معززیاغدار

بھیڑکی کھال میں بھیڑیابالآخرسامنے آہی گیااوراس نے اپنے تمام سابق مربیوں کی عزت خاک میں ملانے کااوراس کیلئے مزیدمضامین لکھنے کی دہمکیاں بھی دیناشروع کردی ہیں گویا اپنی متنازعہ شخصیت کومزیدمتنازعہ بنانے کیلئے ایک نیاکھیل کھیلنے کیلئے میدان میں اترنے کی ٹھان لی ہے۔ ایک اہم سوال جوعام ذہنوں میں ابھررہاہے کہ آخریہ بدنام زمانہ ننگ ملت حسین حقانی ہیں کیاچیزجس نے پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں (نوازشریف ،بے نظیراور زرداری) کو اپنے مقاصدکیلئے خوب استعمال کیا۔اس سوال کا جواب اگرچہ اتناآسان نہیں مگر اشارات کی مدد سے قابل فہم بنایاجاسکتاہے۔جس طرح دنیائے فن میں چائلڈ اسٹار ہوتے ہیں،اسی طرح دنیائے صحافت وسیاست میں موصوف جیسے بغل بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں ان کے بچپن میں مصروف اہل قلم نے ننھااور منا کے ناموں سے پکاراجاتا،”چھوٹے”کانام بہت ابلاغ کاموجب بن جاناتھا مگر نہ بنا۔
ملیرکراچی میں ۱۹۵۶ء میں پیداہونے والاناسورحبیب پبلک ہائی اسکول کراچی سے فارغ ہوکر۱۹۷۴ء میں گورنمنٹ نیشنل سائنس کالج کراچی میں جب پہنچاتو اسلامی جمعیت طلباء کی طرف سے یونین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے طلباء یونین کاصدربن گیا۔۱۹۷۷ء میں کراچی یونیورسٹی سے بی اے اور بعدازاں ۱۹۸۰ء میں انٹر نیشنل ریلیشنزمیں ایم اے کی ڈگری حاصل کی لیکن دورانِ تعلیم ہی اس نے صحافت کے میدان میں قدم رکھ دیاتھا۔۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۸ء تک دومختلف صحافتی اداروں میں کام کیالیکن سیاسی میدان میں پہلی مرتبہ حسین حقانی کانام ۱۹۸۸ء میں نوازشریف کی قیادت میں بننے والے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی)کی انتخابی مہم میں اہم کردارکے طورپرسامنے آیا تھا اوربعدازاں وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی کے طورپر۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۰ء تک ذمہ داری نبھائی اور۱۹۹۰ء میں وہ پہلے عبوری وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی اورپھر منتخب وزیر اعظم نوازشریف کے معاون خصوصی کے طورپرکام کیا۔
۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۳ء تک سری لنکامیں پاکستان کے سفیرکے مزے لوٹے اور۱۹۹۳ء میں ایک بارپھرانتخابی مہم چلانے میں حصہ لیا تاہم اس مرتبہ یہ مہم نوازشریف کے خلاف اوربے نظیربھٹوکی قیادت میں بننے والے سیاسی اتحادپاکستان ڈیمو کریٹک فرنٹ(پی ڈی ایف)کی تھی۔انتخابات میں بے نظیرکی کامیابی کے بعد۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۵ء تک حکومت کے ترجمان رہے اوراس دوران انہیں وزیرمملکت کا درجہ حاصل تھا۔۱۹۹۵ء میں انہیں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کاچیئرمین بنادیا گیااورقریباًایک سال اس عہدے کالطف اٹھاتے رہے۔
