Russia Rising...

روس کاکرّوفربحال ہوگا؟

دیکھتی ہیں خواب آنکھیں مانگتاتعبیردل

۱۷۶۸ء اور۱۷۷۴ءکے دوران روس اورغیرمعمولی حدتک پھیلی ہوئی ترک سلطنت کے درمیان مناقشہ رہا جس کے بعد۱۷۷۴ء میں دونوں کے درمیان” کوچوک کینارکا” کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے سے روس کوجہاں” کو کرچ” اور” ازوو” کی بندر گاہوں کے ذریعے بحیرہ اسود تک براہ راست رسائی ملی۔ وہاں ترکی میں عیسائی اقلیت کو تحفظ فراہم کرنے کا حق بھی ملااور علامتی طور پر خود مختار کریمین خانیت کو تھوڑے بہت اختیارات کے ساتھ مقرر کیا گیا۔ اس معاہدے کے٩ سال بعد روس کے حکمراں طبقے کی طرف سے متعارف کرائی جانے والی اصلاحات کے خلاف عوام نے مزاحمت کی۔ دوسری طرف کریمیا کی طرف آباد گاہوں کا بہاؤ جاری تھااس سے روس کی ملکہ کیتھرین دوم کے ایلچی شہزادہ گریگوری پوٹیمکن کو کریمیا کے روس سے بزور الحاق کا بہانہ مل گیا۔ اسے معمولی سی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی سال یعنی۱۷۸۳ء میں کریمیا کے دارالحکومت سیوا ستوپول  کا قیام بھی عمل میں آیا۔ اس بڑی تبدیلی سے روس بحیرہ اسود میں ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرا جبکہ سلطنت عثمانیہ نے زوال کی راہ پر طویل سفر شروع کیا۔

سلطنت عثمانیہ کا انحطاط جاری رہا۔ ساتھ ہی بحیرہ اسود کے خطے میں علاقائی طاقتوں کے درمیان زیادہ اثر و رسوخ ثابت کرنے کی کشمکش بھی جاری رہی۔ کوئی ایک بھی فریق حتمی اور فیصلہ کن فتح کا دعوی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۱۸۵۳ء سے۱۸۵۶ء کے درمیان روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان کریمیا کی جنگ ہوئی جس نے لاکھوں افراد کو لقمہ اجل بنا دیا ۔ اس تنازع میں برطانیہ اور فرانس نے عثمانیوں کا ساتھ دیا۔ انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ روس کا مزید طاقتور بن کر ابھرنا اس خطے میں اس کی بھرپور بالا دستی کے قیام کی راہ ہموار کر دے گا مگر یہ خوف بہت حد تک بلا جواز تھا کیونکہ روس کبھی اس پوزیشن میں نہ آسکا کہ باسفورس اور آبنائے ترکی پر اپنا بھرپور کنٹرول قائم کرسکے۔ پہلی جنگ عظیم میں روس کی شرکت کا ایک اہم محرک یہ تھا کہ آبنائے ترکی پرکنٹرول قائم کیاجائےمگر یہ منصوبہ بھی بیک فائر کرگیا کیونکہ جرمنوں نے ترکوں کے ساتھ مل کر روسیوں کو ناکامی سے دوچار کیا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اور اختتام پر روسی اور عثمانی سلطنت زوال سے دوچار ہوئیں اور خطے کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوششیں نئے سرے سے کی گئیں۔ پہلی کوشش ١٩٢٠ء کا معاہدہ سیورز تھا اور دوسری، قدرے کامیاب کوشش ١٩٢٣ء میں لوزان کے امن معاہدے کی صورت میں کی گئی۔ اسی سے ترک جمہوریہ کی راہ ہموار ہوئی۔ ترکی تزویراتی اعتبار سے اچھی پوزیشن میں آگیا تھا اور اس نے لوزان امن معاہدے کے ذریعے یورپی طاقتوں کو پیغام دیا کہ وہ کسی کی مرضی کے سامنے زیادہ نہیں جھکے گا۔ اس کے نتیجے میں ١٩٣٦ء کے” مانٹریکس کنونشن” نے جنم لیا جس نے آبنائے ترکی پر ترکی کا کنٹرول باضابطہ بنایا اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ بحیرۂ اسود کے جن ممالک سے ترکی کا کوئی مناقشہ نہیں ان کے جنگی جہاز بحفاظت گزر سکیں۔ بحیرہ اسود کے خطے سے باہر کے ممالک کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ ایسے جنگی جہاز نہ بھیجیں جن کا وزن ۱۵  ہزار ٹن سے زائد ہو اور مجموعی وزن کی حد ۴۵ہزار ٹن رکھی گئی اور یہ جہاز بحیرہ اسود میں ۹ دن سے زیادہ نہیں رک سکتے تھے تاہم امریکا مانٹریکس کنونشن کا فریق نہیں تھا۔

