عالمی مشاعرہ بیادِ جمیل الدین عالیؔ وملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ۲۰۱۷ء

عالمی مشاعرہ بیادِ جمیل الدین عالیؔ و

ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ۲۰۱۷ء
عباس تابش،خالد سجاد احمداور زعیم رشیدایوارڈ کے حقدار

رپورٹ:زاہد شریف،جاوید بھٹی،عرفان حیدر
دوحہ :شائقینِ فن دوحہ کے زیرِ اہتمام’’ عالمی مشاعرہ بیادِ جمیل الدین عالیؔ ‘‘ کے موقع پر حافظ جنید عامر سیال،راجو جمیل عالی نے عزت مآب محمد سرفراز خانزادہ،بریگیڈئر عبدالحفیظ ،محمد عتیق،فرتاش سیّد،شعرائے کرام ،ادبی تنظیموں کے ذمے داران اور سیکٹروں شائقینِ ادب کی بھرپور تالیوں کی گونج میں عباس تابشؔ ،خالد سجاد احمد اور زعیم رشید کو’’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ۲۰۱۷ء‘‘پیش کیے۔ادبی و ثقافتی تنظیم ’’شائقینِ فن دوحہ ‘‘اپنے قیام (۱۹۹۳ء) سے اب تک یومِ پاکستان کے سلسلہ میں شاندار تقریبات کا اہتمام کرتی آ رہی ہے۔کئی سالوں تک استاد حامد علی خان،استاد غلام علی خان،رستم فتح علی خان،رفاقت علی خان،عابدہ پروین،سائرہ نسیم،حمیرا ارشد اور اقبال باہوجیسے کلاسیکل،نیم کلاسیکل،پلے بیک سنگراور فوک گلوکاروں پر مشتمل عظیم الشان ’’محافلِ موسیقی‘‘اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں گونجتی ہیں۔ ۲/اپریل ۲۰۰۶ء میں ’’شائقینِ فن دوحہ ‘‘کے بانی ملک مصیب الرحمن کی ناگہانی وفات کے بعد ’’ملک مصیب الرحمن میموریل لیکچر ‘‘ کا اہتمام ہوتا رہا۔چند سالوں تک ’’کثیراللسانی مشاعروں ‘‘ کے بعد گذشتہ سال ’’انٹر گلف مشاعرہ‘‘ منعقد کیا گیا۔گذشتہ سال ’’شائقینِ فن دوحہ ‘‘کی تنظیمِ نو کی گئی جس سے تنظیم میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہواہے۔ تنظیمِ نو کے مطابق چیئرمین محمد عتیق، چیف آرگنائزر فرتاش سید،صدرو شریک صدر جاوید ہمایوں و امین موتی والا،نائب صدور قمرالزمان بھٹی و فرزانہ صفدر،جنرل سیکرٹری فرقان احمد پراچہ ،جوائنٹ سیکرٹریز رضا حسین و مشفق نقوی، فنانس سیکرٹری جاوید بھٹی، میڈیا سیکرٹریزعرفان حیدر،زاہد شریف اور عابدہ خاتون،ہیں
امسال ’’شائقینِ فن دوحہ ‘‘ کے چیئرمین محمد عتیق اور منتظمِ اعلیٰ فرتاش سیّد نے جملہ عہدیداران اور اراکین سے مشاورت کے بعد جمیل الدین عالی کی یاد میں عالمی مشاعرے کے انعقاداور اُردو ادب کی دیومالائی شخصیت ملک مصیب الرحمن کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر ’’ ملک مصیب الرحمن انٹر نیشنل ایوارڈ‘‘کے اجرأ کا فیصلہ کیا۔
یومِ پاکستان کے سلسلہ میں ہونے والی دوروزہ تقریبات کا اہتمام نہایت جوش و جذبہ سے کیا گیا۔ TNGسکول واکرہ میں منعقد ہونے والی پہلی تقریب کی صدارت انجمن ترقیِ اُردو پاکستان کے صدر اور عالیؔ جی کے فرزندِ ارجمند راجو جمیل عالی نے کی، مہمانِ خصوصی سابق سفیرِ پاکستان عزت مآب محمد سرفراز خانزادہ تھے جب کہ نظامت کے فرائض فرتاش سیّد نے سرانجام دیے۔یہ تقریب دوحصوں پر مشتمل تھی،پہلے حصے میں ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل کی تقریبِ پذیرائی جب کہ دوسرے حصے میں حضرت جمیل الدین عالیؔ کی شخصیت اور ادبی خدمات کا احاطہ کیا گیا۔
