Trump13

بندرکے ہاتھ دیاسلائی(آخری قسط)

امریکی جارحیت کی وجہ سے داعش کوافغانستان کے مشرقی صوبوں میں قدم جمانے کاموقع ملااوراس نے جہاں افغان طالبان کے خلاف مسلح جھڑپیں کیں تودوسری جانب بے گناہ مسلمانوں کوبھی قتل وغارت کانشانہ بنایا۔افغانستان میں داعش کومضبوط بنانے کیلئے عالمی طاغوتی قوتیں افغانستان میں موجودگی کا جوازبناکرداعش کوپاکستان اورروس کی سرحدوں کے قریب رکھناچاہتی ہیں تاکہ چین کی جانب سے پاکستان کے سی پیک منصوبے کوکامیابی سے ہمکنارنہ ہونے دیاجائے اورچین کو گوادرتک محدودرکھاجائے۔وسطی ایشیائی ممالک اور یورپین ممالک میں چین کوقدم جمانے سے روکنے کیلئے امریکاکے پاس صرف افغانستان میں بدامنی کامشن بچ جاتاہے چونکہ افغانستان ایک غیر مستحکم اوربے امن ملک ہے اور اس ملک کے ٦٠فیصدحصے پرکابل حکومت کی عملداری قائم نہیں،اس لئے یہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے غیرروایتی طریقے استعمال کرکے غیرملکی افواج کوافغانستان میں رکنے کاجوازمہیاکررہی ہے۔کابل حکومت کی جانب سے پہلے امارات اسلامیہ پرالزام لگایا گیا کہ ایران ،افغانستان کی مددکر رہا ہے اور اب روس پر الزام لگادیاکہ امارات اسلامیہ کی عسکری مدد کی جارہی ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے مراکزمیں ملوث ہونے کے بھارتی پروپیگنڈے میں کابل حکومت اپناکندھابھارت کودے چکی ہے تاہم گزشتہ ماہ پاک افغان سرحدکی بندش کے بعدبرطانیہ کے ثالث بننے پربارڈر مینجمنٹ پردونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسائل پراتفاق رائےتوہواجس کاحال ہی میں چمن سرحد پرسب نے
انجام بھی دیکھ لیاتاہم افغانستان میں بدامنی وعدم استحکام کے بعد امارات اسلامیہ اورکابل حکومت کیلئے عراق وشام سے فرارہوکرآنے والے داعشیوں کومزید مضبوط ہونے سے روکنے کیلئے مربوط پالیسی کی ضرورت ہے جس میں کابل حکومت ناکام نظرآتی ہے۔امریکی ایجنڈا داعش کومضبوط گڑھ بنانے کیلئے ایک اہم رکاوٹ کے طورپرسامنے ہے جوچین کوسپرپاوردیکھنے کا خواہشمند نہیں، اس لئے ایک جانب بھارت اور دوسری طرف افغانستان کے کندھے لیکرافغانستان میں داعش کاجوازلیکر دیگرعالمی طاقتوں کو افغانستان میں دوبارہ متحرک کرنے کی پالیسی پر (امریکا) سرگرم نظرآتاہے۔
داعش کے سامنے سب سے بڑاچیلنج امارات اسلامیہ کے افغان طالبان ہیں۔ایک واقعے میں افغانستان میں شدت پسند تنظیم داعش نے تیس افرادکو یرغمال بنانے کے بعدقتل کردیاتھا ۔دولت اسلامیہ نے ان شہریوں کواس وقت یرغمال بنایا جب وہ پہاڑوں پرلکڑیاں جمع کررہے تھے۔حکام نے بتایاکہ ان شہریوں کودولت اسلامیہ نے اس وقت گولیاں مارکرقتل کیاجب مقامی افرادنے ان کوبچانے کی کوشش کی۔ صوبہ غورکے ترجمان نے بتایاکہ مقامی افرادکی فائرنگ سے دولت اسلامیہ کا کمانڈرہلاک ہوا،گورنرناصرخان نے بتایاکہ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔
افغانستان میں دولت اسلامیہ کی حمائت میں اضافہ دیکھنے کوملاہے اورکچھ علاقوں میں دولت اسلامیہ طالبان کی عملداری کوبھی چیلنج کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوری ۲۰۱۵ء سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان اور دولت اسلامیہ کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں ہیں۔۲۰۱۵ء میں داعش نے افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوظ کرناشروع کیں،کئی باغی کمانڈروں نے داعش کی حمائت کااعلان کیاہے۔داعش کی طرف سے افغانستان میں نئے جنگجوبھی بھرتی کرنے کی ٹھوس شہادتیں پہلی بارسامنے آئی تھیں جبکہ ہلمندصوبے کے سابق طالبان کمانڈر ملاعبدالروؤف نے داعش کی اطاعت کااعلان کیا۔سنگین ڈسٹرکٹ میں داعش نے افغان طاالبان کے سابق جھنڈے اتارکواپنے کالے جھنڈے لہرائے تو جھڑپ ہوگئی جس میں بیس افرادموقع پرہی ہلاک ہوگئے۔علاقے میں افغان فوج کے یونٹ نائب کمانڈرجنرل محمودنے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ چندروزقبل کوئی نیاگروپ تشکیل دیئے جانے کی اطلاع ہے جوداعش کیلئے حمائت حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے اوراس کیلئے لڑنے کی تیاری بھی کررہے ہیں ۔ اس نئی تحریک کے رہنماء ایک سابق سنیئر طالبان کمانڈرہیں جن کوامریکی فوج نے ۲۰۰۱ءمیں پکڑکرگوانتاناموبے کیمپ بھیج دیاتھاجہاں انہوں نے چھ سال گزارے ۔ایک اطلاع کے مطابق داعش نے کچھ عرصہ پہلے ایک اورجنوب مغربی صوبے فراح میں لوگوں کوبھرتی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں مقامی لوگوں نے پولیس کی مددسے نکال دیاتھا۔Trump13
