Serial Killers۔....1

اہل مغرب خون تشنہ کیوں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
امریکااوریورپ کے چوٹی کے دانشور انتہائی پریشان، سر تھامے یہ سوچنے پرمجبوراوراس کاحل تلاش کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں کہ ان کے ہاں ضروریات زندگی کی تمام ترآسائشیں اور سہولتیں ہونے کے باوجودنوجوان طبقے میں جرائم کی شرح خطرناک حدتک تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہے اوروہاں کے قانون سازادارے ،پولیس اوردیگرفلاحی ادارے انتہائی فکر مند اور پریشان ہیں کہ پہلی مرتبہ معاشرہ میں لڑکیوں کی بڑی تعدادشدت پسندہوتی جارہی ہے۔ اگرچہ اسلام مخالف قوتیں اس مہم پرعمل پیراہیں کہ مسلمانوں کوبدنام اوردہشتگردقراردیکر امریکااورمغرب میں نوجوان لڑکیوں میں اس بڑھتے ہوئے جرائم اورشدت پسندی کی خبروں کوچھپایا جائے تاہم غیر مسلموں کی اولادوں کے اپنے کرتوت اس نہج پرپہنچ چکے ہیں کہ اب آوازیں اٹھناشروع ہوگئی ہیں کہ ان کوملک بدرکردیا جائے۔
سیریل کلرزمیں اب تک مردوں کی بے شمارکہانیاں نہ صرف عام ہوئی ہیں بلکہ ان پرباقاعدہ فلمیں اورڈرامے بھی عام ہوئے ہیں تاہم اب امریکااور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں لڑکیاں خطرناک اورسفاک قاتل بن رہی ہیں لیکن انسانیت کے ان علمبرداروں کوان کی یہ کھلی دہشتگردی نظرنہیں آتی یاپھرایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اس بربریت کو چھپانے اورآنکھیں بندکرنے کامجرمانہ فعل کے مرتکب ہورہے ہیں لیکن اب ان کیلئے ان واقعات کوچھپاناازحدمشکل ہوگیااور بالآخریہاں کے میڈیا نے بھی انتہائی عمدہ وخوبصورت قالین کے نیچے چھپی ہوئی غلاظت کابھانڈہ پھوڑدیاہے ۔ یہاں کے میڈیاکے مطابق ایسی مجرم لڑکیوں کی تعدادمیں آئے دن اضافہ ہوتا چلاجارہاہے اوراب تک ایسے درجنوں مصدقہ واقعات رونماہوچکے ہیں لیکن آئیے آج یہاں چندان لڑکیوں کے بارے میں جانتے ہیں جواب تک متعددافراد کو اپنی ذہنی بیماری کی بھینٹ چڑھاچکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست پینسلوینیامیں درجنوں افرادکی قاتل لڑکی مرنڈاماربر کواپنے کئے پرکوئی پچھتاوانہیں، اس نے ۱۳سال کی عمرمیں پہلاقتل کیااوراس کے مطابق ۲۲ وارداتوں کے بعدگنناچھوڑدیا۔پولیس اورایف بی آئی نے اس قاتل لڑکی کے انکشافات پرمزیدتحقیقات شروع کردی ہے۔۱۹سالہ مرنڈاماربر کوگزشتہ سال ۴۲سالہ شخص کے قتل کے جرم میں گرفتارکیاگیاتھا۔پولیس کے مطابق ملزمہ نے ویب سائٹ پرجسم فروشی کی پیشکش کرکے اس شخص کو ملنے کیلئے بلایااوراپنے شریک حیات کے ساتھ مل کرقتل کردیالیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی،امریکی اخبارکو انٹرویو دیتے ہوئے لڑکی نے اعتراف کیاکہ وہ ۱۳سال کی عمرسے لوگوں کوقتل کررہی ہے اوربائیس افرادکے قتل کے بعداس نے گنناچھوڑ دیاتھا۔ ملزمہ کے مطابق اس نے صرف غیراخلاقی کام کرنے والوں کوقتل کیاجس پراسے کوئی شرمندگی نہیں۔ جیل سے رہائی ملی تووہ ایسے لوگوں کوقتل کرنے کاسلسلہ جاری رکھے گی اوراب وہ قتل کیلئے ایسے طریقے اختیار کرے گی کہ پولیس کواس کے خلاف کوئی شواہد بھی نہ مل سکیں۔امریکی لڑکی کے اس اعتراف اورارادوں نے ایف بی آئی اورپولیس افسران کی نیندیں اڑادی ہیں اوردونوں ادارے مل کرمعاملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔
سفاک،جنونی اورخونخوارکے الفاظ اب تک مردسیریل کلرزکیلئے استعمال کئے جاتے تھے لیکن برطانیہ میں قیدجواناڈینی کی بربریت اورسفاکی نے خودجن افرادکے سرپر ہروقت خون سواررہتاہے،کے سربھی جھکادیئے ہیں۔پچھلی چار دہائیوں سے سیریل کلرزمردوخواتین کی فہرست میں اسے سب سے زیادہ خطرناک ترین قاتل سمجھا جا رہاہے۔دوبچوں کی ماں ہونے کے باوجودوہ اب تک متعددبلکہ لاتعدادلڑکیوں اورلڑکوں کواپنی ذہنی بیماری کاشکاربناچکی ہے۔اس نے پہلاقتل ۲۰۰۳ء میں ایک لڑکے کو بہکاکرکیاتھاجواس کاآشناتھا۔اس کے بعداس سفاک قاتلہ نے چودہ سالہ لڑکی کوبہیمانہ اندازمیں قتل کردیا۔کچھ عرصے بعد اس نے اپنے مالک مکان کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرلئے اورپھراسے بھی ماردیا۔ اس نے اب تک ایسی درجنوں وارداتوں کااعتراف کیاہے جس کی تفصیلات انتہائی لرزہ خیزہیں۔ ابھی ایک ماہ قبل اس جنونی لڑکی نے سیکورٹی پرماموردو اہلکاروں پرخنجرسے حملہ کردیا جس میں ایک موقع پرہی ہلاک اوردوسرا شدید زخمی ہوگیااوراب وہ عمربھرکیلئے معذورہوگیاہے۔تاہم ایک دن پولیس نے ایک چھاپے کے دوران اس کودھرلیااوراب وہ خطرناک ترین قیدیوں کی جیل میں ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق وہ ایسی خطرناک لڑکی کے طورپر سامنے آئی ہے جس کے سرپرہروقت خون سوارہتاہے۔
۲۰۱۳ء میں برطانیہ میں ایک اورخاتون سیریل کلرزکے چارسوبچوں کوموت کے گھاٹ اتارنے کے انکشاف نے برطانوی تفتیشی حکام پرلرزہ طاری کردیاتھا ۔ برطانیہ کی ایک فرشتہ صفت سمجھی جانے والی یہ خاتون ملک کی بدترین سیریل کلرز کے طورپرسامنے آئی ہے۔برطانیہ کے مشہوراخبار ”ڈیلی میل”نے یہ روح فرساخبرکاانکشاف نیشنل آرکائیوکے حوالے سے کیا۔اخبارنے ۱۷۷۰ء سے ۱۹۳۴ء کے دوران ہونے والے جرائم کے بارے میں آن لائن دستاویزات میں اس ظلم سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایاہے کہ ۱۹ویں صدی میں ایملیا ڈائرنامی عورت کے ہولناک جرائم نے برطانیہ کولرزاکررکھ دیا تھا۔ایملیاخواتین سے رابطہ کرتی اوران کے گناہوں کابوجھ خوداٹھانے کی پیشکش کرتی ۔بن بیاہی مائیں اس موقع کو نعمت اور اپنے بچے کے بہترمستقبل کاسودہ سمجھتے ہوئے اپنابچہ گودلینے پرنہ صرف اس کی شکرگزارہوتیں بلکہ اپنی استطاعت سے بڑھ کرادائیگی بھی کرتیں۔ایملیارقم لیکر بچوں کواچھی طرح لپیٹ کردریائے ٹیمزکی تہہ کے حوالے کردیتی۔ ایملیا نے اپنایہ سفاکانہ کاروبار۳۰برس تک کامیابی کے ساتھ جاری رکھا اوراس دوران اس نے چارسوبچوں کوزندگی سے محروم کیا۔حیرت کی بات تویہ ہے کہ اس نے اپنی ایک خاص ڈائری میں یہ سارا ریکارڈبھی محفوظ رکھاجس کوکئی سالوں کی تفتیش کے بعددرست قراردیاگیالیکن لرزہ خیزاورخوفناک انکشاف یہ ہے کہ جواناڈینی نے چندسالوں میں ایمیلیاکے جرائم کوبھی کہیں پیچھے چھوڑ دیااورسرفہرست سیریل کلرزقرارپائی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست میسوری کی رہائشی ۱۹سالہ وکٹوریہ وینٹراپناخون نکال کرپیتی تھی۔