Modi21

کب ہوش آئے گی؟

ضربِ عضب آپریشن شروع ہونے کے بعدپہلی مرتبہ دس دنوں میں نو دہشتگردی کے حملوں نے ساری قوم کوایک مرتبہ پھرہلا کررکھ دیاہے اوردشمن قوتوں نے اس مرتبہ ملک کے تمام صوبوں میں ننگی جارحیت کاارتکاب کرتے ہوئے ڈیڑھ سوسے زائدمعصوم شہریوںکوشہیداورسینکڑوں کوزخمی کردیاہے ۔ان اندہناک حملوں کاآغازپاکستان کے دل لاہورمیں خون کی ہولی کھیلتے ہوئے پولیس کے دواعلیٰ آفیسرڈی آئی جی ٹریفک احمد متین اورایس ایس آپریشن زاہدگوندل سمیت متعددپولیس اہلکاروں کی جان لے لی۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں بیٹھے ہوئے احرارنامی جماعت کے خوارجی درندوں نے اپنے بیرونی آقاؤں اور اپنے پاکستانی سہولت کاروں کی مددسے افغان خودکش حملوں کوبھیج کر یہ ناپاک کاروائی سرانجام دی ہے۔یادرہے کہ ان درندوں کی ویب سائٹ ملک دشمن بھارت سے چلائی جارہی ہے اوراسی سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ان کی ڈور کہاں سے ہلتی ہے۔دہشتگردی کے ان واقعات کے بعدفوری طورپرسارے ملک میں ضربِ عضب کے ساتھ ساتھ ”ردّ الفساد”آپریشن بھی شروع کردیاگیاہے جس نے ابتدائی دنوں میں ہی افغانستان کے اندرسرجیکل حملے کے بعددہشتگردوں کے درجن سے زائدٹھکانوں اورسوسے زائددہشتگردوں کوجہنم واصل کردیاہے جس میں لاہوردہشتگردی واقعے کے ماسٹرمائنڈ اوربراہِ راست بھارتی سہولت کاربھی مارے گئے ہیں۔
لاہورکے اہم ترین چوراہے چیئرنگ کراس،جس کی ایک جانب صوبائی اسمبلی کی قدیم عمارت ایستادہ ہے جہاں نئے نئے قوانین بنائے اورپرانے ختم کئے جاتے ہیں۔اسی اسمبلی میں بنائے گئے حالیہ قوانین کے خلاف صوبے بھرمیں ہربل سے ادویہ سازی کرنے والے اطباءاورادویات کی خریدوفروخت سے متعلق تاجر حضرات احتجاج کیلئے اسی قانون سازادارے کے سامنے جمع تھے۔اس چوراہے کی ایک جانب عالی شان واپڈااوردوسری جانب الفلاح کی عمارتیں ہیںاوران کے بالمقابل قیام پاکستان سے پہلے کی تعمیرشدہ قدیمی لاہورکی شان،شاہ دین بلڈنگ اوراس کے سامنے تیسری مرتبہ منتخب وزیراعلیٰ کااعزازپانے والے میاں شہباز شریف کاسیکرٹریٹ ہے۔چوراہے کے بیچ میں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس کی یاددلانے والاخوبصورت مینارایستادہ ہے جس کے دامن میں قرآن کریم جلوہ ٔ افروزہے۔اس سے چندقدم دوراربوں روپے کی لاگت سے ایم پی ایزکانیاہاسٹل بھی موجودہے جہاں قوم کے نمائندے بڑی ٹھاٹ سے آرام فرماتے ہیں۔
یہ چوراہالاہورشہرکاانتہائی اہم اورحساس سمجھاجاتاہے کہ اسی چوراہے کے قریب ملک کے انتہائی اہم ترین حساس اداروں کے دفاترسے ذرا پہلے پولیس کے ایک اہم مرکز سے ہلال احمربھی متصل ہے جبکہ دوسری جانب مال روڈپر پنج تارے ہوٹلوں کے درمیان پڑنے والاگورنرہاؤس ہے، شہر کی اسٹاک ایکسچینج اورالحمراہال کے نام سے ثقافتی مرکز بھی ساتھ ساتھ جڑے ہوئے ہیں جن کے برابرمیں عالیشان ایوان اقبال ہے،گویایہ سب اہم عمارتوں کے سبب اس چوک کو لاہورکاقلب کہاجاتاہے جوانتہائی اہمیت کاحامل ہے۔اسی اہم پس منظرکی بناء پر دہشتگردوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے منتخب کیالیکن کیا سب اچانک تھا؟خودصوبائی حکومت کے ذمہ دارلوگ اس حوالے سے ریکارڈپرہیں کہ گورنرہاؤس سے چیئرنگ کراس تک دہشتگردی کے خطرے کاپیشگی علم ہوچکا تھاکہ دہشتگرداس علاقے میں خون کی ہولی کھیلنے کیلئے حملہ آورہوسکتے ہیں۔