پاکستانی طالبان کے ایک سابق ترجمان بھی ایک ویڈیومیں کہتے دیکھے گئے کہ یہاں داعش کے کئی اہم کمانڈرسرگرم ہیں اورپاکستانی طالبان نے اس سے الحاق کرلیاہے اورجس کیلئے ”را”کے ایک ایجنٹ نے کافی اہم کرداراداکیاہے، اس سے اندازہ ہورہاہے کہ پاکستانی طالبان کوکئی اندرونی چیلنجوں کاسامناہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کاکہناہے کہ داعش کی موجودگی کوجوازبنا کر امریکااورکابل کے کٹھ پتلی حکمران افغانستان پرقابض رہناچاہتے ہیں جبکہ افغان عوام صدق دل سے یہی چاہتے ہیں کہ امریکاسمیت تمام غیرملکی افغانستان سے ہمیشہ کیلئے چلے جائیں۔افغان طالبان کے ترجمان نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امارات اسلامیہ ،داعش کے خلاف اپنی مددآپ کے تحت اور افغان مجاہدین کے ساتھ مل کرشرپسندوں کے خلاف کاروائی کررہی ہے۔روس کی جانب سے یاکسی دوسرے ہمسایہ ملک کی جانب سے عسکری امدادکی سختی سے تردید کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہدکاکہناتھا:اپنی سرزمین کی آزادی اورشرپسندوں (داعش)کے خلاف جہادمیں کسی بھی دوسرے ملک کی شمولیت کے پروپیگنڈاکا مقصدامارات اسلامیہ کی جدوجہدکوغیر مؤثر ثابت کرنا ہے۔
افغانستان کاامن پورے خطے کیلئے اہمیت کاحامل ہے۔امارات اسلامیہ کے ساتھ داعش کی جھڑپیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ امارات اسلامیہ افغانستان میں سرزمین کی آزادی کیلئے اپنے پرائے،غیرملکی اورنام نہاداسلامی جنگجوتنظیموں سے بیک وقت لڑرہی ہے،اس کے باوجودامارات اسلامیہ کاافغانستان کے ۶۰فیصد رقبے پرمکمل قبضہ اورمسلسل پیش رفت ظاہرکرتی ہے کہ اگر عالمی قوتیں داعش کاساتھ نہ دیں اورعراق،شام کی طرح داعش کی سرپرستی نہ کریں تو داعش کا مکمل خاتمہ ممکن ہے لیکن عراق اورشام کی طرح عالمی قوتیں اپنے مفادات کیلئے داعش کی پس پردہ حمائت کرتے رہیں توپھرعراق و شام میں شکست کے بعدداعش کا ٹھکانہ(خدانخواستہ) افغانستان بن گیاتونہ صرف ایشیائی خطے کیلئے بلکہ پوری دنیاکیلئے خطرناک صورتحال ہوگی۔امریکاکی جانب سے داعش کانام لیکرہلاکت خیزوہلاکت آفریں کاروائی اورڈرون حملوں سے ہمیں یہ سمجھ لیناچاہئے کہ امریکاپاکستان اورافغانستان میں کیاچاہتاہے۔
پاکستان توروزِاوّل سے کابل حکومت کوٹھوس شواہدکے ساتھ امریکااوراس کے استعماری بغل بچے بھارت کے عزائم سے آگاہ کرتارہتاہے مگرصد افسوس کابل کے حکمران خود بھارت کابغل بچہ بنے رہنے میں عافیت سمجھ رہے ہیں۔اب جب اشرف غنی اورکرزئی کی طرف سے امریکاکی ہلاکت خیزی پرشدیدردّ ِ عمل ظاہرکیاگیاہے تومزارشریف کے فوجی اڈے پرایک خوفناک خودکش حملے نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔اب توافغان کٹھ پتلی حکومت کیلئے انتہائی ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ متوقع خطرناک صورتحال کونوشتہ دیوارسمجھیں اورننگرہارپر”بموں کی ماں” کے حملے کے نتیجے میں داعش کے ٹھکانے پر۱۳بھارتی”را” کے ایجنٹوں کے مارے جانے کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بھارت کی درپردہ سازشوں کے بارے میں ضرورتحقیق کریں توانہیں بھارت کے مکروہ چہرے کوپہچاننے میں دقت نہ ہوگی اوریہ کہ امریکا بہادر پرٹرمپ کی شکل میں جبراًمسلط شخصیت اصل میں ایک بندرکے ہاتھ دیاسلائی آجانے کے مترادف ہے۔بارودکےڈھیرکودیاسلائی دکھانے میں ڈرون کی تھیوری کایہ سراذرّہ بھرتاخیرنہیں کرے گا۔”ہم نیک وبدحضورکوسمجھائے جاتے ہیں”۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>