07:20 am - Saturday 18 May 2013
Islamabad, PK - 37 CFair - Humidity: 21%
  1. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ شدت پسندوں کا یہ غلط واہمہ ہے کہ وہ قتل و غارت گری اور افراتفری کے ذریعے اپنے سیاسی ایجنڈے کو پاکستانی عوام پر مسلط کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ Amir Nawaz Khan
  2. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان اور ان کے ساتھی پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہے ہیں اور ایسا کرنے میں تمام دہشت گرد عناصر متحد ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔طالبان کا واضح ایجنڈا پاکستان پر قبضہ کرنا اور اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنا ہے، ان کے نظریات القاعدہ سے ملتے ہیں، طالبان بیشتر مسلمانوں کو مرتد سمجھتے ہیں اور ان کے قتل کا جواز پیش کرتے ہیں۔ طالبان کا ایجنڈا اسلامی شریعت کا نفاذ نہیں بلکہ تخریب کاری ہے۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ شدت پسندوں کا یہ غلط واہمہ ہے کہ وہ قتل و غارت گری اور افراتفری کے ذریعے اپنے سیاسی ایجنڈے اور اپنی پسندیدہ شریعہ کو پاکستانی عوام پر مسلط کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ Amir Nawaz Khan
  3. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں ، آئندہ انتخابات کے پر امن انعقاد میں ہر ممکن رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ، انتخابی ریلیوں پر حملے کر رہے ہیں . خیبرپختونخوا میں انتخابی سرگرمیاں امن و امان کی غیرتسلی بخش صورتحال کی وجہ سے پوری شدت کے ساتھ شروع نہیں کی جاسکیں، سوات, کراچی اور پشاور کے افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر قوم کو دہشت گردی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے. ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے عناصر اب بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔انتخابی سرگرمیوں کونشانہ بنا کر درحقیقت دہشت گرد تنظیمیں پاکستان، دینی اقدار اور خوشحالی کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں. یہ بات تو روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دہشت گرد عناصر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر، ریلیوں اور اجتماعات پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو شدید ترین اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الیکشن کا بروقت انعقاد ایک آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔ دہشتگرد بم دھماکوں ، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کرکے نہ صرف ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں بلکہ پرامن انتخابی ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کو شش بھی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ جمہوریت ہی میں پاکستان کی بقا ہے۔ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ لوگ اسلام کا نام ے کر اسلام کو بدنام اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے. دہشت گرد خود ساختہ طالبانی شریعت، جو پاکستانی عوام کو قبول نہیں، نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا ، طاقت کے زور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان کا معصوم پاکستانی عوام کو بے دردی سے قتل کر کے اور متشددانہ طریقے سے طالبانی شریعہ نافذ کرنے کا منصوبہ انتہائی مشکوک و ناقابل عمل و ناقابل قبول ہے۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) Amir Nawaz Khan
  4. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں ، آئندہ انتخابات کے پر امن انعقاد میں ہر ممکن رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ، انتخابی ریلیوں پر حملے کر رہے ہیں . خیبرپختونخوا میں انتخابی سرگرمیاں امن و امان کی غیرتسلی بخش صورتحال کی وجہ سے پوری شدت کے ساتھ شروع نہیں کی جاسکیں، سوات, کراچی اور پشاور کے افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر قوم کو دہشت گردی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے. ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے عناصر اب بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔انتخابی سرگرمیوں کونشانہ بنا کر درحقیقت دہشت گرد تنظیمیں پاکستان، دینی اقدار اور خوشحالی کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں. یہ بات تو روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دہشت گرد عناصر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر، ریلیوں اور اجتماعات پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو شدید ترین اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الیکشن کا بروقت انعقاد ایک آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔ دہشتگرد بم دھماکوں ، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کرکے نہ صرف ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں بلکہ پرامن انتخابی ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کو شش بھی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ جمہوریت ہی میں پاکستان کی بقا ہے۔ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ لوگ اسلام کا نام ے کر اسلام کو بدنام اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے. دہشت گرد خود ساختہ طالبانی شریعت، جو پاکستانی عوام کو قبول نہیں، نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا ، طاقت کے زور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان کا معصوم پاکستانی عوام کو بے دردی سے قتل کر کے اور متشددانہ طریقے سے طالبانی شریعہ نافذ کرنے کا منصوبہ انتہائی مشکوک و ناقابل عمل و ناقابل قبول ہے۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) Amir Nawaz Khan
  5. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں ، آئندہ انتخابات کے پر امن انعقاد میں ہر ممکن رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ، انتخابی ریلیوں پر حملے کر رہے ہیں . خیبرپختونخوا میں انتخابی سرگرمیاں امن و امان کی غیرتسلی بخش صورتحال کی وجہ سے پوری شدت کے ساتھ شروع نہیں کی جاسکیں، سوات, کراچی اور پشاور کے افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر قوم کو دہشت گردی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے. ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے عناصر اب بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔انتخابی سرگرمیوں کونشانہ بنا کر درحقیقت دہشت گرد تنظیمیں پاکستان، دینی اقدار اور خوشحالی کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں. یہ بات تو روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دہشت گرد عناصر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر، ریلیوں اور اجتماعات پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو شدید ترین اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الیکشن کا بروقت انعقاد ایک آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔ دہشتگرد بم دھماکوں ، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کرکے نہ صرف ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں بلکہ پرامن انتخابی ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کو شش بھی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ جمہوریت ہی میں پاکستان کی بقا ہے۔ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ لوگ اسلام کا نام ے کر اسلام کو بدنام اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے. دہشت گرد خود ساختہ طالبانی شریعت، جو پاکستانی عوام کو قبول نہیں، نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا ، طاقت کے زور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان کا معصوم پاکستانی عوام کو بے دردی سے قتل کر کے اور متشددانہ طریقے سے طالبانی شریعہ نافذ کرنے کا منصوبہ انتہائی مشکوک و ناقابل عمل و ناقابل قبول ہے۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) Amir Nawaz Khan
  6. دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ طالبان اور ان کے ساتھی پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہے ہیں اور ایسا کرنے میں تمام دہشت گرد عناصر متحد ہیں۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ Amir Nawaz Khan