حساس اداروں کے ذرائع اس امرکی نشاندہی کرتے ہیںکہ پچھلے بیس پچیس دنوں سے کم ازکم تین مرتبہ خطرے کے الرٹ جاری کئے گئے تاکہ حکومت اور پولیس سیکورٹی کے انتظامات کوبہتربنالیں۔اس دوران مختلف مقامات پرچھاپے بھی مارے گئے ،کئی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں لیکن انہونی کونہ روکاجا سکا۔ حساس اداروں کے ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ ایسے دہشتگردوں کے شہرمیں داخل ہونے اورشہرمیں تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کازیرحراست دہشتگردوں نے دورانِ تفتیش بھی انکشاف کیاتھاجس کے بعداہم مقامات، شخصیات اور عمارات کی سیکورٹی بڑھانے کیلئے الرٹ جاری کیاگیا۔بعدازاں اس الرٹ کے حوالے سے یاددہانی بھی کرائی جاتی رہی لیکن عین مال روڈ پراسمبلی کے سامنے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے قریب مبینہ خودکش حملہ آورنے پولیس افسران کے قریب جاکرخودکوبم سے اڑاکردودرجن افرادکو شہید کردیا۔
آپریشن ضربِ عضب کے باعث دہشتگردوں کاکافی حدتک صفایاہوجانا، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مسلسل جاری کاروائیوں اورنیشنل ایکشن پلان پریکسوئی سے عمل کے دعوؤں کے ہوتے ہوئے لاہورمیں پیشگی اطلاعات کے باوجود ایسی دہشتگردی خودسیکورٹی اداروں کی کارکردگی پرایک بڑاسوال ہے۔بلاشبہ دشمن کے ہاتھوں کھیلنے والے دہشتگردموقع کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن ان سے بھی زیادہ مکاردشمن جس کی پاکستان کے خلاف کھلے عام سازشوں کی ایک مکمل تاریخ ہے،اس سے چشم پوشی کرنا،درگزرکرناحتیٰ کہ خودکوعملاًاس کے رحم وکرم پرآمادہ تیاررہناسمجھ سے بالاترہے۔سی پیک کی وجہ سے بھارت ،اس کے سرپرست اورنئے اتحادی کس کیفیت سے گزررہے ہیں،کیاعزائم رکھتے ہیں اورکس حدتک جانے کوتیارہیں،یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن ہمارے ارباب بست وکشاداس امرسے ایک شعوری غفلت کاارتکاب کرنے سےعاری کیوں ہوتے جارہے ہیں۔
کیاسی پیک کوایک گیم چینجرقراردے دینا،اس کی بنیادپرخطہ ہی نہیں دنیامیں معاشی اورسیاسی حرکیات کے تبدیل ہو جانے کی نویدسنانااورپاکستان پرہن برسنے کے امکانات کی نویدیں سنادیناہی ہمارے ارباب بست وکشادکی ذمہ داری ہے،جن ملکوں کے پیٹ میں مروڑاٹھ رہے ہیں اورامکانی طورپرسی پیک کی وجہ سے پاکستان کے طفیلی بننے والے ہوں گے ان کی زہر ناکیوں کوسمجھتے ہوئے اس کے پیشگی تدارک کی ضرورت اورذمہ داری کااحساس کیاجاناکیا ضروری نہیں ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ سی پیک کواپنی بڑی کامیابی کے طورپر عوامی حمائت کیلئے کیش کرانے کی سعی میں لگی حکومت اوراس کے کار پردازان کم ازکم اس جانب ہرگزمتوجہ نظرنہیں آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ ملک کے اندراس بڑی کامیابی کواپنی کامیابیوں کاطومارباندھنے کیلئے پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں توپاکستان کی اس عظیم کامیابی کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے دیرپابنیادوں پرپاکستان اوراہل پاکستان کیلئے مفید تر بنائے رکھنے کیلئے کسی جامع حکمت عملی کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی چالوں کاتوڑکرنے کیلئے ہمہ پہلوپالیسی یااقدامات پربھی توجہ ہونی چاہئے۔
