Sa vs Qatar

کفن بھی میلانہیں ہواکہ فسادکامردہ اٹھ کھڑاہوا

ڈونلڈٹرمپ انتخابات سے قبل بڑے جوشیلے اندازمیں دنیابھرمیں امریکی مداخلت پراپنی شدیدناپسندیدگی کااظہارکرتے ہوئے امریکی عوام سے وعدہ کررہے تھے کہ وہ کامیابی کی صورت میں سب سے پہلے تمام امریکی فوجیوں کوواپس وطن بلاکرامریکی معیشت پرپڑنے والے اس بوجھ کوختم کرکے امریکی عوام کی فلاح وبہبودکیلئے امن کاراستہ اختیارکریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے بعدان کی تمام پالیسیاںنہ صرف اپنے انتخابی وعدوں کے بالکل برعکس بلکہ مسلم دشمنی کیلئے ان کاایجنڈہ بڑاواضح ہوکرسامنے آگیاہے ۔قصر سفید میں پہنچتے ہی جہاں سب سے پہلے چندمسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکاداخلے پرپابندی لگاکراپنے کھلے تعصب کااظہارکیا وہاںدوسری طرف پینٹاگون اورایف بی آئی کے عین منصوبوں کے مطابق مسلم ممالک کے درمیان منافرت پرمبنی پالیسیوں کے نفاذکے آغازکیلئے سعودی عرب کادورہ ٔ کیاجوبعدازاں اس خطے کیلئے خاصابھاری ثابت ہوا ۔ قطر جو شریک سفرتھااس سے سعودی عرب کامعاملہ پرخطرہوگیا۔

سعودی عرب نے چھ حواریوں کے ساتھ قطرکومکمل تنہاکرنے کیلئے اس کے ساتھ ہرقسم کے تعلقات منقطع کرنے کااعلان کردیاجس کے جواب میں فوری طورپرقطرکی حمائت میں جہاں ایران کھلے عام میدان میں کودپڑاوہاں ترکی بھی ترت میدان میں اترآیا۔ترک پارلیمنٹ نے فوری طورپرقطر سے یکجہتی کااظہارکرتے ہوئے اس کی حفاظت کیلئے پانچ ہزار فوجی قطرمیں بھیجنے کی منظوری دے دی توپاکستان نے امن وصلح کی صدابلندکرتے ہوئے افہام وتفہیم کی کوششیں شروع کردیں،کویت بھی امن مشن کیلئے میدان میں آگیاکہ پہلے  کی طرح فریقین میں غلط فہمیوں کوختم کیاجاسکے کہ پہلے ہی مسلمانوں کیاکم مصائب سے دوچارہیں۔عرفِ عام میں ٹرمپ کادورۂ سعودی عرب کاکفن بھی میلانہیں ہواکہ فسادکامردہ اٹھ کھڑاہوا ۔ترکی اپنی کھوئی ہوئی خلافت عثمانیہ کی عظمت پانے کیلئے میدان میں اترآیا۔ترک صدرجوبغاوت سے بروقت نمٹ کرامت مسلمہ میں ابھرے اور انہوں نے برماکے مسلمانوں کیلئے نقل مکانی کرنے والوں کیلئے ملک کے دروازے کھول کران کے دلوں میں جگہ پائی۔اب پھرامت مسلمہ کی امامت کیلئے میدانِ عمل میں ہیں۔

ایران توپھولے نہیں سمارہا کہ سعودی عرب کوگھرکے چراغ سے آگ لگ گئی اوردوسری طرف امریکاجوسعودی عرب کے اس عمل سے اپنے دورے کی اس قدرجلدکامیابی کااعلان کر رہا تھا،فوری طورپرانتہائی مکاری کے ساتھ قطراورسعودی عرب کے مابین ثالثی کی پیشکش کرڈالی کیونکہ امریکاکوبخوبی علم ہے کہ قطراس کی عالم گیریت کاایک بڑاٹھکانہ ہے اوراس کی پرائی منصوبہ بندی کی کلیدہے۔قطرکیانتہائی مختصر آبادی کوتین اطراف سے خلیج فارس نے گھیررکھاہے اوراس کاقریبی سمندری ہمسایہ بحرین ہے جواب سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑاہے۔قطرکی زمینی سرحدسعودی عرب سے ملتی ہے جس کوبندکرکے سعودی عرب عرف عام میں قطرکاحقہ پانی بندکرسکتاہے۔ قطرکے موجودہ حکمران شیخ احمدبن خلیفہ امریکا اور دیگر بین الاقوامی قوتوں کی آشیرآبادسے اپنے والدخلیفہ بن حمادکاتختہ الٹ کر١٩٩٥ء میں برسراقتدارآئے۔

