قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام ایک شام بیادِ ناصر ؔ کاظمی

اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے جذبے سے معمور ، با کمال شاعروں اور ادیبوں کی منفرد تنظیم، بزمِ اردو قطر (قائم شدہ۱۹۵۹ ء ؁ ) کی جانب سے حال ہی میں “ایک شام بیاد ناصر کاظمی (۱۹۲۳۔۱۹۷۲ ء )” کا انعقاد بمقام مازا، المطار القدیم میں کیا گیا۔ شعرائے کرام اور سخن فہم سامعین کی ایک بڑی تعداد نے اس پروگرام میں شرکت کی۔


بزمِ اردو قطر کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لیے کارگر اقدامات اٹھائے جائیں؛ یہ پروگرام بھی اسی جدوجہد کا ایک عملی نمونہ ہے۔ اردو ادب کے اثاثہ جات کا درجہ رکھنے والے شعراء و ادباء کی حالاتِ زندگی اور فنونِ ادب پر مبنی پروگراموں سے نہ صرف ان شہرۂ آفاق شعرائے کرام اور ادیبان عظام کی یاد تازہ ہوگی بلکہ ان کے تخلیق کردہ فن پاروں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی جاسکے گی۔ اس نوعیت کا یہ دوسرا پروگرام ناصرؔ کاظمی کے نام مختص کیا گیا؛ جبکہ پہلا پروگرام حکیم مومن خاں مومنؔ کے نام پر منعقد کیا گیا تھا۔

نشست کا باقاعدہ آغاز پر تکلف عشا ئیہ کے بعد بزم اردو قطر کے سرپرست جناب سید عبد الحئی کی زبانی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد شاعرِ خلیج فخر المتغزلین جناب جلیلؔ احمد نظامی نے سید ناصرؔ کاظمی کی نعتیہ مخمس کو اپنے منفرد ترنم میں پیش فرمایا جو مرزا غالبؔ کی غزل کے اشعار پرفنکارانہ تضمین کر کے لکھا گیا ہے:
یہ کون طائرِ سدرہ سے ہم کلام آیا
جہانِ خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
“زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا”
“کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے”
ناصر کاظمی اور غالب کا اندازِ سخن اور اس پر جلیلؔ نظامی صاحب کا ترنم! ایسا لگ رہا تھا جیسے سامعین پر سرور کی کیفیت طاری ہو گئی ہے۔

اس پروقار پروگرام کی باوقار مسند صدارت پر انڈیا اردو سوسائٹی کے بانی صدر جناب جلیل احمد نظامی صاحب فائز رہے۔ آپ خلیجی ممالک کے علاوہ ہندوستان کے کئی بڑے مشاعروں میں کامیابی کی ضمانت رہے ہیں اور دورِ رفتہ میں کلام کی جامعیت، معنویت، سلاست، اور حسنِ بیان کے اعتبار سے آپ اپنی مثال آپ ہیں۔ آپ اردو ہی نہیں بلکہ عربی اور فارسی زبانوں پر بھی کافی عبور رکھتے ہیں۔

جناب محمدزبیر میمن (رکن بزم اردو قطر) اور جناب نعیم عبد القیوم نے بطورِ مہمان اعزازی شرکت کر کے پروگرام کے وقار کو دوبالا کیا۔ جناب مقصور انور مقصود نے بطورِ مہمان خصوصی اس پروگرام کو زینت بخشی۔ جناب مقصود انور مقصود بزم اردو قطر کے نائب صدر ہیں اور آپ اپنی بے باک نظامت اور اپنے خوبصورت کلام کو پر اثر انداز میں پیش کرنے کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ قطر میں منعقد کئی بین الاقوامی مشاعروں اور بھارت میں منعقد کئی بڑے مشاعروں میں شریک ہوکر ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