جس طرح طاقت کے ساتھ ذمہ داری لازم ہے،اسی طرح دولت اورخوشحالی کے ساتھ سمجھ داری کی اہمیت بھی دوچند ہے لیکن عجیب رسم ہے کہ ہمارے بڑے اپنی ذاتی دولت اورمعاشی پالیسیوں کیلئے توسمجھ داری کے درجہ کمال کوچھو لینے کی کوشش میں رہتے ہیں لیکن اجتماعی اورملکی دولت وسائل کی نگہداشت ،دیکھ بھال اورپرداخت کااہتمام کاملہ یکسوئی سے عاری ہے۔اللہ کی طرف سے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالامال کئے جانے کاشکراپنی جگہ لیکن ان وسائل کومحض اپنی کامیابیوں کی فہرست طویل کرنے کیلئے اس طرح بیان کرناکہ دشمن وقت سے پہلے ہوشیارہوجائے اورہم دشمن کی چالوںکاتوڑکرنے میں بہت پیچھے رہ جائیں ،یہ مناسب حکمت عملی نہیں ہوسکتی۔اس معاملے میں بھارت اوراس کے سرپرستوں کودکھی کرنے یاردّ ِعمل کی طرف مائل کرنے میں ہماری اس طرح کی نالائقیوں کابھی عمل دخل ہے۔بعض حلقے تویہ بھی کہتے ہیں کہ حکومتیں ریاستی کامیابیوں کومحض اپنی سیاسی وانتخابی کامیابیوں کیلئے زینے کے طورپراستعمال کرنے کیلئے سرگرم رہتی ہیں۔وہ عام طورپرریاستی کامیابیوں کواپنے لئے ایندھن کے طورپراستعمال کرتی ہیں جبکہ اپنی کوتاہ کاریوں کو ریاستی ناکامیوں کانام دیتی ہیں جبکہ ریاستی دشمنوں کومیرٹ پردیکھنے کی بجائے اپنے ذاتی نفع ونقصان کے ترازومیں تولتے ہوئے ریاست کے دشمنوں کے ساتھ بھی ذاتی دوستیاں گانٹھنے کی کوشش کرتی ہیں۔اگرچہ واقعات وحالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ معاملہ بھی یکطرفہ ہی رہتاہے۔پاکستان کے دشمنوں کا پاکستان کیلئے کینہ اورغضب میں کوئی کمی نہیں ہوتی جیساکہ بھارت کے مودی کی مثال ہے۔
بھارت پاکستان کوزک پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا،اس مقصدکیلئے آئے روزلائن آف کنٹرول پرپاکستانی فوجیوں کونشانہ بنانااس کا معمول ہو گیاہے ،ورکنگ باؤنڈری سے متصل آبادیوں پرگولہ باری کرکے معصوم بچوں خواتین اوربزرگوں سمیت عام دیہاتیوں پرگولہ باری کرکے ان کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔اسی بنیادپرپاکستان کے دفترخارجہ میں میں درجنوں مرتبہ بھارت کے ہائی کمشنرکوبلاکراحتجاجی مراسلہ بھی دیئے گئے ہیں، اس کے باوجودکہ مودی کی ہمارے وزیراعظم کے ساتھ تعلق داری ہے۔آرمی چیف نے عہدہ سنبھالتے ہوئے پوری قوم کویہ مژدہ سنایاتھاکہ لائن آف کنٹرول پرحالات میں بہتری آجائے گی،بہرحال بھارت اوراس کے نیتا پاکستان کونقصان پہنچانے کیلئے شب و روز اپنی بدترین حرکات سے بازنہیں آرہے۔
ادھرپاکستان نے پی ایس ایل کے نام سے دوسرے ملکوں کے کرکٹرزکوپاکستان کے ساتھ انگیج کرنے کی کوشش کی اور پی ایس ایل کافائنل لاہور میں کرانے کا اعلان کیا،اُدھر بھارت نے اپنے زرخریددہشتگردوں کولاہورمیں دہشتگردی کیلئے متحرک کردیاکہ دنیاکوباورکرایاجاسکے کہ پاکستان میں ابھی امن قائم نہیں ہوسکا ہے ۔بلا خوف وتردیدکہا جا سکتاہے کہ لاہورمیں دہشتگردوں کی طرف سے۱۳ فروری کی شام کوکھیلی جانے والی خون کی ہولی بلاشبہ جہاںپی ایس ایل پروار ہے وہاں پاکستان نیوی کی پہلی مرتبہ تیس ممالک کی نیوی کے ساتھ مشترکہ مشقوں پراپنی خباثت کاکھلااظہارہے۔ دراصل بھارتی متعصب ہندونہیں چاہتے کہ لاہورمیں امن کاتاثرہواورغیرملکی کرکٹرزیہاں آ کرکھیلیں جس سے دوسرے ملکوں کی ٹیموں کیلئے پاکستان آکرکھیلنے کاجوازمہیاہوسکے۔