قطرجوعالمی نقشے میں قطرے کے برابرہے، اس نے ١٩٩٠ء میں العدیدایئربیس کی تعمیرکاکام ایک ارب ڈالرسے شروع کیا۔اس وقت قطرکے پاس فضائیہ نام کی کوئی چڑیاموجودنہ تھی مگریہ کیوں بنایاجارہاہے،کس کیلئے بنایا جا رہا ہے،کس لئے بنایاجارہاہے،کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ ایئربیس کارن وے خلیج کی کسی بھی ریاست سے طویل ترین کیوں ہے اوراس میں دس ہزارنفری رکھنے کی سہولت کس لئے ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت یہ ایئربیس تعمیرکیاجارہاتھا،قطرکی آبادی صرف چارلاکھ تھی مگریہ رازمسلم امہ کے سامنے یوں کھلاجب ١٩٩١ء میں آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم کے نام پرقطراورامریکاایک دفاعی معاہدے میں مر بوط ہوگئے۔١٩٩٥ء میں والدکوہٹاکرحکمرانی سنبھالنے والے موجودہ حکمران نے امریکاکیلئے پلکیں بچھاڈالیں۔

نائن الیون کے بعداس دفاعی معاہدہ اورالعدیدایئربیس کی افادیت دنیاکے سامنے کھل کر آگئی جب امریکانے امریکی سینٹرل کمانڈسینیٹ کیلئے قطرکو چن لیاجوایشیاوافریقہ کیلئے پینٹاگون بناہواہے۔امریکاوسطی اورجنوبی مغربی ایشیا،مشرقِ وسطیٰ اورشمال مشرقی افریقہ کے تقریباً٢٥ممالک میں ملٹری آپریشنزاورتباہی پھیلانے کیلئے اسی قطرکو استعمال کرتاہے ۔ لیبیا میں کرنل قذافی کے اقتدارکے خاتمے میں قطرنے اہم کرداراداکیا۔قطرنے عرب لیگ کومجبورکیاکہ وہ اقوام متحدہ میں لیبیاکونوفلائی زون قراردے اوراسی قراردادنے نیٹوفورس کولیبیامیں بمباری کی اجازت دے کراس کو تہس نہس کرایااورقذافی کی زندگی میں ہی طرابلس پرباغیوں کی قبضہ والی حکومت کوتسلیم کرلیا۔امریکاکاآزمودہ کارملک قطرکامعاملہ اب کسی نئے فسادکی طرف مسلم امہ کولے جارہاہے،یہ بات سوچنے کی ہے۔

قطرکوپرخطربناکرامریکانے سعودی عرب کیلئے اپنی اہمیت اوراس کی مجبوری دوچندکردی ہے اورمستقبل میں مزیداسلحہ کے آرڈرزکی راہ ہموارکرلی ہے تودوسری طرف قطرمیں بھی اپنے فوجی ٹھکانے کے جوازکومزیدمستحکم کرلیاہے اورقطرسعودی عرب دونوں کی اشدضرورت بن کرسامنے آیا ہے۔ایران جوامریکی صدرکے دورۂ سعودی عرب کے بعدجاری ہونے والے اعلامیہ کی وجہ سے کچھ تنہائی کاشکارہوچلاتھااس کوقطرمل گیااوریوں خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دووالامعاملہ ہوگا۔ایران نے فراخدل غذائی اشیاء کی فراہمی میں معروف ہونے کے ساتھ قطرکواپنی تین بندرگاہیں استعمال میں لانے کی کھلی پیشکش کردی ہے توترکی کوبھی قطرمیں ملٹری بیس بنانے کاموقع مل گیا۔کہتے ہیں کہ ترکی اور قطرمیں ۲۰۱۵ ء  میں اس قسم کامعاہدہ سلامتی ہواتھامگرضرورت اب پڑی ہے۔

