SAB

سوال یہ ہے کہ ہے معتبر اندھیرا کیوں ؟

فتنہ انگیزبے حسی
پچھلے کئی ہفتوں سے شب وروزبڑے کرب سے گزررہے ہیں کہ جس معجزاتی ریاست کوہم نے خالصتاًرب العزت کی حاکمیت کے عملی نفاذکیلئے مانگاتھا،نہ صرف ہم اوفوبالعہد کی پاسداری نہیںکرسکے بلکہ اب کئی ملحدبلاگر نبی اکرمﷺ کی شانِ اقدس میں نازیبااورگستاخانہ تحریروں سے جہاںمسلمانوں کے دلی جذبات کوٹھیس پہنچارہے ہیں ،وہاں اس پر حکمرانوں کی بے حسی اور خامشی کسی شدیدطوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے۔آج نہ جانے کیوں انتہائی شدت سے امیر شریعت حضرت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری اورغازی علم دین شہیدکی یادیں ایک مرتبہ پھردلوں کوشدید تڑپا رہی ہیں ۔تقسیم ہندسے قبل آریہ سماجی پنڈٹ چمو تنی کے فتنہ انگیز کتابچہ ’’رنگیلارسول‘‘ کے ناشر راجپال نے شائع کرکے اپنی دریدہ دہنی کاجب اظہار کیاتواس وقت مسلمانوں میں ایک شدیدقسم کاہیجان پیداہو گیا،جس کے نتیجے میں سارے ملک میں مظاہرے شروع ہوگئے ۔اسی سلسلے میں ایک بہت بڑا اجتماع امیرشریعت سیدعطاء االلہ شاہ بخاری اورعلامہ اقبال کی ہنگامی کال پر لاہورمیں منعقدہواجس میں لاکھوں کی تعدادمیں مسلمانوں نے شرکت کی۔اس عظیم الشان جلسے میں جہاں اوربہت سے جید علماء اورمسلم رہنماؤں نے شرکت کی وہاں ایک عاشق رسولﷺ شورش کاشمیری کی جذباتی تقریرنے گویاسامعین کے دلوں میں ایک آگ سی بھردی جس کے بعد یوں لگ رہاتھاکہ اسی وقت جلسے کے شرکاء دیوانہ وار اپنے نبی کی حرمت پرکٹ مرنے کیلئے ہرقسم کی طوفان سے ٹکراجائیں گے اوراس نازک مرحلے کوامیرشریعت نے بھانپ لیا کہ سینکڑوں مسلح انگریزسپاہ ایک اورجلیانوالہ باغ جیسا واقعہ نہ دہرادیں،جس سے نہتے مسلمانوں کا شدیدجانی نقصان ہونے کاقوی امکان تھا۔ امیرشریعت نے فوری طور مائیک سنبھالتے ہوئے اپنی دلسوزآوازمیں قرآن کی تلاوت کے بعداپنے حکیمانہ خطاب شروع کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کوصبرکی تلقین کرتے ہوئے گزری شب کواپنے خواب کایوں تذکرہ کیاکہ میں نمازتہجد کیلئے اپنے بسترکوچھوڑکروضوکیلئے پانی کالوٹاتھامے کھڑاتھاکہ کیادیکھتاہوں کہ میرے اس ٹوٹے ہوئے گھرکے دروزے پردوخواتین انتہائی پریشان اورمغموم کھڑی ہیں جن کودیکھ کرمیں کانپ گیا۔
شاہ صاحب اتناہی کہہ کرآبدیدہ ہوگئے اوررقت آمیزلہجے میں فرمایا:مسلمانوں تمہیں پتہ ہے کہ وہ دوہستیاں کون تھیں؟
