Shah Ji

تحریک آزادی کاایک رہنما

نگاہ اونچی خیال ارفع ظرف اعلیِ زباں شعلہ

ان دنوں قصرسفیدکے فرعون کے دہمکی آمیزبیانات اوردیگر حرکات کی وجہ سے اقوام عالم کے تمام امن پسندقوتوں میں عجیب ہلچل پیداکررکھی ہے اوریوں محسوس ہورہاہے کہ کسی بھی وقت ایک ایسی عالمی جنگ کاطبل بجنے والاہے جودنیاکو خاکسترکردے گا۔بالکل اسی طرح ۱۹۴۷ءتک دنیابھر میں برطانیہ کے جبروت کاطوطی بولتاتھا۔برطانوی سلطنت کی وسعت کے پیش نظریہ مثل مشہورتھی کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا یعنی اگراس کی نوآبادیات کے ایک حصے میں سورج غروب ہوتاتھاتودوسرے علاقے میں دن نکل رہاہوتا تھا۔ برطانیہ نے بھی آزادی پسندوں کوجبرو استبداد،درندگی اورسفاکی کے ہتھکنڈوں سے بالکل اسی طرح صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہاجیساکہ آج کل امریکی استعماردہشتگردی کالیبل لگا کرمسلمانوں کی جان وایمان اوران کی املاک کے درپے ہے لیکن چشمِ افلاک نے یہ انوکھانظارۂ حیرت واستعجاب کی نظروں سے دیکھاکہ حریت مآب دیوانوں کی قربانیوں کی بدولت فرنگی استعمارکوکہ جس کی زمین پرسورج غروب نہیں ہوتا تھا،ہندوستان کونہ صرف آزادبلکہ پاکستان جیسی معجزہ نماریاست کا وجودبھی دنیاکے نقشے پرنمودارہوگیااورپسپائی کے اس سفرکے بعددنیابھرمیں تمام نوآبادیات سے سفرآخرت ایساشروع ہواکہ آج خود برطانیہ اپنے ہی ملک میں سورج کی کرنوں کامحتاج رہتاہے۔

۱۸۵۷ءکی جنگ آزادی کوکچلنے کے بعدبرطانوی استعمارمسلم ہندوستان کے تخت وتاج پربلاشرکت غیرے براجمان ہوا اوراس نے تحریک آزادی میں شریک علماء مجاہدین طلباءاورعام شہریوں کولاکھوں کی تعدادمیں موت کے گھاٹ اتارا۔ قید، نظربندی،ظلم اوردرندگی کے شرمناک مظاہروں کے ذریعے انگریزنے ہندوستانی عوام پراپنی دہشت وفرعونیت کی دھاک بٹھادی لیکن ان عذاب لمحوں میں بھی کچھ ایسے بچے کھچے غیرت مند ہندوستانی مسلمان مجاہدباقی تھے کہ جنہوں نے برطانوی استعمارکے آگے سرنگوں ہونے سے انکارکیااور اپنے خون سے آزادی کے گل ہوتے چراغ کوروشن رکھا۔ ”میرے شاہ جی” حضرت امیرشریعت سیدعطااللہ شاہ بخاری  اُن ہی عزم وہمت کے پالے مجاہدین ِ آزادی کے باغیرت جانشین تھے جنہوں نے ہندوستان کی دھرتی پرانگریزکے تسلط کومستردکرتےہوئے”ان الحکم الاللہ”کانعرۂ رستاخیزبلندکیااوراس پرعزیمت راہ میں ہر صعوبت وآزمائش کوجھیلنے کاعزم نوکیا ۔