اس صورتحال میںپاکستان کی پتلی حالت ہے،وہ سعودی عرب کوبھی نہیں چھوڑسکتاتوقطرسے بھی ہاتھ نہیں نکال سکتاہے۔سعودی عرب سے آنے والادس ارب ڈالرسالانہ زرمبادلہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہے توقطری خط میں حکمراں پاکستان کی عزت کی جان ہے اور قطری ایل این جی معاہدے میں پاکستان کے بجلی کے بحران کاعلاج ہے اوراس سے بڑھ کریہ بات ہے کہ قطر،سعودی عرب دونوںمسلم اورپاکستان کے ہم مذہب کلمہ گوہیں۔لڑاؤ اورحکومت کرو،اغیارکاپرانافارمولا ہے مگریہ بات کیوںمسلمان حکمرانوں کو سمجھ میں نہیں آرہی کہ فتنے کی ڈوری ٹوٹ گئی ہے اورتسبیح کے دانوں کی طرح فتنے گررہے ہیں۔ قطراورسعودی عرب کے تنازعہ میں سعودی عرب کامؤقف ہے کہ قطرہمارے دشمنوں کا دوست بناہواہے،اس لئے ہمارابالواسطہ دشمن ہے۔

قطرکاکہناہے کہ وہ آزادریاست ہے اوراصولی مؤقف کاحامی ہے مگربات اتنی سی بھی نہیں جودونوں ممالک بتارہے ہیں بلکہ قصرسفیدکے فرعون کے دورۂ سعودی عرب اورامریکی اسلحے کی کھیپ کے سودے کے بعدسعودی عرب خواب سے جاگاکہ قطرڈراؤناخواب ہے۔اب قطربھی امریکاکے ایئر بیس کی قوت پرخم ٹھونکے کھڑاہے۔دراصل امریکا اب سعودی عرب کوبھی خوفزدہ رکھنے کے موڈمیں ہے۔ کویت کی جنگ میں امریکاکے منہ کو ریال کاچسکالگادیاہے ۔قصرسفیدکافرعون کے مطابق قطردہشتگردوں کاسہولت کارہے، اسے مالی معاونت ختم کرناہوگی۔اس کامطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کودہشتگردوں سے بچنے کیلئے ”دادا”امریکاکے سائے تلے رہناہوگااوراس کے نازنخرے برداشت کرناہوں گے ۔ سعودی عرب جتنا خوفزدہ ہوگااتناہی خراج دے گا۔Sa vs Qatar

قطرمیںامریکی ایئربیس کے باوجودیہ بیان دینا ثابت کرتاہے کہ قطرامریکی پنجہ سے نہیں نکل سکتا۔قطرنے جرمن اورروس سے رابطے بڑھادیئے ہیں۔خلیج میں قطراورایران ایک بہت بڑے زیرآب گیس کے ذخیرے میں ساجھے دارہیں۔پاکستان کی اچھی خاصی آبادی جوقطرکاپانچ فیصدبتائی جاتی ہے،قطرمیں برسرروزگارہے۔قطرواحدخلیجی عرب ریاست ہے جہاں تحریری آئین نافذہے جوقطری خواتین کے حقوق کی واضح پاسداری بھی کرتاہے۔موجودہ قطری حکمران برطانوی اورفرانسیسی درسگاہوں سے تعلیم یافتہ ہیں اورآزادخیالی کے پیروکارہیں۔اب جہاں ترکی فوج کے ہمراہ قطر میں ہے تووہاں پیوٹن کاروس بھی اس کی پشت پرہے،ایران بغضِ معاویہ میں دست وبازوہے اورامریکاجٹ بھی میری پٹ بھی میری کی صورت موقع واردات پرہے۔بحرین میں روسی بیڑہ ایستادہ ہے۔قطرخودبھی دولت سے مالامال ہے۔افغانستان اورعراق کی پوری جنگ امریکانے قطرمیں بیٹھ کرلڑی ،اب قطروایران ایک چھتری تلے ہیں تویہ چھتری کون سی ہے،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیںہے۔مرغوں کی طرح مسلمانوں کولڑانے کیلئے کفرکی قوتوں کوایک نیااکھاڑہ مل گیاہے۔