’شائقینِ فن دوحہ ‘‘ کے چیئرمین محمد عتیق ے خطبۂ استقبالیہ اداکرتے ہوئے کہ آج کا دن ہمارے لیے اِس لیے بہت اہم اور خوش گوار ہے کہ ہم نے بانیِ مجلسِ فروغِ اُردو ادب دوحہ قطر اور شائقینِ فن دوحہ کے بانی ملک مصیب الرحمن کی ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے اُن کی خدمات کے اعتراف اوراُنھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ’’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘ کااجرأ کیا ہے۔اُنھوں نے ایوارڈ کے اجرأ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مجلسِ فروغِ اُردو ادب کے زیرِ اہتمام ’’ عالمی فرغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘ کی موجودگی میں جب بھی‘’ملک مصیب الرحمن ایوارڈ‘ ‘ کا سوچا تو اِس ایوارڈ کی کوئی واضح شکل ہمارے سامنے نہ آتی۔ہمیں یہ خدشہ رہا کہ کہیں یہ ایوارڈ’ عالمی فرغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘کی توانا اور مستحکم روایت کے نیچے دب نہ جائے۔اِس لیے ہم نے یہ ایوارڈ مجلسِ فروغِ اُردو ادب دوحہ قطر کے بجائے شائقینِ فن دوحہ کے زیرِ اہتمام جاری کرنے کا فیصلہ کیااور یہ طے کیا کہ ’’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘ کسی ایک شاعر کو اُس کی لائف ٹائم اچیومنٹ کے بجائے تین شاعروں کو اُن کے شعری مجموعوں پر دیا جائے۔یہ ایوارڈ تین کیٹیگریزپر مشتمل ہے:
(۱) پاکستان کے سینیئرشاعر کی کتاب پر (۰۰۰،۷۵روپے)،(۲)خلیج کے شاعر کی کتاب پر(۰۰۰،۶۰ روپے)،(۳)نئی اصنافِ سخن (۰۰۰،۵۰روپے)۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ عالیؔ جی ۲۰۰۱ء میں مجلس کی دعوت پر تشریف لائے،اُن کے دوہے اورملی نغمے اپنی مثال آپ ہیں۔ہم یومِ پاکستان کے سلسلے میں ہونے والیشائقینِ فن دوحہ کے پہلے عالمی مشاعرے کو اُن کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔
فرتاشؔ سیّد نے ایوارڈ کے حوالے سے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ کے لیے پروفیسر ڈاکٹر قاضی عابد کی سربراہی میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے پروفیسرز پر مشتمل جیوری تشکیل دی گئی ہے۔سرکاری ایوارڈز کی طرح اشتہار دے کر شعرائے کرام سے کتابیں منگوانے کے بجائے تینوں کیٹیگریز کے لیے کتابوں کی شارٹ لسٹنگ کی گئی اور انعام یافتہ شعری مجموعوں کا اعلان کیا گیا۔
ٍ جب ایوارڈ یافتہ کتابوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا تو دوحہ قطر کی ادبی تنظیموں کے ذمے داران اور مختلف ملکوں سے آئے ہوئے شعرائے کرام نے پھرپور تالیوں سے جیوری کے فیصلوں کی توثیق کی۔
