سندھ ہائیکورٹ کا شراب خانوں کی بندش سے متعلق فیصلہ معطل

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا جو تین ہفتے کے اندر درخواست کی سماعت کرے گا۔

سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ جب قانون موجود ہے تو ہائی کورٹ ایسا حکم جاری نہیں کرسکتی۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ سن 1979 میں شراب فروشی پر پابندی لگائی گئی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو متعلقہ پولیس اس کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے اور اگر موجودہ حکم کے بعد بھی کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر توہین عدالت عائد ہوسکتی ہے۔

اس موقع پر اقلیتی رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ ہندو مذہب میں شراب نوشی پر پابندی ہے جبکہ کئی ایسے شراب خانے ہیں جو مسجد، مندر اور چرچ کے قریب ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے عدالت سے استدعا کی سندھ حکومت کا ہائی کورٹ میں جواب آنے تک پابندی نہ اٹھائی جائے۔

دوسری جانب شراب فروش یونین کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کے سامنے کہا کہ شراب کی دکانیں لائسنس یافتہ ہیں اور حکومت کو ٹیکس دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ برس کے آخر میں سندھ بھر کے شراب خانوں کو بند کردیا تھا، جس پر شراب خانوں کے مالکان نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔

سپریم کورٹ نے شراب خانوں کے مالکان کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے شراب خانے کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کیس واپس سندھ ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ برس 27 ستمبر کو مسلم آبادی اور اسکولز کے قریب شراب خانوں کے 2 کیسز میں سندھ بھر کے شراب خانوں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے 23 نومبر 2016 کو کالعدم قرار دیا تھا۔

بعد ازاں سندھ بھر میں شراب خانے کھل گئے تھے، لیکن سندھ ہائی کورٹ نے شراب کی فروخت سے متعلق کوئی مکینزم نہ بنانے کی بناء پر ایک بار پھر شراب خانوں کو ایک ماہ تک بند کرکے مکینزم بنانے کا حکم دیا تھا۔

متعلق امتیاز کاظمی