تہذیبی تصادم کی رزم گاہ…. پھول والوں کے مقابل پتھروں کے دیوتا

افغانستان میں دنیاکی ایک سپرپاورسوویت یونین کوافغان مجاہدین کے ہاتھوں ایسی ناقابل یقین شکست ہوئی کہ بالآخراسی کے بطن سے چھ مزیدمسلم ریاستوں کاوجودمعرضِ وجود میں آگیا لیکن افغانوں کی اس عظیم الشان فتح کاسارافائدہ امریکااورمغرب کی جھولی میں جاگراجس کے بعد مشہور زمانہ امریکاکے یہودی سیکرٹری خارجہ ہنری کسینجرکے خفیہ”ورلڈ آرڈر”کابھی انکشاف ہوگیاکہ دنیاپرمکمل حکمرانی کاخواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتاجب تک مسلمانوں کے اندرسے اسلامی ریاست اوراس کے حصول کیلئے جہاد کے تصورکو بزورختم نہیں کردیاجاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے ان مکروہ مقاصدکیلئے حصول کیلئے اس وقت عالم اسلام میں خانہ جنگی کاخونی ماحول جاری وساری ہے۔ امریکااورمغرب اپنے مقاصدمیں پے درپے ناکامیوں میں بری طرح نہ صرف جھنجلاگئے ہیں بلکہ اب امریکاکی طرف سے ننگرہارافغانستان میں سب سے بڑے غیرجوہری بم کے حملے بعدشمالی کوریاکی آڑمیں چین اورروس کو خوفزدہ کرنے کیلئے جہاں کوریائی سمندی خطے میں بین البرالاعظمی ایٹمی میزائل پھینک کرقصرسفیدکے فرعون نے اپنے چہرے سے نقاب اتارپھینکاہے وہاں اسرائیل نے دمشق کے بین الاقوامی ہوئی اڈے کے قریب واقع فوجی اڈے پرحزب اللہ کے اسلحے کے ڈپو کوتباہ کردیاہے۔کیااس وقت دنیابڑی تیزی کے ساتھ پتھرکے دورکی طرف لوٹ رہی ہے؟
ایک لمحے کیلئے فرض کرلیتے ہیں کہ القاعدہ اوردیگراسلامی تنظیموں کی جانب سے امریکااورمغرب کے خلاف جنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے،ہم یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ اسلام کے نام پرگزشتہ عشروں کے دوران کیے جانے والے تمام حملے اسی جنگ کاایک ناگزیرحصہ تھے اوریہ کہ موجوہ تصادم جواب تقریباًپچاس ممالک سے زائدتک پھیل چکاہے اور ہزاروں لاکھوں افرادکی جانیں لے چکاہے جس میں سرفہرست افغانستان،عراق اور”عرب بہار”کے نام پرلیبیا، تیونس میں امریکااوراس کے اتحادیوں کی یکطرفہ جارحیت اورمسلمانوں کی آپس میں باہمی خونریزی (شام)کے واقعات بھی شامل ہیں یہ سب کچھ اس اعلان جہاد کافطری نتیجہ ہے جوان تنظیموں نے شروع کررکھا ہے۔اگر فی الواقع ایسی جنگ جاری ہے تو واقعات اورشواہدکودیکھتے ہوئے دس اسباب اوروجوہ ایسی ہیں جن کی بناءپراسلام اورمسلمانوں کے خلاف امریکااوراس کے تمام اتحادیوں کی طرف سے جاری یہ جنگ کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوپائے گی!یہ اسباب اور وجوہ درج ذیل ہیں۔
٭سب سے پہلا سبب تویہ ہے کہ غیرمسلم دنیاموجودہ واقعات کے جوازاورعدم جوازکے حوالے سے باہمی طورپراور سیاسی اعتبارسے بھی مکمل طور پرمنقسم ہے۔ ان میں سے بعض غیرمسلم ممالک توایسے ہیں جنہوں نے ایسی کسی بھی جنگ کے وجود کوتسلیم کرنے سے یکسرانکارکردیاہے چنانچہ ان کے خیال میں ایسی کوئی جنگ کہیں بھی لڑی نہیں جارہی اوروہ اس بنیادپراسے مستردکرتے ہیں جبکہ ان کے برعکس چند ممالک اوراقوام سابق جو امریکی صدرجارج بش کے ہمنواہوگئے تھے کہ جوجنگ ہم لڑرہے ہیں وہ اکیسویں صدی کی ایک فیصلہ کن نظریاتی جنگ ہےچنانچہ ان منقسم اور متضادآراءاور خیالات نے اس معاملے کومذاکرات مکالمے اورگفت وشنید سے لیکرجوہری ہتھیاروں تک کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پرزور دیااورپبلک ڈپلومیسی سے لیکر مسلمانوں کے اہم ترین مقامات پرقبضے کامشورہ بھی دیاجن میں مکہ کامقدس شہربھی شامل ہے۔ اس اختلافِ رائے نے ان دوطرح کے طبقات کے مابین مسئلے کوحل کرنے کی غرض سے بھی ایک وسیع خلیج پیدا کررکھی ہے چنانچہ ایک طبقے کاخیال ہے کہ اس جنگ کو براہ راست مخالف جنگجوگروپوں تک لے جاناصحیح ہوگاجبکہ دوسراگروہ اس خیال کامخالف ہے۔اس کاکہناہے کہ ایسی کسی بھی جنگ کاخواہ وہ داخلی شہری آزادیوں کے حوالے سے لڑی جائے یاپھرحریفانہ جیوپولیٹکل اندازوں کے پیش نظرجاری رکھی جائے،ہردوصورتوں میں ایسی کسی بھی جنگ کابظاہرکوئی جوازاورفائدہ نظرنہیں آتا۔
٭ دوسراسبب یہ ہے کہ واقعات اورشواہدکے پیش نظراسلام کوکس بھی قیمت پر شکست سے دوچارنہیں کیاجاسکتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی عالمی برادری اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی مجموعی قوت، طاقت اور استطاعت کا ابھی پوری طرح سے کوئی اندازہ نہیں لگایا گیا۔ اس کے برعکس اس کی اہمیت کوگھٹاکردیکھااورپیش کیاجارہاہے۔اسلام کی نوعیت فطرت اورسرشت کو ٹھیک طورسے سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ نہ ہی یہ امن کامذہب ہے نہ اس مذہب کوکسی نے ہائی جیک کیاہے اورنہ ہی بعض لوگ اسے اپنے محض اغراض ومقاصد اورمفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس اس مذہب کااخلاقی نظام جہادی اخلاقیات اورکسی بھی غیراسلامی نظام اقدارکے ساتھ عدم اشتراک کا رویہ آپس میں مل کراس مذہب کی تعریف کاتعین کرتے ہیں اورقرآن مجید میں بھی اس کا جوازموجود ہے۔ آپ روایتی اصطلاحات کااستعمال کرتے ہوئے اسلام کو محض ایک مذہب بھی قرارنہیں دے سکتے یہ ایک ماورائے قوم سیاسی اور اخلاقی تحریک ہے جس کے مطابق بنی نوع انسان کے تمام مسائل کا کافی اورشافی حل اس کے پاس موجودہے چنانچہ اسلام کی روسے یہ بات خود انسانیت اوربنی نوع انسان کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے اندر اسلام کی حکمرانی کے تحت اپنی زندگی بسرکریں اس طرح مغرب کی جانب سے مسلمان ممالک میں مغربی جمہوریت کی بحالی اورفروغ کاتصور محض مہمل اوربے معنی ہوکررہ جاتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کاتصور اسلامی تعلیمات کے تناظر میں قطعی طورپرناقابلِ تسلیم ہے۔ اس کاثبوت خود اسلامی تاریخ میں بھی موجودہے۔اسی طرح اسلامی تحریک کے فوجی اور سیاسی بازوؤں کو بھی ایک دوسرے سے علیحدہ اورالگ کرنے کاتصوربھی خاصامضحکہ خیزنظرآتاہے۔اس حوالے سے امریکی وزیردفاع ڈونلڈرمسفلیڈ کایہ بیان احمقانہ تھاکہ عراق میں لڑنے والے باغی مسلمان کسی بھی وژن سے محروم ہیں اسی لیے وہ شکست خوردہ ہیں۔اس جنگ میں اگرواقعی اسے جنگ کہا جا سکتا تھا تو اس میں حقیقی شکست ان لوگوں کوہوئی جواس جنگ کو چھیڑنے کے ذمہ دارتھے۔