زعیم رشید تقریب میں بوجوہ تشریف نہ لاسکے،’’مجھ میں دریا بہتا ہے‘‘ کے خالق خالد سجاد احمد (کویت) نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘ کے لیے میرے مجموعہ کا منتخب ہونا ،میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔یہ ایوارڈ قبول کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔اُنھوں نے پروفیسر ڈاکٹر قاضی عابد، محمد عتیق ، فرتاشؔ سیّد اور جملہ عہدیداران کا شکریہ ادا کیا۔حاضرینِ مجلس کی فرمائش پر اُنھوں نے اپنے اشعار بھی عطا کیے۔
’’شجر تسبیح کرتے ہیں ‘‘ کے خالق عباس تابش نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک مصیب الرحمن نے مجھے ۱۹۹۶ء میں سیلم جعفری کے اعزاز میں دبئی ہونے والے ’’جشنِ سپاس‘‘ میں مدعو کیا تھا۔اُس کے مصیب صاحب سے محبت و عقیدت کا رشتہ استوار ہو گیا۔مصیب صاحب کے نام سے شروع ہونے والے پہلے ‘’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘ کا ملنا میرے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔اِس لیے آج میں بہت خوش ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر قاضی عابد جیسے دنیائے اُردو کے اہم نقاد کا میرے شعری مجموعے کو ایوارڈ کے لیے منتخب کرنا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ محمد عتیق ، ، فرتاشؔ سیّداور جملہ دوستوں کا شکر گزار ہوں کہ اُنھوں نے محبتوں سے نوازا۔اُنھوں نے اپنی نثری و شعری گفتگو سے شائقینِ ادب کو محظوظ بھی کیا۔
تقریب کے دوسرے حصے میں عالیؔ جی کے فن،شخصیت اور اُن کی ادبی و سماجی خدمات کے حوالے سے ڈاکومنٹری ’’خواب کا سفر‘‘دکھائی گئی۔اِس سے پیشتر راجو جمیل عالیؔ نے ’’خواب کا سفر‘‘ کے بنانے اور دنیاکے مختلف ممالک میں دکھانے کے مقاصد اور غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ اُنھوں نے محمد عتیق ، فرتاش سید اور جملہ عہدیداران و اراکین کا شکریہ ادا کیا کہ جسے محبانِ شعروادب نے بڑے ذوق و شوق سے دیکھا۔ڈاکومنٹری کے دوران میں حاضرینِ مجلس نے ملی نغموں پر جھومتے ہوئے کئی بار تالیاں بجا کر عالی جی سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔
تقریبات میں شرکت کے لیے جاپان سے عامر بن علی تشریف لائے تھے لیکن اُنھیں اگلے دن مشاعرے سے پہلے ہی واپس جانا پڑ گیا تھا اِس لیے اُنھیں دعوتِ کلام دی گئی۔اُنھوں نے مصیب صاحب سے اپنی ملاقاتوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک مصیب الرحمن درویش صفت انسان تھے۔قطر میں اُردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی اور پاکستان ثقافت کے تعارف کے لیے اُنھوں نے جو خدمات سرانجام دیں وہ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔اُردو کے فروغ کے لیے مجلسِ فروغِ اُردو ادب دوحہ قطر کی ادبی خدمات پر چیئرمین مجلس محمد عتیق،صدرِ مجلس فرتاشؔ سیّد اور مجلس و شائقین کے جملہ عہدیداران و اراکین اور ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد بھی پیش کی۔اُن کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
