کھوٹے کھرے کی پہچان…..آخری قسط

ٹرمپ نے اسی صورتحال سے بھرپورفائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے،انہیں ناکام بنانے کیلئے جہاں دوسرے ملکوں کی ذمہ داری ہے وہاں ایران کی ذمہ داری دوچندہے۔ایران کوالبتہ اس معاملے میں دوسری اسلامی اورعرب دنیاسے اچھی اورمثبت توقعات ہونی چاہئیں وہیں دوسرے ممالک کی ایران سے سے توقعات کابھی ایران کوپاس رکھناچاہئے،تنہائی میں رہ کر پالیسیاں بنانے اورانہیں اپنی من مرضی سے بروئے کارلاتے چلے جاناکسی بھی فرد، ادارے یاملک کوتنہاکردینے کیلئے کافی ہوتاہے۔ ایران نے عراق ،یمن،شام کے علاوہ بعض دوسری جگہوں کیلئے اپنی پالیسیوں سے بہت سوں کوناراض کر رکھاہے، اس ناراضگی کے ازالے کی چابی ایران کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

جہاں تک پاکستان اورایران کاتعلق ہے بلاشبہ دونوں کے دیرینہ تعلقات ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے ایرانی انقلاب کے بعدانقلاب برآمدکرنے اوردوسرے ملکوں میں فرقہ وارانہ معاملات کاحصہ بن جانے کاالزام بھی ایران پرنیانہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کیلئے بھارتی عزائم کیاہیں،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اوریہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ ایران کی صوبہ بلوچستان سے قربت کابھارت استعمال نہ کرسکے تواس کیلئے اتنی آسانیاں نہ رہیں جتنی کچھ عرصے سے چلی آرہی ہیں۔ اس لئے وزیراعظم نوازشریف کی خاموشی کا ایران کوعملی طورپرفائدہ بھی تبھی ہوگاجب ایران خود بھی اپنے آس پاس کے ملکوں کیلئے اپنے اندازبہتربنائے گا،بصورت دیگرٹرمپ نے اپنے سعودی عرب میں خطاب کے دوران جو مطالبات مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کے سامنے رکھےہیں یہ مشرقِ وسطیٰ اوراس سے جڑے ملکوں کیلئے ایک کڑا امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس امتحان کے نتائج کم ازکم مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کے اچھے ثابت نہ ہوں ۔

اس سلسلے میں اقتدارپیڑھی کو منتقل کرنے کی تیاری میں مصروف سعودی عرب کیلئے بھی بہت سے پہلوہیں کہ شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں سے اقتدارشاہ عبدالعزیزکے پوتوں کوجنگی ماحول کے بغیرملے توہی مفیدہوسکتاہے۔اگرنئی نسل کو یہ اقتدارآس پاس میں پہلے سے زیادہ بکھرے چیلنجوں کے ساتھ ملاتو مجموعی صورتحال پرمنفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ امریکی صدر جن کی اہلیہ سرعام ان کاہاتھ جھٹک سکتی ہیں تواسے کوئی اچنبھے کی بات نہیں سمجھنا چاہئے،امریکی اورمغربی دنیاایک کورے مفادات کیلئے مرنے اورسب کچھ قربان کردینے والی دنیاہے۔اس لئے جوٹرمپ سعودی عرب سے ساڑھے تین سوارب ڈالرز کی سرمایہ کاری لیکربغلیں بجارہے ہیں کل اپنے مفادات میں طبل جنگ بھی بجاسکتے ہیں۔ امریکاایساملک ہے جس سے پیار کرتاہے اسی کوماردینے کی شہرت بھی رکھتاہے۔خودمشرقِ وسطیٰ میں بھی ایسی مثالیں موجودہیں۔اس لیے جس ٹرمپ کواس کی اہلیہ ہاتھ پکڑانے کیلئے تیار نہیں ہے سب کچھ اس کی دسترس میں دے دیناکوئی دانشمندی نہ ہوگی۔