عالمی حالات

گوانتانامو بے میں قیدیوں کی جانب سے بھوک ہڑتال کے 100 دن مکمل ہونے پر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین،  گوانتا نام...

پاکستان

واشنگٹن:دنیاکے پرامن ممالک میں پاکستان 149ویں نمبر پر آگیا ہے،پرامن ممالک میں آئس لینڈ پہلے اور صومالیہ آخری نمبر پر ہے۔ عالمی میڈیا کی ...

شوبز

میں ہدایتکارہ جوڈی فوسٹر کی پرستار ہوں،جینیفر لارنس

لاس اینجلس ۔ ہالی ووڈ اداکارہ جینیفر لارنس نے کہا ہے کہ ان کی پسندیدہ ہدایتکارہ جوڈی فوسٹر ہیں۔ادا...

17.05.2013 | 0 comments
یہ سنجے اور انکی فیملی کیلئے کڑا وقت ہے،پریانکا

ممبئی ۔بھارتی اداکارسنجے دت نے آخر کار گرفتاری پیش کردی،بھارتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ سنجے دت کے ج...

17.05.2013 | 0 comments
نئی فلم میں شائقین کو سرپرائز دوں گی، کرینہ کپور

ممبئی ۔ بالی ووڈ ادکارہ کرینہ کپور نے کہاہے کہ نئی فلم میں چونکا دینے والی پرفارمنس دیکر شائقین کو ...

17.05.2013 | 0 comments

کھیل

روم ماسٹرزٹینس ٹورنامنٹ،نڈال اور فیڈرر کوارٹرفائنل میں پہنچ گئے

ر وم ۔سابق عالمی نمبر ایک رافیل نڈال اور راجر فیڈرر روم ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں پ...

17.05.2013 | 0 comments
ڈیوڈ بیکہم کا فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

لندن ۔انگلینڈ فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان ڈیوڈ بیکہم نے رواں سیزن کے آخر میں فٹ بال کو خیر آباد کہنے کا...

17.05.2013 | 0 comments
اعصام الحق روم ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ میںٹائٹل کی دوڑ سے باہر

روم ۔ پاکستانی ٹینس سٹار اعصام الحق قریشی روم ماسٹرز اوپن ٹینس ٹورنامنٹ مینز ڈبلز دوسرے راؤنڈ میں ...

17.05.2013 | 0 comments