حیرت ہوتی ہے کہ سیدعطااللہ شاہ بخاری جیسے نہتے اوربے وسیلہ مجاہدین آخر کس مٹی سے بنے تھے کہ وہ انگریزی استبدادکے مصائب وآلام، دارورسن اور ظلم وسفاکی کامردانہ وارمقابلہ کرتے اوراس کے نتیجے میں اپنی ناتواں جانوں پرہرظلم کاوارسہتے مگرآزادیٔ وطن کی خاطرکسی بھی کڑی آزمائش کولبیک کہنے سے بازنہ آتے تھے جبکہ آج تمامتروسائل اورایٹمی قوت رکھنے کے باوجودہمارے قومی رہنماءاوراقتدارکے رسیاامریکاکے سامنے تھرتھرکانپتے دکھائی دیتے ہیں۔ڈرون حملے نہتے شہریوں کوروزانہ خاک وخون میں نہلاتے ہیں مگرصاحبِ اقتدارآنکھیں رکھنے کے باوجود نابینا ہیں،کان ہیں مگربہرے ہیں۔ دراصل قومی غیرت اوردینی حمیت ہی قوموں کوسراٹھاکرجینے کاشعوردیاکرتی ہے جس کے آگے بڑی سی بڑی طاقتیں خاکِ راہ ہوجاتی ہیں۔دراصل یہی وہ جو ہرایمانی تھاجس نے سیدعطااللہ شاہ بخاری  جیسے غیورمجاہدِ آزادی میں بے خوفی،دلیری ،جرأت وبہادری جیسی انمول صفات پیداکیں اوروہ سلطنتِ برطانیہ کے خلاف سینہ تان کرکھڑے ہوگئے۔اپنی جوانی،سکون وراحت۔آسائش وآرام کو آزادیٔ وطن کیلئے تج دیا، صعوبتوں کومجاہدانہ واربرداشت کیامگرکبھی انگریز کی رعونت کوخاطرمیں نہ لائے۔

واقعہ جلیانوالہ باغ(۱۹۱۹ء)سیدعطااللہ شاہ بخاری  کی سیاسی زندگی کانقطہ آغاز ثابت ہوا۔سفاک جنرل ڈائرنے جب سینکڑوں بے گناہ ہندوستانیوں کے سینے چھلنی کردیئے توسیدعطا اللہ شاہ بخاری کے دل میں حکومت برطانیہ کے متعلق نفرت کے شدیدجذبات پیداہوگئے،رہی سہی ترکی کے مسلمانوں پرانگریزکی وحشت و بہیمت نے نکال دی اورسید عطااللہ شاہ بخاری ہندوستان کے صفِ اوّل کے رہنماؤں کے ہمراہ تحریک خلافت کے برگ وباراٹھانے میں مصروف ہوگئے ۔ برطانوی استعمارکی اس مخالفت میں سید عطا اللہ شاہ بخاری  نے دینی اصولوں کوبنیادبنایا۔وہ انگریزکواسلام اورمسلمانوں کا دشمن سمجھتے تھے کیونکہ وہ انگریزوں کی اسلام کے خلاف سازشوں کاادراک اورمسلمانوں پرپے درپے ان کی خنجرآزمائی کابچشم خود مشاہدہ کرچکے تھے۔تحریک خلافت کے دوران سید عطااللہ شاہ بخاری نے اپنی بے مثال ساحرانہ خطابت کے ذریعے ہندوستان بھر میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکادی تھی مثلاًصرف ضلع گجرات میں ہی انہوں نے تن تنہاپانچ سوخلافت کمیٹیاں قائم کرکے پورے ضلع کو آتش جوالہ بناکررکھ دیاتھا۔۱۸۵۷ءکے معرکے کےبعدتحریک خلافت ہی وہ ملک گیراحتجاجی سلسلہ تھاجس نے تمام ہندوستانیوں کوبلاتفریق مذہب ایک لڑی میں پرودیااوران کے رگ وپے سے غیرملکی حکمرانوں کارعب ودبدبہ نکال کررکھ دیاتھا جس کیلئے دیگر رہنماؤں کے شانہ بشانہ بنیادی کردارسیدعطااللہ شاہ بخاری کاتھاجوہماری ملی تاریخ کاایک ایساروشن باب ہے کہ جس پرہم بجاطورپرفخرکر سکتے ہیں۔

۳ستمبر۱۹۳۹ءکوجنگ عظیم دوم کاآغازہواتوہندوستان کی تمام سیاسی جماعتیں انگریزسے تعاون یااس کی مخالفت کرنے کے بارے میں اس وقت تک کسی فیصلہ پرپہنچ نہ پائی تھیں لیکن سید عطا اللہ شاہ بخاری کی جماعت مجلس احرار ہندوستان میں واحدسیاسی جماعت تھی جس نے معروف انگریز مصنف ڈبلیوسے اسمتھ کے الفاظ میں”اس جنگ کوسامراجی جنگ قراردیتے ہوئے اس کے خلاف پہلی آوازبلندکی”اورسیدعطااللہ شاہ بخاری کی قیادت میں تحریک فوجی بھرتی بائیکاٹ کے اجراءکااعلان کیااوراحرارکے کوہِ ہمت رہنماءوکارکن ڈیفنس آف انڈیاایکٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جیلوں کوآبادکرنے لگے۔مجلس احرارنے فوجی بھرتی کی مخالفت میں ملک کے دیگرعلاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب کوبالخصوص اپنی جنگ مخالف سرگرمیوں کامرکزبنالیاتھا۔