۱۹۹۸ء میں میاں نوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت میں ایک مرتبہ پھران کےہمرکاب نظرآئے اورمئی ۱۹۹۸ء میں پاکستان کی جانب سے جوہری دہماکے کے تجربے کے بعد حسین حقانی نے امریکی پابندیوں پرامریکی حکام سے وزیر اعظم کی نمائندگی کرتے ہوئے مذاکرات کئے۔وہ ۲۰۰۲ء میں امریکامنتقل ہوگئے اورواشنگٹن ڈی سی کی جان ہاپکنز یونیورسٹی میں ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۴ء تک بطور لیکچراراور ۲۰۰۴ء میں امریکاکی ہوسٹن یونیورسٹی سے بطورایسوسی ایٹ پروفیسرمنسلک رہے۔اس کے علاوہ ہڈسن یونیورسٹی کے ایک پروجیکٹ میں شریک چیئرمین بھی رہے۔
مشرف دورکے خاتمے اور۲۰۰۸ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی فتح اور حکومت سازی کے بعدبقول آصف زرداری ،ان کی درپردہ مددکی وجہ سے انہیں امریکاکا سفیرمقررکیاگیا۔انہیں میموگیٹ کیس میں پاکستان بلایاگیا۔ان پراسامہ بن لادن کے ایبٹ آبادکمپاؤنڈ پرامریکی حملے کے بعدامریکی جنرل مائیک جولن کوخط لکھنے کا الزام تھا، جس میں امریکی حکام سے استدعاکی گئی تھی کہ پاکستان کوممکنہ فوجی انقلاب سے بچایاجائے جس پرموصوف کواس عہدے سے مستعفی ہوناپڑا۔ دورانِ سماعت حسین حقانی عدالت عظمیٰ کوبھی دھوکہ دے گئے اورعدالت سے استدعاکی علیل ہوں۔امریکامیں علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔وعدہ کیاکہ فاضل عدالت جب بھی طلب کرے گی حاضرہوجاؤں گامگرعدالت عظمیٰ کے واضح احکامات کے باوجودواپس نہیں آئے۔
موصوف نے اب امریکاکے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں اعتراف کیاہےکہ امریکی حکام کواسامہ بن لادن تک رسائی میں موصوف کاکلیدی کردارتھا اور ساتھ یہ بھی بتایا انہیں اس وقت کے آصف زرداری اوروزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی مکمل تائیدحاصل تھی۔اس حوالے سے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے حسین حقانی کاکہناتھا:میں ١٩٩٣ء سے پاکستان پیپلزپارٹی اوربے نظیربھٹوکے ساتھ رہا،اس کے علاوہ پارٹی کی بہت سی کمیٹیوں کابھی حصہ رہا مگرچندماہ قبل میرے خیالات سے پیپلزپارٹی کی طرف سے لاتعلقی کااعلان کر دیاگیامگرمیری ہمدردیاں اس وقت بھی پاکستان کی جمہوری قوتوں اورپیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں۔میرا(زیرنظر) مضمون سفارتکاری کے بارے میں ہے مگراس کی پاکستان میں غلط تشریح کی جارہی ہے۔اس مرحلے پرحسین حقانی نے نخوت سے مغلوب اندازمیں بتایا:پاکستان اور امریکا کی انگریزی میں فرق ہے جس سے اہلیان پاکستان کی اکثریت آگاہ نہیں۔موصوف کاکہناہے:میں نے مضمون میں لکھا ہے کہ جب اسامہ بن لادن کیلئے آپریشن کیاگیاتو پاکستان کوبالکل نہیں بتایاگیا۔ دوسرا میں نے لکھاکہ انتخابی مہم کے دوران میں میرے ذریعے سے امریکانے مؤقف قائم کئے،انہی کی بنیادپر امریکیوں نے ہم سے درخواست کی کہ ہمیں اپنے کچھ لوگ وہاں متعین کرنے ہیں مگریہ میں نے نہیں کہاکہ وہ لوگ وہاں متعین کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ میں نے لکھاکہ اس اسامہ بن لادن کے پاکستان سے ملنے کے بعدسے امریکا،پاکستانی فوج،انٹیلی جنس ایجنسیوں پربالکل اعتماد نہیں کرتا،یہ ایک معروف بات ہے،اس میں کوئی انکشاف نہیں ہے۔
