانا چاہتا ہے۔ایسا کرنے کے لیے چین بڑے پیمانے پر(پانچ کھرب ڈالر) انفراسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کوملانے کاعزم رکھتا ہے۔ چند اندازوں کے مطابق چین ہرسال۱۵۰بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رواں سال کے آغاز پرریٹنگ ایجنسی”فچ”کاکہناتھاکہ ۹۰۰بلین ڈالر کے پراجیکٹ کی یاتومنصوبہ بندی کرلی گئی ہے یاان پرعملدرآمد شروع ہوچکاہے۔ان منصوبوں میں پاکستان میں پائپ لائنزاور بندرگاہ،بنگلہ دیش میں پل اورروس میں ریلوے کے پراجیکٹ ہیں جن کامقصد”جدید سلک روڈ”کا قیام ہے جس کے ذریعے تجارت کی جاسکے اورایک نئے گلوبلائزیشن دورکا آغازکیاجائے ۔
چینی صدرشی جن پنگ نے اپنے”بیلٹ اینڈروڈ”نامی عالمی منصوبے کوعملی جامہ پہنانے کیلئےکروڑوں ڈالرلگانے کاوعدہ کیاہے جوکہ بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں صرف کیاجائے گا۔بیجنگ میں جاری کانفرنس کے آغازپرمسٹرشی جن پنگ نے”بیلٹ اینڈ روڈ فورم”کے اپنے عالمی منصوبے کاخاکہ پیش کیا۔اس کیلئے انہوں نے۱۲۴/ارب ڈالر کی سکیم کاعہدکیاہے۔انہوں نے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:تجارت معاشی ترقی کااہم ذریعہ ہے۔”بیلٹ اینڈروڈ” منصوبے کے تحت قدیم”سلک روٹ”یا شاہراہ ریشم کودوبارہ قائم کرناشامل ہے اوراس کیلئے بندرگاہوں،شاہراہوں اورریل کے راستوں کے بنانے میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ چین کوایشیا،یورپ اور افریقہ سے جوڑاجاسکے۔”بیلٹ اینڈروڈ”کوفروغ دے کرہم دشمنیوں کے کھیل کی پرانی راہ پرنہیں چلیں گے۔اس کے برعکس ہم تعاون اورباہمی فائدے کانیاماڈل تیارکریں گے۔ ہمیں تعاون کاکھلا میدان تیارکرناچاہیے اورایک کھلی عالمی معیشت کوفروغ دیناچاہیے۔
چینی صدرنے کہا:چین اپنی ترقی کے تجربات میں تمام ممالک کوشریک کرنے کیلئےتیارہے۔ ہم کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔وہ خواہ ایشیااوریورپ کے ہوں یاافریقہ اورامریکاکے سب بیلٹ اینڈروڈکوتیارکرنے میں ہمارے تعاون کرنے والے شراکت دارہیں۔صدرشی جن پنگ نے اپنے اس عالمی منصوبے کو”صدی کاپراجیکٹ”قراردیاہے جس سے دنیابھرکے لوگوں کو فائدہ پہنچے گااوراس سوچ کامقصدخوشحالی کیلئے مجموعی اورقابل عمل ترقی کے ذریعے مختلف ممالک اورعلاقے کی ضروریات کوپوراکرناہے۔”بیلٹ اینڈ روڈ”تعاون منصوبے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تقریبا۶۰ممالک تجارت میں منسلک ہوجائیں گے۔اس کانفرنس سے روسی صدرپیوٹن کے علاوہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان اوراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نےبھی خطاب کیا۔
میاں محمد نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان میں اس راہداری کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیزی سے مکمل ہورہے ہیں اورچین کایہ منصوبہ آنے والی نسلوں کیلئے تحفہ ہے۔”بیلٹ اینڈروڈ اینیشی ایٹو”کے دواہم حصے ہیں۔ پہلاجس کو”سلک روڈاکنامک بیلٹ” کہاجاتا ہے اوردوسرا”۲۱ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ” ۔۲۱ویں صدی میری ٹائم سلک روڈوہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کووسط ایشیا اورمشرق وسطی کے ذریعے مشرقی افریقہ اوربحیرہ روم سے ملائے گا۔China Kick Modi