ایک میری نانی حضرت خدیجہ اوردوسری میری ماں سیدہ فاطمہ الزہرا تھیں جنہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ کیاتم اپنے ناناۖ کی حرمت کی پاسداری بھی نہ کرسکے؟یہ سنناتھاکہ مارے ندامت میرے ہاتھ سے لوٹازمین پر گرکر ٹوٹ گیالیکن حقیقت یہ ہے کہ میں بھی ٹوٹ کرریزہ ریزہ ہوگیاہوں۔ امیر شریعت کے ان الفاظ کے بعدسارامجمع پھوٹ پھوٹ کررونے لگاتوامیرشریعت نے مجمع کوحوصلہ دیتے ہوئے ان سے یہ وعدہ لیاکہ تم اپنے گھروں کو اس اندازمیں خاموشی سے واپس جاؤکہ تمہارے پاؤں تلے خشک پتوں کی چرچڑاہٹ بھی سنائی نہ دے تاوقتیکہ ہم اس اندوہناک سانحے کے لائحہ عمل کاجلداعلان نہیں کردیتے۔کہنے والے عینی شاہدیہ کہتے ہیں کہ ابھی امیرشریعت کاخطاب ختم نہیں ہواتھا کہ مجمع کے پیچھے سے ایک دبلے پتلے نوجوان کی آوازبجلی کی طرح کوندگئی کہ ”شاہ صاحب!اس ناہنجار اور ملحدراجپال کومیں نے جہنم رسیدکر دیاہے،اب میرے لئے کیاحکم ہے؟”جس پرعلامہ اقبال نے پنجابی زبان میں ایک فقرہ کہاجوامرہوگیا:”اسیں ویکھدے ہی رہ گئے تے ترکھاناں دامنڈاں بازی لے گیا ” ہم دیکھتے ہی رہ گئے اوربڑھئی کابیٹابازی لے گیا۔
مندرجہ بالاتاریخی واقعہ دہرانے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ ان دنوں نبی آخرالزماںۖ کی شان اقدس میں برسر عام توہین کے مرتکب گستاخ بلاگرزکی مکروہ ومذموم سرگرمیاں سامنے آنے کے کئی ہفتوں بعداورامت مسلمہ کو کئی ہفتے تک سخت اذیت میں رکھنے کے بعدیہ بتایاگیاہے کہ حکومت فیس بک پر موجودلگ بھگ چالیس توہین آمیزصفحات اب تک بلاک کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔یہ بات عدالت عالیہ اسلام آبادکودوران سماعت بتائی گئی تھی جبکہ اگلے روزتھوڑی کمی بیشی کے ساتھ یہی بات وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اپنی نیوز کانفرنس میں بتائی کہ فیس بک کی انتظامیہ پرواضح کردیاگیاہے کہ توہین آمیز موادکسی بھی صورت قابل قبول نہیں جس پرفیس بک کی انتظامیہ نے ہمارے تحفظات دور کرنے پر رضا مندی ظاہرکردی ہے۔
وزیرداخلہ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امورطارق فاطمی نے اوآئی سی کوبھی خط لکھ کراس جانب متوجہ کیاتھا۔اوآئی سی کاماضی مسلمانوں کے مسائل اور آواز اٹھانے کے معاملے میں پہلے ہی خاصاتلخ رہاہے توکیاوہ اس معاملے پرجاگے گی؟کئی ہفتوں کے بعدہونے والی اس پیش رفت پریہ کہاجا سکتا ہے کہ یہاں تک توپہنچے،یہاں تک تو آئے مگراس سے پہلے حکومت پاکستان کی سطح پراتنی سرگرمی بھی مسلسل توجہ دلانے عدالت عالیہ اسلام آباد کے باوجودنہ ہوسکی تھی بلکہ مسلسل بے حسی ،بے توجہی اوربے بسی ظاہرکی جا رہی تھی،نتیجتاًپچھلے کئی ہفتوں کے دوران حکومت نے اس معاملے میں اتنی حساسیت بھی نہ دکھائی ،عام طورپرحکومت یااس کی اہم ترین شخصیات کے بارے میں ٹی وی اسکرین پرچلنے والی کسی منفی ٹکر پرسامنے آجانے پر دکھائی جاتی ہے۔اس معاملے میں حکومت کی اعلیٰ ترین سطح سے اتنابھی ردّ ِ عمل یاسنجیدگی اورپریشانی ظاہرنہیں کی گئی تھی جتنی کہ حمیت و غیرت کا اظہارکچھ عرصہ قبل عسکری ادارے نے ڈان لیکس پر کیاتھا۔حدیہ ہے کہ حکومت کی طرف سے اس انتہائی جذباتی معاملے پراتنابھی ردّ ِ عمل ظاہرنہیں کیاجاسکا جتناپوری حکومتی باڈی نے پی ایس ایل فائنل میں لاہور آنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کوپھٹیچرکہے جانے پرکیاتھا۔