٭اسلام کے مغرب کے مقابل ناقابل شکست ہونے کاتیسرا سبب یہ ہے کہ مغربی قیادت کی سطح جتنی بلندہونی چاہیے تھی اس قدر بلندنہیں۔ اس کے برعکس اس کی سطح بہت نیچی ہے بالخصوص موجودہ امریکی قیادت پرتو یہ بات بالکل صادق آتی ہے۔ یادکیجیے اسلامی احیااورنشاة الثانیہ کی نصف صدی کے دوران سفارتی سیاسی اورعسکری اعتبارسے اسلامی حکومتیں اپنے عروج پرتھیں،اس کے برعکس موجودہ امریکی حکومت اورانتظامیہ کے پاس کوئی اسٹرٹیجک سمت موجودنہیں ہے نہ ہی اس کے جنگی منصوبے کسی مشترکہ غوروخوض کے نتیجے میں جنگی ضروریات کو دیکھ کربنائے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے مقاصد کی وضاحت کیلئےاس کے پاس موزوں اورمناسب زبان اورذریعہ اظہاربھی موجود نہیں ہے!یہاں مشہور فلسفی اینڈمنڈ برک کایہ قول یادآرہا ہے۔ مارچ ۱۷۷۵ء میں اس نے کہا تھا”ایک عظیم الشان سلطنت اور چھوٹے دماغ ایک دوسرے کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے” چنانچہ اسلام کے خلاف اس جنگ میں اگرواقعی اسے جنگ کہاجاسکے،مجھے برک کایہ قول سچ ہوتادکھائی دے رہا ہے کہ ایک عظیم الشان سلطنت چھوٹے دماغوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکے گی۔
٭ چوتھا سبب مغربی پالیسیوں کاایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہوناہے۔ان پالیسیوں کی انانیت کی کشمکش کوعجلت کے نتیجے میں ان افراد نے تیارکیا
ہے جواسلام کے حوالے سے نہایت اشتعال انگیزروّیوں کے حامل ہیں۔ ان لوگوں میں اسلام سے خوفزدہ افرادبھی شامل ہیں جواسلام کے نام پریہ پالیسیاں وضع کررہے ہیں۔ اس محاذجنگ کوبھی یہ پالیسی سازافراد اپنی ذات کے فروغ کی غرض سے استعمال کررہے ہیں اوران میں سے بیشترکاخیال ہے کہ ان کی آراءاورخیالات بے حد اہمیت کے حامل ہیں بہ نسبت ان مسائل کے جن کے بارے میں وہ یہ پالیسیاں وضع کررہے ہیں۔ چنانچہ یہ اسی بدحواسی اورخودپرستی کانتیجہ ہے کہ مغربی پالیسیاں کسی مستقل اورباقاعدہ نوعیت سے محروم اورناکام ہیں۔
٭پانچواں سبب ترقی پسند حلقوں کے ذہن میں موجودوہ کنفیوژن ہے جس کاتعلق اسلام کی ترقی فروغ اورپیش رفت کے حوالے سے ہے۔ کمیونزم سوشلزم اور سوویت روس کے زوال کے بعدیہ ترقی پسند افراداپنی بنیادی اوراصل شناخت سے محروم ہوچکے ہیں لیکن رسی جل جانے کے بعدان کے بل نہیں گئے چنانچہ وہ آج بھی نوآبادیاتی نظام کے مخالفانہ مؤقف پر ہی انحصار کرنے پرمجبورہیں۔بہرطورمغرب کے ان مسائل کو بھی اس کے نوآبادیاتی ماضی کاایک لازمی نتیجہ قراردیناایساکچھ غلط بھی نہیں ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسلامی احیااورنشاة الثانیہ کی اندرونی قوت اور داخلی طاقت کوبھی نہ سمجھنا ایک زبردست غلطی ہوگی۔یہ طاقت اورقوت نوآبادیاتی نظام کا شکاررہنے کے نتیجے میں نہیں پیداہوئی بلکہ اس کا تمام تر انحصاراپنے عقیدے کی بڑھتی ہوئی قوت اوراپنے عقائدکے نظام کی حقانیت پرہے۔