Trump19

تیسری عالمی جنگ کاخدشہ؟

امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رپبلکن چیئرمین سینیٹر باب کروکرنے اتوارکوروزنامہ نیو یارک ٹائمزکے ساتھ ٹیلی فون پرانٹرویو میں کہاکہ انہیں صدر کے رویے پرتشویش ہے کیونکہ امریکی صدرٹرمپ نے ملک کوتیسری جنگِ عظیم کے راستے پرڈال دیاہے۔میرے خیال میں ٹرمپ کواندازہ ہی نہیں کہ جب امریکی صدرکچھ کہتایاکچھ کرتاہے تواس کے اثرات پوری دنیاپردکھائی دیتے ہیں۔ٹرمپ صدارت کے عہدے کوکسی “ریئلیٹی شو”کی طرح استعمال کررہے ہیں۔یادرہے کہ گزشتہ سال ٹرمپ باب کروکرکو وزیرخارجہ بنانے پرغورکررہے تھے اس لئے سینیٹر باب کروکرکااپنی ہی پارٹی کی جانب سے امریکی صدرٹرمپ کے بارے میں ایسابیان خاصی اہمیت کاحامل ہے۔ٹرمپ امریکاکے ایسے سربراہ ہیں جواس قدرتیزی کے ساتھ اپنی انتخابی وعدوں کے برعکس اپنے خطرناک ایجنڈے پرعمل پیراہیں۔یہ جہاں شمالی کوریاکوصفحۂ ہستی سے مٹانے کی دہمکیوں سے مرعوب کرنے میں مصروف ہیں وہاں افغانستان میں اپنی فوج کے انخلاء کی بجائے وہاں ایک نئی خطرناک جنگ کی تیاری کیلئے ”داعش”جیسی عالمی دہشتگردتنظیم کوجدید اسلحے سے لیس کرکے میدان میں اتاررہے ہیں۔ ان کے اپنے کٹھ پتلی سابقہ افغان صدرحامدکرزئی بھی امریکی صحافی کو اپنے حالیہ انٹرویومیں ٹرمپ پر”داعش”کی سرپرستی کابرملاالزام لگارہے تھے۔

خطے میں ٹرمپ کی بدلتی پالیسیوں کے مدنظراب افغان رہنماؤں نے بھی اپنی سیاسی اورعسکری جدوجہدمیں اضافہ کردیا ہے۔حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یارنے افغانستان کے طو ل وعرض کے دورے شروع کردیئے ہیں اور کابل میں اپنی تنظیم نواورقبائلی عمائدین سے ملنے کے بعدمحرم کے دوران افغانستان کے مغربی شہرہرات کاتقریباً۳۳سال بعد دورۂ کیاجہاں سابق جہادیوں اورمقامی عمائدین ،طلبا،علماء کے ساتھ ملاقاتیں کیں اوعرافغانستان میں قیام امن کے حوالے سے بین الافغانی منصوبہ پیش کیاجسے بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ گلبدین یارحکمت نے ہرات میں شیعہ علماء سے بھی اہم ملاقات کی اورافغانستان کے اندرافہام وتفہیم پرزوردیااورفرقہ واریت پرقابوپانے کیلئے ان سے مدد کی بھی درخواست کی۔اس دواران ایک شخص نے حکمت یارپرجوتاپھینکنے کی کوشش بھی کی تھی جسے افغان حکومت نے گرفتار کرلیاتاہم حکمت یارنے اسے معاف کرکے فوری رہا کرنے کی ہدائت جاری کردی۔

ہرات سے واپسی کے بعدحکمت یارنے افغانستان کے مشرقی صوبہ کنڑکادورۂ کرکے وہاں موجودقبائلی عمائدین اوردیگر تمام طبقات کے افرادسے ملاقات کرکے امریکی سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے اہم مشاورت کی ۔گزشتہ دنوں ان تمام عمائدین ،طلباء ،علماء کوکابل بلایاگیاتھاجہاں ان کے ساتھ انتخابات،طالبان کے ساتھ مذاکرات،افغانستان میں کرپشن کی روک تھام اورافغانستان کومتحدکرنے کیلئے ان سے طویل کامیاب نشستیں کیں ۔اس موقع پرحکمت یارنے شرکاء سے خطاب میں افغان طالبان کے دفترکوامریکاکی جانب سے بندکرنے کے مطالبے کوغیرمنصفانہ قراردیتے ہوئے افغان حکومت سے کہاکہ طالبان کادفترطالبان سے مذاکرات کاذریعہ ہے اوراس ذریعہ کوبندکرکے امریکی سازش کوکامیاب نہ کیا جائے کیونکہ ہماری کوشش ہے کہ طالبان کومذاکرات کی میزپرلایاجائے لیکن مسلسل امریکی دباؤ ،فوج میں اضافے اور دفتربندکرنے سے امریکااور افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والی قوتوں کوفائدہ اورعام افغان عوام کواس سے نقصان ہوگا جس پرتمام شرکاءنے حکمت یار کے فارمولے کی حمائت کرتے ہوئے افغان حکومت کو نہ صرف امریکی ہدائت پرطالبان کے دفتر بندکرنے کی شدید مخالفت کی بلکہ طالبان سے جلد ازجلدمذاکرات کامطالبہ کیاتاکہ دنیا کویہ بتایاجائے کہ افغان حکومت ہر قسم کے مذاکرات کیلئے تیارہے اور قطرمیں طالبان رہنماؤں سے مذاکراتی عمل کوکسی نتیجے پرپہنچانے کیلئے حکمت یارکے پیش کردہ ٹھوس لائحہ عمل میں بھرپورتعاون کیاجائے۔Trump19