پنجاب انگریزوں کیلئے”بازؤئے شمشیرزن”کادرجہ رکھتاتھااورسیدعطااللہ شاہ بخاری کے بقول:”پنجاب کے بعض اضلاع کی مائیں فرنگیوں کیلئے ہی بچے جنا کرتی تھیں”۔یہی صورتحال دیگرصوبوں میں بھی کم وبیش موجودتھی۔بہرحال غلامی کے خمیرمیں گندھے ہوئے اس خطے میں انگریزکی مخالفت کرناموت کو دعوت دینے کے مترداف تھالیکن سیدعطااللہ شاہ بخاری اوران کے بہادررفقاء نے آزادیٔ ہندکیلئے جان کی بازی لگادی کیونکہ ان کے نزدیک ہندوستان کی آزادی سے برطانیہ کیلئے اپنی نوآبادیات پرزیادہ دیرتک قبضہ برقراررکھناممکن نہ رہ سکتاتھااورجس کی بدولت جزیرة العرب کاآزادہونایقینی تھا لہنداانہوں نے اپنی تمامترقوت ہندوستان کی آزادی کیلئے جھونک ڈالی۔اپریل ۱۹۳۹ءکوپشاورمیں آل انڈیاپولیٹیکل احرارکانفرنس منعقدکی گئی جس میں مجلس احرارکے بانی رہنماء اورمفکرچوہدری فضل حق مرحوم نے جنگ عظیم دوم کے چھڑنے کی پیشگوئی کی تھی اورانگریزپرکاری ضرب لگانے کیلئے اپنی مستقبل کی پالیسی کااعلان کیاتھا۔

اسی کانفرنس میں طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق ہی جنگ شروع ہونے کے صرف ایک ہفتہ بعدمجلس احراراسلام کی مجلس عاملہ نے برطانوی استعمارکو فوجی بھرتی نہ دینے کی تاریخی قراردادمنظورکی تھی۔اس قراردادکی روشنی میں سیدعطااللہ شاہ بخاری اوران کے عظیم رفقائے کارنے ہندوستان کے ہرمقام کے دورے کرنے کے علاوہ پنجاب کے فوجی بھرتی کے حامل اہم اضلاع سرگودھا،میانوالی،گجرات،اٹک،جہلم ،راولپنڈی وغیرہ میں اپنی تقاریرمیں فوجی بھرتی نہ دینے کادرس دیاجس کے نتیجے میں دورۂ کے اختتام پرانگریزاوراس کے کاسۂ لیس سرسکندرحیات کی یونینسٹ حکومت نے بوکھلا کرسیدعطااللہ شاہ بخاری کوگرفتارکرکے ان پررعایاکوحکومت کے خلاف بغاوت پراکسانے کا مقدمہ دائرکیاجس کی سزاپھانسی سے کم نہ تھی اوریہی انگریزاوراس کے ایجنٹوں کومقصودتھالیکن حکومتی مشینری کی تمامترپشت پناہی کے باوجود عدالت میں سی آئی ڈی کے سرکاری رپورٹرلدھارام کی صاف گوئی نے سیدعطا اللہ شاہ بخاری کے حق میں پانسہ پلٹ دیا اوروہ۷جون۱۹۴۷ءکوباعزت بری ہوگئے ۔اس موقع پرجرمنی کے مختلف شہروں میں ہوائی جہازکے ذریعے سیدعطااللہ شاہ بخاری کی تصاویرگرائی گئیں جس پرتحریرتھاکہ ہندوستان کاسب سے بڑاباغی جسے برطانوی حکومت ہر حالت میں پھانسی پرلٹکاناچاہتی تھی،وہ باعزت بری ہوگیا۔