اگرچہ یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کے ٹوئٹراکاؤنٹ سے وزیر اعظم نوازشریف کے بالآخرسامنے آنے والے اظہارافسوس اوراگلے روز میڈیا میں بیان کے علاوہ وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اپنی اب تک دوسے تین پریس کانفرنسوں میں بھی اس موضوع پراپنی زبانی کمٹمنٹ کا باآوازبلندکرچکے ہیں لیکن یہ اظہاربھی قریب قریب ویساہی سمجھا جارہاتھاجیساصوبہ پنجاب میں کسی غریب کے ساتھ ہونے والے ظلم پروزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کاچین سے نہ بیٹھنے والابیان ایک رسم کے طورپرآجاتاہے،اگلے ہی روز سے پھروہی ستم کاسلسلہ جاری وساری رہتاہے،نہ ہسپتالوں کی حالت بدلتی ہے،نہ گلاکاٹنے والے کسی پتنگ بازکونشانِ عبرت بنایا جاتاہے۔بعینہ یہی معاملہ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے اب تک کے اعلانات اوربیانات بھی اسی زمرے میں رہے ہیں لیکن اب حکومت اس سلسلے میں کچھ کرنے کی طرف مائل لگتی ہے،شائداگلے سال ہونے والے انتخابات کی وجہ سے کچھ متحرک ہوئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے عدالت عالیہ میں تین گستاخ بلاگرزکوگرفتارکرلینے کادعویٰ بھی کیاہے،انہیں توہین رسالت کے سنگین جرم میں مبتلابھی بتایاگیا ہے لیکن تاحال حکومت کی طرف سے یہ نہیں بتایاگیاکہ گستاخ بلاگرزکون ہیں؟کن ناموں سے سوشل میڈیاکے ذریعے فسادپھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ان کے خلاف قانون کی کن دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اوران کے پیچھے کن سہولت کاروں اورپردہ نشینوں کے نام آتے ہیں نیزیہ کہ ان زیر حراست لئے گئے تین گستاخ بلاگرزمیں کتنے وہ ہیں جنہیں اس سے قبل وزیر داخلہ ہی کے کہنے کے بعدرہائی ملی تھی۔ اس سلسلے میں وزارتِ داخلہ کے ذمے ابھی یہ وضاحت باقی ہے کہ ان گستاخوں کے کون کون سے ساتھی بیرونِ ملک فرار ہوگئے ہیں ،انہیں فرار کرائے جانے کے ذمہ داروں میں سرکاری حکام اوراہلکاروں میں کون کون براہِ راست اورکون کون بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرملوث ہیں۔یہ امربھی توجہ طلب ہے کہ ان گستاخ بلاگرزکی نگرانی کن اداروں کے ذمہ تھی لیکن انہوں نے ان کے ویزوں سے لیکربیرون ملک فرارتک چشم پوشی سے کیوں کام لیا؟ان میں سے بعض کے لاپتہ ہونے کے دنوں میں ان کے سفارشیوں میں کون کون سے پردہ نشین شامل تھے۔