مزیدبرآں یہ بات بھی اسلام کے حق میں جاتی ہے کہ آج کے بیشتر ترقی پسندوں کے پاس بھی روایتی طورپراسلام کے رجعت پسندانہ اورفرسودہ تصورات کے بارے میں کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے نہ ہی وہ اپنے مخالفین کے سلسلے میں اسلام کے مظالم کاذکرکرتے ہیں نہ ہی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کاکوئی تذکرہ ان کی زبانوں پرآتاہے۔یہودیوں اورہم جنس پرستوں سے اس کی شدیدنفرت پربھی اب کوئی تبصرہ نہیں کیاجاتا جن کے خلاف اسلام میں پورامنصفانہ جوازموجودہے۔Islam1
٭ اسلام کی روزافزوں بڑھتی ہوئی قوت اورطاقت کاایک اہم سبب ان غیرمسلموں کاپراسراررویہ اوراظہارِاطمینان ہے جن کاتعلق امریکاکی پسپائی سے بتایاجاتا ہے چنانچہ ایسے غیرمسلم جواس قسم کے اطمینان کااظہارکررہے ہیں درحقیقت ٹروجن گھوڑے ہیں جن کی تعدادروزبروزبڑھتی جارہی ہے۔ان میں بعض اس اصول پرعمل پیراہیں کہ دشمن کادشمن دوست ہوتاہے جبکہ دیگرکاخیال یہ ہے کہ وہ اسلام کے خلاف مغرب کی اس جنگ میں کسی بھی صورت میں مغرب کی حمایت نہیں کریں گے،وہ سمجھتے ہیں کہ ان کافیصلہ بالکل درست اورصحیح ہے۔ تاہم ان تمام حقائق کے باوجودنتائج ان سب کے لیے یکساں ہی ہیں۔ اسلام کی پیشرفت کے نتائج کویہ دونوں طبقات یکساں طورپربھگتنے کیلئے مجبور ہیں۔
٭ساتواں سبب مغرب کی اخلاقی غربت اوراخلاقی اقدارکے مجموعی نظام کے افلاس میں مضمرہے بالخصوص امریکا کا اخلاقی نظامِ اقدارزوال اورتباہی کی حدوں کوچھورہاہے چنانچہ آزاد منڈی کی معیشت آزادانہ انتخاب تجارتی مقابلہ اور کاروباری مسابقت کووہاں آزادی اورلبرٹی کانیانام دیاگیا ہے۔ ان چیزوں کا اسلام اوراس شریعت سے قطعاًکوئی مقابلہ نہیں کیاجاسکتا خواہ آپ اسے پسند کریں یانہ کریں۔اسلام کے اخلاقی نظامِ اقدارمیں ایسی چیزوں کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ تعجب خیزواقعہ تویہ ہے کہ دلوں اوردماغوں کے نام پرجوجنگ لڑی جارہی ہے اسی کے دوران امریکاکی پہلی کیولری ڈویژن نے آدم اسمتھ آپریشن کاآغازکرتے ہوئے عراق جیسے جنگ زدہ ملک کوتجارتی اورکاروباری مارکیٹنگ کے اسرارورموزسکھانا شروع توکردیئے مگران حالات اورحقائق کی روشنی میں کم ازکم امریکاکوتووہاں کامیابی اورفتح حاصل نہیں ہوسکی۔ یہاں مجھے شیخ محمد الطباطبائی کے وہ الفاظ یادآرہے ہیں جوانہوں نے مئی٢٠٠٣ء میں بغدادکی ایک مسجد کے نمازیوں سے خطاب کے دوران کہےتھے:
“مغرب ہمیشہ آزادی اورخودمختاری کی دہائی دیتارہتاہے۔ اسلام ایسی کسی آزادی کوتسلیم نہیں کرتا۔ اصل آزادی اللہ تعالی کی عبادت اوراطاعت ہی میں مضمر ہے”۔
٭آٹھواں سبب اسلام کے ناقابل شکست ہونے کایہ ہے کہ اس کی موجودہ پیش رفت ترقی اورآگے ہی آگے بڑھتے رہنے کی رفتاراسی طرح بدستور جاری رہے گی کیونکہ اس غرض اورمقصد سے دستیاب ذرائع ابلاغ کوبڑی خوبی اور مہارت کے ساتھ استعمال کیاجارہا ہے۔اس کے علاوہ اسلامی ویب سائٹ کے ذریعے الیکٹرانک جہادکے فروغ کے علاوہ مغربی نظریات کے پرچار کی مسلمان علماءاوراسکالرزکی جانب سے شدیدمخالفت بھی جاری ہے۔آپ اسے در پردہ ایک سیاسی شراکتی معاہدہ بھی کہہ سکتے ہیں جومسلمانوں اورغیرمسلموں کے مابین اسلام کے عالمی نقطہ نظرکی پہنچ کو وسیع تر کرنے کی غرض سے عمل میں آچکاہے۔ اس سلسلے میں مغرب کے پروڈیوسرزاور براڈ کاسٹرزکی جانب سے الجزیرہ ٹی وی چینل کوفراہم کی جانے والی مدد کا تذکرہ بطورحوالہ پیش کیاجاسکتاہے۔