غرض یہ کہ سیدعطااللہ شاہ بخاری نے انگریزاستبدادکے تناورشجرکی جڑوں کو کاٹنے والی تحریک میں ہراول دستہ کاکرداراداکیااورانہوں نے خوددسیوں تحریکیں چلائیں۔اللہ نے انہیں خطابت کابے تاج بادشاہ بنایاتھااورانہوں نے اپنی اس بے نظیرصلاحیت کے ذریعے ہندوستان کے لاکھوں افرادکے قلوب واذہان سے انگریزی حاکمیت کاخوف کھرچ ڈالااورانہیں آزادی کے مفہوم ومعنی سے آشناکرکے انہیں تحریک آزادی میں شمولیت پرآمادہ کیا۔سید عطا اللہ شاہ بخاری کی انگریزی استعمارسے نفرت کایہ عالم تھاکہ نجی محفل ہویااجتماع عام ،ان کے ”لعنت برپدرفرنگ”کے نعرۂ رستاخیزسے درودیوارکانپ اٹھتے تھے۔وہ فرمایا کرتے تھے:

“میں ان سؤروں کاریوڑچرانے کوبھی تیارہوں جوبرٹش امپیریلزم کی کھیتی ویران کرناچاہیں ۔میں کچھ نہیں چاہتا،میں ایک فقیرہوں،اپنے ناناۖکی سنت پرکٹ مرناچاہتاہوں اوراگرکچھ کرناچاہتاہوں تواس ملک سے انگریزکامکمل انخلاء، میری دوہی خواہشیں ہیں۔میری زندگی میں یہ ملک آزادہوجائےیاپھرمیں تختۂ دار پرلٹکادیاجاؤں۔میں ان علمائے حق کاپرچم لئے پھرتاہوں جو۱۸۵۷ءمیں فرنگیوں کی تیغ بے نیام کاشکارہوئے تھے۔ ربّ ذوالجلال کی قسم:مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں کہ لوگ میرے بارے میں کیاسوچتے ہیں؟لوگوں نے پہلے ہی کب سرفروشوں کے بارے میں راست بازی سے سوچاہے؟وہ شروع سے تماشائی ہیں اورتماشہ دیکھنے کے عادی ہیں۔میں اس سرزمین پرمجدّدالف ثانی کاادنیٰ سپاہی ہوں،شاہ ولی اللہ اورخاندان ولی اللہ کامبلغ ہوں،سیداحمدشہیدکانام لیوااورشاہ اسماعیل شہید کی جرأت کاپانی دیواہوں۔اُن پانچ مقدمہ ہائے سازش کے پابہ زنجیر علمائے امت کے لشکرکاایک خدمت گزارہوں جنہیں حق کی پاداش میں عمر قید اورموت کی سزائیں دی گئیں ۔ہاں!ہاں،میں انہیں کی نشانی ہوں،انہی کی بازگشت ہوں۔میری رگوں میں خون نہیں ،آگ دوڑتی ہے۔میں علی الاعلان کہتاہوں کہ قاسم ناتوتوی کاعلم لیکر نکلاہوں۔میں نے شیخ الہندکے نقش قدم پرچلنے کی قسم کھائی ہے۔میں زندگی بھراس پرچلتارہاہوں اوراسی راہ پرچلتارہوں گا، میرااس کے سواکوئی مؤقف نہیں،میراایک ہی نصب العین ہے،برطانوی سامراج کی لاش کوکفنانا اور دفنانا”۔