دن میں جو بنائے وہ شام تک نہ رہ پائے
ریت کے گھروندوں کی عمر کتی ہوتی ہے
میرے دل کے ٹکڑوں پر تم اداس مت ہونا
کانچ کے کھلونوں کی عمر کتنی ہوتی ہے
حسن اور محبت سے کون جیت سکتا ہے
یہ بتاؤ دونوں کی عمر کتنی ہوتی ہے

مہمانِ خصوصی عزت مآب محمدسرفراز خانزادہ نے شائقینِ فن دوحہ کے زیرِ اہتمام ’’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘کے اجرأ پر محمد عتیق ،فرتاشؔ سیّد اور جملہ عہدیداران اورایوارڈ یافتگان عباس تابش،خالد سجاد احمد اور زعیم رشید کو مبارک باد بھی پیش کی ۔اُنھوں نے عالیؔ جی کی ڈاکومنٹری ’’خواب کا سفر‘‘ کے لیے راجو جمیل عالی کی تعریف بھی کی اور اُن کا شکریہ بھی ادا کیا کہ اُنھوں نے عالیؔ جی کی زندگی کے کچھ ایسے گوشوں کو بھی عیاں کیا جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے۔
ٍ تقریب کے آخر میں راجو جمیل عالی، عزت مآب محمد سرفراز خانزادہ ،محمد عتیق ،فرتاش سیّد ،فرقان احمد پراچہ اور قمرالزمان بھٹی نے مختلف مملک سے تشریف لائے ہوئیمہمان شعرائے کرام کی خدمت میں تحائف پیش کیے۔پرتکلف عشائیہ کے بعد یہ خوب صورت اور باوقار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
قطر کی تاریخ میں مسیعید کے البانوش کلب میں عالمی پیمانے کی تقریب پہلی بارانعقاد پذیر ہوئی۔اِس لیے مسیعید میں مقیم محبانِ شعروادب میں بہت جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔پی۔ایس۔ایل۔ کے سیمی فائنل میچ اور دوحہ سے دوری کے باوجود شائقینِ ادب کی کثیر تعداد نے مشاعرہ گا کا رخ کیا۔یہ تقریب بھی دوحصوں پر مشتمل تھی،پہلے حصے میں ’’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘کی تقسیم کا مرحلہ طے کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی حافظ جنید عامر سیال(کمیونٹی ویلفیئراتاشی،سفارت خانۂ پاکستان)،مہمانانِ اعزازی راجو جمیل عالی، عزت مآب محمد سرفراز خانزادہ اور بریگیڈئر عبدالحفیظ(پرنسپل ،کیڈٹ کالج بتراسی)تھے جب کہ نظامت کے فرائض شائقینِ فن دوحہ کے متحرک و پرعزم جنرل سیکرٹری فرقان احمد پراچہ نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔
پاکستان کے تمام چاروں تعلیمی اداروں کے اساتذہ، قطر کی تمام ادبی و ثقافتی اور پروفیشنل تنظیموں ،مختلف صحافتی اداروں کے نمائندگان،قافکو سے تعلق رکھنے والے پاک و ہند کے تارکینِ وطن،عمائدینِ شہر ،پاکستان،برطانیہ ،جاپان،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،بحرین ، کویت اور قطرکے شعرائے کرام نے اپنی بھرپور شرکت سے تقریب کے وقار کو بلند کیا۔پاکستان سے ایک ایوارڈ ونر زعیم رشید اور اظہر فراغ بحرین سے احمد عادل اور عمان سے ناصر معروف بوجوہ تقریب میں شریک نہ ہو سکے۔
