معروف سماجی رہنما ظفر لنڈ کو قتل کر دیا گیا

Facebooktwittergoogle_pluspinterestlinkedinmail

کراچی یونیورسٹی کے سابق رہنما اور فعال سماجی کارکن ظفر لنڈ کو آج شام کوٹ ادو میں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔zafar

 ڈیرہ غازیخان کی بستی شادن لنڈ سے تعلق رکھنے والے ہنس مکھ، انسان دوست اور انتہائی مستعد ظفر لنڈ گذشتہ کئی برس سے جنوبی پنجاب کے قصبے کوٹ ادو سے “ہرک” کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم چلا رہے تھے جو دریائے سندھ کے مچھیروں کے حقوق کے لیے کام کرنے کے علاوہ سرائیکی علاقے کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہے۔ اب تک “وسوں” کے عنوان سے درجنوں ڈاکومنٹریز بنا کر اس تنظیم کے توسط سے جاری کی جا چکی ہیں۔

 ظفر لنڈ کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں تھا وہ انتہائی خوش اخلاق شخص تھے۔ مگر یاد رہے کہ ان کے اس قتل کو کئی رنگ دیے جا سکتے ہیں جن میں سے ایک رنگ ان کے والدین کا ایک اقلیتی فرقے سے تعلق ہونا بھی بتایا جائے گا جبکہ وہ فرقے اور مذہب کی لڑائی سے بالا تھے۔ وہ اپنے علاقے میں مختلف صنعتی منصوبوں کے باعث بے گھر ہو نے والے افراد کے حقوق کے لئے بھی آواز اٹھا رہے تھے۔

 ان کے قتل پر پاکستان بھر کے جمہوری اور انسان دوست افراد اور تنظیموں کو بے حد صدمہ پہنچا ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس قتل کو انسان اور غریب دوست شخصیت کے قتل کے طور پر دیکھا جائے اور قاتلوں کو جتنی جلدی ممکن ہو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

Facebooktwittergoogle_pluspinterestlinkedinmail

Comments

FB Login Required – comments

متعلق ویب ڈیسک