میاں نوازشریف نے بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈکے سربراہی اجلاس میں انڈیا کیلئےایک واضح پیغام میں کہاکہ(سی پیک )کامنصوبہ خطہ کے تمام ممالک کیلئے ہے اوراس منصوبے پرسیاست نہیں کی جانی چاہیے۔میں یہ بات واضح کرناچاہتاہوں کہ سی پیک کامنصوبہ ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس میں سرحدوں کی کوئی قیدنہیں اورکوئی بھی ملک اس میں شامل ہوسکتاہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اس کوسیاسی مقاصدکیلئےاستعمال نہ کیاجائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کہ ممالک آپس کے اختلافات کوگفت وشنیدکے ذریعے سلجھا کرپرامن رشتہ قائم کریں جس میں تمام ملکوں کے تعلقات میں کوئی جھول نہ ہو۔ ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے جب امن قائم ہواورامن قائم کرنے کیلئےمعاشی ترقی سے اچھا کوئی طریقہ نہیں ہے،خاص طورپروہ جوخطے کے تمام ممالک کے تعاون سے قائم ہو۔”ون بیلٹ ون روڈ”کی مدد سے ہم دہشتگردی اورانتہا پسندی کابھی خاتمہ کرسکتے ہیں کیونکہ جس سمت میں یہ منصوبہ جارہاہے اس کی مددسے ہم آہنگی،رواداری اورمختلف ثقافتوں کوپھیلاسکتے ہیں اورجغرافیائی معاشیات،جغرافیائی سیاست سے زیادہ ضروری اورفائدہ مندہے جس کی مددسے ملکوں کے مابین تصادم کے بجائے تعاون کوفروغ ملے گا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ستمبر۲۰۱۳ء میں قازقستان کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ”سلک روڈ اکنامک بیلٹ”کاباضابطہ اعلان کیاتاہم بعدمیں اس منصوبے میں وسعت لائی گئی اورنام بھی تبدیل کردیاگیا۔چین نے اس پراجیکٹ کے حوالے سے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں اہم ترین۶۲بلین ڈالرکاچین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں موٹر ویزکاجال بچھانا،پاورپلانٹس،فیکٹریاں اورریلوے کاجال بچھے گا۔پاکستان کے علاوہ چین نے سری لنکامیں۱.۱بلین ڈالرکامنصوبہ شروع کیاہے،انڈونیشیامیں تیز رفتارریل لنک اورکمبوڈیا میں صنعتی پارک۔چین کے اس منصوبے پرملاجلا ردعمل ہے۔ وسط اور جنوب مشرقی ایشیاکی ریاستیں قازقستان اورتاجکستان تو بہت خوش ہیں جبکہ دوسری جانب انڈیا نے شک کااظہارکیاہے کہ تجارتی منصوبے بہانہ ہیں،چین کااصل منصوبہ بحرِہند پراسٹرٹیجک کنٹرول حاصل کرنا ہےتاہم یہ ایک بہت بڑاپراجیکٹ ہے جس کے ذریعے دنیا کی۶۵فیصدآبادی،دنیا کی تین چوتھائی توانائی کے ذخائر اوردنیاکا۴۰فیصدجی ڈی پی تک پہنچے گا۔
آج آٹھ دہائیوں کے بعدحکیم الامت علامہ اقبال کے خواب کوتعبیرملنے جارہی ہے اوراس منصوبے کے تحت کاشغرکو دوہزارمیل دورگوادرسے جوڑنے کاخواب اب حقیقت میں بدلنے جارہاہے ۔
کھول آنکھ،زمیں دیکھ،فلک دیکھ،فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کوذرادیکھ

About سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>