1

”شامت اعمال ماصورت،آصف گرفت”

ہمارے وزیرخارجہ امریکایاترامیں جس معصومیت سے اعترافِ جرم کرکے رسوائیوں کے پہاڑکابوجھ ملک وقوم کے کھاتے میں ڈال کرواپس لوٹ آئے ہیں لیکن ان کے بیان کی باز گشت اب ان کاتعاقب کررہی ہے اوروہ اپنے معزول وزیراعظم کی خواہش پراپنے غیرملکی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے حافظ سعیداور حقانی نیٹ ورک کے معاملے میں ان کی تائید میں رطب اللسان ہیں جبکہ شواہداس بات کے گواہ ہیں کہ حافظ سعیداستحکام پاکستان ،نظریہ پاکستان کی سربلندی اورعالم اسلام کودرپیش مسائل اورسب سے بڑھ کرتنازع کشمیرکے حوالے سے گرانقدر خدمات کی وجہ سے دشمنانِ پاکستان واسلام کی نگاہوں میں کھٹکتے ہیں۔تنازعہ کشمیرکے اصل میں تین فریق ہیں جس میں سب سے اہم کشمیری عوام،پاکستان اور بھارت ہیں اورہم سب جانتے ہیں کہ پچھلی سات دہائیوں سے متعصب بھارت نے نہ صرف کشمیرپرجابرانہ قبضہ کیاہواہے بلکہ ہندوؤں کے بدترین نمائندے مودی نے انسانیت سوز مظالم کے تمام ریکارڈتوڑدیئے ہیں اوراس کے دورمیں پہلی مرتبہ براہ راست پیلٹ گن کے استعمال سے سینکڑوں کشمیری نوجوانوں، عورتوں اوربچوں کوبینائی سے محروم کردیا ہے اورہرآئے دن کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی بے گناہ شہریوںپرگولہ باری کرتے ہوئے بلاتخصیص شہیدکررہاہے اورپاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ہے جس کے اقوام عالم کوباضابطہ ناقابل تردید شواہد بھی فراہم کئے گئے ہیں۔

حکومت پاکستان ہرعالمی فورم اورعالمی سطح پردوٹوک اندازمیں کشمیری عوام پراستصواب رائے کاحق دلانے کامطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ پاکستان کابچہ بچہ تحریک آزادیٔ کشمیرکاپشتیبان بناہواہے۔پاکستانی قیادت یقین رکھتی ہے کہ کشمیر پاکستان کاجزولاینفک ہے۔کشمیریوں کی آزادی کیلئے جماعت الدعوة نے عظیم قربانیاں پیش کرکے ثابت کیاکہ آزادیٔ کشمیرمحض مظلوم کشمیریوں کی تحریک نہیں بلکہ یہ تکمیل پاکستان کی تحریک ہے۔کشمیرکے پاکستان میں انضمام کے بغیرپاکستان ادھورا ہے،ساراکشمیراورپوراپاکستان جغرافیائی اعتبارسے ایک اکائی ہے جس کودینی رشتوں نے آپس میں جوڑ رکھاہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب وہ ساری باتیں الم نشرح ہورہی ہیں کہ جوکشمیراورپاکستان کی وحدت کی حیثیت نمایاں کر رہی ہیں۔ قدرت کی طرف سے کشمیرکی گودسے پھوٹنے والے تمام دریاؤں کاپانی روک کرپاکستان کوصحرا میں بدل ڈالنے کاانتہائی مذموم منصوبہ اس امرکو ایمان کی حدتک تقویت بخش رہاہے کہ کشمیراورپاکستان ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں۔اسی حقیقت کے پس منظرکے ساتھ جماعت اسلامی پاکستان اورجماعت الدعوة نے پاکستان کے ہرگھرتک یہ آوازپہنچائی کہ کشمیریوں کی تحریک آزادیٔ کوئی دورپارکامعاملہ نہیں بلکہ یہ ہماری اپنی تحریک اورہمارااپنامشن ہے۔