ترکی بحری بیڑے کے ساتھ قطرآمدنے بحرین کے وزیرخارجہ نے بھی ترکی کادورۂ کیااورکہاکہ بحرین بھی ایرانی مڈاخلت کاشکارہے اوراس کابھی کوئی تدارک کریں۔دیکھیں یہ سب کوششیں معاملے کوکس طرف دھکیل کرلے جاتی ہیں۔قطرنے دہمکی دے دی کہ وہ زیرزمین گیس کی اس سپلائی کوروک دے گاجو٤٠فیصدگیس دبئی اوردیگرخلیجی ریاستوں کی ضرورت کوپوری کرتی ہے۔داعش بھی میدان میں کودپڑی ہے،اس کی ہفت روزہ آن لائن نیوزمیں ٣٤اسلامی ممالک کے فوجی اتحادکوصلیبیوں کے ساتھ گٹھ جوڑقراردیکراس کو مسخروں اوراحمقوں کاٹولہ قراردیاگیاہے اور سعودی عرب پرحملے کی دہمکی دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ وہ یورپ کی طرح سعودی عرب کوبھی اپنانشانہ بنائے گا،یہی وجہ ہے کہ حالیہ مکہ مکرمہ اور دیگرمقامات پردہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول بھی کی ہے۔روس،ایران،ترکی قطرکے ساتھ کھڑے نظرآرہے ہیں تو امریکی کیمپ میں بھی خوب رونق ہے جہاںلہومسلم کی ارزانی کے منصوبے ہیں۔

قطراورسعودی عرب تنازعہ کاایک مخفی پہلویہ بھی بتایاجاتاہے کہ یمن میں سرگرم سعودی قیادت والے عرب اتحادمیں شدیدکشیدگی جاری ہے۔ ایک طرف آئینی صدرکہلانے والے عبدربہ منصورہادی مکمل طورپرسعودی عرب کے زیراثرہیں اورریاض میں رہائش پذیرہیں۔دوسری جانب ہادی کے نائب جنرل علی محسن الاحمدہیں جوروس کے خلاف جہادمیں اپنے خطے میں اہم کرداراداکرتے رہے ہیں اوریمنی اخوان المسلمون جماعت اصلاح سمیت اکثرمقامی اسلام پسندوں سے ان کے اچھے روابط ہیں۔ وہ عرب حلقوں میں اخوان نواز کہلاتے ہیں،اسی بناء پرقطرسے جنرل علی محسن الاحمدکے بہترین دیرینہ روابط ہیں۔ جنرل احمدکی خواہش پرقطرنے ان کے اورجماعت اصلاح کے رہنماؤں کیلئے ٦٠فلیٹس بھی اپنے پاس بنوارکھے ہیں تاکہ کسی ہنگامی حالت میں یہ قطرمنتقل ہوجائیں۔یمن کی بڑی عسکری اورعوامی حمائت جنرل الاحمدکے پاس ہے اور سعودی عرب چاہتاہے کہ جنرل الاحمد صنعا کے نواحی علاقہ جلدازجلدآزادکرائیں مگرانہیں کامیابی نہیں ہورہی۔اسی بناء پرسعودی عرب کی خواہش ہے کہ قطرالاحمد کی حمائت سے ہاتھ اٹھاکرکمزورکرے توسعودی عرب اس کمزوری سے فائدہ اٹھا سکے۔

یمن میں سعودی عرب کادردِ سرعیدروس زبیدی بھی ہیں جنہیں متحدہ عرب کی حمائت حاصل ہے۔یہ موصوف اپریل تک عدن کے گورنرتھے ،سعودی نوازہادی نے اس امارات نواز کو معزول کردیا۔معزول گورنرنے امارات کے مبینہ اشارہ پرعدن اورجنوبی یمن میں اپنی خودساختہ انتظامی کونسل بنادی جس کے نائب امارات نوازبانی بن بریک ہیں۔سعودیہ کواس کونسل پرتحفظات ہیں۔امارات کے زمینی راستے بھی علاقے میں موجود ہیں جوسعودی نوازہادی کے حامیوں کوڈرادہمکارہے ہیں اس لئے ہادی اورسعودی عرب کی مجبوری ہے کہ وہ داخلی انتشار سے بچنے کیلئے جنرل عیدروس اورامارات کے ساتھ تعاون کریں۔سعودیہ کوالاحمدسے خطرہ ہے اس لئے اسے تنہاکرنااورجماعت اصلاح کے اثرورسوخ کوکم کرناسعودی  عرب اور امارات کی ترجیح الاوّل ہے۔قصرسفیدکے فرعون ٹرمپ کے ٹویٹ کے جواب میں جر من وزیرخارجہ زیگماگربیحل نے ٹرمپ پرمشرقِ وسطیٰ میں تنازعہ بھڑکانے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اس خطے میں خطرناک ہتھیاروں کی نئی جنگ شروع ہوجائے گی۔ اسی طرح فرانس اوربرطانیہ نے بھی قطرمخالف سعودی مہم کوکوئی اہمیت نہیں دی اوردولفظوں میں اس طرح بیان کیاجاسکتاہے کہ مسلمان دشمن قوتوں کا ”گرو” امریکانے پہلے شیعہ سنی تفریق کوہوادی اوراب سنی کومدمقابل سنی کرنے میں مصروف ہے مگرافسوس تومسلم حکمرانوں پرہوتاہے کہ وہ کیوں سنی ان سنی کررہے ہیں کہ ان کی بربادی کے فیصلے کفرکے ایوان میں ہورہے ہیں۔