خطابت کے میدان میں سیدعطااللہ شاہ بخاری کا ایساتہلکہ تھاکہ کئی غیرمسلم ان کی تقریرسن کرمسلمان ہوگئے اورحاضرجواب ایسے کہ ایک مرتبہ ایک مخالف نے الزام لگاتے ہوئے سوال کیاکہ حضرت آپ انگریزکو”شو”تماشہ دکھاتے ہیں،آپ نے فی البدیہہ جواب دیتے ہوئے کہاکہ میں انگریزکو”شو” نہیں بلکہ اپناٹوٹا”شو”(جوتا)دکھاتاہوں۔ ایک مخالف نے پوچھاکہ ”زندگی کیسی گزری؟ ”آپ نے جواب دیاکہ آدھی جیل میں اورآدھی ریل میں!ایک شخص کہنے لگاکہ شاہ جی!کیامردے سنتے ہیں؟تومسکراتے ہوئے جواب دیاکہ بھائی میری بات توزندہ نہیں سنتے مردہ کی کیابات کریں۔ایک دفعہ علی گڑھ پہنچے،بعض طلباءنے شاہ صاحب کوتقریرنہ کرنے کاپہلے سے پروگرام بنارکھاتھا۔شاہ صاحب جونہی اسٹیج پرپہنچے توطلباء نے شورمچاناشروع کردیا ۔شاہ صاحب نے بڑی نرمی اورعاجزی سے طلباء سے کہاکہ میری ایک بات سنو۔میں بہت لمبا سفرکرکے آپ سے ملنے کیلئے آیاہوں چلوقرآن کاایک رکوع ہی سن لوتوطلباء کی اکثریت نے رضامندی کااظہارکردیا۔ شاہ صاحب نے انتہائی دلسوزی سے جب قرآن پڑھناشروع کیاتوگویامجمع دم بخودہوگیا۔جب تلاوت ختم کی توفرمایاکہ اس رکوع کاترجمہ بھی سن لو۔طلباء قرآن سن کراس قدرمسحورومبہوت تھے کہ شاہ صاحب نے دوگھنٹے تک خطاب فرمایا اور وہی طلباء شاہ صاحب سے اپنے نارواسلوک پراپنی ندامت کااظہارکر رہے تھے۔Shah Ji

ربّ ذوالجلال نے سیدعطااللہ شاہ بخاری کی قربانیوں کاصلہ ان کودنیامیں بھی دیا کہ انہوں نے انگریزکوملک چھوڑتے دیکھااورہندوستان۱۹۴۷ءکوفرنگی کے پنجہ استبداد سے آزادہو گیا۔ ہندوستانی عوام نے غلامی کے منحوس سائے چھٹ جانے کے بعدآزاد فضاؤں میں سانس لیا۔احراررہنماؤں کی نگاہِ بصیرت کے عین مطابق ہندوستان کی آزادی کے بعدبرطانیہ کی اپنی نوآبادیوں پرگرفت ڈھیلی پڑنی شروع ہوگئی اورایک ایک کرکے اسلامی ممالک آزادہوگئے۔ اگر ہندوستان آزادنہ ہوتاتو عالم ِاسلام کی غلامی کادورجانے کتناطویل ہوجاتا!بلاشبہ یہ کارنامہ ہندوستان کی حریت پسند جماعتوں اوربالخصوص احرارکے قائدامیرشریعت سیدعطااللہ شاہ بخاری جیسے زعماء کے سرہے جنہوں نے غلامی کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں حریت فکروعمل کے چراغ روشن کئے اورملت اسلامیہ کوآزادی کی بہاروں سے سرفرازکرنے میں مجاہدانہ کرداراداکیا۔

سید عطا اللہ شاہ بخاری جن کٹھن حالات میں ناگریزاستعمارسے نبردآزماہوئے،ان جانگسل حالات کے تصورسے ہی دل بیٹھ جاتاہے۔عہدِ حاضرمیں دنیا بھرکے مسلمان جن پرآشوب حالات میں مبتلاہیں اورجس طرح امریکی استعمارکی چیرہ دستیوں کے نرغے میں آئے ہوئے ہیں،اِس صورتحال میں عالم اسلام کے رہنماء اورحکمران اپنے وسائل کااستعمال کرتے ہوئے امریکاکی دہشتگردی کے خلاف ڈٹ جانے کی بجائے جس کوتاہ ہمتی اوربزدلی کے ساتھ امریکاپرہی تکیہ کرتے ہوئے اس کی فرعونیت کے آگے جھکتے چلے جارہے ہیں اوراپنے ساتھ ملت اسلامیہ کواندھیروں کی منزل کاراہی بنارہے ہیں،اسے دیکھتے ہوئے امیر شریعت سیدعطااللہ شاہ بخاری جیسے مردِمجاہدکی یادتڑپاکررکھ دیتی ہے کہ جنہوں نے موجودہ حالات سے کئی گنابدتر حالات میں بھی برطانوی امپریلزم کا جی داروں کی طرح مقابلہ کرکے انہیں ہندوستان سے چلتاکیاتھا۔ آج سے۶۶برس قبل امیرشریعت سیدعطااللہ شاہ بخاری نے اپنے فرزندحضرت مولاناسید ابوذر بخاری کوجو نصیحت فرمائی تھی اسے آج بھی پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان اورعالم اسلام کے استحکام، تعمیروترقی اوراپنی قوم کی تربیت کی بنیادیں استوار کی جاسکتی ہیں۔امیرشریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری نے فرمایا:

