10:55 am - Sunday 19 May 2013
Islamabad, PK - 42 CPartly Cloudy - Humidity: 18%
  1. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ شدت پسندوں کا یہ غلط واہمہ ہے کہ وہ قتل و غارت گری اور افراتفری کے ذریعے اپنے سیاسی ایجنڈے کو پاکستانی عوام پر مسلط کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ Amir Nawaz Khan
  2. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان اور ان کے ساتھی پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہے ہیں اور ایسا کرنے میں تمام دہشت گرد عناصر متحد ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔طالبان کا واضح ایجنڈا پاکستان پر قبضہ کرنا اور اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنا ہے، ان کے نظریات القاعدہ سے ملتے ہیں، طالبان بیشتر مسلمانوں کو مرتد سمجھتے ہیں اور ان کے قتل کا جواز پیش کرتے ہیں۔ طالبان کا ایجنڈا اسلامی شریعت کا نفاذ نہیں بلکہ تخریب کاری ہے۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ شدت پسندوں کا یہ غلط واہمہ ہے کہ وہ قتل و غارت گری اور افراتفری کے ذریعے اپنے سیاسی ایجنڈے اور اپنی پسندیدہ شریعہ کو پاکستانی عوام پر مسلط کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ Amir Nawaz Khan
  3. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں ، آئندہ انتخابات کے پر امن انعقاد میں ہر ممکن رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ، انتخابی ریلیوں پر حملے کر رہے ہیں . خیبرپختونخوا میں انتخابی سرگرمیاں امن و امان کی غیرتسلی بخش صورتحال کی وجہ سے پوری شدت کے ساتھ شروع نہیں کی جاسکیں، سوات, کراچی اور پشاور کے افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر قوم کو دہشت گردی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے. ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے عناصر اب بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔انتخابی سرگرمیوں کونشانہ بنا کر درحقیقت دہشت گرد تنظیمیں پاکستان، دینی اقدار اور خوشحالی کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں. یہ بات تو روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دہشت گرد عناصر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر، ریلیوں اور اجتماعات پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو شدید ترین اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الیکشن کا بروقت انعقاد ایک آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔ دہشتگرد بم دھماکوں ، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کرکے نہ صرف ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں بلکہ پرامن انتخابی ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کو شش بھی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ جمہوریت ہی میں پاکستان کی بقا ہے۔ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ لوگ اسلام کا نام ے کر اسلام کو بدنام اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے. دہشت گرد خود ساختہ طالبانی شریعت، جو پاکستانی عوام کو قبول نہیں، نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا ، طاقت کے زور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان کا معصوم پاکستانی عوام کو بے دردی سے قتل کر کے اور متشددانہ طریقے سے طالبانی شریعہ نافذ کرنے کا منصوبہ انتہائی مشکوک و ناقابل عمل و ناقابل قبول ہے۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) Amir Nawaz Khan
  4. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں ، آئندہ انتخابات کے پر امن انعقاد میں ہر ممکن رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ، انتخابی ریلیوں پر حملے کر رہے ہیں . خیبرپختونخوا میں انتخابی سرگرمیاں امن و امان کی غیرتسلی بخش صورتحال کی وجہ سے پوری شدت کے ساتھ شروع نہیں کی جاسکیں، سوات, کراچی اور پشاور کے افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر قوم کو دہشت گردی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے. ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے عناصر اب بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔انتخابی سرگرمیوں کونشانہ بنا کر درحقیقت دہشت گرد تنظیمیں پاکستان، دینی اقدار اور خوشحالی کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں. یہ بات تو روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دہشت گرد عناصر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر، ریلیوں اور اجتماعات پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو شدید ترین اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الیکشن کا بروقت انعقاد ایک آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔ دہشتگرد بم دھماکوں ، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کرکے نہ صرف ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں بلکہ پرامن انتخابی ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کو شش بھی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ جمہوریت ہی میں پاکستان کی بقا ہے۔ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ لوگ اسلام کا نام ے کر اسلام کو بدنام اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے. دہشت گرد خود ساختہ طالبانی شریعت، جو پاکستانی عوام کو قبول نہیں، نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا ، طاقت کے زور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان کا معصوم پاکستانی عوام کو بے دردی سے قتل کر کے اور متشددانہ طریقے سے طالبانی شریعہ نافذ کرنے کا منصوبہ انتہائی مشکوک و ناقابل عمل و ناقابل قبول ہے۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) Amir Nawaz Khan
  5. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں ، آئندہ انتخابات کے پر امن انعقاد میں ہر ممکن رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ، انتخابی ریلیوں پر حملے کر رہے ہیں . خیبرپختونخوا میں انتخابی سرگرمیاں امن و امان کی غیرتسلی بخش صورتحال کی وجہ سے پوری شدت کے ساتھ شروع نہیں کی جاسکیں، سوات, کراچی اور پشاور کے افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر قوم کو دہشت گردی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے. ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے عناصر اب بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔انتخابی سرگرمیوں کونشانہ بنا کر درحقیقت دہشت گرد تنظیمیں پاکستان، دینی اقدار اور خوشحالی کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں. یہ بات تو روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دہشت گرد عناصر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر، ریلیوں اور اجتماعات پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو شدید ترین اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الیکشن کا بروقت انعقاد ایک آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔ دہشتگرد بم دھماکوں ، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کرکے نہ صرف ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں بلکہ پرامن انتخابی ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کو شش بھی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ جمہوریت ہی میں پاکستان کی بقا ہے۔ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ لوگ اسلام کا نام ے کر اسلام کو بدنام اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے. دہشت گرد خود ساختہ طالبانی شریعت، جو پاکستانی عوام کو قبول نہیں، نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا ، طاقت کے زور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان کا معصوم پاکستانی عوام کو بے دردی سے قتل کر کے اور متشددانہ طریقے سے طالبانی شریعہ نافذ کرنے کا منصوبہ انتہائی مشکوک و ناقابل عمل و ناقابل قبول ہے۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) Amir Nawaz Khan
  6. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان اور ان کے ساتھی پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہے ہیں اور ایسا کرنے میں تمام دہشت گرد عناصر متحد ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ Amir Nawaz Khan