اہم اورمستندذرائع کے مطابق مختلف مکاتب فکرکے شرکاء کی جانب سے حکمت یارکوقبائلی عمائدین اورسیاسی جماعتوں کے ساتھ گرینڈ الائنس بنانے کی تجویز دی گئی اورایک قومی حکومت کی تشکیل کیلئے حکمت یارکے اس منصوبے پر مکمل اتفاق اور اعتماد کے ساتھ بھرپورتعاون کایقین دلایا جس میں ایسی قومی حکومت تشکیل دی جائے جس میں طالبان سمیت تمام افغان قبائل کے نمائندے شامل ہوں جوافغانستان میں ایک منصفانہ اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار کریں ، لوگوں کی زمینوں پرقبضوں کوختم کرانے میں مددکی جائے اورعام لوگوں کی دیگرمشکلات کوختم کرنے کیلئے انقلابی عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔اس حوالے سے تمام شرکاء نے حکمت یارکواتحادکی تشکیل کا مکمل اختیاربھی دیا۔ذرائع کے مطابق ہر مکتبہ فکرکے شرکاء کی ایک کثیرتعدادکی شرکت اوراتفاق سے ایسا لگ رہاہے کہ حزبِ اسلامی کو ملنے والی سیاسی حمائت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف حزبِ اسلامی افغانستان میں ایک قومی حکومت کی تشکیل کی کوشش کررہی ہے تودوسری جانب طالبان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی اضافے کی خوفناک سازش کے خلاف ڈٹ کرکھڑی ہے۔

افغانستان میں تمام قوموں کے نمائندوں کے ساتھ کامیاب رابطے کے  بعدحزبِ اسلامی ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پرسامنے آئی ہے اوریہی وجہ ہے کہ امریکااوراس کے کٹھ پتلی افرادحزبِ اسلامی اورافغان حکومت کے اتحادکوناکام بنانے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے تاہم حکمت یارکی حمائت میں جواضافہ ہورہاہے،اس کے پیش نظرانہوں نے اپنے حامیوں کوانتہائی صبروتحمل کامظاہرہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے دنیابھرکے سفارتکاروں سے بھی رابطے شروع کر دیئے ہیں جس کے جواب میں اہم ممالک چین،روس،بھارت اورامریکا کے سفارتکاروں اوروفود نے حکمت یارکے ساتھ ان کے دفترمیں ان سے ملاقاتیں شروع کردی ہیں۔ پاکستان اورایران کے علاوہ یورپی سفارتکاروں نے بھی خفیہ طورپر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے فارمولے اورمنصوبے پر تبادلہ خیال کیااورافغانستان سے تمام غیرملکی افواج کے انخلاءکے معاملے پربھی بات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق اب حکمت یارافغانستان میں سیاسی طورپرانتہائی سرگرم نظر آ رہے ہیں اورسابق افغان صدرحامدکرزئی اوران کے ساتھی بھی انتخابات سے قبل ایک نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل کے بارے میں جلداعلان کرنے والے ہیں تاکہ حکمت یارسے انتخابی اتحادکرکے حزبِ اسلامی کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کئے جاسکیں تاکہ افغانستان میں ایک مستحکم سیاسی نظام کی بنیادرکھی جائے۔ اگر حکمت یار طالبان کومذاکرات پرراضی کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تویہ ان کی بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ اس سے وہ ایک مشترکہ باہمی کوشش سے افغانستان سے امریکی انخلاء کیلئے مغربی حکومتوں کے علاوہ اقوام عالم کا بھرپورتعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رپبلکن چیئرمین سینیٹر باب کروکر کے ٹرمپ کے بارے میں عالمی جنگ کے خدشات سے بھی نجات ملنے کی راہ ہموارہوجائے گی اورپچھلی چاردہائیوں سے اس خطے میں امن کاخواب بھی شرمندۂ تعبیرہوسکے گا۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>