“میں نے پوری دنیاکی تاریخ اورحالات پرغورکیاتومجھے تاریخ انسانیت میں خدا، رسول،امت رسول اورپوری دنیاکے سچے مسلمانوں کافرنگی سے بڑھ کراوراس سے بدترکوئی دشمن نظرنہیں آیا۔فرنگی یااس کاکوئی دوست غلافِ کعبہ کالباس پہن کراورچوبیس گھنٹے زم زم سے غسل کرکے باوضو اورمطہررہنے والابھی اس شکل میں تمہارے پاس آئے،اگرمیرے تخم میں سے ہواورحلالی ہوتواس پر کبھی اعتمادنہ کرنا۔تم نہیں جانتے: عدواللہ،عدورسول اللہ،عدوالقرآن،عدوالمسلمین، عدوالسلام والذین فرنگی سے بڑھ کرنہ کائنات میں ہوا،نہ اب ہے،نہ آئندہ کبھی ہو گا”۔

قیام پاکستان کے بعدشاہ جی حکمرانوں کی وعدہ خلافی اوردین مخالف روّیوں سے بہت آزردہ دل تھے ۔کسی نے سوال کردیا:شاہ جی!کیاآپ اب ان حکمرانوں کے خلاف جدوجہدکریں گے؟فرمایا”بھائی سب کچھ قصہ ماضی بن چکا،ہم تو عمرکے عہدِ آخرمیں ہیں،بڑھاپاشروع ہوکرجوان ہوچکاہے،بالوں میں سپیدی آگئی ہے،سفرایک تھا،منزلیں کئی،بعض منزلوں پررکناپڑا،بعض جگہ ٹھہرناپڑا،کچھ دیرسستائے،تلوؤں کوسہلایا۔آہوں اورکانٹوں میں معانقہ ہوچکاتوچلنے لگے،پھر چلتے ہی رہے،حتیٰ کہ ایک رات بیت گئی،دن چڑھاسورج نے شعاعوں کاچمن آراستہ کیا،غنچوں کاچہرہ مسکرااٹھا،آنکھ اٹھاکردیکھا توگردوپیش وہی رات کا سناٹاتھا۔

یہ داغ داغ اجالایہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظارتھاجس کایہ وہ سحرنہیں

امیرشریعت سیدعطااللہ شاہ بخاری نے۱۹۴۴ءمیں مجلس احرارمیں اپنے خطاب میں اپنے ساتھیوں کی ہمت بندھاتے ہوئے فرمایا:”حضرت آدم علیہ السلام سے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمدۖتک کوئی ایسانبی نہیں آیاہے جس نے اپنی تعلیمات میں جلاپیداکرنے کیلئے اپنے دورکے کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمیذتہہ کیاہو کیونکہ نبی اوررسول براہِ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتے ہیں۔نبی کی اللہ تعالیٰ خودرہنمائی فرماتے ہیں۔انبیاء کرام بہت بہادربھی ہوتے ہیں اورمعصوم بھی۔ آپ انبیاء علیہ السلام کے احوال پرنگاہ ڈالئے،جونبی دنیامیں تشریف لاتاہے،اس کے ایک ہاتھ میں الہام الٰہی کی کڑکتی بجلیاں ہوتی ہیں اوردوسرے ہاتھ میں تلوار جوکاشانۂ باطل پربرق بن کرگرتاہے۔اس کے جلومیں سمندروں کاشوراورطوفانوں کازورہوتاہے۔اس کی رفتارفرمانرواؤں کادل دھڑکادیتی ہے اوراس کی ایک للکار سے کائنات کادل دہل جاتاہے”۔

جوچٹانوں میں راہ کرتے ہیں،منزلیں ان کوراہ دیتی ہیں

اہل ہمت کے آشیانوں کو،بجلیاں بھی پناہ دیتی ہیں

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>