حافظ محمدطلحہ اقبال نے تلاوتِ کلام پاک کی سعادت حاصل کی ۔ محمد عتیق نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے پاکستانی شرکائے تقریب کو ستترویں(۷۷)یومِ پاکستان کی مبارک باددی۔اُنھوں نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے کئی حوالوں سے بہت اہم ہے ایک تو ہم مصیب کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر’ ’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘کے نام سے اُردو کے تین اہم شعرأ کو ایوارڈ پیش کرنے جارہے ہیں اور دوسراشائقینِ فن کے زیرِ اہتمام جمیل الدین عالیؔ کی یاد میں پہلا عالمی مشاعرہ منعقد کرنے جارہے ہیں۔اُنھوں نے عباس تابشؔ ،خالد سجاد احمد اور زعیم رشید کو ’ ’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘حاصل کرنے پر مبارک باد بھی پیش کی۔اُنھوں نے چیئرمین جیوری پروفیسر ڈاکٹر قاضی عابد،اراکینِ جیوری، حافظ جنید عامرسیال، راجوجمیل عالی،عزت مآب محمد سرفراز خانزادہ،بریگیڈئر عبدالحفیظ،قافکو مینجمنٹ،مسٹر کیتھ ڈبراس،البانوش کلب کی انتظامیہ،محمد نواز اکرم،فرقان احمد پراچہ اور اُن کے جملہ احباب کا شکریہ ادا کیا۔اُنھوں نے شائقینِ فن دوحہ کے منتظمِ اعلیٰ فرتاشؔ سیّد اور اُن کی پوری ٹیم کو شاباش دی کہ اُنھوں نے انتہائی قلیل وقت میں دوروزہ تقریبات کا بڑے سلیقے سے اہتمام کیا۔
حافظ جنید عامر سیال نے اپنے خطاب میں ہال میں موجود جملہ پاکستانی شائقینِ ادب کو ’’ستترویں(۷۷) یومِ پاکستان کی مبارک باد دی۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی سرکاری و قومی زبان اُردو کے فروغ کے لیے تقریبات کا اہتمام دراصل پاکستانی تہذیب و ثقافت اور ادب کا فروغ ہے۔اُنھوں نے مزید کہا کہ عالیؔ جی چلتا پھرتا پاکستان تھے،اُن کے ملی نغمے ،نسل درنسل ہماری ملی و قومی تربیت کر رہے ہیں۔
’ ’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ملک مصیب الرحمن کانام’’اُردو‘‘ کی ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکا ہے۔اُنھوں نے ایوارڈ کے اجرأ پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محمد عتیق، فرتاش سید اور اُن کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کی۔
ناظمِ تقریب فرقان احمد پراچہ نے ’ ’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘کی تقسیم کے لیے مہمانوں کو اسٹیج پرمدعو کرنے سے پہلے استقبال کے لیے فرتاش سید کو دعوت دی۔اُن کے بعد حافظ جنید عامر سیال،راجو جمیل عالی ، عزت مآب محمد سرفراز خانزادہ، بریگیڈئر عبدالحفیظ ،محمد عتیق،جاوید ہمایوں اور امین موتی والا کوباری باری اسٹیج پرمدعو کیا۔