اپنے مضمون کے آخرمیں ،میں نے لکھاکہ میرے اوپرالزامات لگائے گئے ہیں کہ میں نے بہت سے ویزے دیئے ہیں، اس پرمیں نے یہ لکھاکہ میں نے جوکچھ بھی کیاوہ حکومت پاکستان (جس کے صدراس وقت آصف علی زرداری تھے)کی اجازت سے کیاتھا۔ویزوں کے معاملے پریہ دیکھاجا سکتا ہے کہ ہمارے لوگوں کوعلم تھاکہ وہ کس کوویزے دے رہے ہیں مگرمجھے اس کاعلم نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی وہاں موجود تھے جنہوں نے اس اقدام میں ان کی مددکی۔ پیپلز پارٹی اس چکرمیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کویقین دلائے کہ وہ ہ اچھے لوگ ہیں اوراسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگ ٹی وی پربیٹھے ہیں جن کے ذریعے سے اپنے مطلب کی بات کاشورمچالیتے ہیں۔
بہت سارے اینکرزہیں جواسٹیبلشمنٹ
کے ایجنڈے پرپوراعمل کرتے ہیں اس لئے پیپلزپارٹی والوں نے گھبراکرسوچاکہ آسان کام یہی ہے کہ حسین حقانی سے ہی نجات حاصل کرلی جائے ۔ویسے بھی سکھراور واشنگٹن کافاصلہ بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں کسی پرلیبل لگاناآسان ہے اورپھر اس لیبل سے جان چھڑاناازحدمشکل ہے اوربیان بازی آسان ہے۔ اس وقت دونوں ممالک ایک دوسرے پراعتمادنہیں کرتے۔پاکستان میں لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اب چین آگیاہے اورہم چین کی مددسے آگے بڑھیں گے ،ہمیں اب امریکاکی ضرورت نہیں ہے ۔دوسری طرف امریکامیں یہ سوچاجارہاہےکہ پاکستان کواس کے اقدامات اورپالیسیوں کی وجہ سے سزاکس طرح دی جائے،اس وقت بہت سمجھداری کے ساتھ درمیان میں چلنے کی ضرورت ہے۔ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہرآدمی میڈیاپرآئے اورامریکاکے خلاف تقریرکرکے چلاجائے۔ مولانا فضل الرحمان اورسمیع الحق نے تو امریکاسے ہمارےتعلقات درست نہیں کرانے؟تعلقات تو وہی درست کروائے گا جس کوامریکاقابل اعتمادسمجھیں گے۔میں ایک بارپھر یہی کہوں گاکہ میں نے کہیں نہیں لکھاکہ آپریشن کے وقت پاکستان کے سول یاعسکری حکام کوپہلے سے علم تھا۔ میں نے صرف یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اس دورمیں امریکاپاکستان میں سول حکام قیادت پراعتماد اور عسکری حکام پراعتمادنہیں کرتا تھا۔اس کامطلب یہ نہیں کہ زرداری صاحب یا گیلانی صاحب کوکچھ بتایاگیاتھااورنہ ہی ایسی کوئی بات میں نے کہی ہے اورنہ کہوں گاکیونکہ اس کامجھے علم نہیں ہے۔امریکا میں بیٹھے ہوئے سفیرکو امریکا کے حالات کاتوپتہ ہوتاہے،اسلام آباد میں کیاہورہاہے،اس بات کاکوئی علم نہیں ہوتا۔اس وقت کے اچھے تعلقات کی وجہ سے پہلی مرتبہ ساڑھے سات ارب ڈالر کاسویلین پیکج پاکستان کوملا۔Haqqani Traitor1
