US vs SA

کھوٹے کھرے کی پہچان(پہلی قسط)

عالمی میڈیابھی بالآخریہ کہنے اورلکھنے پرمجبورہوگیاہے کہ ڈونلڈٹرمپ کانام امریکی تاریخ کے متنازعہ ترین صدورمیں سب سے نمایاں رہے گااور خود اپنے ہی ملک کی عدالتوں اوردیگر حکومتی شعبوں میں یکے بعددیگرے ان کے احکامات کی منسوخی کے بعدکافی رسوائی ان کے حصے میں آئی ہے اور یوں محسوس ہورہاہے کہ درپردہ امریکاپر حکومت کرنے والے اداروں کوایسے ہی فردکی ضرورت تھی جس کی گردن پران اداروں کے ظلم وستم کابوجھ آسانی سے لادکراقوام عالم میں ”نیوورلڈآرڈر”کی تکمیل کاراستہ طے کیاجاسکے۔قصرسفید کے فرعون نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کواس وقت تک مؤخررکھاجب تک تینوں آسمانی مذاہب کے مراکزکے دوروں کاپروگرام فائنل نہیں ہوگیا ۔ بظاہران کے دورے کاایک پہلوان کی مذہب کے ساتھ غیرمعمولی کمٹمنٹ نظربھی آتی ہے اور اس ناطے دیکھاجائے تو انہوں نے اپنے دورے کاآغازسعودی عرب کے کامیاب ترین دورے سے کیاجہاں انہوں نے نہ صرف اپنے باقی ماندہ صدارتی دورکیلئے امریکی عوام سے اپنانتخابی وعدہ بھی پوراکردکھایاکہ اپنی اسلحہ سازکمپنیوں اورہزاروں امریکیوں کیلئے آئندہ چارسال کیلئے مستقل روزگارکا بہترین بندوبست کردکھایابلکہ عالم اسلام کے تمام رہنماؤں کے سامنے اپنے لمبے چوڑے لیکچر میں دہشتگردی پرقابوکرنے کے کئی احکام بھی جاری کردیئے۔

سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں پچاس سے زائدعرب ومسلم ممالک کے رہنماء امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اوران کے اہلخانہ کیلئے صف بہ صف کھڑے نظرآئے اورٹرمپ ہی نہیں ان کی اہلیہ اورصاحبزادی کیلئے ہرکوئی چشم براہ تھا۔بعض عرب شہزادوں کی سطحوں پرتویہ ماحول طاری رہاکہ بہت سوں کوکہناپڑاکہ یہ عالم شوق کادیکھانہ جائے اوریہ بھی یادرہے کہ ان کے دامادنہ صرف ارضِ فلسطین پرناجائزاسرائیلی بستیوں کی تعمیرکے حق میں بڑی دھواں دھارتقاریر کرتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں خاصی مالی مددکرنے میں بھی پیش پیش ہیں ۔ اس تناظرمیں امریکی صدرکایہ دورۂ جس کا ظاہری مقصدسہ جہتی سربراہ کانفرنس میں شرکت تھی،رسمی طورپرصرف سعودی امریکاتعلقات کے نئے دورکاایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ۔ گرتی ہوئی امریکی معیشت کیلئے سعودی عرب نے جہاں ساڑھے تین سوارب ڈالرزکااسلحہ خریدنے کے معاہدوں پردستخط کرکے مشکلات سے دوچار امریکی  معیشت کوسہارادینے کی کوشش کی ہےوہی بھاری اسلحہ خریدنے کاعندیہ دیکرخطے میں طاقت کے توازن کوایک نیا رخ دینے کی کوشش بھی کی ہے۔US vs SA

بلاشبہ شام اوریمن میں جس طرح ایران اوراس کے اتحادی براہ راست ملوث ہیں، اس کے بعدسعودی عرب کااس لڑائی میں اپنے اندازسے کودناایک مجبوری بن گیاہے لیکن لب و لہجے اورواضح ہدف کے ساتھ امریکی صدرٹرمپ نے پچاس سے زائدملکی نمائندوں کی موجودگی میں خطے میں امن کے نام پرجوجمپ لیا ہے وہ خطے میں امن سے بہرحال متصادم ہے ۔ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے پہلے ہی دورے کے موقع پراپنے آنے والے دنوں کے نہ صرف عزائم واشگاف کردیئے ہیں بلکہ اپنے اہداف میں اس سربراہ کانفرنس کے شرکاء ہی نہیں ناجائز ریاست اسرائیل کوبھی ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔

امریکی صدرنے ظاہراًامن کی بات کی اوربڑے سبھاؤکے ساتھ یہ تاثردینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام،یہودیت اور عیسائیت باہم ایک ہوسکتے ہیں۔ان کی یہ خواہش ایک سیاسی بیان اوران کے دورے کے سفارتی تقاضے کی ضرورت توہو سکتاہے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں خصوصاً سعودیہ اورایران کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کی کوشش کی ہے ۔یہ خطے کیلئے بڑی الارمنگ سازش ہے اورسعودی عرب کے فرمانرواں شاہ سلمان کی طرف سے بڑاوالہانہ جواب دیاگیا ہے۔امکان ہے کہ بعض دوسرے عرب ممالک خصوصاًمصراورمتحدہ عرب امارات کی طرف سے بھی ایسی ہی محبت کااظہارہواہوگالیکن باقی ممالک خصوصاًپاکستان کی طرف سے اس کے باوجودکہ ایران سے اس کے معاملات سرحدی جھڑپوں اورحالیہ دنوں میں ایرانی دہمکیوں کوچھورہے تھے،ایک ذمہ دارجوہری ملک ہونے کے ناطے شائداس کی طرف سے ردّ ِ عمل ایسا ہونا مشکل تھا ۔اسی لئے پاکستان کے وزیراعظم کوطے شدہ تقریرکاموقع نہ مل سکااورامریکی صدرجوامن کے نام پرخطے میں ایک نئی جنگی شروعات کی بنیادرکھنے آئے تھے ،انہوں نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے،لمبے عرصے سے دہشتگردوں کے خلاف صف آرا پاکستان کونظراندازکیا،یہ سمجھ میں آنے والاہے۔

یہ صرف ٹرمپ کی طرف سے نہیں کیا گیا بلکہ خودمیزبان ملک سعودی عرب کی طرف سے بھی کیاگیاہے۔اس کے باوجود کہ پاکستان نے اپنے سابق آرمی چیف جنرل راحیل کو سعودی تجویزپرتشکیل پانے والے اکتالیس ملکی عسکری اتحاد کی سربراہی کیلئے بخوشی بھیجااورپاکستان کی طرف سے عسکری اتحاد کے دستوں کودہشتگردی کے خلاف تربیت دیئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں مگرامریکی آشاؤں پرخطے میں پہلے سے بگڑی صورتحال کومزیدبگاڑکی طرف لیجانے میں پاکستان حصہ داربننے کوابھی تیارنہیں ہے تاہم اس میں ایران کوبھی معاملات بہتربنانے اوردوسرے ممالک میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرنے اورتھوڑے فائدے کیلئے پاکستان کے خلاف بھارت کوہرطرح کی سہولت کاری  دینے کے تاثر سے بچنے کی کوشش کرناہوگی لیکن کلبھوشن جیسے بھارتی دہشتگرداورجاسوس کے حوالے سے اب تک ایرانی حکمت عملی پاکستان کے حق میں کم اوربھارت کے حق میں زیادہ نظر آتی ہے۔اسی طرح ایران عرب ملکوں سمیت دوسرے ملکوں میں فرقہ وارانہ پیرائے میں تقسیم ،تفریق اور جھگڑوں کے الزام کوسنجیدگی کے ساتھ دورکرنے کی عملی کوششیں شروع کرنی چاہئیں تاکہ غیروں کومسلم دنیامیں خلیج بڑھانے کاموقع میسر نہ آسکے۔اس حوالے سے دیکھا جائے توسعودی عرب کی ایران سے شکایات بھی بلاوجہ نہیں ہیں۔عراق سے شام تک اوریمن سے بحرین تک ایران کے اس منفی عمل دخل کی جارحانہ علامات موجودہیں۔(جاری ہے)

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>