12:48 am - Thursday 17 April 2014
Islamabad, PK - 17 °CPartly Cloudy - Humidity: 72%

پشاور،حسینی مدرسےمیں خودکش دھماکا،5افراد شہید،متعددزخمی

By سرفرازاحمد عباسی - Fri Jun 21, 6:30 pm

ویب ڈیسک:
پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے چمکنی میں دھماکے سے پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا مدرسے کے اندر ہوا۔ جس میں پانچ افراد شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دھماکا خود کش تھا، جب خود کش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر مسجد کی حفاظت پر مامور گارڈ نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی جس پر اسلح سے لیس حملہ آور نے فائرنگ کردی اور مسجد میں داخل ہوگیا۔
حملہ آور فائرنگ کے بعد مسجد میں داخل ہوا، جس کا رخ محراب تھی، جہاں خود کش حملہ آور نے عین نمازیوں کے درمیان اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے سے مدرسے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور آس پاس کی عمارتوں اور دکانوں کے بھی شیشے ٹوٹ گئے۔
پولیس کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا حسینی مسجد کے قریب ہوا۔ دھماکے کی آواز حاجی کیمپ اور دور دور تک سنی گئی۔ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

Follow Al Qamar Online Urdu News Network on Twitter, become a fan on Facebook. Stay updated via RSS

1 Comment

Comments -49 - 0 of 1First« PrevNext »Last
  1. آج انسانیت کو دہشت گردی کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔
    دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے.
    ’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے. ۔ البقرة، 2 : 195
    اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
    طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں ۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔

Comments -49 - 0 of 1First« PrevNext »Last

Leave a Reply