٭ نواں سبب جواسلام کی مزید پیش رفت کاضامن ہے وہ ہے مسلم ممالک اور عربوں کے مادی اورمعدنی ذرائع اور وسائل پرامریکا کا کلی انحصار!یاد رہے کہ اپریل ۱۹۱۷ء میں سابق امریکی صدر روڈوولسن نے امریکی کانگریس کویہ مشورہ دیا تھا کہ وہ جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کردے جس کے بارے میں وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ یہ جنگ چھیڑنے میں ہمارا کوئی ذاتی مفاداورمقصد پوشیدہ نہیں ہے۔ اس وقت تواس نوعیت کااعلان جنگ ممکن بھی تھا لیکن آج کی تبدیل شدہ صورتحال اس بات کی ہرگزاجازت نہیں دے گی کیونکہ امریکاکی صارفانہ احتیاج اورمختلف شعبوں میں کیے جانے والے معاشی اوراقتصادی نوعیت کے اقدامات اورضروریات لامتناہی حد تک بڑھ چکی ہیں جن کیلئےاسے مسلم اور عرب ممالک کے ذرائع اوروسائل پرکلی انحصارکرنا پڑتاہے چنانچہ آج کے امریکاکامکمل انحصارمشرقِ وسطیٰ میں موجودتیل کے کنوؤں سے برآمدہونے والے تیل کے ایک ایک بیرل تک ہی محدودہوکررہ گیا ہے اورمستقبل میں بھی یہ صورتحال جوں کی توں رہے گی چنانچہ وہ اس حیثیت میں ایسا کوئی خطرہ مول لینے کیلئےتیارنہیں ہوگا۔
٭ آخرمیں مغرب کواس بات کاپورایقین ہوچلا ہے کہ ٹیکنالوجی پرمبنی مغربی معاشرے کاجدید ترین لائف اسٹائل اور منڈی کی معیشت پرمبنی اس کی اقتصادی ترقی اورپیش رفت بالآخرپسماندہ اورقدامت پرست اسلام کے تصورات کی بہ نسبت زیادہ ترقی یافتہ اعلیٰ اوربرترہے، یہ بھی مغرب کی ایک پرانی غلط فہمی یاخوش فہمی ہے۔ ۱۸۹۹ء میں سابق برطانوی وزیراعظم سرونسٹن چرچل نے اس خیال کااظہارکیاتھاکہ پوری دنیا میں اسلام سے زیادہ رجعت پسندی کسی بھی مذہبی نظریے میں موجود نہیں ہے۔ بہرطورایک صدی کاعرصہ گزرنے کے بعد آج امریکااورمغرب کواس بات پر پختہ یقین ہے کہ جدید ترین ہارڈ ویئراسلحہ اور اسٹاروارکے دفاعی حربے ان کواس جنگ میں فتح سے ہمکنار کردیں گے لیکن یہ اس صدی کی سب سے بڑی خوش فہمی یاغلط فہمی ہوگی۔
جون ۲۰۰۴ء میں سعودی عرب کے مشہور اسکالر سلیمان العمر نے یہ اعلان کیا تھاکہ اسلام ایک خاص منصوبے کے تحت رفتہ رفتہ پیش رفت کر رہا ہے جوایک دن مغرب اورامریکاکی مکمل شکست وریخت اورتباہی وبربادی کاباعث بن جائے گا۔ آج جوحقائق اورصورتحال ہمیں نظر آرہی ہے اور اسلام کو شکست نہ ہونے کے جو دس اسباب بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں سعودی اسکالر سلیمان العمر کادعویٰ بالکل صحیح اوردرست معلوم ہوتاہے۔ اس کیلئے اب انتہائی ضروری ہو گیاہے کہ عالم اسلام کے ساتھ فوری بہترتعلقات بنانے میں امریکااورمغرب کوپہل کرنے میں تاخیرنہیں کرناچاہئے اوران پر ہونے والے مظالم کاخاتمہ کرنے کیلئے ان کے دیرینہ مسائل (فلسطین اورکشمیر) کےمنصفانہ حل میں مزیدتاخیرنہ روا رکھی جائے۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>