ان پردہ نشینوں کاان گستاخ بلاگرزکے بارے میں دعویٰ کتنادرست تھاکہ یہ اسلام اورپاکستان کے خلاف کسی مہم پرنہیں بلکہ عام لوگ ہیں۔بلاشبہ اس حساس کیس کے اصل کرداروں کاسراغ لگانے کیلئے ان سب سوالوں کاجواب تلاش کرناضروری ہے وگرنہ اس نوعیت کے توہین رسالت کے واقعات کی حوصلہ افزائی کاماحول رہے گاجس کی سب سے زیادہ ذمہ دارحکومت اوراس کی اعلیٰ ترین شخصیات ہی سمجھی جائیں گی۔
بلاشبہ حکومت نے ۲۵/اسلامی ممالک کے سفیروں کوبلاکران کے ساتھ اس مسئلے پرباہمی تعاون کی اہمیت کواجاگرکیاہے اورمذکورہ سفراء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی حکومتوں سے بات کرکے بتائیں لیکن اتنی تاخیر سے حکومت کی جانب سے یہ کیاگیااقدام بھی ادھورا،رسمی اورمجبوری کے ماحول کاعکاس ہے۔اگر حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پرواقعی اس قدراحساس پایاجاتاتھاتواس کااظہارمختلف اندازسے سامنے آناچاہئے تھا۔وزیر اعظم جن کے حوالے سے ایک ٹوئٹ کے ذریعے بیان جاری کیاگیاتھاوہ پوری امت کے اس درد مشترک کوسمجھتے تھے توکم ازکم فون پرمسلم دنیاکے سربراہوں سے براہِ راست بات کرسکتے تھے،اگروزیراعظم سیاسی جلسوں وغیرہ کی یاغیرملکی مہمانوں کی میزبانی کی اہم مصروفیات میں مشغول تھے تواپنے مشیربرائے امورخارجہ سرتاج عزیزکی ذمہ داری لگاسکتے تھے کہ وہ مسلم دنیاکے وزرائے خارجہ سے رابطہ کرکے نہ صرف یہ ایک مشترکہ حکمت عملی کیلئے ابھارتے ،کچھ نکات تجویزکرتے اورڈرافٹ تیارکرکے باہمی مشاورت کیلئے بھجواتے۔
وزیرداخلہ ذمہ داراورسنجیدہ علماء اوردانشوروں کے ساتھ مشاورت کرتے،آئی ٹی ماہرین سے اس کے تدارک کیلئے تجاویز لی جاتیں لیکن ایساکچھ بھی نہیں کیاگیا۔حتیٰ کہ ایک ایک کرکے گستاخ بلاگرزمیں سے کئی بیرونِ ملک فرارہونے کاخود موقع فراہم کرنے کا تاثر پیداکیاگیا۔اگریہ سنگین مسئلہ سامنے آتے ہی سنجیدگی دکھائی جاتی تواب تک مسلم حکمران کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے قریب ہوتے،اس ایشوپروزرائے خارجہ کی کانفرنس ممکن بنائی جا سکتی یاکم ازکم اوآئی سی اپنے اندازمیں کچھ اقدامات پرتمام مسلم دنیاکومتوجہ کرتی۔بدقسمتی سے ہماری حکومت کی طرف سے ایسا کچھ نہیں کیاگیا ،جوکیا گیا محض رسمی نوعیت کا،آنکھوں میں دھول جھونکنے والااوروقت گزاری کیلئے کیاگیا۔ایسی بے دلی کے ساتھ کی گئی کسی کوشش کانتیجہ معیاری کیونکر ہو سکتاہے؟حکومت کی یہ کاروائی کہ ۲۵ملکوں کے سفیروں کوبلاکرانہیں اپنی حکومتوں سے رابطہ کرنے کیلئے کہاگیا،انتہائی کمتر کوشش ہے۔خدشہ یہ ہے کہ جس بے دلی سے ہماری حکومت نے یہ کاروائی کی ہے اگرایسی ہی بے دلی سفیروں کے ہاں بھی پائی گئی تویہ مسئلہ مزید لٹک سکتاہے۔SAB