طاقت کا یہ توازن بہت نازک تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر کشیدگی ایک بار پھر جاگ اٹھی۔ سوویت یونین کی خواہش تھی کہ ترکی مانٹریکس کنونشن پر نظر ثانی کرے تاکہ علاقے کے پانیوں پر سوویت ریاست کا کنٹرول معقول حد تک قائم ہوسکے۔ ۱۹۴۶ء کے آبنائے ترک بحران میں سوویت یونین نے بحیرہ اسود میں اپنی عسکری موجودگی بڑھادی تاکہ ترکی میں سوویت فوجی اڈوں کے قیام کا مطالبہ ترک حکومت سے منوایا جاسکے۔ بڑھتے ہوئے دباؤکے باعث ترکی نے امریکا سے مدد چاہی جس کا جواب امریکا نے فوری اور مثبت دیا یعنی خطے میں جنگی جہاز بھیج دیے۔ سوویت یونین نے پسپائی اختیار کی مگر یہ مناقشہ۱۹۴۷ء کی ٹرومین ڈاکٹرائن کی بنیاد بناجس کی بنیاد پر سوویت یونین کو کنٹرول کرنے اور ایک خاصے خطے تک محدود رکھنے کے لیے امریکا نے ترکی اور یونان کو۱۹۵۲ء میں معاہدہ شمالی بحر اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو)کی رکنیت دلائی۔ سرد جنگ کے پورے دور میں بحیرہ اسود کے خطے میں ترکی، نیٹو، امریکا اور سوویت یونین کے درمیان ایک تناؤ بھرا توازن برقرار رہا۔ ۱۹۷۶ء سے ترکی نے سوویت طیارہ بردار جہازوں کو (جو یوکرین میں تیار کیے جاتے تھے ) اپنے پانیوں سے گزرنے کی اجازت دی۔

۱۹۹۱ء میں سویت یونین کی تحلیل کے بعد بحیرہ اسود کا خطہ مغربی طاقتوں کے لیے تزویراتی اعتبار سے پہلا سا اہم نہ رہا، مگر روس کیلئے اس کی اہمیت کم نہ ہوئی کیونکہ اسے بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے ان پانیوں کی شدید ضرورت ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یوکرین میں موجود جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ تھا ۔ ۱۹۹۴ء میں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ میں مذاکرات کے بعد ایک میمورینڈم پر دستخط کیے گئے جس میں یوکرین نے روس، امریکا اور برطانیہ کی طرف سے سلامتی یقینی بنائے جانے کی ضمانت کے عوض جوہری ہتھیار ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ فرانس اور چین نے بھی اس بات کی ضمانت دی کہ وہ یوکرین کی سلامتی اور سا  لمیت برقرار رکھنے میں معاونت کریں گے۔

پالیسی کے حوالے سے اس بڑی کامیابی کے باوجود جزیرہ نما کریمیا کے معاملے پر روس اور یوکرین میں کشیدگی برقرار رہی ۔  زار کے دور کے روس اور یوکرین کے انضمام کے۳۰۰ سال مکمل ہونے پر۱۹۵۴ء میں سوویت یونین کے اس وقت کے وزیراعظم خروشیف نے جزیرہ نما کریمیا کو تحفے کے طور پر یوکرین کا حصہ بنایا تھا تب سے یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان بارگیننگ چپ کا سا درجہ اختیار کیے ہوئے تھا۔ روس نے ملٹری انفرا اسٹرکچر  برقرار رکھا۔ سیواستوپول کی بندر گاہ میں روس کا فوجی اڈا بھی برقرار رکھا گیاتاکہ بحیرہ اسود میں روسی بحری بیڑے کو چلانا ممکن رہے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے وقت سیوا ستو پول میں روس کے ۶۰فوجی تکنیکی شعبے اور دیگر امور سے متعلق ایک لاکھ افراد جبکہ۲۸ آبدوزوں سمیت۸۳۵جہاز بحیرہ اسود میں تھے۔ یہ غیر معمولی عسکری موجودگی سیواستوپول شہر اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے یوکرین کی حکومت کو دباؤ میں رکھنے کیلئے کافی تھی۔ جزیرہ نما کریمیا میں روس کے اثرات بہت مضبوط اور نمایاں تھے، وہاں قوم پرستی کی لہر موجود تھی جس کا روسی قیادت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کریمیا نے اپنی خود مختار حیثیت برقرار رکھی اور۱۹۹۵ء تک اس کا اپنا آئین موجود تھا۔ یہ سب کچھ یوکرین کی قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کافی تھا۔۱۹۹۷ء میں روس اور یوکرین کے درمیان دوستی کا معاہدہ ہواجس کے تحت بحیرہ اسود کے سوویت بحری بیڑے کا ۱۹ فیصد یوکرین کو ملا اور روس کی طرف سے بیشتر قرضے ختم کرنے اور توانائی رعایتی نرخ پر فراہم کرنے کے عوض یوکرین نے سیواستو پول کی بندرگاہ روس کو بیس سالہ لیز پر دے دی۔

