Modi25

”اب تیراکیابنے گامودی کالیا”

ایک طرف چین،امریکا،برطانیہ اورجرمنی افغان امن مذاکرات کیلئے پیداشدہ تعطل ختم کرنے اوراعلیٰ سطح کے روابط بحال کرانے میں سرگرم ہیں لیکن دوسری طرف افغان مصالحتی عمل کوسبوتاژکرنے کیلئے افغانستان کے نائب صدراورجنبش ملی کے سربراہ جنرل دوستم افغان حکومت اورطالبان مذاکرات میں ایک رکاوٹ بن گئے ہیں۔ایک طرف افغان حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے دن رات کوششوں میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف افگان نائب صدرجنرل دوستم دشمنی کی روایات اپناتے ہوئے طالبان کے ساتھ لڑائیوں میں مصروف ہے۔طالبان نے قبائلی مذاکرات کاروں واضح کیاہے کہ ایک طرف افغان حکومت پاکستان،ایران،چین ،سعودی عرب،امریکا،برطانیہ اورجرمنی سمیت طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کررہے ہیں اور دوسری طرف جنرل دوستم طالبان کے خلاف نہ صرف اسلحہ تقسیم کررہاہے بلکہ طالبان کے خلاف خودبھی دشمن کاروائیوں میں حصہ لے رہاہے،مذاکرات اورجنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،اگردوستم مذاکرات کی بجائے دوسراراستہ اختیار کرناچاہتاہے تواسے یادرکھناچاہئے کہ وہ امریکااوراس کے اتحادیوں سے زیادہ طاقتورنہیں۔
طالبان نے گزشتہ دنوں کلیم جم ملیشیاء کے ٢٥سے زائداغواء شدہ اہلکاروں کوہلاک کردیاہے جس کے بعدسے طالبان اور دوستم کے درمیان فاریاب میں وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔طالبان نے دوستم کوقابوکرنے کیلئے حکمت عملی وضع کرلی ہے اورافغان صدرکوصاف طورپربتادیاہے کہ جب تک دوستم کایہ رویہ ہے ،مذاکرات نہیں ہوسکتے،جس پرافغان حکومت نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ برطرف کرنے پرغورشروع کردیاہے تاہم ابھی تک افغان حکومت دوستم کوبرطرف کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔دوستم کی وجہ سے طالبان اور افغان حکومت مذاکرات میں خلیج حائل ہوگئی ہے جسے دور کرنے کیلئے افغان حکومت نے طالبان سے وقت مانگاہے۔
افغانستان کوجنوب مشرقی صوبہ ہلمندکادفاعی اہمیت کاحامل ضلع موسیٰ قلعہ افغان حکومت کے ہاتھوں سے نکل رہاہے۔ تازہ لڑائی میں ١٨پولیس اہلکارہلاک اورمتعددزخمی ہوگئے ہیں جبکہ طالبان نے ٧٠فیصدسے زائدعلاقے پراپناقبضہ مضبوط کرلیا ہے۔طالبان کاقبضہ چھڑانے کیلئے گزشتہ روزکابل سے افغان فوجی موسیٰ قلعہ کامحاصرہ ختم کرانے کیلئے ہلمند جا رہے ہیں لیکن ہلمندمیں افغان فوج کے دواہلکاروں کی جانب سے امریکی فوجیوں کوفائرنگ کرکے ہلاک کرنے کے واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑدی ہے اوراب افغان فوج کیلئے نئی مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں۔ان اطلاعات کے بعدکہ افغان فوجیوں کی وردی میں امریکی لڑرہے ہیں،طالبان نے قبائلیوں کے ساتھ مذاکرات معطل کردیئے ہیں جوفوج کوعلاقے سے نکالنے کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے کابل شہرسے کابل ایئرپورٹ تک سڑکوں کی نگرانی اورفوج کی تعیناتی کومستردکردیا ہے۔ افغان حکومت نے امریکی حکام سے یہ اپیل کی تھی کہ شہر سے کابل ایئرپورٹ تک سی آئی اے اورامریکی ایجنسیوں کے ان پرائیویٹ کنٹریکٹرزکوجوگزشتہ ١٤سالوں سے جاسوسی،افغان قیدیوں سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ان کی تفتیش اورتشدد پرمامورتھے،انہیں کابل ایئرپورٹ سے امریکابھجوانے میں مشکلات درپیش ہیں،اس لئے کابل ایئرپورٹ کی جانب جانے والے تمام راستوں پرامریکی فوج کو تعینات کیا جائے ۔