عالمی حالات

روس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہےکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو پارچین سائيٹ کا مشروط معائنہ کرنے کی اج...

پاکستان

کراچی : برطانوی دارالحکومت لندن میں رہائش پذیر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیر و پر نظم و ...

شوبز

نرگس فخری کو فلم ’’میں تیرا ہیرو‘‘ کیلئے کاسٹ کر لیا گیا

نئی دہلی ۔ اداکارہ نرگس فخری کو فلم ’’میں تیرا ہیرو‘‘ کیلئے کاسٹ کرلیا گیا۔ راک سٹار سے کیریئرکا...

18.05.2013 | 0 comments
شکیرا نے ٹی وی پروگرام ’’ دی وائس ‘‘ سے علیحدگی اختیار کرلی

لاس اینجلس ۔ کولمبیا نژاد گلوکارہ شکیرا نے این بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرام ’’ دی وائس ‘‘ سے علیحدگ...

18.05.2013 | 0 comments
جینیفر ہڈسن امریکن آئیڈل کے آخری حصہ میں شامل

واشنگٹن ۔آسکر ایوارڈ یافتہ گلوکارہ جینیفر ہڈسن امریکن آئیڈل کے آخری حصہ میں شامل ہوگئیں، امریکی م...

18.05.2013 | 0 comments

کھیل

عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار نواک جوکووچ کو اٹالین اوپن میں شکست

روم ۔عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار نواک جوکووچ کو اٹالین اوپن میں اپ سیٹ شکست ہو گئی۔اٹلی میں کھیلے جا ...

18.05.2013 | 0 comments
آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ، شلپا شیٹھی، ڈریوڈ بھی شامل تفتیش

نئی دہلی ۔انڈین پر یمئرلیگ میں ہونے والی اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کے لئے نئی دہلی پولیس نے اپنا دائر ...

18.05.2013 | 0 comments
اینڈی مرے کی فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت مشکوک

لندن ۔ برطانوی ٹینس سٹار اور عالمی نمبر دو اینڈی مرے کی فٹنس مسائل کے باعث سال کے دوسرے گرینڈ سلیم ...

18.05.2013 | 0 comments