روس میں یہ تاثر موجود رہا ہے کہ سابق سویت ریاستوں اور بحیرہ اسود پر اس کا حق فطری طور پر یعنی جغرافیائی حقیقت کی حیثیت سے زیادہ ہے مگر اس میں اِتنی سیاسی، معاشی اور عسکری قوت نہ تھی کہ اس تاثر کو حقیقت کا روپ دے سکتا۔۰۴ ۔۲۰۰۳ء میں جارجیا کے گلابی انقلاب اور۰۵۔۲۰۰۴ ء میں یوکرین کے نارنگی انقلاب کے بعد روس نے بھی علاقائی بالا دستی قائم کرنے کے حوالے سے اپنی پالیسی مزید سخت کردی اور اپنی بات منوانے کی طرف زیادہ مائل دکھائی دینے لگا۔ جارجیا اور یوکرین میں روس کی طرف واضح جھکاؤ رکھنے والے قائدین کو بدل دیا گیا اور ان کی جگہ وہ لوگ آئے جو مغرب یا یورو اٹلانٹک کے لیے واضح جھکاؤ رکھتے تھے۔ اسی وقت یعنی۲۰۰۴ء میں نیٹو نے بلغاریہ اور رومانیہ کو بھی رکنیت دے دی یوں بحیرہ اسود سے جڑی ہوئی۶ ریاستوں میں سے۳نیٹو کی رکن ہوگئیں اور باقی۳میں سے بھی جارجیا اور یوکرین کو رکنیت دینے کی باتیں کی جانے لگیں۔ نیٹو نے۲۰۰۸ء  کی بخارسٹ سربراہ کانفرنس کے اعلامئے میں کہا کہ یورپ اور اٹلانٹک کے خطے کی سلامتی کے لیے بحیرہ اسود کے خطے میں معاملات کا درست رہنا لازم ہے۔

روسی قیادت نے نیٹو کی طرف سے کئے جانے والے ان اقدامات کواپنے اثرورسوخ کے روایتی خطے میں مداخلت سے تعبیر کیا اور بحیرہ اسود میں اپنے اثرات بڑھانے کے حوالے سے اقدامات کی راہ ہموار کی۔ ۲۰۰۶ء اور پھر۲۰۰۹ء میں روس نے یوکرین کو رام کرنے کیلئے توانائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ روس نے یوکرین کے ذریعے یورپ کو قدرتی گیس کی فراہمی بند کردیاور ساتھ ہی توانائی کے نرخ بھی بڑھادیے۔ اگست۲۰۰۸ء میں روسی افواج نے، جو۱۹۹۳ء میں جارجیا اور جنوبی اوسیشیا کے قضیے کے آغاز سے جنوبی اوسیشیا میں موجود تھیں، اس الگ ہوجانے والے خطے کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے جارجیا کے صدر کی کوشش ناکام بنائی اور جارجیا میں داخل ہوئیں اور جارجیا کی فوج پر قابو پالیا اور دارالحکومت تبلسی پر تقریبا ً قبضہ کرلیا۔ اس لڑائی میں دونوں طرف سے مجموعی طور پر ۳۵۰ فوجی اور۴۰۰سے زائد شہری مارے گئے۔ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روس نے جنوبی اوسیشیا اور ابخازیہ کی طرف سے آزادی کے اعلان کو شرفِ قبولیت بخشا۔ تب سے اب تک روس نے جارجیا پراپناکنٹرول بڑھانے کے اقدامات جاری رکھےہیں۔ وہ انتظامی طور پر دونوں خود مختار علاقوں(جنوبی اوسیشیا اور ابخازیہ) کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے بھی کوشاں رہا ہے۔Russia Rising...