آئی ایس پی آرکے ڈائریکٹرجنرل میجرجنرل آصف غفورنے ایک ٹوئٹرپیغام میں کہا کہ سابق سفیرحسین حقانی کاویزوں کے حوالے سے امریکی اخبارمیں چھپنے والے بیان سے ریاستی ادروں کے موقف کی تصدیق ہو گئی ہے۔حسین حقانی کے انکشافات پرکئی تجزیہ نگاروں کاکہناہے :ان انکشافات سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں برہمی کاردّ ِعمل ظاہرہواہے جسے پہلے ہی شک تھاکہ حسین حقانی ریاستی مفادات کے خلاف مصروفِ عمل ہے۔اس سے حسین حقانی کاجھوٹ بھی پکڑاگیا۔ اوبی ایل کمیشن کے سامنے اس نے حلف اٹھاکرکہاکہ حکومت نے اسے کبھی نہیں کہاکہ وہ لوگوں کو ویزے جاری کرے اوراب وہ انکشافات کے افشاء کی دہمکیاں دے رہاہے۔پیپلزپارٹی کی رہنماء شیری رحمان نے حسین حقانی کے دعوے کی تردیدکرتے ہوئے کہاَمیں بھی امریکامیں سفیررہی ہوں،مجھے تو پیپلز پارٹی نے کبھی بھی کسی مشکوک شخص کو ویزہ دینے کیلئے نہیں کہا بلکہ آصف زرداری نے اس ضمن میں امریکی دباؤ کامقابلہ کرنے کاکہاتھامگریہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ جس وقت وہ سفیرمقررہوئیں اس وقت اسامہ بن لادن کا قصہ ختم ہو چکاتھا، سی آئی اے اوربلیک واٹرکوبلانے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
امریکامیں بطورسفیرخدمات انجام دینے والی ایک اورسیاسی رہنماء سیدہ عابدہ امام کے ردّ ِ عمل میں زیادہ وزن ہے۔انہوں نے حسین حقانی کے معاملے کوپیپلز پارٹی کی قیادت کیلئے چیلنج اورلمحہ فکریہ قراردیاہے اورکہاہے کہ پاک فوج کوبائی پاس کرتے ہوئے پاکستانی حکومت اورامریکاکے مابین براہِ راست تعلقات اوراسامہ کی ہلاکت کے حوالے سے حسین حقانی کابیان پیپلزپارٹی کیلئے ایک اہم چیلنج ہے۔پیپلزپارٹی کووضاحت دینی چاہئے کہ اس نے حسین حقانی جیسے ناقابل اعتبار،خود غرض اور عیارشخص کوامریکاجیسے اہم ملک میں سفیر کیوں تعینات کیا جبکہ اہم ممالک میں سفیروں کی تعیناتی ہمیشہ حب الوطن،شہرت اور کردارکودیکھ کرکی جاتی ہے۔مگربدقسمتی سے حسین حقانی کوبعض سیاسی مفادات کے تحت وہاں بھجوایا گیا ۔اس لئے ناقابل اعتباراورذاتی مفادات کیلئے قومی مفادات کوپامال کرنے کی شہرت کے حامل شخص کوامریکامیں سفیر تعینات کرنے والے بھی حسین حقانی کے اعمال کے ذمہ دارہیں۔چندماہ قبل میں لندن میں تھی توحسین حقانی اپنی اہلیہ کے ساتھ مجھے ملنے کیلئے آگئے۔میں نے حقانی سے کہا:تمہیں پاکستان کےمفادات کے خلاف لکھنے پرشرم آنی چاہئے ۔ جواب میں حقانی نے اپنی مجبوریاں بیان کرناشروع کردیں ۔وہ کہہ رہاتھاکہ میں پاکستان آناچاہتاہوں اوراس کیلئےاسٹیبلشمنٹ سے معاملات بہترکرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ جوکچھ کیااس وقت کی سیاسی قیادت کی مرضی سے کیا۔
بیگم عابدہ حسین نے ایک سوال کے جواب میں بتایا:حسین حقانی کاسیاست میں بھی کردارگھناؤناتھااورجب وہ میدان سفارت میں اتراتووہاں بھی اس نے ملک وقوم کے مفادات سے کھیلنے اوران مفادات کوفروخت کرنے کی ہرممکن جدو جہدکووتیرہ بنائے رکھا۔پاک سرزمین سے غداری کے مرتکب ہرشخص کامحاسبہ ہوناچاہئے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کوتوضیح پیش کرنی ہوگی کہ انہوں نے کس بنیاد پرحسین حقانی جیسے غدارکوامریکامیں سفیرمقررکیا۔سمجھ نہیں آرہی کہ حسین حقانی کی کون سی ایسی خدمات تھیں کہ میموگیٹ اسکینڈل آنے کے بعد اورفوج کے شدیدترین تحفظات کے باوجودآصف زرداری نے اس شخص کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی۔