اس مشاعرے کی نظامت بزم اردو قطر کے چیئرمین جناب ڈاکٹر فیصل حنیف نے فرمائی۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ادبی حلقوں میں کافی مقبولیت کی حامل ہے۔ آپ ایک اچھے ادیب اور خاکہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی ادبی تنظیموں کی ذمہ داریاں بھی آپ نے اپنے سر لے رکھی ہیں۔ گزرگاہِ خیال فورم، اردو ٹوسٹ ماسٹر اور اقبال اکادمی (مڈل ایسشٹ) وغیرہ کی تشکیل آپ ہی کی مرہون منت ہے۔ 

جناب محمد رفیق شاد اکولوی نے مہمانان کا استقبال کیا۔ آپ بزم اردو، قطر کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ادیب و شاعر ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو میٹھی زبان و بیان کے ملکہ سے نوازا ہے۔ شاید آپ کی انہیں خصوصیات کی وجہ سے کئی اور ادبی تنظیموں کی سربراہی بھی آپ کے ذمہ رہی ہے۔ آپ دوحہ قطر ہی نہیں بلکہ بھارت کے بھی ادبی تنظیموں میں پنی خدمات بخوبی انجام دے رہے ہیں۔

ناظمِ پروگرام نے راقم الحروف (سید فیاض بخاری کمالؔ ) کو ایک مضمون پیش کرنے کی دعوت دی۔ میں نے “سید ناصر رضا کاظمی اور ان کی شاعری ۔۔ ایک سرسری مطالعہ” کے نام سے ایک چھوٹا سا مضمون پیش کیا جس میں ناصر کاظمی کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔ چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
“سید ناصرؔ رضا کاظمی، نہ متقدمین شعرائے اردو میں سے ہیں اور نہ ہی دورِ جدید کے شعراء کی صف سے، بلکہ آپ کا شمار اردو ادب کے متوسط دور کے مشہور شعراء میں ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ناصرؔ کاظمی کی شاعری میں کلاسیکی اقدار کے علاوہ جدیدیت کی نمایاں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ آپ۱۹۲۳ء ؁ میں انبالہ میں پیدا ہوئے اور۱۹۷۲ء ؁ میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کی شاعری نے آپ کو اب تک زندہ و پائندہ رکھا ہے۔ “۔۔۔۔۔۔۔ “وہ ایک فطرت شناس شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مضمون نگار کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ انسانی ذہن میں جو باتیں ابھرتی ہیں ان کی حقیقت بیانی اور عکاسی سے ان کی شاعری بھری پڑی ہے۔۔۔…ان کی شاعری میں انسانی ذہن کی عکاسی کے علاوہ رومانیت، رفاقت و قربت، فرقت و جدائی وغیرہ کی بھی حسین پیرائے میں واقعہ نگاری پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ تشبیہات و استعارات کے موزوں استعمال کے ساتھ ساتھ سلاست و روانی کی چاشنی بھی ان کے حصے میں تھی۔۔۔”
مضمون میں کئی مشہورِ زمانہ غزلوں کے چنندہ اشعار بھی پیش کیے :
اپنی دھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا 

ڈاکٹر فیصل حنیف صاحب دورانِ نظامت ناصر کاظمی اور ان کی شاعری پر بھر پور گفتگو فرماتے رہے۔ اور مناسب وقت پر اپنے تحقیقی جائزے بھی پیش فرماتے رہے۔ مثلاً:
“۔۔۔۔۔ناصر کاظمی نے غزل کو اپنایا اور نظم کو چھوڑ دیا۔ اس زمانے میں غزل کا ایک خاص رنگ تھا۔ میں نے اس زمانے کے دو تین شعراء کا انتخاب کیا ہے، یہ دکھانے کے لیے کہ اس زمانے میں غزل کس طرح سے کہی جاتی تھی:
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
(جگر مراد آبادی)

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے 
(فیض احمد فیض)

اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانہ ترا
(ابن انشاءؔ )

اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
(قابل اجمیری)

یہ اس زمانے کی غزل کا مزاج تھا جب غزل ایک نئے سرے سے، از سرِنو زندہ ہورہی تھی، غزل کا احیاء ہورہا تھا؛ ناصرؔ کاظمی نے اس زمانے میں کہا تھا
کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصر
یہ قافیہ پیمائی ذرا کرکے تو دیکھو
۔۔۔۔۔۔”