پورے پاکستان کوبدامنی کی لپیٹ میں ظاہرکرناایک جانب سی پیک منصوبے کی پیش رفت کوسست کرنے اوردوسری جانب عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے روکنابھی اس کیلئے انتہائی اہم ہے۔ بنیادی طور پریہ ایک معاشی جنگ ہے۔بلاشبہ سی پیک کی بدولت پاکستان عالمی تجارت کے اہم مرکزکے طورپر مانا جائے گا،بھارت اسے کسی صورت قبول کرنے کوتیارنہیں۔ پاکستان میں امن قائم ہونے کی صورت میں بھارت میں غیرملکی سرمایہ کاری بری طرح متاثرہو سکتی ہے لہندابھارت نے اپنے دہشتگردوں کے ذریعے کئی ماہ کی تیاری کے بعدپی ایس ایل کے آغازپرہی لاہورکولہولہو کرنا ضروری سمجھاکہ اسی راستے پاکستان میں جہاں عالمی کرکٹ کوروکنے کی کامیاب ہوسکتی ہے وہاں دنیامیں پاکستان کوایک خطرناک ملک قراردیا جاسکے لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ پاکستان اب تک اپنے سترہزار شہریوں اوراپنے جانبازفوجیوں کی شہادتوں کے باوجودنہ صرف پی ایس ایل کا لاہورہی میں انعقادکروانے کی تیاری مکمل کرچکاہے بلکہ ملک میں آخری بھارتی ایجنٹ کی سرکوبی کیلئے ہمہ وقت آپریشن میں مصروف ہے۔
لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ماضی میں پاکستان میں کرکٹ کونشانہ بنانے کیلئے کی جانے والی دہشتگردی سے ہم نے کیا سبق حاصل کیااورہم کس حدتک اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے چوکس اورہوشیارتھے؟کیالاہورمیں ہزاروں کیمروں سے شہرکی نگرانی کے انتہائی مہنگے منصوبے اورکم ازکم مال روڈپر لگائے گئے دوسو سے زائدکیمروں کے ذریعے نگرانی کا محض فائدہ یہ ہوگاکہ کسی بڑی دہشتگردی کے بعدخودکش حملہ آورکی شناخت میں مددمل سکے؟کیا ان کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کیلئے بنائے گئے کنٹرول رومزمیں ایسے مشکوک عناصرکی تصاویراوران سے متعلقہ دیگرفوٹیج کے آرکائیو موجود ہیں جوایسے مشکوک عناصرکے کیمرے کے سامنے آتے ہی الرٹ کردیں۔کیاان کنٹرول روم میں بیٹھے اہلکار صرف تکنیک کارہیں کہ انہیں کیمروں اور کمپیوٹرزسے متعلق تکنیکی ادراک ہے یاان کی ایسی تربیت اورتجربہ بھی ہے کہ وہ مشکوک عناصرکے تصویری ڈیٹااورچال ڈھال کوازبرکیے ہوئے اور کسی بڑے سانحے سے پہلے کوئی اطلاع دے سکیں کہ اس شناخت کے لوگ فلاں علاقے میں اتنے بجے دیکھے گئے اوران کارخ کس طرف تھا۔ان کے راستے میں سیکورٹی کے نکتہ نظر سے اہم جگہیں کیاہوسکتی ہیں،ایساشائدکچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجودکہ اس طرح کے سیف سٹی منصوبوں کیلئے اربوں کے سی سی ٹی کیمرے خریدے جانے کے منصوبے بروئے کارہیں۔اگران سیف سٹی منصوبوں پرخرچ ہونے والی خطیررقوم دہشتگردوں تک پیشگی رسائی کیلئے مفیدنہیں بنائی جاسکتیں توان کیمروں کی افادیت تحقیقات کیلئے توہوسکتی ہے، انٹیلی جنس اورسیفٹی کیلئے ہرگزنہیں لہندابہترہوگاکہ ان پراٹھنے والے اخراجات کی مدتبدیل کرکے انہیں تحقیقات کے اخراجات میں ظاہرکیاجائے نہ کہ سیف سٹی پروجیکٹس کے کھاتے میں ڈالاجائے۔Modi21
لاہورمیں ہونے والے اس خوفناک مبینہ خودکش دہماکے کے بعدپرامن پنجاب کا دعویٰ بھی بری طرح متاثرہواہے کہ شہرکاایک ایساحصہ جس کی سیکورٹی