گزشتہ ٤٥دنوں میں سی آئی اے کے اہلکاروں پرچاربڑے خوفناک حملے ہو چکے ہیں جس میں سی آئی اے کے اعلیٰ کنٹریکٹرزمارے جاچکے ہیں اس لئے ان پرائیویٹ کنٹریکٹرزکوبگرام ایئرپورٹ سے بیرونِ ملک بھجواناممکن نہیں کیونکہ وہ پینٹاگون کی نگرانی میں ہیں جبکہ سی آئی اے سویلین حکومت کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔امریکی حکام نے کہا ہے کہ اگروہ اپنے فوجی تعینات کرتے ہیں توان پربھی حملے ہوں گے ،اس لئے افغان پولیس اورفوج سی آئی اے کے کنٹریکٹرزکو افغانستان سے باہرنکالنے میں ان کی مددکرے تاہم چاروں مرتبہ مزاحمت کاروں کوہی کامیابی ملی ہے اورگزشتہ دنوں بھی سی آئی اے کے انتہائی ماہراورقیمتی چار کنٹریکٹرزہلاک ہوگئے تھے۔
موسیٰ قلعہ پرطالبان کے قبضے کے بعدنہ صرف یہ کہ انہوں نے اپنی دھاک بٹھادی ہے بلکہ افغان حکومت اورپوری دنیاپر واضح کردیاہے کہ افغانستان میں طالبان ایک بڑی قوت ہیں اوران کی قوت دن بدن مزید بڑھ رہی ہے۔دوسری جانب طالبان کی طرف سے ملاعمر کی وفات کودو سال تک چھپانے کی وضاحت بھی سامنے آئی ہے اوراس وضاحت نے طالبان کے اندراپنی قوت کویکجاکرنے اوراپنے اندراختلافات پرقابو پانے کوواضح کردیاہے کہ طالبان نے اپنے اختلافات پرقابوپانے کے بعداب نہ صرف اس کی تصدیق کردی ہے بلکہ اپنے امیرکی موت کوکیوں چھپایا گیاتھااس کی بھی انہوں نے وضاحت کردی ہے۔پچھلے ہفتے طالبان کی جانب سے چھ زبانوں میںاپنے نئے امیرکاتعارف جاری کیا گیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ رہبرشوریٰ اوراہم قائدین کو ملاعمرکی وفات کاعلم تھالیکن یہ خبرمصلحتاًخفیہ رکھی گئی تھی ۔
طالبان کے مطابق ٢٣اپریل ٢٠١٣ء کوجب ملاعمرکاانتقال ہواتو رہبری سوریٰ کے کئی ارکان،علمائے کرام،گزشتہ ١٤سال کے دوران ملاعمرکے ساتھ رہنے والے ،ان کے خصوصی قاصدوں اوران کے دائمی دوستوں،سب نے ملااختر منصورکے ہاتھ پر بیعت کی اورانہیں امیرمتعین کیا۔طالبان کاکہناہے کہ رہبری شوریٰ ،اہم قیادت ،چندشیوخ اورعلمائے کرام نے اس وقت فیصلہ کیاتھا کہ مصلحت کاتقاضہ یہی ہے کہ ملاعمرکی وفات کی خبرشوریٰ اوراہم قائدین تک محدودرکھی جائے۔ملااخترمنصورکا تفصیلی تعارف جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منتخب امیرنے عملی طورپرقیادت کے معاملات ملاعمر کی زندگی میں ہی سنبھالنا شروع کردیئے تھے ۔نئے امیر اپنی تمامتر عسکری اورانتظامی مصروفیات کے ساتھ ساتھ میڈیاپرگہری نظررکھتے ہیں۔عسکری فرنٹ پروہ محاذوں اورعسکری ذمہ داران سے ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں۔ دشمن پرہونے والے حملوں کے منصوبے بھی وہ خود دیکھتے ہیں۔جاری شدہ تعارف کے مطابق ملامنصور،الحاج محمدجان کے بیٹے قندھارکے ضلع میوندکے گاؤں تیمورمیں ١٩٦٨ء میں پیداہوئے۔ان کے والد نے ان کوسات سال کی عمر میں اپنے ہی علاقے کے ایک مدرسے میں داخل کرادیا ،جس کے بعداعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انہوں نے مشہورمدارس کارخ کیا۔اسی دوران افغانستان کاسیاسی اقتدارکیمونسٹوں کے ہاتھ چلاگیااور افغانستان کے مجاہدعوام نے ان کے خلاف اسلامی تحریک کاآغاز کیا۔سوویت جارحیت کے درمیانے ادوارمیں ملااخترمنصورنے اپنی دینی تعلیم ادھوری چھوڑدی،بعدازاں انہوں نے مستقل طورپرمیدان جنگ کاانتخاب کیا،اس وقت ان کی عمربیس سال تھی۔انہوں نے ١٩٨٥ء میںجنگی کاروائی کیلئے قندھارکے مشہورکمانڈرعزیزاللہ کے محاذ سے اپنی عسکری زندگی کاآغازکیا۔بعدمیں انہیں مولوی محمدیونس خالص کی تنظیم حزبِ اسلامی میں ذمہ داری دی گئی۔طالبان کے نئے امیر کے اس تعارف کے بعدیہ بات سامنے آرہی ہے کہ طالبان اوران کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔Modi25
ادھرجنرل راحیل شریف کی جانب سے علیحدگی پسندبلوچ قوم پرستوں کوقومی دھارے میں لانے کیلئے کئے گئے اقدامات کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فراری کمانڈرہتھیارڈال رہے ہیں جس سے بھارت کی علیحدگی پسند بلوچوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی ہے ۔بلوچستان میں بھارت کے اہم مہرے بھی اس کے ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں،اس صورتحال نے بھارت کوسخت پریشان کردیاہے۔کابل میں موجودذرائع کے مطابق براہمداخ بگٹی نے بھارت کے منصوبے کومکمل طورپر مستردکرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔بھارت کو اصل تکلیف بلوچستان میں اہم کمانڈروں کی جانب سے ہتھیارڈالنے پرہے۔براہمداخ کے جن ساتھیوں نے ہتھیارڈالے ہیں انہوں نے براہمداخ کوبتایاکہ ان کے ساتھ سیکورٹی اداروں کارویہ انتہائی دوستانہ ہے اوروہ اب پاکستانی ہونے پرفخرمحسوس کررہے ہیں۔حکومت کے ساتھ اس بے مقصدجنگ نے توان کے بچوں کامستقبل بھی تاریک کردیاتھالہنداوہ اب اس کھیل کاقطعاًحصہ نہیں بنیں گے۔
دوسری طرف پاکستان کے خلاف شدیدالزامات ،سخت وناروازبان استعمال کئے جانے کے باوجودپاکستان کی طرف سے صبر و تحمل کامظاہرہ کرنے،پاکستانی چوکیوں پرحملوں کے بعدجوابی کاروائی نہ کرنے،افغان سفارتکاروں کوپاکستان میں مکمل پروٹوکول دینے کے ساتھ ساتھ افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات آگے بڑھانے پربھی بھارت سخت پریشان ہے جس کی بناء پرپاک افغان تعلقات اورافغان طالبان مصالحتی عمل کوسبوتاژکرنے کیلئے پاکستانی سفارتی عملے کواغواء اوران پر حملوں کی منصوبہ بندی کی سازش کاانکشاف ہواہے جس کیلئے کابل میں بھارتی”را”کے ایجنٹ افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے بھیس میں پاکستانی سفارتی عملے کاپیچھاکررہے ہیں جس کی بناء پرپاکستانی سفارتی عملے نے سفارت خانے کے کمپاؤنڈمیں رہائش اختیارکر لی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی سفارتکاروں کے ممکنہ اغواء کے خدشے کے بعدقائم مقام افغان وزیردفاع معصوم استنگزئی نے نہ صرف پاکستانی سفارتی عملے کے تحفظ کی ہدایات جاری کردی ہیں۔اپنے بیان میں یہ بھی کہاہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات فوری طوراٹھانے کاعمل بھی شروع کردیاگیاہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تیاری مکمل کرچکے ہیں ۔اسی طرح احمدضیاء مسعودکی جانب سے جہادی شوریٰ کے قیام اوراس کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کی حمائت پربھی بھارت کی تشویش میں مزیداضافہ ہوگیاہے۔
بھارت کی یہ ایک واحدامیدتھی کہ وہ افغانستان سے بلوچ فراریوں کوبھیج کرپاک چائنااقتصادی کوریڈورپراجیکٹ کوناکام بنائے گا لیکن اب یہ سازش بھی دم توڑگئی ہے،اسی لئے آخری وارکے طورپراس نے کابل میں پاکستانی سفاتکاروں کواغواء کرنے کامنصوبہ بنایاتھا۔ادھرچائناکی انٹیلی جنس نے پاک بھارت کے مستقبل کاایک نقشہ جاری کیاہے جس میں بھارت کودرجن سے زائدچھوٹی ریاستوں میں تقسیم جبکہ موجودہ پاکستان کودگنابڑادکھایاگیاے جس میں کشمیرکے علاوہ دیگرعلاقےبھی شامل دکھائے گئے ہیں۔ان حالات میں یہی کہاجاسکتاہے کہ’’اب تیراکیابنے گامودی کالیا‘‘۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

ایک تبصرہ

  1. سمیع اللہ ملک

    بہت خوبصورت اورجاندارتجزیہ……مزاآگیا

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>