جناب مظفر نایابؔ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ تقریبا تین دہائیوں سے شعر و سخن کی زلفوں کو سنوارنے میں مصروف ہیں۔ آپ تعمیری ادب کے متحمل شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ آپ نے ناصرؔ کاظمی کی ایک منتخب غزل پیش کی:
نصیب عشقِ دلِ بے قرار بھی تو نہیں
بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں
تلافیِ ستمِ روزگار کون کرے
تو ہم سخن بھی نہیں راز دار بھی تو نہیں
زمانہ پر سشِ غم بھی کرے تو کیا حاصل
کہ تیرا غم، غمِ لیل و نہار بھی تو نہیں
دوحہ، قطر کے منفرد، کثیرالکلام شاعر، جن کا اوڑھنا بچھونا ہی شاعری ہے، ہماری مراد جناب افتخار راغب سے ہے، جو بزم اردو قطر کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔ آپ نے جن منتخب غزلوں کو پیش کیا ان کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
بدلی نہ اس کی روح کسی انقلاب میں
کیا چیز زندہ بند ہے دل کے رباب میں
لفظوں میں بولتا ہے رگِ عصر کا لہو
لکھتا ہے دستِ غیب کوئی اس کتاب میں

(درج ذیل غزل جناب افتخار راغب صاحب نے ترنم میں پیش کی)
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
وہ شہر میں تھا تو اُس کے لیے اوروں سے ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اپنے منفرد ترنم کے لیے جانے جانے والے شاعر اور بزمِ اردو قطر کے رابطہ سیکریٹری جناب وزیر احمد وزیرؔ ادبی محفلوں میں جب کسی غزل پڑھتے ہیں تو سامعیں دل جمعی کے ساتھ غزل کا مزہ لینے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ آپ نے ناصرؔ کاظمی کی جس غزل کو اپنی آواز کی شیرینی سے نوازا، اس غزل کے چند اشعار آپ کے ذوقِ تجسس کے حوالے کردینا ہم مناسب سمجھتے ہیں:
ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
پکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی

اس مدبھری غزل کے بعد جناب محمد رفیق شادآکولوی نے بہت ہی عمدہ پیرایہ میں درج ذیل غزل پیش کی اور خوب داد حاصل کی:
کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچۂ دلبر ہی لے چلیں

کاروانِ اردو قطر کے نائب صدر اور خوش فکر شاعر جناب راشد عالم راشد ؔ نے ناصرؔ کاظمی کی ایک غزل پیش کی۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈھتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

پہلے مہمانِ اعزازی جناب نعیم عبدالقیوم جو حال ہی میں دوحہ، قطر کے اردو منظر نامے پر وارد ہوئے ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پروگرام کے انعقاد پر بزمِ اردو قطر کومبارکباد پیش کی اور شکریہ بھی ادا کیا۔
مہمانِ خصوصی جناب مقصود انور مقصود ؔ نے بھی بزمِ اردو قطر کو اس دلکش پروگرام کے لیے مبارکباد پیش کی اور شکریہ ادا کیا۔ آپ نے ناصرؔ کاظمی کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ:
“در اصل ناصر کاظمی نے ساٹھ اور ستر کے ادبی افق پر اپنے فکر و فن سے اہل ادب کو خوب متاثر کیا۔ ناصر کاظمی نے اپنے عہد کے ہنگامہ پرور دور میں خود کو ہمیشہ تنہا محسوس کیا۔ ایک انٹرویو میں ناصر کاظمی نے اپنی شاعری اور حالات کے بارے میں کہا تھا کہ میرا سرمایہء افتخار میری شاعری ہے۔ میری شاعری وصال کی نہیں ، ہجر کی شاعری ہے۔ مجھے ہمیشہ ایک گم گشتہ شہر کی تلاش رہی ہے۔ جہاں پرندے چہکتے ہوں، پھول مہکتے ہوں؛ جہاں چاند در و بام سے جھانکتا ہو۔۔۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا کہ میں نے میر تقی میر سے اکتسابِ فیض تو کیا لیکن کبھی بھی غالب سے انکار نہیں کیا۔ ممتاز نقاد احمد شاہ کہتے ہیں کہ ناصر کاظمی کی شاعری پڑھنے سے زیادہ گنگنانے کی شاعری نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔ ناصر کاظمی اپنی شاعری میں سادہ الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ محبت دکھ خوشی محرومی کے ساتھ ساتھ سینتالیس کی۔۔۔ ناصر کاظمی ہجرت کا درد کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے”