برسوں قبل امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ میں ایک رپورٹ چھپی تھی جس کاچرچا کچھ دنوں کیلئے ہوتارہاپھربات آئی گئی ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق مشرف کے دور میں امریکانے پاکستان میں اپنے ایجنٹوں اوردہشتگردوں کاایک گروپ ”سپائڈرز”کے نام سے بنایاتھاجس میں ریٹائرڈمعززین کی بڑی تعدادشامل تھی۔یہ ریٹائرڈمعززین قبائلی علاقوں میں امریکاکیلئے دہشتگردی،تخریب کاری اور جاسوسی کرتے تھے۔بعدازاں کیانی نے دہشتگردوں کایہ گروہ ممنوع قراردے دیالیکن کاروائی نہیں کی۔یہ ریٹائرڈمعززین عمربھرناقابل یقین حدتک قابل رشک تنخواہیںاورمراعات لیتے رہے اور بیش بہاجائیدادوں کے مالک بن گئے۔ پھر کیا معاشی مجبوری تھی کہ غداربن گئے۔اب انہی میں سے ایک ٹولہ روزرات کوٹی وی پر بیٹھ کرآئین اورجمہوریت کے خلاف خرافات بکتاہے۔حسین حقانی سے کئی گنازیادہ ان ریٹائرڈمعززین کے مواخذہ کی کسی نے جرأت نہیں کی،اس طرح حسین حقانی کے خلاف کسی کاروائی کی بظاہرکوئی توقع دکھائی نہیں دے رہی ۔ بہرحال ذمہ دارذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے حسین حقانی کے پے درپے الزامات کوحکومت کی انتخابی مہم قرار دیتے ہوئے پنجاب اوروفاق کی سطح پرحکومت کوجواب دینے کافیصلہ کیاہے۔آصف علی زرداری نے پارٹی کوحسین حقانی کے معاملے پردفاعی پوزیشن اختیارکرنے کی بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیارکرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ۔ قبل ازیں حسین حقانی کے معاملے کوپانامالیکس سے توجہ ہٹانے کی چال کہاجارہاتھاتاہم معاملہ زیادہ بڑھ جانے کے بعدحسین حقانی کے معاملے کو منظرعام سے ہٹانے کیلئے حکومتی سطح پرہونے والی بے ضابطگیوں کوسامنے لانے کافیصلہ ہواہے۔ادھرچیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے حسین حقانی کے بیان کے متعلق تحریک التواء کوبحث کیلئے منظورکرلیاہے۔
یادرہے کہ موصوف پچھلے چاربرسوں سے برطانیہ میں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی بدنام زمانہ ”را”کے مالی تعاون سے چلنے والے تھنک ٹینکس میں باقاعدہ طورپرکئی مرتبہ اپنی خرافات سے وطن عزیزکے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں اورعلاوہ ازیں یہ بات بھی ان سے منسوب ہے کہ پاکستان کے خلاف کھلے عام بدزبانی اورخاکم بدہن توڑنے کیلئے بھارتی برہمن مودی کواپنی مددکیلئے پکارنے والے الطاف حسین کیلئے امریکامیں لابی کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرچکے ہیں۔کیااب وقت نہیں آیاکہ ان تمام ننگ ملت افراد کوپاکستان واپس لاکرقانون کے آہنی شکنجے کے حوالے کیاجائے!

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>