Pen (2)

قلم کی طاقت،ووٹ کااحترام

تقریباً دو سو سال قبل امریکامیں غلاموں کی تجارت کھلے عام ہوتی تھی۔افریقہ سے بحری جہازوں کے ذریعے پنجروں میں بند کرکے ان لوگوں کولایا جاتا اورسخت ترین تشدد میں ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا۔اس زمانے کے تمام سیاسی رہنما بھی اس کاروبار میں برابر کے شریک تھے اور اس غلامانہ تجارت کو اپنے گھروں اور کارخانوں کیلئے ایک منافع بخش قوت سمجھتے تھے۔ایسے میں بھی کچھ لوگوں کے دلوں میں اس نظام سے نفرت ابل رہی تھی اور اس ظالمانہ نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے خواب آنکھوں میں سجائے مسیحا کی آمد کی دعائیں کر رہے تھے،بظاہر کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی تھی ‘ اس نفرت کو ابھی زبان ملنا باقی تھی۔اس ابلتی نفرت کو ایک شخص نے جس کی طاقت صرف اس کا قلم تھا، اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھ کر ان غلاموں ،بے کسوں کے خوابوں کو زبان دی ۔اس نے ایک اخبار ”لبریٹر” کے نام سے نکالا اور اس کے پہلے شمارے میں لکھا:
“میں سچ کی طرح کڑوا،اور انصاف کی طرح مصلحت سے عاری رہوں گا،میں اس مسئلے پر کبھی بھی اعتدال کے ساتھ سوچنا بولنا یا لکھنا پسند نہ کروں گا، نہیں کبھی نہیں،مجھے کوئی ایسا شخص بتائیے جس کا گھر جل رہا ہو اور وہ اعتدال کی باتیں کرے، آگ میں گر جانے والے بچے کی ماں سے کہئے کہ وہ اپنے بچے کو آہستہ سے آگ سے نکالے،زنا بالجبر کرنے والے کے ہاتھوں سے کسی عورت کو اعتدال کے ساتھ کوئی نہیں بچاتا،اسی طرح مجھ سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ میں موجودہ صورت حال میں اعتدال کا رویہ اپنا لوں۔”Pen (2)
یہ لکھنے ولا ،خوابوں میں رنگ بھرنے والا ولیم لائڈ گیری سن تھا جس نے ١٩٣١ء میں اپنے قلم کی طاقت کو خوابوں کی تعبیر کیلئے استعمال کرنا شروع کیا۔اسے بھی ابن الوقت لوگوں کے طعنے سننے پڑے،اس کو بھی احمق اور بے وقوف کے القابات ملے،سینٹ کے ارکان اور صدارتی امیدوار بھی اس کو دیوانہ سمجھ کر لوگوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین کر نے لگے ، دہمکیوں کی بناء پر اس کو اپنے ٹھکانے بدلنے پر مجبور بھی کیا گیا لیکن وہ اپنی تحریر سے لوگوں کو ایک عادلانہ معاشرے کے خوابوں کی تعبیر کی جلد نوید سناتا رہا۔وہ نہ خود مایوس ہوا اور نہ ہی ان لوگوں کی آنکھوں سے بہتر عادلانہ معاشرہ کے خواب کو دور ہو نے دیا۔اس کی آواز پر لبیک کہنے والے بڑھتے گئے،وہ جو کسی ڈر یا خوف سے خاموش تھے ، کھل کر سامنے آنے لگے۔ٹھیک ٣٠ سال بعد اسی خواب کو اپنی آنکھوں میں سجائے ایک شخص ابراہام لنکن آگے بڑھا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر اسی ملک کا صدر منتخب ہو گیا۔
مصلحت کوش سیاستدان اور اشرافیہ اس کے خلاف تھی لیکن ابراہام لنکن کو معلوم تھا کہ وہ جن کے ووٹوں سے اس منصب پر پہنچا ہے ،ان کے خوابوں کو بھولنا غداری ہے،ان کو مصلحت کی میٹھی گولیاں کھلاناجرم ہے،ان سے وعدے کرکے مکر جانا انسانیت کی گر ی ہوئی ذلیل ترین حرکت ہے۔ پھر امریکی تاریخ نے دیکھا کہ اسے ان ریاستوں سے جنگ کر نا پڑی، مصلحت سے پاک جنگ اورفتح ان لوگوں کا مقدربنی جوخواب دیکھتے تھے۔وہ لکھنے والا ولیم لائڈ گیری سن جو تیس سال پہلے بظاہر ایک نا ممکن جنگ کا آغاز کر چکا تھا ،اس کے خواب سچ تھے اور مصلحت کوش لوگوں کی سب دلیلیں جھوٹی تھیں۔ میرے ملک میں ایک آدھ بار قوم نے گاڑی کا کانٹا مثبت سمت کی طرف بد لاتھا مگریہ الگ بات ہے کہ اس ٹرین کو پٹری سے اتار کر کھیتوں کی دلدل کی طرف اس کا رخ کر دیا گیا ہے ۔لیکن خواب دیکھنے والے یہ لوگ ہزار میل کی رفتار سے کھیتوں کی طرف بھاگنے والی اس ٹرین کو اب بھی اس کی منزل پر پہنچانے کا عزم اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔
ولیم لائڈ گیری سن کی قسمت میں اور امریکی عوام کی زندگی میں ابرا ہام لنکن آ نکلا اور آج واشنگٹن میں صرف اسی کا مجسمہ ہے،مصلحت کوش اشرافیہ کے ناموں سے بھی لوگ واقف نہیں ۔ میرے ملک کے خوابوں کی راہ گزر پر بھی وہی شخص کامیاب ہو گا جو اس خواب کو لیکر آگے بڑھے گاجو مصلحت پسند لیڈروںاور طاقتور اشرافیہ سے جان چھڑانے کے خواب، معاشرہ میں ایک انقلاب لانے کاخواب،معاشرہ سے ظلم،بے چینی اوراضطراب کو ختم کرنے کا خواب، گھر کی دہلیزپر ہر کسی کوانصاف مہیاکرنے کاخواب،زندگی کی بنیادی ضروریات کوپوراکرنے کے خواب،لوگوں کے دلوں میں پلنے والے لاوے اوراوران کے احتجاج کواپنی تحریروں میں سموکران کے بروقت نتائج کے خواب،پاکستان کو ایک مثالی ریاست بنانے کے خواب پورے کرے گاکہ اس معجزاتی ریاست کو اسی ماہِ رمضان کی ان قیمتی ساعتوں”لیلتہ القدر”میں وجود بخشا گیا۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>