کیلئے وسائل کے استعمال میں کبھی بخل کیاگیاہے نہ اس کارسک لیاجاسکتاہے لیکن اس کے باوجوداگرشہرکاقلعہ محفوظ نہیںبنایاجاسکاتوعام لوگوں سے متعلق مقامات کی سیکورٹی کس حال میں ہوگی؟اس سے صوبہ پنجاب میں گورنس کے حوالے سے بھی سوال اٹھنالازم ہے کہ ایک ایسا شعبہ جس کاعوام الناس کی صحت اورزندگی بچانے سے تعلق ہے۔اس شعبے سے وابستہ کیمونٹی کی بات سنی جاسکی نہ اسے مطمئن کیاجاسکا،نوبت ایک بڑے احتجاج تک آن پہنچی جو بالآخرایک بڑے سانحے کاسبب بنی۔یہ بھی اہم بات ہے کہ اتنے الرٹس کے باوجوداس جلوس کوتقریباً پورادن اس اہم چوراہے پرموقع دیاگیااورکوئی حکومتی عہدیداران ہزاروں احتجاجی شہریوں کے ساتھ رابطے میں آیانہ کسی نے کسی کی بات سنی،حدتویہ ہے کہ شہبازشریف جیسے تجربہ کاروزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کی اہم ذمہ داریاں ایک ایسے شخص کوتفویض کررکھی ہیں جس کاکم از کم طب وصحت سے دورکابھی تعلق نہیں۔پنجاب میں محکمہ صحت کے دونوں خواجگان کی جگہ ایسے وزیرکی زیادہ ضرورت وافادیت ہوسکتی ہے جواس شعبے کی نزاکتوں اور ضرورتوں سے اپنی بنیادی تعلیم کی وجہ سے بھی آگاہ ہواورعوامی مسائل کوبھی انسانی بنیادوں پرسمجھنے کاہنررکھتاہو۔محض بعض لوگوں کونوازنے کیلئے صحت عامہ کے شعبے کانگران بنانے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔
پچھلے تین چاربرسوں میں یہ ثابت ہوچکاہے کہ محکمہ صحت کے مسائل حل کرنے کیلئے بہترصلاحیت ،علم اورتجربے کے حامل افرادکارکی ضرورت ہے، اب توالیکشن کی قربت کے باعث اس شعبے پرغیرمعمولی توجہ دینے کی ہدایات بھی اعلیٰ قیادت کی طرف سے آچکی ہیں۔میڈیسن کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی بات قبل از وقت سن اورسمجھ لی جاتی تو معاملہ یقینااحتجاج اورمجمع تک نہ پہنچ پاتا،جسے دشمن نے آسان ہدف سمجھ کراستعمال کیالیکن ایک بات ساری قوم کے معمہ بنی ہوئی ہے کہ قوم کابچہ بچہ اس بات سے آگاہ ہے کہ ان کھلی دہشتگردی کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کاہاتھ ہے اوروہ اس بات کاکھلے عام اعتراف بھی کررہے ہیں لیکن ہمارے وزیراعظم انقرہ میں پریس کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے بھارت سے دوستی اورتجارت کی درخواست کررہے ہیں۔ کیاانہیں اس بات کااحساس ہے کہ ان کے اس بیان کاعوام، ہماری بہادرافواج اور دیگرسیکورٹی ادارے جودن رات اپنی جانوں کی قربانی دیکرملک کادفاع کررہے ہیں ،ان کے مورال پرکیااثرپڑاہے؟آخرہمیں کب ہوش آئے گی؟؟؟

About سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ١٥/اکتوبر ١٩٥١ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ١٩٧٠ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹر ز (ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچرمیں ہی پی ایچ ڈی کرکے امریکاہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اورڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اورPakistan-Great Miracle،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی چوبیس کتب شائع ہوچکی ہیں ١۔حدیثِ دل ٢۔ حدیثِ جاں ٣۔ حدیثِ حال۴۔حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ٦۔حدیثِ وقت ۷۔حدیثِ قوم۸۔حدیثِ حق ۹۔حدیثِ احوال۱۰ -حدیث چشم ۱۱۔حدیث عمل۱۲۔حدیث کوہسار۱۳۔حدیث نعمت۱۴۔حدیث وطن۱۵۔حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل۱۷۔حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۔۱۹۔حدیثِ سحر۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔حدیثِ اتّباع۲۲۔حدیثِ وفا۲۴۔حدیثِ فردا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۰ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>