دوسرا، جغرافیائی اور عسکری اعتبار سے گہرے اثرات کا حامل واقعہ مارچ ۲۰۱۴ء میں کریمیا کا روس سے الحاق تھا۔ یہ الحاق یوکرین کے صدروکٹریانو کووچ کی عوامی انقلاب کے نتیجے میں برطرفی کے بعدرونماہوا۔ بڈاپیسٹ میمورنڈم کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روس نے جزیرہ نما کریمیا میں دوبارہ عسکری پیش رفت کی اور ساتھ ہی مشرقی یوکرین میں فوجی مداخلت بھی کی جس کے نتیجے میں اس خطے میں ملٹری ری انفورسمنٹ کی راہ ہموار ہوئی۔ کئی یونٹس کی تعیناتی کے علاوہ اینٹی ایئر اور اینٹی سرفیس میزائل سسٹمز بھی نصب کیے گئے۔ یورپ کے سابق سپریم الائیڈ کمانڈر جنرل فلپ ایم بریڈ لو نے۲۰۱۵ء میں کریمیا کو روس کی طرف سے طاقت کے اظہار کا پلیٹ فارم قرار دیا۔ روس نے کریمیا میں کی جانے والی لشکر کشی کے ساتھ ہی کسی بھی جوابی کارروائی یا بیرونی مداخلت کی صورت میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی۔ کریملن کا کہنا تھا کہ کریمیا کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے وہ جوہری ہتھیار نصب کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ستمبر۲۰۱۵ء میں شام میں روسی فوجی مداخلت خطے میں روسی عسکری موجودگی کو بھرپور استحکام بخشنے کی یہ آخری صورت تھی،روس نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ بحیرہ اسود کے بیڑے کے مختلف اجزا کو متحرک کیا اور دفاعی و جارحانہ میزائل نظام نصب کیے۔ روس اب شام کے علاقے لاطاقیہ میں ایئر بیس کامیابی سے آپریٹ کر رہا ہے اور طارطوس میں اپنے بحری اڈے کو توسیع اور تجدید و تزئین نو کے عمل سے گزار رہا ہے تاکہ وہاں بیک وقت جنگی جہازوں کو لنگر انداز رکھا جاسکے۔ روس نے قبرص سے بھی معاہدہ کر رکھا ہے جس کے تحت وہاں روسی جہاز لنگر انداز کیے جاسکتےہیں اور ساتھ ہی ساتھ روسی قیادت مصر سے بھی ایک فوجی اڈے کے قیام کیلئے بات چیت کر رہی ہے۔ لیبیا میں بھی فوجی اڈہ قائم کرنے کی باتیں سامنے آرہی تھیں مگر روسی حکام نے انہیں افواہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

انیسویں صدی میں روس ایک بڑی اور بالا دست قوت کی حیثیت رکھتا تھا۔ سرد جنگ کے زمانے میں روس کی طاقت غیر معمولی حد تک پھیلی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اس میں شکست و ریخت کا عمل بھی شروع ہواجو ۱۹۹۱ء کے بعد ایک تھکی ماندی قوت کے طور پر ظاہر ہوا۔ بحیرہ ٔاسود اور بحیرۂ روم میں امریکا اور یورپ کی موجودگی اور عمل دخل گھٹتا جارہا ہے۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کیلئےروس اب متحرک ہوتاجارہاہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کریملن مشرقی بحیرہ روم میں اپنی موجودگی بڑھانے پرتوجہ دے گایانہیں۔ کیاوہ کریمیا اورمشرقی یوکرین میں اپنی عسکری موجودگی کوزیادہ تقویت پہنچاناچاہتاہے؟ اورکیاوہ نیٹوکی موجودگی گھٹانے کے حوالے سے بلغاریہ پردباؤڈالے گا؟ اور کیا وہ ترک پانیوں میں اپنی موجودگی  زیادہ مستحکم کرنے کے لیے ترکی سے زیادہ دوستی اور اشتراکِ عمل پر توجہ دے گا؟