ایک روزاس نے اپنے ایک دوست کوبھی اپنے خون کاذائقہ چکھنے کی دعوت دی ۔لڑکے نے وکٹوریہ کی کلائی پرچھری سے ایک کٹ لگاکراس کوخون چوسناشروع کردیالیکن اسی دوران نامعلوم وجہ پر وکٹوریہ کوغصہ آگیااور اس نے پاس پڑی ہوئی اسی چھری سے اس لڑکے پر حملہ کردیا۔وکٹوریہ نے کئی بارلڑکے کے کندھے پروارکئے اوراسے شدیدزخمی کردیا۔پولیس پہلے ان دونوں کوہسپتال لے گئی اوربعدازاں وکٹوریہ کوعدالت میں پیش کیاگیاجہاں اس نے متعلقہ جج کے سامنے اعتراف کیا کہ اسے اپناخون پینا بہت اچھالگتاہے۔عدالت نے ڈیڑھ لاکھ ڈالرزکے عوض اس کی ضمانت قبول کرلی ۔وکٹوریہ نے دوران تفتیش اعتراف کیاکہ میں معاشرے کیلئے خطرہ بن چکی ہوں اورمیں اپنے خون پینے کے شوق میں سیریل کلرزبھی بن سکتی ہوں۔
گزشتہ سال مارچ میں لندن میں اونٹاریوکینیڈاکی آٹھ سالہ بچی وکٹوریہ کو زیادتی کے بعدقتل کرنے کامقدمہ ازسرنو شروع ہوا۔اسے اپریل ۲۰۰۹ء میں ۲۱سالہ ٹیری اور ۳۱سالہ مائیکل ریفرٹی نے وڈراک نامی قصبے میں واقع اسکول کے باہرسے اغواء کیااورکارمیں بٹھاکرویرانے میں لے گئے۔ وکٹوریہ عرف ٹوری کی ماں ٹارامیکڈونلڈ منشیات کی عادی ہے اور وہ بھی اپنے آشناکے ساتھ رہ رہی تھی۔اس روزوہ گھرسے ایک کلومیٹردوراسکول سے اپنی بچی کولینے نہیں گئی تھی۔ عموماً ننھی لڑکی کاگیارہ سالہ بھائی اسے اسکول سے پیدل گھر لے جاتا تھا لیکن اس روزوہ بھی اپنے ایک دوست کے گھرچلاگیا تھا اورجب لوٹ کراسکول پہنچاتومعلوم ہواکہ ٹوری چلی گئی ہے ۔اس کی ماں غالباً نشے میں تھی لہندااس نے بچی کی نانی سے بھی نہ کہاکہ وہ اسے اسکول سے لے آئے،یوں وہ پھول سی بچی محلے کے ایک بدکارجوڑے کے چنگل میں پھنس گئی ۔سنگدل ٹیری نے عدالت میں بتایاکہ وہ ٹوری کوبہلاپھسلا کر قریبی جنگل میں لے گئے تھے۔راستے میں انہوں نے ایک ہتھوڑا اورکوڑے کے بیگ خریدے۔ اس اثناء میں کار ہی میں انہوں نے ٹوری کواپنی ہوس کانشانہ بنایا۔ ٹیری نے عدالت کوبتایاکہ میں نے ٹوری کے سرپرکوڑے کابیگ چڑھایا،اس کی پسلیوں میں ٹھوکریں ماریں اورپھرہتھوڑے سے اس کے سرپرکئی ضربیں لگائیں۔ دوران تشدداس کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں لیکن چندہی ضربوں کے بعد مکمل خاموش ہو گئی جبکہ دوسال قبل اس نے پولیس کوبتایاتھا کہ ایسامائیکل نے کیاتھااوراس نے صرف وکٹوریہ کوکوڑے کے بیگ میں ٹھونسنے میں اس کی مددکی تھی۔ پھر انہوں نے ننھی بچی کی لاش ایک گڑھے میں ڈال کرپتھروں سے ڈھانپ دی تھی۔تحقیقاتی پولیس افسرنے عدالت میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ میری زندگی کایہ سب سے زیادہ خوفناک کیس تھا جس نے نہ صرف میرے اعصاب کوشل کر دیابلکہ میری معاون خاتون افسرڈیپریشن کا شکارہوکرلمبی رخصت پرچلی گئی ہے جبکہ اس لرزہ خیزجرم میں پہلے ٹیری میکلنٹک پکڑی گئی اوراسے اپریل ۲۰۱۰ء میں عمرقید کی سزاسنائی گئی۔اب حقائق سامنے آنے کے بعدگزشتہ برس اس مقدمے کی دوبارہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔Serial Killers۔....1