حکومت پاکستان کی طرف سے اس سے پہلے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے ایسی نیم دلانہ کوششوں کے نتائج مسلم دنیاسے کبھی سامنے آسکے ہیں نہ وہ دوست ممالک کی طرف سے کہ ہماری حکومت خودبھارت کوانتہائی پسندیدہ قوم قرار دینے کیلئے کوشاں اورمشتاق ہے اورحدیہ ہے کہ مودی سرکار ایسی موذی سرکارکے ساتھ بھی ذاتی قربتوں کوترجیح اوّل کے طور پر پیش نظررکھاگیا ۔بھارت سے تجارت،کھیل اورثقافت کے حوالے سے روابط کیلئے ہمیشہ چشم براہ رہنے کی کوشش کی گئی جیساکہ کشمیراورلائن آف کنٹرول پرہیں۔افغان سرحدپر بھی بھارتی سازشوں کے باوجودبھارتی فلموں کا راستہ کھولنے کی بات کی گئی ،ایسے میں مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے عالمی برادری یامسلم ممالک سے بھارت پردباؤڈلوانے کی یابھارت کے خلاف مددلینے کی آرزواگرکوئی لگائے رہے تو اسے ایسا احمقانہ ہی قراردیاجاسکے گا۔
اب اس معاملے میں بھی مسلم دنیاکی حکومتوں کواپنے اخلاص کایقین دلانے کا کوئی اہتمام موجود نہیں ہے کہ اللہ کے آخری نبیۖ کی ناموس کاتحفظ کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی بن سکے۔رہی بات مسلم ممالک کے سفیروں کی توان کی سنجیدگی اگراس بارے میں کسی گوشے میں اسلام آباد موجودگی کے سبب ہماری حکومت، دفترخارجہ یامیڈیاکے سامنے آسکی ہے تو بہت اچھی بات ہے اور اگر جواب ناں میں ہے توڈرہے کہ ان سفیروں کواپنی حکومتوں کو اس معاملے میں قائل کرنے میں کافی دقت کاسامناہوسکتاہے۔ یقینا ًوہ حکومتیں یہ سوال پوچھ سکتی ہیں کہ خودحکومت پاکستان نے اس سلسلے میں اپنے ہاں کیاعملی اقدامات کئے؟کیاایسے گستاخ بلاگرزکے خلاف کوئی قانون حرکت میں آیا،مقدمات درج کئے گئے؟؟ان کے خلاف عدالتی ٹرائل کابندوبست کیاگیا،یاانہیں ملک سے باہربھاگ جانے کاجان بوجھ کر موقع دیاگیا؟؟
یہ سوال بھی حکومت پاکستان کے حوالے سے کسی مثبت رائے کاباعث نہیں بن سکے گاکہ خودپاکستان میں توہین رسالت روکنے کاباضابطہ قانون ہونے کے باوجود پاکستان کے تمام متعلقہ ادارے ایسے بدبخت عناصرکے خلاف کاروائی سے پس وپیش کیوں کرتے ہیں،خصوصاًان گستاخ بلاگرزکے حوالے سے عدالتی مداخلت کے بعد بھی حکومتی کاروائی اتنی سست کیوں ہے؟؟بلاشبہ ہماری حکومت کادعویٰ ہے کہ پاکستان کے عالمی سطح پرتنہائی کے دن بیت گئے ،اب دنیاہمارے ساتھ ہے،اس دعوے کے ہوتے ہوئے بھی حکومت پاکستان نے عالمی سطح پرمؤثراوراپنے دوست ممالک کی مددکیوں نہ چاہی؟ کیاوجہ تھی کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے قومی جذبات سے آگاہ کرنے اورامریکاسے آپریٹ ہونے والی فیس بک کے بارے میں اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کرنے سے بھی شعوری گریزبرتاگیا؟