حافظ جنید عامر سیال،راجو جمیل عالی نے عزت مآب محمد سرفراز خانزادہ،بریگیڈئر عبدالحفیظ ،محمد عتیق،فرتاش سیّد،جاوید ہمایوں ، امین موتی والا،شعرائے کرام ،ادبی تنظیموں کے ذمے داران اور سیکٹروں شائقینِ ادب کی بھرپور تالیوں کی گونج میں عباس تابشؔ اورخالد سجاد احمدکو‘’ملک مصیب الرحمن انٹرنیشنل ایوارڈ ‘‘پیش کیا ۔جب کہ زعیم رشید کا ایوارڈ شریک صدر امین موتی والا نے وصول کیا ۔اِس موقع پر بریگیڈئر عبدالحفیظ نے چیئرمین محمد عتیق کو مجلسِ فروغِ اُردو ادب دوحہ قطر اور شائقینِ فن دوحہ کے پلیٹ فارم سے شاندار ادبی خدمات کے اعتراف پر شیلڈ پیش کی۔فرقان احمد پراچہ نے ’’عالمی مشاعرہ بیادِ جمیل الدین عالیؔ ‘‘کی نظامت کے لیے فرتاشؔ سیّد کو دعوت دی تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔فرقان احمد پراچہ نے فرتاش سید کے زمامِ نظامت سنبھالتے ہی اپنی ایک نظم سے مشاعرے کا آغاز کیا۔یہ عالمی مشاعرہ کئی حوالوں سے یادگار اور تاریخ ساز تھا۔مشاعرے کے شروع سے آخر تک شائقینِ ادب کے لیے خورونوش کا وسیع انتظام تھا۔مشاعرہ چھے بجے شروع ہوا اور دس بجے اختتام پذیر ہوا۔قطر کی تمام ادبی تنظیموں کے شعرأ کی نمائندگی نے مشاعرے کو تاریخی بنادیا۔پہلے شاعرے سے لے کر میرِ مشاعرہ تک اور فرتاشؔ سیّد کی خوب صورت اور برجستہ نظامت سے مشاعر ے کا آہنگ بلند ہوتا گیا۔واہ واہ،سبحان اللہ سبحان اللہ ،کیا کہنے،اچھا ہے، جیسے نعرہ ہائے تحسین نے مشاعرے کو یاد گار بنادیا۔شعرائے کرام کا نمونۂ کلام ملاحظہ ہو۔جنابِ عباس تابشؔ (میرِ مشاعرہ ):
؂اِسی لیے تو کسی کو بتانے والا نہیں
کہ تیرا میرا تعلق زمانے والا نہیں
؂یہ جان لو کہ جو دعویٰ کرے فقیری کا
وہ آستین سے ہے، آستانے والا نہیں
؂یہ ہم جو شہر کے پاس اپنا گاؤں بیجتے ہیں
یقین کیجیے ہاتھ اور پاؤں بیچتے ہیں
؂دعا لپیٹ کے رکھ دیں،کلام چھوڑ دیں ہم
تو کیا یہ خوش طلبی کا مقام چھوڑ دیں ہم
جناب خالدؔ سجاد احمد:
سفر دشوار اور رستا بہت ہے
سو گم ہونے کا بھی خدشہ بہت ہے
تجھے رخصت کروں گا ہنس کے بیٹی
رلانے کو تری گڑیا بہت ہے
؂نتیجہ یہ ہے کہ برسوں تلاشِ ذات کے بعد
وہاں کھڑا ہوں جہاں ریت پانی لگتی ہے
محترمہ سیما غزلؔ :
ایک تہذیب تھا بدن اُس کا
اُس پہ اِک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں
راستہ دل تلک تو جاتا تھا
اُس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں
جناب فرتاشؔ سیّد:
میں گھیر گھار کے لاتا ہوں گھر میں مشکل کو
اُسے گلے سے لگاتا ہوں، مسکراتا ہوں
میں درد گوندھتا ہوں حرف و صوت میں فرتاشؔ 
غزل بناتا ہوں، گاتا ہوں مسکراتا ہوں
جناب عامر امیرؔ :
’عشق‘ میں نے لکھ ڈالا ’قومیت‘ کے خانے میں
اور تیرا دل لکھا ’شہریت‘ کے خانے میں
میرا ساتھ دیتی ہے، میرے ساتھ رہتی ہے
میں نے لکھا تنہائی ’زوجیت‘ کے خانے میں
جناب فرہاد جبریلؔ :
بہت نفیس اشاروں سے بات کرتے ہیں
ہیں کچھ گلاب جو خاروں سے بات کرتے ہیں
یہ اور بات تری بات لگ گئی دل کو
وگرنہ ہم تو ہزاروں سے بات کرتے ہیں
جناب نعیم رضا ؔ بھٹی:
؂بے بسی میں پکار بیٹھا تھا
مجھ پہ ہنسنے لگا ترا غم بھی
؂خوف آئے توکھانس لیتا ہوں
یہ دفاعی عمل ہے ،مات نہیں
جناب محمد شفیق اختر:
؂مرے دل پر تعلق کی لکھی تحریر باقی ہے