آخر میں، اپنی مترنم آواز اور انوکھے طرز میں جناب مقصود انور مقصود نے اس غزل کے چند اشعار پیش کیے:
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا، وہ شکل تو دکھا گیا
وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دشمناں ہوئی
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا

اس غزل کے بعد صدرِ محفل جناب جلیلؔ احمد نظامی کو ناصرؔ کاظمی کی شخصیت اور فن پر اظہارِ خیال اور صدارتی خطبہ کی دعوت دی گئی۔ سب سے پہلے آپ نے بزم اردو قطر کے اس پروگرام کے انعقاد کے لیے ارکان و عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ اس کے بعد آپ نے مختصر مگر اہم نکات کا تذکرہ فرمایا: 
“۔۔۔۔۔ ناصر کاظمی سے وابستہ بہت سے ایسے گوشے جو منکشف نہیں تھے، آج ان کا انکشاف ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ناصر کاظمی اس تسلسل کی آخری کڑی ہیں جو میرؔ سے شروع ہوتی ہے۔۔۔۔۔عدم نے کہا تھا کہ:
میں میکدے کی راہ سے ہوکر گزر گیا
ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا
“کچھ نام میرے ذہن میں آرہے تھے جنہوں نے زیادہ طویل عمریں نہیں پائیں جن میں ناصر کاظمی کے علاوہ شکیبؔ جلالی ، مصطفیٰ زیدی ، اسرار الحق مجازؔ ، قابلؔ اجمیری اور شاذؔ تمکنت ہیں؛ یہ ادب کا وہ سرمایہ ہیں جنہوں نے اپنی کم عمری میں ادب کو بہت کچھ دیا ہے۔ جیسا کہ ناصرؔ کاظمی کے اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اپنے حالات کو سیدھے سادے الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر بھی رکھتے تھے اور ان میں روانی بھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ 
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ 
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں 
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

آخر میں ناظم اجلاس ، ڈاکٹر فیصل حنیف صاحب نے اپنے پر اثر انداز میں اختتامی خطاب سے سامعین کو مسرور کیا۔۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا کہ غالب کا ایک شعر ہے کہ:
غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں 

ناصرؔ کاظمی کا شعر ہے:
ایدوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود 
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

اگرچہ غالبؔ کی “کبھی کبھی” ناصرؔ کاظمی کی “کبھی کبھی” سے مختلف ہے لیکن شاعر جب شعر بناتا ہے تو بعض اوقات ایک لفظ پر یا دو الفاظ پر اس کی بنیاد رکھ دیتا ہے اور شعر کی پوری عمارت اس پر کھڑی ہوجاتی ہے۔ شعر کی انفرادیت اور اس کی خوبی سننے والوں تک اور پڑھنے والوں تک اس طرح سے پہنچ جاتی ہے اور وہ شعر خاص ہوجاتاہے۔۔۔۔۔” 

جناب افتخار راغب صاحب نے بزم اردو قطر کے مختلف نوعیت کے پروگراموں کے متعلق سامعین کو آگاہ کیا اور تمام ادب دوست حاضرین کا شکریہ ادا کیا اس کے بعد اختتام کا اعلان کیا گیا۔ 

رپورٹ: سید فیاض بخاری کمالؔ 
نائب سکریٹری، بزمِ اردو قطر

متعلق ویب ڈیسک