اسی طرح میکسیکوکی خاتون نے خونخواری کے تمام ریکارڈتوڑدیئے ہیں۔”ڈیلی میل” کے مطابق میلسیاکالڈرن نامی خاتون کی وحشت اوردہشت اس حدتک پہنچ گئی کہ اس کے اپنے آشنانے ہی اس کے خون آشام جنون سے گھبراکرپولیس کواس کی مخبری کرکے اسے گرفتارکروادیا۔پیڈرو گومز نے پولیس کوبتایاکہ اس کی محبوبہ میلسیا پرخون کاجنون طاری ہوچکا تھااوروہ اپنے مخالفین کودرجنوں کے حساب سے قتل کررہی تھی۔ وہ خاص طور پراس وجہ سے مشہورتھی کہ وہ اپنے مخالفین کوقتل کرکے ان کے جسم کے اعضاء ان کے گھروں کے باہر پھینک دیتی تھی۔میکسیکوکے میڈیاکے مطابق میلسیامارگریٹا کالڈرن کواس کے گینگ میں ”لاچائنا”کے نام سے جاناجاتا تھاجس کے معنی ”ایشیائی”کے ہیں۔۳۰ سالہ میلسیانے ۲۰۰۵ء میں صرف ۲۰سال کی عمرمیں انڈرورلڈجرائم کی دنیامیں سفرکاآغازکیااوراپنے خونخواررویے کی بناء پرصرف تین سال میں اس گینگ کی سربراہ بنا دی گئی۔بعدازاں اس نے اپنا الگ گینگ بنالیااوراپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھی نیندیں حرام کردی۔۲۰۱۴ء میں محض دوماہ میں۴۶نامی گرامی طا قتورافرادکوخوفناک اندازمیں قتل کردیا۔ میلسیاکے بوائے فرینڈپیڈرو کا کہناتھاکہ وہ اس کے جنون سے اس قدرخوفزدہ ہوگیا تھا کہ اپنے آس پاس ہونے والی ہلکی سی آہٹ پربھی میری سانس بندہوناشروع ہوجاتی تھی کیونکہ میں اس کے طریقہ کارکاعینی شاہدبھی تھا،اسی لئے پولیس کوبتاکراسے گرفتارکروادیا وگرنہ پولیس تواب بھی اس کی گردکو نہیں پاسکتی تھی۔پیڈروخودبھی پولیس کی حراست میں ہے اورمیلسیاکو گرفتارکروانے کے بعداس کی سزامیں کمی کا امکان ہے۔
امریکامیں کئی خواتین کے سیریل کلرزابھی تک گرفتارنہیں ہوسکے۔دنیابھرمیں بہیمانہ قتلوں کی ایسی فہرستیں موجودہیں جن کی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں اورنہ ہی ان کے قاتل ابھی قانون کی گرفت میں آسکے ہیں۔سلسلہ واران قتلوں کے ان واقعات کے بارے میں جانتے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،یہاں ہم آپ کو صرف چندایسے ہی سلسلہ وار قتلوں کے بارے میں بتائیں گے جن کی تحقیقات آج تک منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔
٭۱۹۷۱ء کے اوائل میں واشنگٹن میں ۱۰سے ۱۸سال عمرکی لڑکیوں کوگلاگھونٹ کر قتل کردیاگیا۔پولیس کے مطابق ان میں تین کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی،ان کی لاشیں واشنگٹن ڈی سی اور میری لینڈ کے درمیان سڑک کے کنارے پرملی تھیں۔ یہ تمام سیاہ فام لڑکیاں تھیں،اس وقت ڈی سی میں سیاہ فاموں کی اکثریت تھی لیکن پولیس میں۷۰فیصدگوری چمڑی والے تھے۔یہ کیس یونہی چلتارہااور۲۰۰۹ء میں تفتیش کاروں نے کپڑوں سے ڈی این اے حاصل کرکے لیبارٹری بھی بھجوائےلیکن آج تک اس کی رپورٹ بھی سامنے نہیں آسکی۔
٭۱۹۸۵ء اور۱۹۸۶ء کے درمیان ہونولولومیں ۵خواتین کوزیادتی کے بعدگلا گھونٹ کرقتل کردیاگیا۔تمام خواتین کی لاشیں جب برآمدہوئیں توان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ایف بی آئی اورپولیس اہلکاروں پرمشتمل ۲۷/افرادکی ٹاسک فورس بنائی گئی جس نے بعدازاں سیریل کلرکے بارے میں تفصیلات جاری کرتے ہوئےبتایا کہ یہ شخص بھیس بدل بدل کر ان علاقوں میں کام کررہاتھاجہاں سے خواتین کی نعشیں برآمدہوئی ہیں لیکن اس نے کبھی اپنے گناہ کاکوئی نشان نہیں چھوڑا، جس کی وجہ سے وہ آج تک پکڑانہیں گیا۔