امریکاایک جانب اس خطے میں امن کی ظاہری مالاجپنے کاکرتب دکھارہاہے وہیں مشرقِ وسطیٰ کواپنے اسلحے کی کھپت کیلئے ایک مرتبہ پھرایک زرخیز خطہ بنانے کی کوشش میں ہے۔اس مقصدکیلئے ایران کواس طرح پیش کرناکہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کیلئے ایک چیلنج بن رہاہے،یہ اتنی بڑی سچائی بھی نہیں ہے۔اسرائیل مسلمانوں کاازلی دشمن ہے،اس سے توجہ ہٹاکر مشرقِ وسطیٰ میں فلسطین کازکواپنے اندازسے ڈیل کرنے کے علاوہ عرب دنیاکے اکتالیس مسلم ممالک کے عسکری اتحاد کی صورت میں امریکااور اس کے اتحادیوں پرانحصارکم ہونے کی گھنٹی امریکاکیلئے بج چکی ہے،اس لئے امریکی صدر  کامیاں بچوں سمیت سعودی عرب پہنچ جاناقطعاًمشرقِ وسطیٰ یاعرب اوراسلامی دنیاکیلئے خوشخبری نہیں بلکہ لمحۂ فکریہ کے طور پر دیکھاجانا چاہئے ۔ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں امن کاپیغام لیکرنہیں بلکہ ٹھنڈی ہوتی آگ کومزیدبھڑکانے کیلئے سعودی پٹرول کواستعمال کرتے ہوئے اپنااسلحہ بیچنے کے مشن پر تھے ۔ یقینا ٹرمپ کواس معاملے میں کم ازکم سعودی عرب نے خوش ہی نہیں بلکہ نہال کردیاہے۔سعودی عرب سے اتنے خوش ہوکرٹرمپ واپس گئے ہیں جس قدروہ وائٹ ہاؤس میں یااپنے گھرمیں بیٹھے خوش ہونے کاتصوربھی نہیں کرسکتے تھے۔US vs SA

جہاں تک دہشتگردی سے نمٹنے کامعاملہ ہے بلاشبہ یہ ایک اہم ٹاسک ہے لیکن مسلم دنیاکااس معاملے میں امریکی عطارکےلونڈے کی طرف امید بھری  نظروں سے دیکھنے کا جواز کیا ہے جبکہ ہردہشتگردی کے پیچھے امریکی سی آئی اے اوراس کےاتحادیوں کی کارستانیاں اہم رہی ہیں۔اب امریکا نے یہ کام اسرائیل اور بھارتی ایجنسیوں کے بھی سپردکررکھاہے۔ مسلم دنیااگراپنے ہاں واقعی امن چاہتی ہے تواسے امریکاہی نہیں بھارت اوراسرائیل سے بھی گریزکی راہ پرآناہوگا۔یہ ممکن نہیں ہوسکتاکہ یہودوہنودکی چالوں کے ساتھ نمٹنے کی بھی  کوشش کرے اوران ملکوں کیلئے چشم براہ بھی رہے ۔مسلم دنیاکواپنے دیرینہ مسائل کے ذمہ داروں کاتعین کرتے ہوئے اپنے اندردہشتگردی اورباہمی جھگڑوں کاتدارک کرنے کی سمت میں آناہوگا ۔ مسلم دنیامیں اتنی صلاحیت موجودہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے بھڑنے کی بجائے اخوت و بھائی بندی کے راستے پرآئیں تونہ صرف دہشتگردی   سے چھٹکارہ ملے گابلکہ اسلحے کی اندھی ضروریات میں بھی ایک توازن آنے کاامکان پیداہو سکے گا۔

پاکستان سمیت کئی ملکوں کی افواج کاتجربہ ،مہارت کے علاوہ اسلحی صلاحیت اورسائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں میں آگے نکلنے کے امکانات اب روشن ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے بھی امکانات کی ایک نئی دنیاآباد ہو رہی ہے،اس سے مسلم اورعرب دنیابھی فائدہ اٹھانے کیلئے حکمت عملی بنا سکتی ہے۔اس حکمت عملی کے نتیجے میں مسلم دنیا ہمیشہ خودہی امتحان میں نہیں رہے گی بلکہ دوسروں کوامتحان میں ڈالنے کی پوزیشن میں بھی آسکے گی ۔توانائی کے مسائل ،بہترین جغرافیائی خدوخال ،اہم ترین سمندری راستوں اور سب سے بڑھ کردین اسلام کی دولت سے مالامال ہونے کی بنیادپرمسلم دنیاکا مستقبل روشن ہے بشرطیکہ مسلم حکمران اپنے دل ودماغوں کواندھیروں کے باسی رکھنے پراصرارجاری نہ رکھیں اورصدق دل سے کھرے کھوٹے کی پہچان کرلیں۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا ہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>