اگرپاکستان ایسا ایک جوہری ملک اورپاک چین راہداری کے باعث دنیامیں اثرات میں اضافے کی طرف مائل ملک اپنے اثرو رسوخ کواستعمال کرنے کی کوشش نہیں کرتاتو دوسرے اسلامی ممالک اس کی کس طرح مددکریں گے؟کیایوٹیوب پر پابندی لگانے سے کوئی قیامت ٹوٹ پڑی تھی کہ اب فیس بک کوعبوری طورپربلاک کرکے اس کی انتظامیہ سے اس سے توہین آمیز مواد ہٹانے کیلئے مذاکرات کرلئے جاتے۔ان سوالوں کاجواب متعلقہ سفیروں کو بھی اپنی حکومتوں کو دیناپڑسکتاہے اورخود پاکستان کو بھی اس حوالے سے مسلم دنیاکے سفیروں کو جوابدہ ہوناپڑسکتاہے بلکہ مسلم ممالک میں ایسے واقعات کے پاکستان میں چھپے کرداروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھی سامنے آسکتاہے۔
سیدھی سی بات ہے ایسے گستاخ عناصرکے خلاف سب سے پہلے ان ممالک کو خودکاروائی کرنی چاہئے جن کے یہ شہری ہیں ،جہاں کے یہ رہائشی ہیں اور اس کے بعد مسلم ممالک کومل کرکوشش کرنی پڑے توعالمی سطح پراورسوشل میڈیا کے ان متعلقہ اداروں کے ذمہ داروں سے اجتماعی طورپربات کرنی چاہئے یان کے بارے میں اجتماعی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔اس ناطے ابھی تک حکومت پاکستان کی کوششیں اوراقدامات اطمینان بخش نہیں ہیں۔حکومت نے ابھی تک ان بدبخت بلاگرزکے نام تک ظاہرنہیں کئے جنہیں مبینہ طورپرحکومت نے عدالتی دباؤمیں آکرگرفتارکیاہے اورنہ ہی ان گستاخ بلاگرزکے نام ظاہرکر رہی ہے جومبینہ طورپراس ملک سے فرارہونے میں کامیاب رہے ہیں۔ایسے میں مسلم ممالک سے توقعات باندھناکسی بھی صورت حقیقت پسندا نہ ہوسکتاہے،نہ سنجیدگی کامظہر،یہ صرف وقت گزاری کاایک منفی حربہ ہی قراردیاجاسکتاہے جیساکہ عدالت عالیہ اسلام آبادمیں فراہم کی گئی معلومات کووزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے اپنی نیوزکانفرنس میں پیش کردیا۔کابینہ کی انتہائی متحرک رکن انوشہ رحمان بھی اس معاملے سے بے اعتنائی ظاہر کررہی ہیں حالانکہ یوٹیوب پرسے پابندی اٹھانے کاکریڈٹ لینے والی اس وزیرکواب ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔
گستاخ بلاگرزکے خلاف عالمی سطح پرریفرنس کی تیاری سے پہلے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اوراس کے تمام متعلقہ محکمے اورادارے پہلے اپنا اخلاص ثابت کریں ،بصورت دیگر نتائج کوششوں اوراخلاص سے بڑھ کرکسی صورت مختلف نہیں ہوسکتے ۔ناموس رسالت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والے وزیر ہوں،مشیرہوں یاسرکاری حکام یہ اسلام آبادمیں کچرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔حکومت کواس کچرے سے نجات کے عوامی مطالبے کابھی سامناکرناپڑسکتاہے۔
سوال یہ نہیں کیوں نورکی ہے بے قدری
سوال یہ ہے کہ ہے معتبراندھیراکیوں؟

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>