تری آنکھوں میں اب تک بھی مری تصویر باقی ہے
جناب عزیز نبیلؔ :
؂خامشی ٹوٹے گی آواز کا پتھر بھی تو ہو
جس قدر شور ہے اندر،کبھی باہر بھی تو ہو
؂عادتاً سلجھا رہا تھاگتھیاں کل رات میں 
دل پریشاں تھا بہت اور مسئلہ کوئی نہ تھا
جناب باقر رضا نقوی:
یہ سارے لوگ یہاں کس سے بات کرتے ہیں
کوئی تو ہوگا جو ان سب کو سن رہا ہوگا
دھنسے ہوئے ہیں گناہوں میں اِس قدر ہم لوگ
کوئی عذاب نہ آیا تو معجزہ ہوگا
جناب ریاض شاہدؔ :
جیسا میں نے سوچا ویسا ہو سکتا ہے
تجھ سا میں ،تو میرے جیسا ہو سکتا ہے
امبر کے اے چاند ! مجھے اِک بات بتا
جیسا میرا چاند ہے ویسا ہو سکتا ہے؟
جناب افتخار راغبؔ :
؂تم نے رسماً مجھے سلام کیا
لوگ کیا کیا گمان کربیٹھے
؂پردیس میں رہ کر کوئی کیا پاؤں جمائے
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
جناب ندیم ماہرؔ :
بس اتنی بات تھی کہتے تو ہم ترمیم کرلیتے
سفر کو بانٹ لیتے ہم تھکن تقسیم کرلیتے
اگر ہم سے شکایت تھی تو پھر اظہار کرنا تھا
معافی مانگ لیتے ہم خطا تسلیم کرلیتے
محترمہ شیریں پرشم:
؂ہر زنجیر منادی تھوڑی ہوتی ہے
قید میں یہ آزادی تھوڑی ہوتی ہے
کچھ کے نصیب میں ٹوٹنا لکھا ہوتا ہے
ہر گڑیا کی شادی تھوڑی ہوتی ہے
جناب احمد اشفاقؔ :
؂ہم ترے ساتھ ترے جیسا رویہ رکھتے
دینے والے نے ہمیں ایسی طبیعت نہیں دی
جناب قیصر ؔ مسعود:
؂ اُس نے بس ایک بار محبت سے بات کی
پھر میں نے ساری عمر سہولت سے بات کی
جناب آصف شفیع:
؂ابھی اِک خواب دیکھا جاگتے میں ،میں نے آصف
مرا آنسو ترے رخسار پر رکھا ہوا ہے
زوار حسین زائرؔ :
؂وہ غزل جس کو کسی لفظ کی حاجت ہی نہ ہو
وہ بنائیں گے ،سنائیں گے ، چلے جائیں گے
جناب روئیسؔ ممتاز(نظم’’تقابل‘‘ کا ایک بند) :
میں کہ کانٹا ہوں خزاں کی فصل سے ڈرتا ہوں میں
وہ کہ گل ہیں، پھر بھی مرجھانے سے کیا ڈرتے ہیں ہیں وہ
میں کہ اُن پہ مرمٹا ہوں،کیا نیا کرتا ہوں میں
وہ کہ مجھ کو مارتے ہیں ،کیا نیا کرتے ہیں وہ
جناب رضاحسین رضا(قطعہ ’’پاناما لیکس‘‘):
؂بگڑے کام بنانے کی کیوں ہر کوشش ناکام ہوئی
ظلم و ستم کو سہتے سہتے صبح بھی اپنی شام ہوئی
لیک ’’پنامہ لیک‘‘ ہوئی پھر سادہ دلوں کو ہوش آیا
کیسے پھیلی ہے یہ رشوت؟ کیوں منی بدنام ہوئی
محترمہ فرزانہ صفدر:
چلتے نہیں ہیں روز یہ چمٹے، یہ بیلنے
آتی ہے مجھ غریب کی شامت کبھی کبھی
جناب وزیر احمد وزیرؔ :
؂زندگی اتنی اذیت بھی نہ دے تو مجھ کو
تیری چاہت کا جنوں سر سے اُتر جائے گا
جناب ڈاکٹر وصی ؔ بستوی:
؂وہ بار بار بدلتا تھا نقش چہرے کا
میں بار بار اُسے آئینہ دکھاتا رہا
سانولؔ عباسی:
؂نہیں کرتے کبھی شکوہ محبت میں یہ پروانے
جو جل کر راکھ ہوتے ہیں وہ کب اظہار کرتے ہیں
مشفق رضا ؔ نقوی:
؂دستکیں دینا درِ دل پہ مرا کام رضاؔ 
کوئی آواز نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
علی ؔ عمران مہدی:
؂جانے یہ جذب و شوق کا کیسا مقام ہے
جس پر نظر پڑے وہی اپنا دکھائی دے

متعلق ویب ڈیسک