قطرکی قدرتی گیس جہاں اس پرنظربدرکھنے والوں کی نگاہ میں ہے ایران اورقطرکی مشترکہ سمندری حدودمیں ہزروں کلومیٹررقبہ پرپھیلے ہوئے قدرتی گیس کے ذخیرے کے تحفظ کا معاہدہ قطرنے سعودی عرب کے حریف ایران سے کررکھاہے۔قطرنے یوں سعودی عرب اورایران نامی خربوزے  اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑرکھے ہیں۔حسن روحانی دوسری مرتبہ ایران کے صدرمنتخب ہوئے توقطرنے مبارکباددینے میں قطعاًتاخیر نہیں کی۔امریکی اخبار”واشنگٹن پوسٹ”کے مطابق قطر قدرتی گیس کاسب سے بڑابرآمدکنندہ ہے اوریہی گیس سردیوں میں برطانیہ کے دفتروں اورگھروں کوگرم رکھتی ہے۔ایشیائی منڈیوں کوایندھن فراہم کرتی ہے ،حتیٰ کہ متحدہ امارات کے بجلی گھروں کوبھی اسی گیس سے چلایاجاتاہے۔ برطانیہ کی ضرورت کاایک تہائی قطری گیس پوراکرتی ہے۔رائٹس یونیورسٹی کے قطرپرتحقیق کرنے والے کرسچین کوئٹس کے مطابق اگرقطری گیس کی ترسیل روک دی جاتی ہے تو اس سے برطانیہ،جاپان،جنوبی کوریااورچین میں توانائی کابحران پیداہوگااوریہ قطرجس کی اپنی فوج صرف۱۱ ہزار ۸۰۰ہے، کے پاس قطری گیس،سفارتی بحران کے بیج میں سے  بحفاظت نکال سکتی ہے۔

امریکی سابق وزیرخارہ ہنری کسنجرنے کہاجس کوجنگ کاطبل سنائی نہیں دے رہاوہ بہرہ ہے۔یہ ہنری کسنجر ہی تھاجس نے اپنے دورِ اقتدارمیں روس کوکہاتھاکہ ہمیں صرف اسلام سے خطرہ ہے اوراس کامقابلہ باہمی اتحادسے ہی ممکن ہے۔ یہی وہ شیطانی اوردریدہ دہن صفت شخص ہے جس نے ذوالفقاربھٹوکوایٹمی پروگرام سے دستبردارنہ ہونے کی صورت میں  عبرت کانشان بنانے کی دہمکی دی تھی۔کیاواقعی موت کاجبڑامزیدمسلم لہوکو چاٹنے کیلئے ہونٹوں پرہوس ناک زبان پھیررہاہے۔کویت اورپاکستان امن کیلئے سرتوڑکوششوں میں مصروف ہیں کہ یہ شعلہ چنگاری نہ بنے اوربات ٹھنڈی ہوجائے۔وزیراعظم نوازشریف اورچیف آف آرمی سٹاف قمرباجوہ نے اسی حوالے سے سعودی عرب کادورۂ کیا کہ اس کے حکمرانوں کے غصے کوٹھنڈاکیاجاسکے۔شاہ سلمان نے اپنے ولی عہدکوفوری طورپربرطرف کرکے نئے ولی عہداوردوسرے کلیدی عہدوں پرجوتقرریاں کی ہیں ،ان سے حالات کے سنبھلنے کی امیدہورہی ہے۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>