۱۸۵۳ء کے بعد سے روس کیلئےبحیرہ ٔاسود کی تزویراتی اہمیت کے محرکات تبدیل نہیں ہوئے۔ پہلے انفرادی حیثیت میں ریاستیں روس کے مقابل رہا کرتی تھیں۔ بعد میں امریکا اوریورپ نے تنظیموں اوراتحادوں کی سطح پرروس کیلئےراستے بند کرنے کی راہ ہموار کی۔ کریمیا عسکری اہمیت کا سب سے بڑا منبع ہے۔ ترکی مرکزی حریف کے طورپرکھڑاہے اورترک پانیوں کے ذریعے ہی روس کواپنی اہمیت منوانی ہے۔بنیادی مقصد یہ ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں امریکا اوریورپ کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف کاؤنٹر بیلنس کے طورپرکام کیاجائے تاکہ وہ مشرقی اور وسطی بحیرہ کی طرف زیادہ پیش رفت ممکن نہ بناسکے۔

تعارف سمیع اللہ ملک

سمیع اللہ ملک
سمیع اللہ ملک پاکستان کے مانچسٹر فیصل آبادمیں ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہی حاصل کی۔ لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے ۱۹۷۰ء میں گولڈ میڈل کے ساتھ سول انجینئرکی ڈگری وصول کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئےامریکا چلے گئے۔وہاں دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی میسو چوسٹس ایمحرسٹ سے اسٹرکچر میں ماسٹرز(ایم ایس سی)کی ڈگری لی اوروہ پاکستان کے تیسرے شخص تھے جنہوں نے یہ ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں اسٹرکچر میں ہی پی ایچ ڈی کرکے سائوتھ ایشیاکے دوسرے انجینئر ہونے کااعزازحاصل کیا۔ امریکا کی ایک بین الاقوامی کمپنی میں براہ راست بطور کنسلٹنٹ شمولیت سے اپنے کیریئر کاآغازکیا اوراسی کمپنی میں زندگی کے۳۵ سال گزار دیئے اور ڈائریکٹرکے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ کویت،سعودی عرب اوربحرین میں بین الاقوامی پراجیکٹس پراپنی فنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔اب بھی کئی بین الاقوامی کمپنیوں میں مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ لندن برطانیہ میں ہی ذاتی کنسلٹنٹ فرم کے مالک ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم اوردیگرکئی بڑے پراجیکٹس کی مشاورتی ٹیم میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان ،لندن ،امریکا،بھارت ،کشمیر،جاپان اوردنیابھرمیں مختلف اخبارات وجرائد ان کے مضامین باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ اب تک انگریزی کی دو Bitter Truth اور Pakistan-Great Miracle ،عربی کی ایک’’خلافہ و شہادہ‘‘ اور اردو کی ستائیس کتب شائع ہوچکی ہیں ۱۔حدیثِ دل ۲۔ حدیثِ جاں ۳۔ حدیثِ حال ۴۔ حدیثِ ملت ۵۔حدیثِ قلم ۶۔ حدیثِ وقت ۷۔ حدیثِ قوم ۸۔ حدیثِ حق ۹۔ حدیثِ احوال ۱۰۔ حدیث چشم ۱۱۔ حدیث عمل ۱۲۔ حدیث کوہسار ۱۳۔ حدیث نعمت ۱۴۔ حدیث وطن ۱۵۔ حدیث خلق ۱۶۔حدیث جبل ۱۷۔ حدیث امروز ۱۸۔ حدیثِ کلام ۱۹۔ حدیثِ سحر ۲۰۔ حدیثِ شب ۲۱۔ حدیثِ اتّباع ۲۲۔ حدیثِ وفا ۲۳۔ حدیثِ فردا ۲۴۔ حدیث راز ۲۵۔ حدیث عشق ۲۶۔ حدیث زندگی ۲۷۔ حدیث راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکامیں ۵سال اورکویت سعودی عرب اوربحرین میں ۱۰سال اوراب برطانیہ میں پچھلے ۳۲ سالوں سے مقیم ہیں ۔ یہاں ایک مشہور تھنک ٹینک لندن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹرہیں۔ برطانیہ کےایک معروف ٹی وی چینل ''میسج''کے ڈائریکٹراورمشہورِ زمانہ پروگرام ''تجزیہ ''کے میزبان بھی ہیں۔میسیج ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ تین درجن سے زائد ویب سائٹس پران کے پروگرام اورمضامین ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان سے براہِ راست رابطہ کیلئے [email protected]

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>