حافظ سعیدکی تنظیم بنیادی طورپرمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی تسلط سے نجات چاہتی ہے اوراقوام متحدہ کی منظورشدہ قرار دادوں کی روشنی میں اس حق خود ارادیت کی طلب گارہے جس کا اوّل وآخرمقصدکشمیرکاباضابطہ طورپرپاکستان کاحصہ بن جاناہے۔ایک طرف یہ سارے حقائق وبراہین تو دوسری طرف وزیر خارجہ کایہ کہناکہ ”حافظ سعیدپاکستان کے کندھوں پر بوجھ ہے اوران سے جان چھڑانے کیلئے پاکستان کووقت درکارہے”ہرمعقول ذہن یہ سوچنے پرمجبورہے کہ خواجہ آصف کابھاشن منافقت ہے،ضعف ایمان ہے یابیک وقت بھارت اور امریکاکی خوشنودی حاصل کرنے کی شرمناک کاوش ہے؟؟بعض کم فہم یہ سوچ رہے تھے کہ خواجہ آصف سہواً کہہ گزرے ہیں مگرجب ایک ٹی وی پروگرام میں ان سے استفسار کیا گیاکہ کیاوہ1 امریکا میں حافظ سعیدکے متعلق کہے گئے بیان پرقائم ہیں توخواجہ آصف نے روایتی دلیری کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ وہ اپنی بات سے کبھی منحرف نہیں ہوئے! سوال یہ ہے کہ حافظ سعید پاکستان کی دھرتی کیلئے بوجھ اس بناء پربناکہ بھارت ایساہی چاہتاہے اورامریکابہادراپنے بغلی بچے بھارت کی منطق کی حمائت کرتاہے؟ اگرناپ تول اور جانچ پرکھ کایہی پیمانہ ہے توپھراب امریکی وزیردفاع نے جو کھل کرکہاکہ سی پیک متنازع کشمیر کے ایک خطے سے گزررہاہے اورامریکا کواس پرتحفظات ہیں توکیاپھرکھربوں کایہ منصوبہ دھرے کادھرارہ جائے گا؟ ہرمعتدل اور میانہ رومبصراس پرجواب میں کہے گاہرگزنہیں۔ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ ہم نے امریکااوربھارت کی بدمعاشی کاتوڑکرناہے وگرنہ اسی طرح سسک سسک کر ذلت کی موت کوگلے لگاناہوگا۔اگرہم امریکی اوربھارتی ترازوکے تحت کشمیریوں کی حمائت پراپنے حافظ سعیداورسی پیک منصوبوں سے اعراض برتیں گے توہم جیسااحمق اوربزدل کون ہوگا؟

ایک طرف پاکستان میں برسراقتدارجماعت کہتی ہے کہ کشمیرہماراہے اوریہ پاکستان کاقومی مؤقف ہے،پاکستان کی ہرحکومت اس مطالبے کی حامی رہی ہے لیکن دوسری طرف کشمیریوں کی حالت زار پربے کل ہونے والوں کودھرتی کابوجھ قراردیکراپنے مؤقف کاابطال کررہی ہے۔اس پس منظرکوسامنے رکھتے ہوئے حافظ سعید بھی کشمیریوں کی آزادیٔ کا مطالبہ کرتے ہیں تویہ جرم کیوں ٹھہرا!بانی پاکستان قائداعظم کایہ فرمان کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” کیا بھلادینے یاکم ازکم نظراندازکردیے کی چیزہے؟بابائے قوم نے تو افواجِ پاکستان کوحکم دیاتھاکہ وہ کشمیرکوبھارتی تسلط سے نجات دلائیں اگرچہ انگریزآرمی چیف نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی تھی مگرآزادکشمیرکاعلاقہ قبائلی اورآزاد کشمیرکی مشترکہ عسکری جدوجہدکے نتیجے میں ڈوگرہ تسلط سے آزادی اور بعدازاں۱۹۶۵ءاور۱۹۷۱ءاوران کے بعدکارگل کی جنگ،یہ سب پھرکیاتھا؟ کیایہ کشمیریوں کی عملی حمائت نہیں تھی؟۱۹۹۰ءسےکشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے جدوجہدمیں مصروف ہیں اورپاکستان کاہرفرداس جدوجہدکاحصہ ہے اوراس جدوجہدمیں حافظ سعیدکے کردارکے سب ہی معترف ہیں توحافظ سعید پاکستان کیلئے بوجھ کیسے بن گئے؟

کیایہ کھلی حقیقت نہیں کہ ۱۹۴۷ءکےبعدکشمیرسے ایک ہجرت عمل میں آئی اور لاکھوں کشمیری پورے پاکستان کے مختلف شہروں،قصبوں اور دیہاتوں میں مقیم ہیں اوراس پرمستزادیہ کہ آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں کشمیریوں کی آبادی چالیس لاکھ سے زائدہے،کیایہ حکومت کے بس میں ہے کہ وہ انہیں اپنے مظلوم بہن بھائیوں کی امدادسے روک سکے،کیااس حقیقت میں کوئی شک وشبہ ہے کہ یہ لوگ اپنے مظلوم بھائیوں کی امداد کیلئے کشمیرجاتے رہے ہیں؟؟پاکستان میں گراں بہافلاحی کام کرنے والے حافظ سعیدمذکورہ امدادی کام سے اپنے آپ کو کیسے الگ تھلگ کرسکتے تھے؟ ظاہر ہے کہ اس عظیم کام کیلئے پاکستان میں ایک سیٹ اپ کی ضرورت تھی اورانہوں نے اپنے معتمدساتھیوں سے مشاورت کرکے جماعت الدعوة کے نام سے یہ سیٹ اپ قائم کرایاجوبلاشبہ گرانقدرخدمات انجام دے رہاہے جس کا پوری دنیا کے میڈیانے بھی اعتراف کیا،اس کے برعکس پاکستانی وزیرخارجہ نے جوفدویانہ رویہ اورمؤقف اپنایاوہ کسی باغیرت پاکستانی اورکشمیری کیلئے قابل قبول نہیں۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>