٭۲۰۱۰ء میں نیویارک میں واقع گلگوساحل سے۴خواتین کی نعشیں برآمدہوئیں،بعد ازاں اس جگہ سے۲۰۱۳ء تک درجنوں نعشوں کی برآمدگی کاسلسلہ جاری رہالیکن پولیس آج تک مجرم کاکوئی سراغ تک نہیں لگاسکی جبکہ پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ واردات قتل سے معلوم ہوتاہے کہ یہ بھی سیریل کلرہے۔
٭امریکی ریاست یوٹاہ کے شہرسالٹ لیک سٹی میں ۲۰۰۶ء میں سیریل قاتل نے ۹فروری کوایک خاتون سونیامچیاکوقتل کیااور۲۰۰۸ء میں۹فروری ہی کواس کے بچے کوقتل کیا،سونیاکوزیادتی کے بعدقتل کیاگیا۔اس کیس کیلئے ڈی این اے بھی حاصل کیاگیالیکن تاحال ملزم پکڑانہیں گیا۔
٭۲۰۰۹ ء میں پولیس نے نیومیکسیکوکے ایک قبرستان سے ۱۱خواتین کی باقیات برآمدکیں ہیں جن کی عمریں ۱۵سال سے ۳۲سال تھیں۔اس بارے میں پولیس کا کہناہے کہ سیریل قاتل نے قتل ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۵ء کے درمیان کئے جس میں خواتین کونشہ دیکرنشانہ بنایاگیا۔ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ ضرورپتہ چلاکہ ایک ہی قسم کی نشہ آوردواکااستعمال ہوا۔ مذکورہ سیریل قاتل کے بارے میں معلومات دینے پرحکومت نے متعلقہ مخبرکوایک لاکھ ڈالردینے کااعلان بھی کررکھاہے۔ قارئین!ذرادل پرہاتھ رکھ کرسوچیں کہیں یہ مکافاتِ عمل تونہیں۔پچھلی تین دہائیوں سے مسلمانوں کووحشی ،ظالم اوردہشتگردکے القاب سے بدنام کرنے والوں کے اپنے گھروں میں یہ کیسی آگ بھڑک اٹھی ہے جن سے اب ان کے اپنے دامن بھی محفوظ نہیں لیکن اس کے باوجودوہ اب بھی مسلمان ممالک میں اپنی سازشوں میں پوری طرح مگن ہیں۔ بابااقبال نے بالکل صحیح فرمایاتھا:
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

About سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ١٥/اکتوبر ١٩٥١ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ بنیادی طور پر سول انجینئر ہیں ۔لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ١٩٧٠ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔ اور وہاں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی میسوچوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹر ز (ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچرمیں ہی پی ایچ ڈی کرکے امریکاہی کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اورڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اورPakistan-Great Miracle،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی چوبیس کتب شائع ہوچکی ہیں ١۔حدیثِ دل ٢۔ حدیثِ جاں ٣۔ حدیثِ حال۴۔حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ٦۔حدیثِ وقت ۷۔حدیثِ قوم۸۔حدیثِ حق ۹۔حدیثِ احوال۱۰ -حدیث چشم ۱۱۔حدیث عمل۱۲۔حدیث کوہسار۱۳۔حدیث نعمت۱۴۔حدیث وطن۱۵۔حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل۱۷۔حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۔۱۹۔حدیثِ سحر۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔حدیثِ اتّباع۲۲۔حدیثِ وفا۲۴۔حدیثِ فردا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۰ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>